دکھائیں کتب
  • 1 اجالوں کی منزل (پیر 05 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1477

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "اجالوں کی منزل" محترم نعیم احمد بلوچ صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئے ایک منفرد اور کہانی کے انداز  میں واقعہ شق القمر کو بیان کیاہے، اور یہ کتابچہ اس کا تیسرا حصہ ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے سلسلے واقعات قرآنی کی پہلی کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہوجانے والے واقعے کو بیان کیا ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر...

  • 2 ارتھ شاستر (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18190
    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)
  • 3 اسلام کا معاشرتی نظام (بدھ 25 فروری 2015ء)

    مشاہدات:4562

    اسلام دینِ فطرت ہے ۔ اس نے انسان کےاجتماعی شعور کوملحوظ رکھا ہے ۔ اسلام انسانوں کے باہمی میل جول سے پیدا ہونے والی اجتماعیت کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے ۔ بلکہ اس اجتماعیت کی نشو ونما میں معاونت کرتا ہے اوراسے ایسے فطری اصول دیتا ہے جن سے اجتماعیت کو تقو یت ملے۔ اوروہ اس کےلیے صالح بنیادیں فراہم کرت ہے اور ایسے عوامل کا قلع قمع کرتاہے جو اسے بگاڑ دیں یا محدود اور غیر مفید بنادیں ۔اور اسلام فرد کی انفرادیت کو بنیاد قرار دیتا ہے۔فرد اجتماعی زندگی کےلیے جو جمعیتیں بناتا ہے ۔اسلام اس کی حوصلہ افزائی اور ان کےلیے اصول وقوانین فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی پہلی اجتماعی اکائی اس کا خاندان ہےاس میں میاں بیوی، والدین،رشتہ دار ، ہمسائے اور پھر عام انسانی برادر شامل ہے ۔اسلام نے ان میں سے ہرایک کے متعلق تفصیلی احکام دئیے ہیں ۔اسلام کےمعاشرتی نظام کے کچھ بنیادی اصول اور خصوصیات ہیں جن پرسارا معاشرتی ڈھانچہ استوار ہے ۔اوراسلام کا دعویٰ ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کےلیے جن اصولوں کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نے انسان کوسمجھائے اسے جس بنیادی فکر اور جس رہنمائی کی ضرورت تھی وہ رب العالمین نے مہیا کردی۔ انسانوں کا باہمی فکری اختلاف ان کا اپنا پیدا کردہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں فکری تشت نہیں دیا بلکہ فکری وحدت عطا کی تھی قرآن نے بڑے جامع الفاظ میں اسے بیان کیا ہے ۔كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِين(البقرۃ:213)’’سب آدمی ایک ہی طریقے پر تھے ۔پھر اللہ تعالیٰ نےپیغمبروں کوبھیجا جو انہیں خوشخبر...

  • 4 اسلامی معاشرت (اتوار 20 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1861

    اللہ تعالی نے  کائنات کو عدم سے وجود عطا کیا اور اس میں اشرف المخلوقات  حضرت انسان کو پیدا کیا اور انسانوں کےلیے مقصد حیات اپنی عبادت متعین فرمایا۔انسانوں کی راہنمائی کی غرض سے  انبیاء و رسل کومبعوث فرمایا۔انبیاء کرام ؑ نے  عہد الست کی یادہانی کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا عظیم فریضہ بھی سرانجام دیا جس  کےنتیجے  میں ایک  ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے  جو  اسلامی معاشرت کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔اسلامی معاشرت کی بنیاد تقویٰ، مساوات ،اخوت، انصاف ،ایثار، دوسروں کی جان ،مال،عزت کی حفاظت اور تکریمِ انسانیت کے بلند اصولوں پر قائم ہے ۔بلاشبہ اسلامی معاشرت  ایک عظیم معاشرت  ہے ،جس کی عظمت کا اندازہ اس  بات  سےلگایا جاسکتا ہے  کہ  انبیاء  کرام  نے توحید ورسالت کے بعد سب سے  زیادہ توجہ اور اپنی تمام ترتوانیاں اصلاح معاشرہ کے لیے وقف کیں۔اسلامی معاشرت کے فیوض وبرکات اور ثمرات سے متفید ہونے کے لیے  اسلامی  طرز ِمعاشرت کو اپنی زندگیوں میں حقیقی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلامی معاشر ت ‘‘ سعودی عرب کے معروف  عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو  کی  عربی کتاب "توجيهات الاسلامية لاصلاح الفرد والمجتمع‘‘ کا ترجمہ ہے  ۔  جس  میں انہوں نے اسلامی طرزِ معاشرت  کے قیام کے لیے  جو امور  بنیادی کردار اداکرتے ہیں انہیں شیخ  صاحب نے  بڑے احسن انداز میں بیان  کیا ہے ۔شیخ  جمیل زینو   اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے  مؤلف ہیں  ان  میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی  ہوچکے ہیں۔کتاب ہذا کا ترجمہ  کی  سعادت مولانا عبد الستار قاسم  (فاضل جامعہ سلف...

  • 5 اصلاح معاشرہ (اضافہ شدہ ایڈیشن ) (اتوار 22 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:4917
    ہر صاحب عقل  یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ معاشروں کی اصلاح وتعمیر میں قوموں کی فلاح وکامیابی وترقی چھپی ہے۔   تاریخ گواہ ہےکہ  ماضی میں جب تک مسلمانوں نےاپنے  معاشرے  کو اسلامی معاشرہ بنائے رکھا ،اس وقت تک مسلم قوم سر بلند   رہی  ،او رجیسے جیسے معاشرہ تباہ  ہوگیاہے  ویسے ویسے امتِ مسلمہ بھی  اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی گئی، چنانچہ معلوم ہوا کہ  فوز وفلاح وکامیابی کے لیے اپنے معاشرے  کی اصلاح کرنا انتہائی ضرروی ہے ۔ معاشرےکی اصلاح  کے لیے  اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں اور اصولوں کو اپنانا چاہیے او راسی پاک اوربے عیب  ذات سے اصلاح طلب کرنی چاہیے۔سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت عرب معاشرہ جن گھناؤنے اعمال کامرتکب تھا،    قرآن وحدیث ہی کا نورتھا  جس نے  تاریک معاشرے کو روشن کردیا،اور ان کی برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ۔ لوگ شرافت،دیانت،محبت ،اخوت، شرم وحیا اوراخلاق فاضلہ کے مجسمے بن گئے۔ ترقی کے زینے چڑہتے چڑہتے وہ اوج ثریا پر جا پہنچے  اور قرآن نے انہیں نجات ِآخرت کی بشارتیں سنائیں۔زیرنظر کتاب ’’ اصلاح معاشرہ‘‘ معروف عالم دین  مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی  کی  تصنیف ہے ،  جس میں  انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں   انسانی زندگی میں پیش آمدہ  مختلف مسائل پر   سلیس او ر عام فہم  انداز  میں  بحث کی ہے، جس پر  عمل کرکے ان شاء اللہ  ہمارے معاشرےکی اصلاح ممکن ہوسکتی ہے۔(م۔ا)

  • 6 اصول تحقیق (ہفتہ 01 اگست 2015ء)

    مشاہدات:4972

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی ک...

  • 7 اصول حدیث و اصول تخریج (جمعہ 31 اگست 2018ء)

    مشاہدات:931

    علم حدیث سے مراد ایسے معلوم قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی حدیث کے اصول وضوابط اور تخریج کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے اختصار مگر جامعیت کے ساتھ مواد پیش کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ‘سلیس‘ شائستہ وشتہ عمدہ‘ شگفتہ  اور عام فہم ہے۔اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں بھی دی گئی ہیں تاکہ بات سمجھ میں آئے اور اسماء الرجال کے عظیم فن کی مبادیات‘ سند اور متن کے صحت وسقم کے معیارات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب سے ہر عام وخاص یکساں افادہ کر سکتا ہے۔ یہ کتاب’’ اصول حدیث واصول تخریج ‘‘ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین) حدیث وعلوم حدیث  تمام کتب 

  • 8 الاصلاح (جمعرات 23 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:11465

    حضرت العلام، محدث العصر جناب محمد گوندلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے وقت کے امام تھے۔ ان کی تدریس اور تالیف کے میدان میں نمایاں خدمات ہیں۔ حضرت العلام کا مطالعہ بہت وسیع اور فکر میں انتہائی گہرائی تھی ۔ ان کے حافظے کی پختگی کی وجہ سے لوگ انہیں چلتی پھرتی لائببریری کہا کرتے تھے ۔ان کی یہ کتاب ایک گوہر نایاب ہے جو ایک بریلوی عالم دین کی تصنیف’جواز الفاتحہ علی الطعام‘ کے جواب میں تحریر کی گئی ہے لیکن اس میں اس خاص مسئلہ کے علاوہ دیگر بدعات، اجتہاد وتقلید، قیاس، شرکیہ عقائد اور رسومات سے متعلق بھی انتہائی وقیع اور علمی تحقیقات پیش کی گئی ہیں۔اس کتاب میں تقلید، ندائے یا رسول اللہ، بشریت رسول، قبروں پر قبے بنانا، چالیسواں اور فاتحہ علی الطعام جیسے مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب میں ان فروعی مسائل کے ساتھ ساتھ کچھ اصولی مباحث بھی زیر بحث آئے ہیں جن میں ایک اہم مسئلہ قیاس اور بدعت میں فرق کا ہے۔ کتاب اس قدر علمی مواد پر مشتمل ہے کہ عوام الناس تو کجا، علماء اور متخصصین بھی اس کے مطالعے سے اپنے علم میں گہرائی، وسعت اور رسوخ محسوس کریں گے۔ہم یہ بھی یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت العلام کی ابحاث میں انتہائی گہرائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کو انہیں سمجھنے میں دقت ہوتی ہے لیکن ایسی مشکل کتابوں کا مطالعہ کرنے سے انسان کی فکر کی پرواز میں بلندی اور علم میں گہرائی و رسوخ پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ’مرکز التربیۃ الإسلامیۃ‘ کو اس کی جزا دے کہ انہوں نے واقعتاً علم کے ایک خزانے کو عوام الناس کے سامنے لانے کے لیے اپنی کوششیں صرف کیں ہیں۔اللہ تعالیٰ...

  • نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید الدلیل التام " پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے رسالے "رفع الابھام فی جواب دلیل تام"کے جواب میں لکھی ہے۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ مسئلہ اپنے زمانے میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ رہا ہے ،جس میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ اور محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫اپنے اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ہیں۔چونکہ دونوں مصنف ہی اہ...

  • 10 البشیر الکامل شرح مائۃ عامل (جمعہ 25 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:2769

    علوم نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے, مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔ یہی وہ عظیم فن ہے جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی زبان کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے'' علم نحو''کلیدی حیثیت رکھتاہے۔ اس کے بغیر علوم اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرن اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور شروح لکھی کی جاچکی ہیں،اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب البشیر الکامل بحل شرح مائۃ عامل علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب العوامل کی اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔(م۔ا)

     

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 710
    • اس ہفتے کے قارئین: 3753
    • اس ماہ کے قارئین: 16197
    • کل مشاہدات: 41357874

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں