قصاص و دیت ( محمد میاں صدیقی )(6933#)

ڈاکٹر محمد میاں صدیقی
ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد
260
6500 (PKR)
9.8 MB

لفظ قصاص قرآن کریم کی اس مبین ایت سے اخذ کیا گیا ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: ١٧٨﴾’’اے ایمان والو تم پرمقتولین کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔‘‘

اس ایت کو رمضان کی ایت سے جوڑ کر دیکھیں تو دونوں آیات میں ایک جیسے الفاظ ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ الصیام کی جگہ القصاص لکھ دیا گیا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ۔۔۔۔۔ ﴿قصاص کا حکم﴾

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ ۔۔۔۔۔۔ ﴿رمضان کا حکم﴾

پس جیسے رمضان فرض ہے قصاص بھی اسی طرح فرض ہے۔ قتل خطا کے سوا کسی صورت دیّت نہیں لی جا سکتی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک امیر کبیر کسی مسکین کو قتل کردے اور مسکین کے اہل خانہ کو دیّت دیکر جان چھڑا لے۔ قتل کے بدلے وہ امیر کبیر قتل کیا جائے گا اور یہ کام حکومت وقت کا ہے کہ وہ قانونِ قصاص پر عمل درآمد کرائے۔

لفظ دیّت سورہ النساء کی اس  آیت سے ماخوذ ہے۔وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۔۔۔۔﴿النساء: ٩٢﴾

’’کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے خطا ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو خطا سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو دیت دے۔‘‘

پس واضح ہوا کہ دیت قتل خطا میں دی جائے گی۔ قتل عمد پر قاتل سے قصاص لیا جائے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں قتل عمد میں بھی دیت دی جاتی ہے جو کہ قانونِ قصاص کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

اسلام نے اپنے اصولِ حکمرانی  میں عدل وانصاف کو بے  پناہ اہمیت دی ہے۔ یہ ایسا الٰہی نظام حیات ہے جس کامزاج انسانوں کے خود ساختہ رائج الوقت قوانین سے اس لحاظ سے بھی  مختلف ہے کہ یہ تمام انسانی  قوانین سے ممتازاور ہردو ر،ہر زمانے  کےتقاضے پورے کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد اہل  پاکستان کی مسلسل یہ خواہش اورکوشش رہی  ہے کہ اسلامی قوانین کا نفاذ عمل میں آئے۔بالخصوص جنرل ضاء الحق دور حکومت میں  قوانین اسلام کے نفاذ کی کوششیں قابل ذکر ہیں ۔حدود آرڈی ننس نافذ کیا  گیا اور وفاقی شرعی عدالت شرعی نقظۂ نظر سے مقدمات کی سماعت بھی کرتی رہی ۔ زیر نظر کتاب ’’ قصاص ودیت‘‘ادارہ تحقیقات اسلامی کے سکالرز کی مرتب شد ہے ۔ادارہ تحقیقات اسلامی نے قصاص  دیت کے متعلق قرآ ن وسنت اور  فقہ اسلامی  کی مستند کتب  سےمنتخب ابواب کا   ترجمہ کروا کرشائع کیا۔بعض ابواب کےبعینہٖ ترجمے کیے  گئے ہیں اور بعض مقامات پر خلاصہ کیاگیا ہےیہ کتاب ادارہ تحقیقات اسلامی  کے سلسلہ تراجم مصادر قانون اسلامی کا دوسرا سلسلہ ہے  جوکہ  جنرل ضیاء ا لحق کے دور حکومت میں  خاص طور پر وکلاء اور جج صاحبان کے لیے تیار کی  گی تھی ۔ فقہ اسلامی  کی مستند کتابوں  سے  منتخب  ابواب کے  ترجمہ ،ترتیب  وتدوین  کا کام محمد میاں صدیقی نے کیا ہے۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

مقدمہ

 

طریقہ تالیف

25

اصطلاحات

27

مصادر

30

پہلا باب: القرآن الحکیم (آیات متعلقہ قصاص ودیت)

33

حرمت قتل

35

دوسرا باب : السنۃ( احادیث متعلقہ قصاص ودیت)

39

حرمت قتل

41

تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل جائز نہیں۔

42

قتل مومن میں اعانت

43

مسلمان کی طرف ہتھیار سے اشارہ بھی حرام ہے

43

کس صورت میں قصاص لیا جائے گا؟

44

قتل کے جرم میں شرکت کرنے والے کو بھی سزا دی جائے گی۔

45

ایک شخص کے بدلہ میں متعدد لوگوں کو قتل کیا جائے گا

46

ایک مسلمان کو غیر مسلمان کے قصاص میں قتل کیا جائے گا

46

مسلمان کافر کے بدلہ نہیں مارا جائے گا

46

جان ومال کی حفاظت کے لیے قتل جائز ہے

47

قاتل وارث نہیں ہوتا

48

جرم کا مواخدہ اسی سے ہو گا جو اس کا ارتکاب کرے گا

49

قتل مرتد

50

خود کشی

51

اعضاء کا قصاص

53

سر کا قصاص

53

دانت کا قصاص

53

مسائل دیت

55

دیت اور اس کی مقدار

57

قتل شبہ عمد میں دیت

57

قتل خطاء کی دیت

58

جس کا عزیز مار ا جائے اس کے وارث کو تین باتوں کا اختیار ہے

60

دیت کس پر واجب ہے؟

60

ایک شخص نےعمدا قتل کیا پھر مقتول کے وارث دیت پر راضی ہو گئے

61

اگر قصاص کے بدلہ زخمی کرنے والا کچھ فدیہ دینے پر راضی ہو جائے

62

اعضاء کی دیت

65

ہاتھ کی دیت

65

آنکھ کی دیت

65

ہاتھ اور پاؤں کی دیت

66

دانتوں اور انگلیوں کی دیت

66

مختلف اعضاء کی دیت

67

اسقاط حمل کی دیت

68

کافر کی دیت

69

معالج پر مریض کی دیت

69

تیسرا باب

73

جریمہ اورجنایت

73

جریمہ۔ لغوی معنی

73

اصطلاحی  معنی

73

جنایت کے معنی

73

جرم کے عمومی ارکان

75

تقسیم جرائم

77

کیا قصاص ودیت حدود میں داخل ہیں؟

79

شریعت نے بعض جرائم کی سزائیں مقرر کیں اور بعض کی نہیں

81

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1819
  • اس ہفتے کے قارئین: 12423
  • اس ماہ کے قارئین: 31716
  • کل قارئین : 47787083

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں