کل کتب 12

دکھائیں
کتب
  • 1 #6928

    مصنف : غلام رسول مہر

    مشاہدات : 1249

    تحریک سید احمد شہید جلد اول

    dsa (منگل 09 اپریل 2019ء) ناشر : مکتبہ الحق ممبئی انڈیا

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حرّیت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں  نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبرداشت کیا ،آتش باریوں اور شمشیرزنیوں کی ہنگامہ آرائیوں میں جانیں دے دیں،خاندان ،گھر بار اور  جائیدادوں کی قربانیاں دیں ۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں اور جزائر انڈیمان یعنی کالاپانی کی بھیانک اور خوفناک وحشت ناکیوں میں دن بسر کیے ۔لیکن جبیں عزیمیت پر کبھی شکن نہ آنے دی اور پائے استقامت میں کبھی لرزش پیدا نہ ہونے دی۔ زندگی  کےہرآرام اور ہر عیش کو نوکِ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے  آگے بڑھتے رہے ۔ زیر نظرکتاب   ’ ’تحریک سید احمد شہید المعروف شید احمد شہید‘‘  معروف مؤرخ وسوانح نگار مولانا غلام رسول مہر﷫  کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں  نےمجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہےیہ کتاب جماعت مجاہدین ، سرگزشتِ مجاہدین  کے  عنوان بھی شائع ہوئی ہے ۔مکتبہ الحق، ممبئی نےاسے    دس سال قبل   جدید عنوان’’ تحریک سید احمد شہید‘‘ کے ساتھ چار جلدوں میں شائع کیا ہے ۔ یہ چار ضخیم جلدیں تقریباً ڈھائی ہزار  صفحات پر مشتمل ہیں ۔(م۔ا) 

  • 2 #3949.05

    مصنف : ڈاکٹر صادق حسین

    مشاہدات : 1932

    تحریک مجاہدین جلد ششم

    (پیر 18 جنوری 2016ء) ناشر : نا معلوم

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبرداشت کیا ،آتش باریوں اور شمشیرزنیوں کی ہنگامہ آرائیوں میں جانیں دے دیں،خاندان ،گھر بار اور جائیدادوں کی قربانیاں دیں ۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں اور جزائر انڈیمان یعنی کالاپانی کی بھیانک اور خوفناک وحشت ناکیوں میں دن بسر کیے ۔لیکن جبیں عزیمیت پر کبھی شکن نہ آنے دی اور پائے استقامت میں کبھی لرزش پیدا نہ ہونے دی۔ زندگی کےہرآرام اور ہر عیش کو نوکِ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ۔ زیر نظرکتاب ’ ’تحریک مجاہدین‘‘ڈاکٹر صادق حسین صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نےمجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ نیز سید ین شہیدین کی شہادت کے بعد اس تحریک مجاہدین کی جن شخصیات نے بطور امارت خدمات انجام دیں ان کابھی ذکر خیر ہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ یہ کتاب متعدد جلدوں میں ہے لیکن ہمیں کی اس کی صرف جلد پنجم اور ششم دستیاب ہو سکیں ہیں اگر کسی صاحب کےپاس اس کی باقی جلدیں ہو تو ہمیں مطلع کرے تاکہ ان کو بھی سائٹ پر پبلش کرکے انٹر نیٹ کی دنیا میں محفوظ کیا جاسکے ۔

  • 3 #3949.04

    مصنف : ڈاکٹر صادق حسین

    مشاہدات : 1683

    تحریک مجاہدین جلد پنجم

    (اتوار 17 جنوری 2016ء) ناشر : نا معلوم

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبرداشت کیا ،آتش باریوں اور شمشیرزنیوں کی ہنگامہ آرائیوں میں جانیں دے دیں،خاندان ،گھر بار اور جائیدادوں کی قربانیاں دیں ۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں اور جزائر انڈیمان یعنی کالاپانی کی بھیانک اور خوفناک وحشت ناکیوں میں دن بسر کیے ۔لیکن جبیں عزیمیت پر کبھی شکن نہ آنے دی اور پائے استقامت میں کبھی لرزش پیدا نہ ہونے دی۔ زندگی کےہرآرام اور ہر عیش کو نوکِ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ۔ زیر نظرکتاب ’ ’تحریک مجاہدین‘‘ڈاکٹر صادق حسین صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نےمجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ نیز سید ین شہیدین کی شہادت کے بعد اس تحریک مجاہدین کی جن شخصیات نے بطور امارت خدمات انجام دیں ان کابھی ذکر خیر ہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ یہ کتاب متعدد جلدوں میں ہے لیکن ہمیں کی اس کی صرف جلد پنجم اور ششم دستیاب ہو سکیں ہیں اگر کسی صاحب کےپاس اس کی باقی جلدیں ہو تو ہمیں مطلع کرے تاکہ ان کو بھی سائٹ پر پبلش کرکے انٹر نیٹ کی دنیا میں محفوظ کیا جاسکے ۔(م۔ا )

  • 4 #1786

    مصنف : پروفیسر چوہدری عبد الحفیظ

    مشاہدات : 4913

    تعارف جماعت مجاہدین

    (جمعہ 16 اگست 2013ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    برصغیرمیں احیائےاسلام کےسلسلےمیں جوکوششیں ہوئی ہیں  ان میں جماعت مجاہدین کاایک نمایاں مقام ہے۔بلکہ اس حوالےسے اگریہ کہہ دیاجائےتوبےجا نہ ہوگاکہ یہ سب سے پہلی جماعت ہےجس نےباقاعدہ ایک نظم کےتحت برصغیرمیں غلبہءاسلام کی جدوجہدکی  اس جماعت کے فکری بانی شاہ ولی اللہ ہیں اور عسکری طورپر اسے ایک نظم کےتحت لانے والے سید احمد شہید ہیں ۔ تقریبا ایک سوسال تک یہ جماعت مسلسل کسی نہ کسی طریقے سے  جدوجہدآزادی میں شریک رہی۔برصغیرکےلوگوں کےاندرجذبہءآزادی  کی روح بہت حدتک اسی جماعت کےرہین منت ہے۔پھربعدمیں یہ جماعت تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہہ گئی ۔اس کی تاریخ کواحاطہءصفحات میں لانےکےلیے سب سے زیادہ کاوشیں مولاناغلام رسول مہر نےکیں۔اس کےعلاوہ بھی بہت سے مصنفین نے اس باب میں دلچسپی لی ۔زیرنظرکتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔جس میں مصنف نےکچھ نادرمخطوطات کو احاطہءتحریر میں لانےکی کوشش کی ہے۔اس کےعلاوہ مصنف کاکہنا ہےکہ مولانافضل الہی جواس جماعت کےآخری امیرتھے ان کے اہل وعیال کے پاس  اس حوالےسے بہت سا موادپڑھاہواہےبس وہ کسی صاحب قلم کی توجہ کامحتاج ہے۔اسےایک منظم اندازمیں مرتب کرکےمنظرعام پرلایاجائے۔تاکہ اس کےبارےمیں زیادہ سے زیادہ معلومات  میں اضافہ ہو اور مولانا غلام رسول مہر کی یہ بہت خواہش رہی کہ مولانافضل الہی کےپاس چندلمحات گزارنےکاموقع ہاتھ آجائے تاکہ وہ اس کام کو بحسن خوبی سرانجام دے سکیں۔زیرنظرکتاب اسی آرزوکوپایہءتکمیل میں پہنچانےکی ایک کڑی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 5 #1545

    مصنف : سید ابو الحسن علی ندوی

    مشاہدات : 2149

    جب ایمان کی باد بہار چلی

    (منگل 11 فروری 2014ء) ناشر : مکتبہ فردوس مکارم نگر لکھنؤ

    تاریخِ اسلام میں  جب بھی ایمان کی ہوائیں چلیں تو عقائد ،اعمال، اور اخلاق تینوں شعبوں میں  حیرت انگیز واقعات کا ظہور ہوا ایمان کے یہ دلنواز جھونکے  تاریخ کے مختلف وفقوں میں چلے کبھی کم مدت کے لیے کبھی زیادہ عرصہ کےلیے تاہم کوئی دور  خزاں ان سے خالی نہ رہا تاریخ اسلام میں   ان سب کاریکارڈ اچھی طرح محفوظ ہے ۔ہندوستان میں ایمان کی  یہ باد بہار تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں اس وقت چلی جب  سید احمد  شہید اوران کےعالی ہمت رفقاء نے  ہندوستان میں توحید  او رجہاد فی سبیل اللہ کا علم  بلندکر کے اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ کردی سید احمد شہید اور ان کے رفقاء  نے  دینِ خالص  کی دعوت   اپنی بنیاد رکھی  اور  مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونکی  او ر ہندوستا ن کی شمال مغربی سرحد کو اپنی دعوت وجہاد کا مرکز بنایا ان مجاہدین نےسکھوں کوکئی معرکوں میں شکست فاش دے کر پشاور کے اطراف میں اسلامی حکومت قائم کرکے  حدود شرعیہ کااجراء کیا لیکن وہاں کے قبائل نے  اپنی ذاتی اغراض اور قبائلی عادات وروایات کی خاطر اس نظام کابالآخر  خاتمہ کردیا بالاکوٹ کےمیدان میں ان سربکف مجاہدین کی سکھوں سےآخری جنگ ہوئی اوراس معرکہ میں سید احمد شہید اور  اسماعیل شہید کے بہت سے جلیل القدر  رفقاء اور مجاہدین نےجام شہادت نوش  کیا۔زیر نظرکتاب  میں  سید ابو الحسن ندوی نے  مجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔(م۔ا)
     

  • 6 #2269

    مصنف : غلام رسول مہر

    مشاہدات : 2112

    جماعت مجاہدین

    (پیر 21 جولائی 2014ء) ناشر : کتاب منزل لاہور

    مولانا غلام رسول کی شخصیت کسی تعارف کی  محتاج نہیں  انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ غالب پر انکی کتاب کو غالبیات میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے غالب کے خطوط دو جلدوں میں ترتیب دیے۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔زیر نظرکتاب  بھی مولانا غلام رسول مہر کی تصنیف ہے  جس کو انہو ں نے  دو حصوں میں تقسیم کیاہے  پہلے حصہ میں جماعت مجاہدین کی تنظیم وترتیب کے  متعلق  تفصیلات  پیش کی ہیں  او ردوسرے  حصےمیں سید صاحب کے ان مجاہدوں اور رفیقوں کے سوانح حیات درج کیے ہیں کہ جو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ شہید ہوئے یا جنہیں خو د سید صاحب نے  دعوت وتبلیغ پرمتعین کیا تھا او رانہیں مشاغل میں زندگی گزار کر  مالک حقیقی سے  جاملے  (م۔ا)

     

  • 7 #6917

    مصنف : ڈاکٹر صادق حسین

    مشاہدات : 1194

    سید احمد شہید اور تحریک مجاہدین

    (جمعہ 29 مارچ 2019ء) ناشر : المیزان ناشران و تاجران کتب، لاہور

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں  نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبرداشت کیا ،آتش باریوں اور شمشیرزنیوں کی ہنگامہ آرائیوں میں جانیں دے دیں،خاندان ،گھر بار اور  جائیدادوں کی قربانیاں دیں ۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں اور جزائر انڈیمان یعنی کالاپانی کی بھیانک اور خوفناک وحشت ناکیوں میں دن بسر کیے ۔لیکن جبیں عزیمیت پر کبھی شکن نہ آنے دی اور پائے استقامت میں کبھی لرزش پیدا نہ ہونے دی۔ زندگی  کےہرآرام اور ہر عیش کو نوکِ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے  آگے بڑھتے رہے ۔ زیر نظرکتاب   ’ ’سید احمد شہید اور تحریک مجاہدین‘‘ڈاکٹر صادق حسین  صاحب کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں  نےمجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیاہے ۔ نیز  سید ین شہیدین کی شہادت کے بعد اس تحریک مجاہدین کی جن  شخصیات نے    بطور امارت خدمات  انجام دیں ان کابھی ذکر خیر ہے کہ جن کو پڑھ کر اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔ یہ کتاب متعدد جلدوں میں ہے  لیکن ہمیں کی اس کی صرف  جلد پنجم اور ششم دستیاب ہو سکیں ہیں  اگر کسی  صاحب کےپاس اس کی باقی جلدیں ہو تو  ہمیں مطلع کرے  تاکہ  ان کو بھی    سائٹ پر پبلش کرکے   انٹر نیٹ کی دنیا میں  محفوظ کیا جاسکے ۔( م۔ا )

  • 8 #4549

    مصنف : آباد شاہ پوری

    مشاہدات : 1964

    سید بادشاہ کا قافلہ

    (پیر 11 اپریل 2016ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    انسانی تاریخ عبرت کا بہت وسیع و عریض مرقع ہے۔ انسان نے ظلم و ستم کی داستانیں بھی رقم کیں ہیں لیکن یہی انسان ہمت و عزیمت کے باب بھی جریدہ عالم پر ثبت کرتا رہا ہے۔ وقت کے مستبد حکمران ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ان کا حق حکمرانی غیر محدود ہے اپنے اقتدار کے نشے میں بد مست حکمرانوں کو گھنٹی بجنے سے قبل تک کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ دنیا ایک مکافاتی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح ظالم حکمران ہر دور میں ظلم کے فسانے میں ایک نیا ٹکڑا شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح راہ وفا کے دیوانے بھی تاریخ کا قرض چکانے کی جسارت میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں ایک جانب فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل نظر آتے ہیں تو وہاں دوسری جانب حضرت موسیٰؑ، حضرت ابراہیمؑ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبلؒ اور شاہ شہیدؒ تک ایک سلسلہ الذہب نظر آتا ہے۔ زیر نظر کتاب"سید بادشاہ کا قافلہ" آباد شاہ پوری کی تاریخی تصنیف ہے۔ مصنف علمی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ موصوف دل بیدار، اندھیروں میں راہ دکھانے والا دماغ روشن اور رہوار وقت کے ساتھ چلنے والا قلم رکھتے ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب ہذا میں ایک عظیم تحریک کے قافلہ شوق کی داستانِ جلیل و جمیل کو قلمبند کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی پہلی اسلامی تحریک کے قافلے کی داستان لازوال کو اوراق کی زینت بنایا ہے۔ یہ ان جفاکش مجاہدین کی داستان ہے جو فرنگیوں کے خلاف علمِ جہاد لے کر برسرِ میدان نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 9 #2095

    مصنف : علیم ناصری

    مشاہدات : 2097

    شاہنامہ بالا کوٹ

    (ہفتہ 24 مئی 2014ء) ناشر : ادارہ مطبوعات سلیمانی لاہور

    حضرت سید احمد شہید او رمولانا شاہ اسماعیل شہید کی تحریک جہاد و اصلاح کا شمار برصغیر پاک وہند ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی بڑی تحریکوں میں ہوتاہے او رس تحریک کی اہمیت وافادیت اورعظمت وانفرادیت کو سمجھنے کی کوشش عالمی پیمانے پر ہوتی رہی۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ صحیح معنوں میں ہندوستان کی اسلامی تحریک تھی جس کے ہمہ گیر اور دور رس اثرات نے برصغیر کی اسلامی زندگی اور مسلم معاشرے کو گوناگوں طریقوں سے متاثر ومستفید کیا او روہ مبارک خون ِشہیداں جو بالاکوٹ کی زمین پر بہایا گیا وہ ملت کی رگوں میں آج بھی موجو د ہے ۔ اس تحریک اور سیدین شہیدین کی حیات خدمات کے حوالے سے کئی اہل علم اور سیرت نگار وں نے ضخیم کتب تصنیف کی ہیں ۔جن میں مولانا سیدابو الحسن ندوی،مولانا مسعود عالم ندوی،مولانا جعفر تھانیسری،مولانا غلام رسول مہر﷭ وغیرہ کی خدمات قابل ذکر ہیں لیکن یہ ساری کتابیں نثر میں ہیں۔زیر نظر کتاب ''شاہنامہ بالاکوٹ''پاکستان کے مشہور سلفی شاعر جناب علیم ناصری ﷫ کی تصنیف ہے ۔جو کہ تحریک جہاد کی پہلی منظوم داستان ہے ۔ جس میں انہوں نے سید احمد شہید او رمولانا محمد اسماعیل شہید کی حیات وخدمات کو منظوم صورت میں پیش کیا ہے ۔ یو ں تو رزم نامے او رشاہ نامے فارسی اور ادرو میں خاصی تعدادمیں لکھے گئے ہیں لیکن جو دینی جذبہ علیم ناصر ی کے شاہناہہ بالاکوٹ میں ہے وہ کسی او رجگہ شاذو نادر ہی پایا جاتا ہوگا۔جس کو پڑھتے ہوئے آنکھیں نم ہوتی ہیں او ردلوں میں حرکت وحرارت بھی محسوس ہوتی ہے او ریہ کسی بھی ادبی شاہکار کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل ہے ۔(م۔ا)

     

     

  • 10 #1884

    مصنف : سید محمد ثانی حسنی

    مشاہدات : 5343

    مشہد بالا کوٹ

    (منگل 26 نومبر 2013ء) ناشر : سید احمد شہید اکیڈمی بریلی

    برصغیر پاک و ہند میں  حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی  ذات بابرکات محتاج تعارف نہیں ۔آپ رحمہ اللہ ایک دور، صدی اور عہد کا نام ہیں۔ جب برصغیر   کے مسلمانوں پر مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوتے تھے۔ مسلمان ہر طرف سے سکھوں اور انگریزں اور دیگر قوتوں کے ظلم و استبداد کے شکار تھے۔کسی جگہ کوئی امید نہیں نظر آتی تھی۔ علماو شیوخ اور صوفیا اپنے اپنے مدارس، خانقاہوں اور حلقہ ارادت  میں مصروف تھے۔ اگرچہ کچھ کو انتہائی زیادہ قلق و اضطراب  کے ساتھ  فکر امت دامن گیر تھی۔ہر طرف طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں  حضرت شاہ ولی اللہ   کے فکری جانشین  یعنی ان کی فکر کے عسکری گوشے کو عملی رخ دینے والے جناب  حضرت سید احمد شہید نے علم جہاد بلند کیا ۔ اور امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ اللہ نے آپ کی اعانت فرمائی اور ایک اسلامی ریاست قائم بھی کردی۔ لیکن اپنے غداری رنگ لائی اور آپ بظاہر تو ناکام ہوئے  لیکن حقیقت میں کامیاب ہوئے۔آپ کی پیدا کی ہوئی جہادی روح ابھی تک امت کے اندر موجود ہے بلکہ وہ ایک  پودے سے تناور درخت بن چکی ہے۔زیرنظر کتاب آب کی سیرت  و سوانح کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے۔(ع۔ح)
     

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1732
  • اس ہفتے کے قارئین 7717
  • اس ماہ کے قارئین 46111
  • کل قارئین49335661

موضوعاتی فہرست