دکھائیں کتب
  • 1 اسلام اور مسئلہ طلب و رسد (پیر 12 جون 2017ء)

    مشاہدات:663

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور مسئلہ طلب ورسد " محترم مولانا عنایت اللہ طور صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں طلب ورسد کے مسائل کو پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو  اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 2 درآمدہ گوشت کی شرعی حیثیت (جمعرات 13 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16588

    شرع متین میں حلت وحرمت کامسئلہ بنیادی واصولی مسائل میں شمارہوتاہے ،جسےکتاب وسنت میں مکمل شرح وبسط کےساتھ بیان کیاگیاہے ۔متعددآیات میں اسےکھول کربیان کردیاگیاہے۔شریعت میں اکل حلال کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے ۔اس سلسلہ میں یہ مسئلہ بھی بہت اہم ہے کہ جن جانوروں کاگوشت کھایاجاسکتاہے ،انہیں ذبح کون کررہاہے۔قرآن کی روسے اہل کتاب کاذبیحہ توجائزہے لیکن ان کے علاوہ کفارومشرکین کے ذبح کردہ جانورحرام ہیں ۔فی زمانہ مختلف اسلامی ممالک میں غیراسلامی ریاستوں  سے ذبح شدہ گوشت درآمدکیاجاتاہے ۔بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے بارےمیں شرعی ہدایات سے آگاہ ہوں کہ کیاواقعی وہ شرعی ضوابط کےمطابق حلال ہے یانہیں ۔زیرنظرکتاب میں اسی مسئلے پرمدلل اورتحقیقی گفتگوکی گئی ہے۔جس کے مطالعے سے یقیناً یہ مسئلہ مکمل طورپرواضح ہوکرسامنے آجاتاہے ۔

     

     

  • 3 ذخائر المواریث (اتوار 04 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:730

    قرآن مجید اللہ رب العالمین کا کلام ہے جس کو اس نے حضرت جبریل امین کے واسطہ سے اپنے آخری نبی محمد عربیﷺ پر وحی فرمایا‘ یہ کلام اپنے تمام حروف والفاظ نیز معانی ومفاہیم کے ساتھ اللہ کا کلام حقیقی ہے‘ یہ مخلوق نہیں ہے‘ بلکہ اسی سے ظاہر ہوا اور قیامت کے قریب جب وہ چاہے گا اسے اپنی طرف اُٹھا لے  گا‘ اس کلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیئت وقدرت کے مطابق لوح محفوظ میں لکھا اور یہ اسی کے پاس رہا....اور قرآن مجید ایسی کتاب ہے کہ جس کے محفوظ ہونے پر اجماع ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  مصنف نے قرآن مجید اور احادیث نبویہ کے بہت سارے مستند دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کی جمع اور ترتیب دونوں اللہ کی جانب سے ہے‘ جس کی ذمہ داری خود اس نے لی تھی اسی لیے اللہ کی یہ کتاب نبیﷺ کی زندگی ہی میں اس طرح لکھ کر جمع کر لی گئی تھی جس طرح آج موجود ہے اور قرآن وحدیث کے جو حوالہ جات تھے وہ پرانے طریقہ کے مطابق اصل کتاب کے ساتھ تھے ان کو حاشیہ میں درج کر دیا گیا ہےاور احادیث کا حسب ضرورت حکم بھی بیان کیا گیا ہے‘ موضوعات کی فہرست بھی کتاب میں شامل کی گئی ہے اور وارد اسماء‘ مقامات وکتب کی فہرست بھی شامل کی تھی لیکن کسی وجہ سے حذف کر دی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ ذخائر المواریث ‘‘ ابو القاسم محمد خان بنارسی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع...

  • 4 رک جائیے (پیر 22 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1344

    اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کا مقصدِحیات محض اپنی عبادت اور اطاعت بنایا ہے اور اسے کئی امور کے کرنے اور کئی ایک سے بچنے کاامر فرمایا ہے ۔کرنے والے امور کو ’’اوامر‘‘ اور نہ کرنے والے امور کو ’’نواہی‘‘ کہا جاتا ہے ۔جس طر ح اللہ کے حکم کے مطابق کوئی کام کرنا عبادت ہے اسی طرح اس کے حکم کے مطابق منہیات سے بچنا بھی عبادت ہے ۔جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے :’’ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیا سے بچ جاؤ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے ‘‘ زیر نظر کتابچہ میں شیخ محمد صالح المنجد ﷾نے ایسی منہیات کاذکر فرمایا ہے جو ہماری دنیوی زندگی میں اکثر پیش آتی ہیں اورہم بلا جھجک ان کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ۔ہر مسلمان مرد وزن کو اس کا خوب مطالعہ کرنا چاہیے۔تاکہ وہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے بچ سکے ۔اللہ تعالیٰ ہر مسلم مومن کو منہیات سے بچائے اور اوامر کی پابندی کرنے کی توفیق فرمائے (آمین) (م۔ ا)

  • 5 عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست (پیر 13 اگست 2018ء)

    مشاہدات:495

    شریعت کے قوانین انسان کے تمام شعبوں ؛ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب کو حاوی ہیں، شریعت کے قوانین میں وہ تقسیم نہیں جو آج کی بیشتر حکومتوں کے دستوروں میں پائی جاتی ہے، کہ ایک قسم کو پرسنل لاءیعنی احوالِ شخصیہ کا نام دیا جاتا ہے، جو کسی انسان کی شخصی اور عائلی زندگی سے متعلق ہوتی ہے، اور اس کے متعلق یہ غلط تأثر دیا جاتا ہے کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے، اسی تأثر کا یہ اثر ہے کہ آج جن لوگوں کو مسلم دانشور کہا جاتا ہے، وہ یہ کہتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے کہ مذہب میرا اپنا ذاتی معاملہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میں چاہوں تواس پر عمل کروں اور چاہوں تو نہ کروں؛ حالاں کہ اُن کی یہ سمجھ غلط ہے؛ کیوں کہ مسلمان کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں شریعتِ اسلامی کا پابند ہے، مختار نہیں۔قرآن وحدیث میں عائلی  مسائل  کی اہمیت  کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے  کہ قرآن کا کثیر حصہ انہی امور سے متعلق ہے  او ر نساء کے نام سے مستقل سورۃ کا نزول اس بات کی علامت ہے کہ خانگی امور ، اسلامی معاشرہ میں بے پناہ اہمیت  کے حامل  ہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں عائلی قوانین کی تدوین وتنقید نے سیاسی ، سماجی اور معاشرتی افق پر بہت سے مدوجزر پیدا کئے ۔اسی مدوجزر نے مستقبل میں پاکستان کے معروضی حالات پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر صاحب  کا مقالہ بعنوان ’’ عائلی قوانین اور پاکستانی سیاست‘‘ انہی نقوش وحالات کی قلمی تصویر ہے ۔جس میں عمل تحقیق  کی  مدد سے نتائج اخذ...

  • 6 مسئلہ حجاب اسلامی تعلیمات اور یورپی نقطہ نظر (جمعرات 17 مئی 2018ء)

    مشاہدات:809

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جو کامل واکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس دین کو آخر میں بھیجا اس کی بنیاد اگرچہ’ابدی عقائد وحقائق‘ پر مبنی ہے مگر وہ زندگی سے متعلقہ تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ اسلام فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے ایسی تعلیمات اور احکامات پیش کرتا ہے جن پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایک صالح فرد اور پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ کتاب وسنت میں مردوعورت کے تعلقات کی فطری حدود بیان کر دی گئی ہیں اور ان تعلقات کی شرعی حیثیت بھی واضح کر دی گئی ہے۔ اسلام کی کچھ تعلیمات تو ایسی ہیں جو کہ مردوعورت دونوں کے لیے لازمی اور مشترک ہیں جیسے لباس کے مسائل کا تعلق ہر دو صنفوں سے ہے۔ مگر عائلی اور معاشرتی زندگی کی کچھ تعلیمات ایسی ہیں جن کا تعلق صرف خواتین سے ہے۔ ایسے مخصوص نسوانی مسائل میں اہم ترین مسئلہ’ حجاب‘ سے تعلق رکھتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں حجاب سے متعلقہ احکامات واشکالات کو بیان کیاگیا ہے اور اشکالات کا جواب مدلل انداز میں دیا گیا ہے اور اس بارے میں مؤقفات کو درج کر کے راحج کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کتاب میں پانچ ابواب مرتب کیے گئے ہیں۔ باب اول ’حجاب اور اسلامی تعلیمات‘ کے حوالے سے جس میں مزید تین فصول ہیں جو باب کے موضوع کا گھراؤ کرنے میں معاون ہیں۔ باب دوم ’ حجاب کا دائرہ کار‘ کے حوالے سے جس میں تین فصول ہیں۔ باب سوم قائلین وجوب حجاب کے دلائل کا تجزیہ کے حوالے سے ہیں اور باب چہارم قائلین عدم وجوب حجاب کے دلائل پر ہے اور باب پنجم...

  • 7 مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت (منگل 23 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1171

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔اور استخارہ کے معنیٰ ہیں خیر طلب کرنا، اور شریعت کی زبان میں اس سے خاص دعا مراد ہے۔ جب کسی معاملے کے مفید یا مضر ہونے میں تردد ہو اور کوئی ایک فیصلہ انسان کے لئے مشکل ہو جائے تو اس مشکل اور تردد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعاءکرناتا کہ اس معاملے میں تردد دور ہو جائے اور مفید پہلو متعین ہو جائے، یہ دعاء”استخارہ“ کہلاتی ہے ۔ استخارہ در حقیقت مشورے کی ایک اعلیٰ ترین شکل ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مشورہ اپنے ہم جنس افراد سے کیاجاتا ہے تاکہ ان کے علم و تجربہ سے فائدہ اٹھا کر مفید سے مفید تر قدم اٹھایا جائے، جبکہ استخارہ میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جاتاہے کہ اے اللہ! ہما...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 449
  • اس ہفتے کے قارئین: 3569
  • اس ماہ کے قارئین: 24179
  • کل مشاہدات: 41894058

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں