ضیاء السنہ ادارۃ الترجمہ و التالیف، فیصل آباد

7 کل کتب
دکھائیں

  • امام احمد بن حنبل( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد تیس سال کی عمر میں ہی انتقال کرگئے تھے۔والد محترم کی وفات کے بعد امام صاحب کی پرورش اور نگہداشت اُن کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی۔ امام احمد بن حنبل ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آپ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی﷫ کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے مسند کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔  مسئلہ خلق قرآن  میں  خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور آپ   کی  نماز جنازہ پڑھی۔ زیر تبصرہ...

  • 2 نماز تراویح ( البانی ) (جمعہ 26 جون 2015ء)

    مشاہدات:2811

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب"نماز تراویح"اپنے زمانے کے امام اردن کے معروف عالم دین اور بے شمار کتب کے مصنف علامہ البانی صاحب﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد صادق خلیل صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کیا ہے...

  • ہرقوم کا اپنا اپنا ایک امتیازی نشان ہوتا ہے اسی طرح مسلمانوں کا امتیازی نشان دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے مسلمانوں کےلیے یہ پانچ نمازیں اتنی ضروری ہیں کہ ان میں بھی ایک جان بوجھ کر چھوڑ دی جائے تو اس کےمتعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفر‘‘ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول ال...

  • 4 حج نبوی (منگل 25 اگست 2015ء)

    مشاہدات:2007

    اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے بیت اللہ کا حج ہے ۔بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے۔ ا ور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام  سےخارج ہے۔ اگر اللہ تعالی توفیق دے تو ہر پانچ سال بعد حج یا عمر ہ کی صورت میں اللہ تعالی ٰ کے گھر حاضر ی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔مگر یہ اجر وثواب تبھی ہےجب حج او رعمر ہ سنت نبوی کے مطابق اوراخلاص نیت سے کیا جائے۔ اور منہیات سےپرہیز کیا جائے ورنہ حج وعمرہ کےاجروثواب سےمحروم رہے گا۔حج کے احکام ومسائل کے بارے میں اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب بازار میں دستیاب ہیں اور ہر ایک کا اپنا ہی رنگ ڈھنگ ہے۔انہی کتب میں سے زیر تبصرہ کتاب  ’’حج نبوی‘‘ محد ث العصر شیخ ناصر الدین البانی ﷫ کی حج کےموضوع پر جامع ترین کتاب ’’ صفۃ حجۃ النبی ﷺ منذ خروجہ من المدینۃ الیٰ رجوعہ‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے حدیث جابر﷜ کی روشنی میں نبیﷺ کے حج ِمبارک کے احوال کو اس طر ح ترتیب دیا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ حج کے پورے سفر میں ہم رسول اکرمﷺ ک...

    حج 
  • 5 اسلامی عقائد اردو ترجمہ شرح عقیدہ طحاویہ (جمعرات 10 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:9489

    اعمال صالحہ کا اعتبار ایمان پر موقوف ہے اس لیے کہ ایمان اصل ہے ۔ امام بخاری﷫ نے اعتقادی اصولوں کو کتاب الایمان اور کتاب التوحید کے تحت نہایت مفصل او رمدلل بیان فرمایا ۔امام ابوداؤد اوربعض دیگر آئمہ کرام نے ان اصولوں کو کتا ب السنۃ کے تحت ذکر کیا ہے جہاں اثباتی انداز میں اللہ کی ربوبیت، الوہیت اس کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے وہاں منفی انداز میں ان فرقوں کو گمراہ قرار دیا جنہوں نے اللہ کی صفات کا انکار کیا ۔ مسائل عقیدہ پر خصوصیت کے ساتھ بعض جلیل القدر اہل علم نے عقائد کے عنوان پر کتابیں تالیف کی ہیں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ نے العقیدۃ الواسطیہ، العقیدۃالحمویہ،شرح العقیدہ الاصفہانیہ او رامام طحاوی﷫ نے العقیدۃالطحاویہ کے نام سے رسائل تالیف فرمائے۔ ان کے علاوہ بعض دیگر محدثین نے نہایت عمدہ او رمؤثر انداز میں کتابیں تالیف کیں۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیرنظر کتاب ’’اسلامی عقائد اردور ترجمہ شر ح عقیدہ طحاویہ‘‘علامہ ابو جعفر الورّاق الطحاوی﷫ کی عقیدہ کے موضوع پر معروف کتاب ’’ العقیدہ الطحاویہ ‘‘ کی شرح کا اردو ترجمہ ہے ۔ عقید ہ طحاویہ کی یہ ضخیم شرح علامہ ابن ابی العز الحنفی نےترتیب دی ۔جس میں احسن انداز میں اسلامی عقائد کا احاطہ کیا گیا ہے اور اہل سنت والجماعت کےعقائد بیان کیے گئے ۔ہیں۔ کتاب مذکور کی خو بی یہ ہے کہ تمام اسلامی عقائد کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور باطل فرقوں کے بالمقابل اہل سنت والجماعت کے افکارونظریات کی نمائندگی کی گئی ہے یہ شرح اپنی اہمیت وافادیت کے باعث تقریبا تمام مدارس عربیہ،جام...

  • 6 احادیث ضعیفہ کا مجموعہ ( البانی ) (جمعرات 07 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:4550

    خدمتِ حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی﷫(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم ِ عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی ﷫ نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔ زیر نظر کتاب ’’احادیث ضعیفہ کامجموعہ ‘‘ شیخ البانی  کی احادیث ضعیفہ اور موضوعہ پر مشتمل کتاب سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة واثرها السي في الامة کی پہلی جلد کا ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے سلسلة احاديث الضعيفة والموضوعة میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے صحیحین کے ع...

  • 7 افکار صوفیہ کتاب و سنت کی روشنی میں (جمعہ 29 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:3417

    تصوف رہبانیت میں مکمل یگانگت ہے تصوف کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ دراصل یونانی افکار کا مجموعہ ہے اسلام کی پہلی تین صدیوں میں تصوف کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ تصوف ایسی مہلک بیماری ہے جس نے امت مسلمہ میں افتراق کی خلیج کو وسیع کیا۔ اس کی ترویج و اشاعت سے بدعات کو فروغ حاصل ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ صوفیہ کی جانب سے ہر دور میں توحید وسنت کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی ہیں ۔تصوف کو خوش نما خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سادہ لوح عوام کو فریب میں مبتلا رکھا گیا۔ اس کی قباحتوں کو نظر سے اوجھل رکھنے کے لیے اس کا نام زہد، عبادت،ذکر وفکر،طریقت رکھا گیا ۔اور الحاد، زندقہ، وحدت الوجود جیسے مشرکانہ نظریات کے پھیلنے کا سبب تصوف ہی ہے۔ اوراس کے پردے میں غیراسلامی افکار کو فروغ ہوا۔ ہندواونہ رسم و رواج کو اختیار کیاگیا۔ خانقاہوں میں عرس کے موقع پر صوفیاء مشائخ کی موجودگی میں رقص وسرور، قوالی، کی محفلیں جمتی ہیں مردوزن کا بے محابا اختلاط ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’افکار صوفیہ کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ کویت کے مشہور سلفی عالم دین شیخ عبد الرحمٰن عبدالخالق کی تصوف کی خرافات او رحقیقت کے متعلق تحریر شدہ عربی کتاب ’’ الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب و السنۃ ‘‘کا اردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں نہایت عرق ریزی اور محنت سے صوفیہ کے حالات پر مرتب شدہ مستند کتابوں سے استفادہ کر کے صوفیا کے افکار کو کتاب وسنت پر پیش کر کے ان کی تردید کی ہے۔ اورمستند کتب کے حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ صوفیہ کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1513
  • اس ہفتے کے قارئین: 3711
  • اس ماہ کے قارئین: 37732
  • کل قارئین : 47839341

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں