• #6719
    شمس الدین الذہبی

    1 میزان الاعتدال اردو جلد ہشتم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6718
    شمس الدین الذہبی

    2 میزان الاعتدال اردو جلد ہفتم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6717
    شمس الدین الذہبی

    3 میزان الاعتدال اردو جلد ششم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6716
    شمس الدین الذہبی

    4 میزان الاعتدال اردو جلد پنجم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6715
    شمس الدین الذہبی

    5 میزان الاعتدال اردو جلد چہارم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6714
    شمس الدین الذہبی

    6 میزان الاعتدال اردو جلد سوم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

  • #6713
    شمس الدین الذہبی

    7 میزان الاعتدال اردو جلد دوم

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا) حدیث۔ علم اسماء الرجال ؍جرح وتعدیل

  • #6712
    شمس الدین الذہبی

    8 میزان الاعتدال اردو جلد اول

    راویانِ حدیث کے حالات ا ن کے  رہن سہن ،ان کا نام نسب،اساتذہ وتلامذہ،عدالت وصداقت اوران کے درجات کا پتہ چلانے کے علم کو  ’’علم جرح وتعدیل ‘‘ اور ’’علم  اسماء رجال ‘‘کہتے ہیں علم اسماء رجال میں راویانِ حدیث  کے عام حالات پر  گفتگو کی جاتی ہے  اور علم  جرح وتعدیل میں  رواۃ ِحدیث کی  عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی  ہے یہ دونوں علم ایک دوسرے  کےلیے لازم ملزوم ہیں   جرح  سے  مراد روایانِ حدیث کے وہ  عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان  کی عدالت ساقط ہوجاتی  ہے او ر او ران  کی روایت کردہ  حدیث  رد کر جاتی  ہے  اور تعدیل  سےمراد  روائ  حدیث  کے عادل ہونے کے بارے  میں بتلانا اور حکم  لگانا کہ  وہ  عادل  یاضابط ہے اس موضوع پر ائمہ حدیث  اوراصولِ حدیث کے ماہرین  نے  کئی کتب تصنیف کی ہیں لیکن یہ  کتب   زیادہ تر عربی زبان میں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ میزان الاعتدال فی  نقد الرجال  (اردو )  ‘‘ علم  اسماء الرجال وتاریخ   کی مشہور ومعروف  شخصیت  امام شمس الدین  محمد بن احمد  بن عثمان    ذہبی  کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب امام ذہبی کی لاجواب  تصنیف ہے  جو ضعیف راویوں کے بارے  میں ہے ۔ اس میں  امام ذہبی  نے شیخ ابو احمد عبد اللہ بن عدی کی کتاب  ’’ الکامل  فی ضعفاء الرجال ‘‘ کے مواد کو ااختصار اور جدید ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے ۔جرح وتعدیل کے  متعلق کتب کی تاریخ  میں امام  ذہبی کی یہ کتاب  نمایاں حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کی اہمیت  کا  اندازہ اس بات  سے  لگایا  جاسکتا ہے  کہ   شارح بخاری  حافظ ابن حجر  عسقلانی  نے اس  کتاب کی اہمیت  ، اختصار اور جامعیت  کے پیش نظر  اسے  تحقیق کا موضوع بنایا اور اس  میں  مزید مفید اضافہ  جات  کرنے کے بعد اسے ’’ لسان المیزان ‘‘ کے   نام  سے اہل علم کے سامنے پیش کیا ہے ۔ کتاب  ہذا  میز  ان الاعتدال  پر  شیخ علی محمد معوض اور شیخ  احمد عبد الموجود کے تحقیق وتعلیق شدہ  نسخہ کا  اردو ترجمہ ہے ۔  امام  ذہبی  نے تصنیف وتایف  کے  علاوہ درس  وتدریس  کی طرف بھی بھر پور توجہ دی  اور اپنے زمانے کے معروف علمی مراکز میں درس  و تدریس کے فرائض  سرانجام دیتے  رہے۔ امام  ذہبی  نے دو سو کے قریب  تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو مختصر اور طویل  دونوں قسم کی ہیں  ان   طویل تصانیف  میں کتاب ہذا میزان الاعتدال کے علاوہ  ’’ سیر اعلام النبلاء ‘‘ اور’’ تاری الاسلام ‘‘  قابل ذکر ہیں۔میزان الاعتدال  کے  ترجمہ کی سعادت جناب  مولانا ابو سعید  نے حاصل کی  اور    مکتبہ رحمانیہ  لاہور   نے اسے  حسن ِطباعت سے آراستہ کیا ہے   یہ  ترجمہ شدہ کتاب  آٹھ   مجلدات پر مشتمل ہے جو طالبانِ علوم  حدیث کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے ۔(م۔ا)

     

  • #6245
    احمد غزالی

    9 چولستان

    بے آب و گیا ہ صحرائے چولستان جو کسی زمانے میں بین الاقوامی تجارتی گزر گاہ تھا اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے دریائے ہاکڑا کے کنارے جیسلمیر کے بھٹی راجاﺅں کے دور حکمرانی 834ہجری میں تعمیر ہونے والا قلعہ ڈیراور جو اپنے اندر کئی صدیوں کے مختلف ادوار کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ اس قلعہ کو نواب صادق محمد خاں اول نے والئی جیسلمیر راجہ راول رائے سنگھ سے فتح کیا جس وقت قلعہ ڈیراور عباسی خاندان کی ملکیت بنا تو عباسی حکمرانوں نے قلعہ کے تمام برج پختہ اینٹوں سے تعمیر کروا کر اس قلعہ کا ہر برج اپنے ڈیزائن میں دوسرے سے جدا ڈیزائن میں کیا ۔ قلعہ کے اندر شاہی محل ،اسلحہ خانہ ، فوج کی بیرکیں اور قید خانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ قلعہ کے مشرقی جانب عباسی حکمرانو ں نے ایک محل بھی 2منزلہ تعمیر کرایاجہاں تاج پوشی کی رسم اد اکی جاتی تھی۔ اس وقت قلعہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود تھا ۔ ریاست بہاولپور کا پاکستان سے الحاق ہونے کے بعد اور والئی ریاست بہاولپورعباسیہ خاندان کے آخری فرمانروا نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی مرحوم کی وفا ت کے بعد چولستان کے وارثوں اور حکمرانوں کی عدم توجہی اور سی ڈی اے کے منہ زور عملہ کی مبینہ نا اہلی کے باعث انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر تباہی کی جانب تیزی سے گامزن ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ چولستان‘‘ احمد غزالی کی تالیف ہے۔ جس میں دریا کی کہانی، ہاکڑہ دریا کی کہانی، چولستان کی وجہ تسمیہ، طول و عرض، ٹوبھے اور کُنڈ، مٹی اور مزاج، صحرائی ہوا، راستے اور سفر کی روایت، پر اسرار روشنی، خواجہ فرید کی شاعری اور چولستان، سانپ اور لوک علاج، لال سہانرا نیشنل پارک، قومیں، چولستان کے روایتی زیور، رسم و رواج، آوازیں اور شگون، چولستانی دستکاریاں، مشہور مقامات، اکھان اور نامور صحرانشینوں کے تذکرے بیان کیے گے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • #6246
    امام ترمذی

    10 سنن جامع ترمذی مترجم مع فوائد و توضیح جلد اول

    شریعت محمدی ﷺ میں دو بنیادی مآخذ ہیں۔ ایک قرآن مجید اور دوسرا مآخذ سنت نبویہﷺ۔ قرآن مجید میں اصول اور حدیث رسولﷺ میں ان کی تشریح وتوضیح پائی جاتی ہے۔ لیکن فتنوں کے اس دور میں شیطان نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے ہر طرف بے راہ روی کے جال بچھا رکھے ہیں۔ کہیں انکارِ حدیث تو کہیں تجدد کی آڑ میں دین کی نت نئی تاویلات۔ کہیں مستشرقین کی تلبیسات تو کہیں اپنوں کی نفس پرستی‘ ایسے پر فتن دور میں سنت رسولﷺ کا احیاء سعادت ہی نہیں‘ فرض بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  کا مقصدبھی احیائے دین اور احیائے سنت ہے۔ اصلاً کتاب عربی زبان میں ہے جس کی وقتاً فوقتاً اور نت نئی تشریحات وتوضیحات ہو رہی ہیں کیونکہ یہ کتاب ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتی ہے اور یہ کتاب جامع ہونے کے ساتھ ساتھ سنن بھی ہے۔ اس کتاب میں  میں ترجمے کی سلاست کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کے معانی بیان کرنے کے ساتھ ان کی وضاحت بھی ہے اور افادۂ عام کے لیے توضیحی فوائد بھی درج کیے گئے ہیں۔ احادیث کو بیان کرنے سے قبل کتاب کا تعارف اور ہر باب اور اس سے متعلق احادیث کا ترجمہ‘ امام ترمذی کی وضاحت اور مسائل کا خلاصہ بھی درج کیا گیا ہے اور علامہ البانی کے حکم پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ جامع سنن تر مزی متر جم مع فو ائد و توضیح ‘‘ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی  کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825506

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں