کل کتب 13

دکھائیں
کتب
  • 1 #4124

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 2120

    استقامت

    (بدھ 17 فروری 2016ء) ناشر : محمدی اکیڈمی منڈی بہاؤالدین

    حب رسول ﷺسے سر شار کتاب ، رحمتہ للعالمین کے مصنف قاضی محمد سلیمان منصور پوری ﷫ ١٨٦٧ء کو منصور پور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم والد قاضی احمد شاہ سے حاصل کی۔سترہ سال کی عمر میں مہندرا کالج پٹیالہ سے منشی فاضل کے امتحان میں پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ اس کے بعد انہوں نے ریاست پٹیالہ میں محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کی۔اپنی قابلیت و صلاحیت اوربفضل تعالیٰ وہ ترقی کرتے ہوئے ١٩٢٤ء میں سیشن جج مقرر ہوگئے۔  قاضی محمد سلیمان منصور پوری نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قابلیت ،صلاحیت اور علم کو اسلام کے لئے موثر طریقے سے استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول ﷺسے انتہائی محبت اور عقیدت کا اظہار اُن کی جملہ تصانیف سے بخوبی ہوتا ہے۔انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں ۔ رحمۃ للعالمین ،مہرنبوت، اصحاب بدر، سید البشر، اسو ۂ حسنہ  سیرت  النبیﷺ کے موضوع پر  بڑی  مقبول عام کتب ہیں ۔موصوف کی تصنیفات میں  سے زیر تبصرہ  کتاب ’’استقامت ‘‘ بھی ہے۔یہ کتاب دراصل  موصوف کا  ایک رد عیسائیت کےسلسلے میں ایک  متذبذب مسلمان کے خط  کےجواب میں  لکھا گیا ایک تبلیغی خط ہےجسےبعد میں استقامت کے نام سے  کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔  قاضی  صاحب نے اس رسالہ  کو تالیف کرنے کی رودادمیں لکھا کہ ’’ میں  دفتر جارہا تھا کہ راستہ میں پوسٹ مین نےمجھے  ایک خط دیا جس  میں صاحب مکتوب نے  لکھا تھا کہ اگر مجھے تسلی بخش جواب نہ ملا  تو عیسائی ہوجاؤں گا ۔۔ یہ جملہ پڑھ کرمعاً گھر کی طرف لوٹاکہ مبادا دیر ہوجائے او روہ اسلام چھوڑ دے ۔ چنانچہ آدھ گھنٹہ میں یہ  خط لکھا ، ڈاک  میں ڈالا اور پھر دفتر روانہ  ہوا۔جب یہ  خط ان کےپاس پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو  اطمینان قلب اور سکون عطاکیا اور پوری استقامت کےسےاسلام کے مناد او رواعظ بن گئے  اور اسی مبارک خدمت میں رحمت حق سے واصل ہوئے ۔(م۔ا)

  • 2 #2432

    مصنف : حفظ الرحمٰن سیوہاروی

    مشاہدات : 2585

    بلاغ مبین یعنی مکاتیب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

    (اتوار 07 ستمبر 2014ء) ناشر : امجد اکیڈمی، لاہور

    بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ سیاسی ،دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز ہے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کےمختلف گوشوں پر سیرت نگاروں نے   کاوشیں کی ۔ کتب احادیث بھی آپ ﷺہی کے کردار کا مرقع ہیں ۔عبادات ومعاملات ،عقائدوغزوات اور محامد وفضائل ،کو نسا باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات پاکیزہ سے متعلق صدہا مصنفینِ اسلام نےقابل قدر تصانیف لکھی ہیں اور اس کثرت سے لکھی ہیں کہ آج تک کسی علمی یا ادبی موضوع پر اس قدر سیر حاصل کتابیں نہیں کی گئیں۔ سیرت مقدسہ کی ا ن کتابوں میں مصنفین نے جہاں رسول اکرم ﷺ کی پاک زندگی کے مختلف گوشوں پر پوری شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔اسی کے ذیل میں انہوں نے آپ کے ان فرامین مکاتیب عالیہ کابھی ذکر کیا ہے جو مختلف حالات کے زیر اثر دنیا کےمختلف حصوں میں ارسال کئے گئے۔ سیرت مقدسہ کی کوئی تصنیف مکاتیب النبیﷺ سے خالی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بلاغ المبین یعنی مکاتیب سید المرسلین‘‘ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی﷫ کی تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول اصول تبلیغ ،حصہ ثانی فرامیں سید المرسلین ،حصہ ثالث :نتائج وعبر۔ کتاب کادوسراحصہ بہت زیاد ہ مہتم بالشان ہے۔ اس میں آپ ﷺ کے ان فرامین مقدسہ کوجمع کیا گیا ہے جو آپ نے دنیا کے مختلف بادشاہوں کے نام روانہ فرمائے تھےاو ر ان فرامین کے ساتھ ان سے متعلق تاریخی وحدیثی حالات کو بیان کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • 3 #2272

    مصنف : مالک رام

    مشاہدات : 1924

    خطوط ابو الکلام آزاد

    (بدھ 23 جولائی 2014ء) ناشر : ساہتیہ اکادیمی نئی دلی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد  خلفائے راشدین﷢ نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے  شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب  مولانا ابوالکلام  آزا کےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہےجس  میں  مکاتیب کو تاریخ وار جمع کر نے  کی کوشش کی گئی ہے  مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعت مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی  آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان  میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  او رانھو ں جو خطوط شمس العلماء مولوی محمد یوسف  جعفری کے نام لکھے  وہ بہت  اہم  اور قیمتی ہیں ۔(م۔ا)
     

     

  • 4 #4758

    مصنف : عبد الماجد دریا بادی

    مشاہدات : 2223

    خطوط ماجدی

    (پیر 26 ستمبر 2016ء) ناشر : ادارہ تصنیف و تحقیق، کراچی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا  سلیمان   کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی  کڑی ہے ۔جوکہ معروف  ادیب  ومفسر  مولانا  عبد الماجد دریاآبادی کے  علمی وادبی  خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا   دریاآبادی کے خطوط  کےمجموعہ ہذا کے علاوہ  مکتوبات ماجدی  اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ (م۔ا)

  • 5 #2307

    مصنف : ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    مشاہدات : 3414

    سیاسی وثیقہ جات

    (ہفتہ 09 اگست 2014ء) ناشر : مجلس ترقی ادب لاہور

    بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ  سیاسی  ،دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز  ہے  نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ  کےمختلف گوشوں  پر سیرت نگاروں نے  کاوشیں کی  ۔ کتب احادیث بھی  آپ ﷺہی کے  کردار کا مرقع ہیں ۔عبادات ومعاملات ،عقائدوغزوات اور  محامد وفضائل ،کو نسا  باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ حدیث ہی کےسلاسل  کا ایک حلقہ آنحضرت ﷺ کے فرامین ہیں،کچھ تبلیغی،کچھ تادیبی،بعض میں غیر مسلم حلیفوں کےساتھ معاہدوں کا تذکرہ ہے ۔نبی کریم  ﷺ کے بعد  ریاست کے  جملہ  انتظامی امور کی عنان جب حضرت ابو بکر صدیق﷜ کو تفویض ہوئی تو آپ نے  بھی متعلقہ حوادث پر اطراف وجوانب اور ماتحت عمال وسپہ سالاران  کی طرف سے  سرکاری فرامین بھیجے  ۔ نئے  وثیقے بھی لکھے  اور رسول اللہﷺ کے جو وثائق آپ کے سامنے  پیش ہوئے ان کی توثیق بھی  فرمائی۔اسی طرح خلیفۂ دوم ،سوم، چہارم کے عہد میں بھی اس قسم کے فرامین اور وثیقے اور عطایائے  جاگیرات کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔نبی کریم ﷺ اور خلفاء اربعہ کے  معاہدات ،مکاتیب  کتب سیرت وتاریخ  میں  موجود ہیں۔زیر نظر کتاب  ’’سیاسی  وثیقہ جات ‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ   کی  آنحضرت ﷺ کےفرامین،معاہدات ،مکاتیب اور خلفائے راشدین کے احکام پر مشتمل جامع کتاب ہے  ۔  موصوف نے  رسول  اللہ ﷺ اور آپ کے چاروں جانشینوں کے سرکاری  فرامین کو بڑی  تحقیق اور محنت شاقہ سے  اس کتاب میں  جمع کردیا ہے ۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
     

  • 6 #747

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 26622

    غبارخاطر

    (جمعہ 03 دسمبر 2010ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور

    مولانا ابو الکلام آزاد کا نام سنتے ہی ایک ایسی شخصیت کا تصور ابھرتا ہے جو تحریر و تقریر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ۔ لفظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’غبار خاطر‘ مولانا کی سب سے آخری کتاب ہے جو  ان کی زندگی میں شائع ہوئی۔ 1942 میں جب مولانا آزاد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا گیا  تو تقریباً تین سال تک آپ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ اسی زمانے کا ثمرہ یہ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ کہنے کو تو یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے لیکن ان میں مکتوب کی صفت کم ہی پائی جاتی ہے۔ مولانا نے اپنے خیالات کو قرطاس کی زینت بنانے کے لیے عالم خیال میں مولانا حبیب الرحمن خان شروانی کو مخاطب تصور کر لیا ہے اور پھر جو کچھ بھی ان کے خیال میں آتا گیا اسے بے تکلف حوالہ قلم کرتے چلے گئے۔  کتاب میں عربی و فارسی کی مشکل ترکیبیں بہت کم استعمال کی گئی ہیں نثر ایسی شگفتہ اور دلنشیں ہے کہ تقریباً ہر کسی کے لیے قریب الفہم ہے۔
     

  • 7 #5363

    مصنف : ابو جعفر دیبلی

    مشاہدات : 1863

    فرمان نبوی ترجمہ و شرح مکاتیب النبی صلی اللہ علیہ وسلم

    (اتوار 26 فروری 2017ء) ناشر : الرحیم اکیڈمی، کراچی

    بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ سیاسی، دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز ہے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں پر سیرت نگاروں نے کاوشیں کیں۔ کتب احادیث بھی آپﷺ ہی کے کردار کا مرقع ہیں۔ عبادات و معاملات، عقائدوغزوات اور محامد وفضائل، کو نسا باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات پاکیزہ سے متعلق صدہا مصنفینِ اسلام نے قابل قدر تصانیف لکھی ہیں اور اس کثرت سے لکھی ہیں کہ آج تک کسی علمی یا ادبی موضوع پر اس قدر سیر حاصل کتابیں تصنیف نہیں کی گئیں۔ سیرت مقدسہ کی ا ن کتابوں میں مصنفین نے جہاں رسول اکرمﷺ کی پاک زندگی کے مختلف گوشوں پر پوری شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ اسی کے ذیل میں انہوں نے آپ کے ان فرامین مکاتیب عالیہ کابھی ذکر کیا ہے۔ جو مختلف حالات کے زیر اثر دنیا کے مختلف حصوں میں ارسال کئے گئے۔ ان مکاتیب النبیﷺ کی جمع و تدوین میں راویان حدیث اور محدثین کرام کابڑا حصہ ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’فرمان نبوی ترجمہ و شرح مکاتیب النبیﷺ‘‘  تیسری صدی ہجری کے معروف محدث ابو جعفر الدیبلی السندی ﷫ کی نبی کریمﷺ کے مختلف مکتوبات پر مشتمل عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ کی سعادت مولانا محمد عبد الشہید نعمانی نے حاصل کی ہے موصو ف نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ ان مکاتیب کی جستجو وعرق ریزی سے محققانہ شرح بھی تحریر کی ہے۔ نیز جن اہل قلم نے   مکاتیب النبیﷺ پر تحقیقی کام کیا ہے ان پر ناقدانہ نظر بھی ڈالی ہے جس سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ (م۔ا)

  • 8 #3027

    مصنف : ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مشاہدات : 2404

    مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول

    dsa (بدھ 25 مارچ 2015ء) ناشر : ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کراچی

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین  نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ  خطوط  شائع ہوچکے ہیں  اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط چھپے  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب  ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام  آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے  ڈاکٹر ابو سلمان  شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ  مولانا ابو الکلام کے  کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ   خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس  پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے  ۔ اوریہ  زمانہ  حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول  بھی ہے جس میں  ان کی بلند فکری اپنی  پوری آب وتاب سےنمایا ں ہوچکی تھی۔   مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے  قدم قدم پر ان کی وسعتِ مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی   آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے  مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے  خاص کر ان   میں  ان کی عادات اور خصائل  جاننے کے  لیے بہت مواد ہے  (م۔ا)
     

  • 9 #2784

    مصنف : عبد الستار خاں

    مشاہدات : 2410

    مکاتیب النبی صلی اللہ علیہ وسلم

    (اتوار 28 دسمبر 2014ء) ناشر : قرآن اردو ڈاٹ کام

    دعوت دین کی سرگرمیوں میں سے ایک نبی کریم ﷺکے وہ مبارک خطوط بھی ہیں جو آپﷺ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو بھیجے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ان خطوط میں سے بعض خطوط آج بھی مختلف مقامات پر محفوظ ہیں۔آپ ﷺ کی طرف سے روانہ کئے گئے ان تمام خطوط پر مہر نبوت ثبت تھی۔مورخین کا اس بات پر اختلاف ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ خطوط کب روانہ کئےتاہم اکثریت کا خیال ہے کہ یہ 6ھ یعنی صلح حدیبیہ کے بعد لکھے گئے۔مورخین نے ان کی تعداد میں بھی اختلاف کیا ہے تاہم تاریخ کی کتابوں سے ہمیں 22 ایسے خطوط کا حوالہ ملتا ہے جو آپ ﷺ نے مختلف سربراہان مملکت کی طرف روانہ کئے۔صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریم ﷺ نے 6 صحابہ کرام﷢ کو منتخب کیا اور انہیں 6 ممالک کے سربراہان کی طرف روانہ کیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ" مکاتیب النبیﷺ " محترم عبد الستار خان کی تحقیق وتدوین ہے ،جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ نے انہی خطوط کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ ان خطوط کی تصاویر بھی شائع کر دی ہیں تاکہ علم کے لئے باعث اشتیاق ہوں۔ اللہ تعالی مولف کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #2582

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 1986

    مکاتیب سلمان

    (ہفتہ 15 نومبر 2014ء) ناشر : المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل

    خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد   خلفائے راشدین﷢ نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ ’’مکاتیب سلمان ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔جوکہ معروف سیرت نگار کتاب ’’رحمۃ للعالمین کے مصنف علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری﷫ کے علمی اور تبلیغی 33 خطوط کا مجموعہ ہے جسے   المکتبۃ الاثریۃ ،سانگلہ ہل نے افادۂ عام کےلیے شائع کیا۔(م۔ا)

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1662
  • اس ہفتے کے قارئین 3588
  • اس ماہ کے قارئین 41982
  • کل قارئین49283085

موضوعاتی فہرست