• #6726
    حکیم محمد یٰسین

    1 تربیت معالجین قانون مفرد اعضاء

    انسا ن  کو بیماری  کا لاحق ہو نا  من  جانب  اللہ  ہے  اوراللہ تعالی نے  ہر بیماری کا علاج بھی   نازل فرمایا ہے  جیسے کہ  ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے  یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی  اور کسی  نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج  کے لیے  معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ  علاج،حجامہ سے  علاج) سے  علاج کرنا  سنت  سے  ثابت ہے ۔ روحانی  اور جسمانی  بیماریوں سےنجات کے لیے  ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت  میں  پختگی  ہو گی تو  بیماری سے  شفاء بھی اسی قدر تیزی  سے  ہوگی ۔نبی کریم ﷺ جسمانی  وروحانی بیماریوں کا علاج جن وظائف اور ادویات سے  کیا کرتے تھے یاجن  مختلف بیماریوں کےعلاج کےلیے  آپﷺنے جن چیزوں کی نشاندہی کی اور  ان کے  فوائد ونقصان کو  بیان کیا ان کا ذکر  بھی  حدیث وسیرت کی کتب میں موجو د ہے  ۔ کئی اہل علم نے  ان  چیزوں ک یکجا کر کے  ان کو طب ِنبوی کا نام  دیا ہے ۔ان میں امام  ابن قیم﷫ کی کتاب  طب نبوی  قابل ذکر  ہے  او ردور جدید میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی  کتب بھی  لائق مطالعہ ہیں۔طب کی اہمیت وافادیت کے  پیش نظر اس کو بطور  علم پڑھا جاتارہا ہے  اور  کئی نامور ائمہ ومحدثین ماہر طبیب بھی ہوا کرتے تھے۔ہندوستان میں بھی طب کو  باقاعدہ  مدارس ِ اسلامیہ  میں پڑھایا جاتا  رہا ہے  اور الگ سے   طبیہ کالج  میں بھی قائم تھے ۔ اور ہندوستان کے کئی نامور  علماء کرام اور شیوخ الحدیث ماہر  طبیب وحکیم تھے ۔محدث العصر علامہ حافظ محمد گوندلوی﷫ نے  طبیہ  کالج دہلی سے  علم طب پڑھا اور کالج میں اول  پوزیشن حاصل کی ۔کئی علماء  کرام نے علم طب حاصل کر کے  اسے اپنے روزگار کا ذریعہ بنائے  اور دین کی تبلیغ واشاعت  کا فریضہ فی سبیل اللہ  انجام دیا ۔ لیکن  رفتہ رفتہ علماء میں یہ سلسلہ ختم ہوتاگیا اب  خال    خال ہی ایسے علماء  نظر آتے  ہیں کہ  جوجید عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر  ومستند حکیم وڈاکٹر بھی ہوں۔ زير تبصره كتاب ’’تربیت معالجین قانون مفرد اعضاء  ‘‘  حکیم محمد یٰسین دنیاپوری کی  کا وش  ہے انہوں  نےاپنے  بیس سالہ طبی تجربات  کا ما حاصل   اس کتاب میں درج کردیا ہے اس میں  ا س بات کا خاص اہتمام کیا ہے کہ کوئی بات ایسی  نہ لکھی جائے جو تجربہ ومشاہدہ  اور تحقیق میں درست ثابت نہ ہوئی ہو ۔محض سنی سنائی باتوں کتابوں کی بے  معنی نقل اور بغیر غور وفکر کئے مسئلہ کولکھنے سے اخترا ز کیا ہے  اور مصنف نے کوشش کی ہے کہ طب کے قدیم مسائل کو  بڑی وضاحت سے اور عام فہم الفاظ میں آسان اور سہل خیالات  کےساتھ  ذہن نشین کرایا ہے ۔(م۔ا) 

  • #3774
    حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری

    2 تحقیق الدعا ء بعد صلوۃ الجنازہ

    نبی کریمﷺ  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک  نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا بھی ہے۔اکثر دیہاتوں اور بعض شہروں میں نماز جنازہ کے بعد سلام پھیرتے ہی بیٹھ کر اور بعض علاقوں میں کھڑے ہو کر لوگ دعا مانگتے ہیں۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب" تحقیق الدعاء بعد صلوۃ الجنازۃ "محترم حکیم سید عزیز علی شاہ ثابت حنفی البخاری ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنے کو بدعت ثابت کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • #3760
    محمد جمیل اختر لاہوری

    3 جادو جنات اور نظر بد کا توڑ

    جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جادو جنات اور نظر بد کا توڑ‘‘محترم جناب محمد جمیل اختر لاہوری صاحب کی کاوش ہےجسے انہوں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے مایہ ناز دو شاگرد امام ابن قیم ، امام ابن کثیر کی کتب سے اخذ واستفادہ کر کے مرتب کیا اور ان کاسلیس ترجمہ کرکے اردو دان طبقہ کے لیے پیش کیا ہے ۔ اس کتاب پر مولانا حافظ مبشر حسین لاہوی ﷾ کی نظرثانی سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔جادو ،جنات اورنظر بدکےحوالے سے مذکورہ ائمہ اسلاف کا نقطہ نظر سمجھنے کےلیے کتاب میں مکمل راہنمائی موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #3733
    عبد الغفور اثری

    4 اصلی اھلسنت ( عبد الغفور اثری)

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے- اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد" قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے- اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔لیکن بعض متعصب دیو بندی اور بریلوی صاحبان بزعم خود اپنے آپ کو اہل سنت قرار دے کر اہل حدیثوں کو اہل سنت سے خارج کر دیتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب " اصلی اھلسنت "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم  مولانا عبد الغفور اثری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے دلائل وشواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی اصلی اہل سنت ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3556
    محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    5 ریاض الحسنات

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریاض الحسنات ‘‘نامور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ﷫ کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے پنجسورہ، واسماء حسنی ، اسم ااعظم اور بعض اذکار مسنونہ کو جمع کردیا ہے۔اگرچہ اب جدید اور نئی تحقیق شدہ اور خوب صورت بے شمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں اور کافی ساری کتب ویب سائٹ پر بھی موجود بھی ہیں لیکن   ان کبار علماء کی قدیم کتب کو محفوظ کرنے کی خاطر انہیں بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا   گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمار ے علماء اسلاف کی   تمام دینی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)

  • #3599
    امام ابن تیمیہ

    6 سیاست شرعیہ اردو

    ساتویں صدی ہجری کا دور ابتلاء وآزمائش کا دور تھا،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اخلاق واعمال میں کتاب وسنت سے دامن بچانے کا مرض تھا۔امام ابن تیمیہ ﷫ کے لئے یہ صورت حال بڑی تکلیف دی تھی،آپ اس صورتحال کو برداشت نہ کر سکے،قلم سنبھالا،تلوار اٹھائی،وعظ وتقاریر کا سلسلہ چھیڑا اور جب مخالفت شروع ہوئی تو بے خطر مخالفت کے عظیم سمندر میں کود پڑےاور چراغ حرم کے پروانوں کو میر کارواں کی طرح پکارنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ مذہبی ابتری اور سیاسی انتشار میں اتحاد وجمعیت کی صورتیں نظر آنے لگیں۔عصر حاضر میں مسلمانوں کے سیاسی نظریات میں جو تزلزل پایا جاتا ہے وہ ساتویں صدی ہجری سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔صرف پاکستان ہی میں نہیں تمام دنیا میں مسلمان سیاسی توازن قائم رکھنے میں بڑی حد تک ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ ان اصولوں سے دوری  اور بے تعلقی ہے جن کو اسلام میں سیاست شرعیہ کہا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیاست شرعیہ " امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک عظیم الشان اور تاریخی کتاب ہے،جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے ،اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری ولازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی حکومتوں کے ایوانوں میں استحکام آ سکتا ہے۔امام ابن تیمیہ ﷫اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا ابو الکلام آزاد﷫ کے ایماء پر ان کے معتمد خاص جناب مولانا محمد اسمعیل گودھروی صاحب ﷫نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم دونوں کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3389
    حافظ صلاح الدین یوسف

    7 نماز محمدی اور مسنون دعائیں (صلاح الدین یوسف)

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔نماز دین کاستون اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ روزِ حساب سب سےپہلے نماز ہی کی باز پرس ہوگی۔ یہ معراج کا سب سے عظیم تحفہ ہے جس کی حفاظت اور مسنون ادائیگی کے بارے میں سیکڑوں احادیث ملتی ہیں۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے   کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي۔ لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نماز محمد ی او رمسنون دعائیں صحیح احادیث کی روشنی میں ‘‘ پاکٹ سائز مفسر قرآن مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہو ں آپ ﷺ کی نماز کا مستند ،صحیح اور مسنون نقشہ بڑی تحقیق اور شرعی ذمہ دار ی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ہمیں خود اپنی نمازوں کومسنون بنانا چاہیے اور دوسروں کوبھی اس کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ محترم حافظ صاحب کی اس کاوش کو ماء اللہ بڑا قبول عام حاصل ہے مساجد میں بچوں کویہ نماز باترجمہ حفظ کرائی جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کو مزید فائد مند بنائے اورحافظ صاحب کو صحت وتندرستی سے نوازے (آمین) (م۔ا)

  • #3041
    فروغ احمد

    8 آسان چالیس سبق حصہ دوم

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3040
    فروغ احمد

    9 آسان چالیس سبق حصہ اول

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #2512
    ہارون یحییٰ

    10 اینڈ آف ٹائم قیامت کی نشانیاں اور ظہور امام مہدی

    وقوع  قیامت کا  عقیدہ اسلام کےبنیادی  عقائد میں سےہے اور ایک    مسلمان کے  ایمان کا   حصہ ہے ۔  قیامت آثار  قیامت کو  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث میں  وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے  جیساکہ احادیث میں  میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم ﷤نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی ﷤کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے  سے   ائمہ محدثین نے  کتب احادیث میں     ابواب بندی بھی کی  ہے اور  بعض  اہل علم نے    اس موضوع پر  کتب  لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر  ترکی کے  معروف   قلمکار   محترم   ہارون یحییٰ  کی  منفرد  کتاب ہے ۔  اینڈ آف ٹائم  سےمراد  آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر  سے  یہ قرب  قیامت کا دور ہے ۔قرآن  وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار  پر مشتمل ہے ۔پہلے دور میں  لوگ مادی وروحانی  مشکلات میں مبتلا ہوجائیں گے  جبکہ دوسرا دور سنہری دور  ہوگا اس میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی  فروانی  ہوگی ۔ اس دور میں  دین  حق  کی ترویج اور اشاعت  ہوگی ۔اسی دور کے اختتام  پر معاشرہ  تباہی  کے  دہانے پر پہنچ جائے گا اور لوگ  قیامت کی گھڑیاں گننا شروع کردیں گے ۔اس کتا ب میں  اسی وقت ِ آخر کاجائزہ قرآن وحدیث کی روشنی میں  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس  کتاب عوام الناس کے لیے  فائدہ مند بنائے   اور لوگوں کےعقیدۂ  آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39808416

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں