اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #492

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 19909

    ایک مجلس میں تین طلاقیں اور اُس کا شرعی حل

    (جمعرات 31 مارچ 2011ء) ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور

    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح وطلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں ا س فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعت اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل ومنطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔اہل الحدیث کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں جبکہ حنفی مفتیان کرام  ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حل حلالہ بتلاتے ہیں جس کے لیے کئی ایک حنفی جامعات اور دارالعلوم اپنی خدمات اس معاشرے میں پیش کر رہے ہیں ۔

    بعض حنفی علماء نے حلالہ کی اس قبیح رسم کی بجائے حنفی علماء اور عوام کو اس مسئلے میں اہل الحدیث کے مسلک پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ وہ کتاب وسنت کے دلائل پر مبنی ہے ۔ حنفی علماء میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عبد الحلیم قاسمی، مولانا پیر کرم شاہ ازہری اور مولانا حسین علی واں وغیرہ کاموقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں عالم عرب کے جید علماء میں سے سید رشید رضا، شیخ جمال الدین قاسمی، ڈاکٹر وہبہ الزحیلی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، شیخ الأزہر محمود شلتوت اور  سید سابق مصری وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔بلکہ کئی ایک مسلمان ممالک میں تو تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے کے بارے قوانین بھی نافذ ہوئے ہیں مثلاًمصر میں ۱۹۲۹ء ، سوڈان میں ۱۹۳۵ء، اردن میں ۱۹۵۱ء، شام میں ۱۹۵۳ء، مراکش میں ۱۹۵۸ء، پاکستان میں ۱۹۶۱ء اور عراق میں ۱۹۰۹ء اس بارے کچھ قوانین نافذ ہوئے ہیں۔بعض حنفی علماء یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے پر اجماع ہے۔ اس اعتراض کا جواب بھی تفصیل سے اس کتاب میں دیاگیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جمہور علماء کا موقف یہی رہا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی لیکن صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ سلف کے دور میں ہر صدی میں ایسے جید علماء اور فقہاء موجود رہے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کوایک ہی شمار کرتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں مولانا صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورتی سے اس مسئلے کا شرعی حل اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اب حنفی عوام اپنے مفتیان کرام پر چیخ رہے ہیں اور ببانگ دہل یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حلالے کا حل بتلانے سے بہتر ہے ہمارا سر پھوڑ دو لیکن خدا راہ ہمیں حلالے کی طرف نہ ڈالو۔ ایسے میں اس طرح کے پریشان حنفی عوام کے سامنے کتاب وسنت کی روشنی پر مبنی یہ تحقیقات رکھنی چاہییں تاکہ وہ اپنی زندگی کتاب وسنت کے مطابق کر تے ہوئے فقہی جمود پر مبنی بوجھوں سے اپنی گردنیں آزاد کروا سکیں۔

  • 2 #1617

    مصنف : حافظ محمد ادریس کیلانی

    مشاہدات : 22564

    کیا رفع الیدین منسوخ ہے؟

    (جمعہ 21 ستمبر 2012ء) ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور

    نماز میں رفع الیدین کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ثابتہ ہے لیکن بہت سے لوگ مختلف دلائل کے باوصف رفع الیدین کے بغیر نماز ادا کرتے ہیں۔ کبھی اس کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے تو کبھی سنت متواترہ کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اشتہارات یا رسائل میں ایسے مضامین شائع کیے جاتے ہیں جن میں رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔ چند سال قبل فیصل آباد سے اسی قسم کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں ترک رفع الیدین کے دلائل جمع کیے گئے تھے حافظ محمد ادریس کیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اشتہار کا مدلل تجزیہ کیا اور عدم رفع الیدین کے تمام دلائل کا نہایت شرح و بسط کے ساتھ جواب دیا۔ جو ماہنامہ ’حرمین‘ جہلم میں دو اقساط میں شائع ہوا۔ یہ مضمون زیر نظر کتابچہ کی صورت میں پیش کیے جارہے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 3 #2268

    مصنف : محمد بن جمیل زینو

    مشاہدات : 3053

    اسلامی معاشرت

    (اتوار 20 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور

    اللہ تعالی نے  کائنات کو عدم سے وجود عطا کیا اور اس میں اشرف المخلوقات  حضرت انسان کو پیدا کیا اور انسانوں کےلیے مقصد حیات اپنی عبادت متعین فرمایا۔انسانوں کی راہنمائی کی غرض سے  انبیاء و رسل کومبعوث فرمایا۔انبیاء کرام ؑ نے  عہد الست کی یادہانی کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کا عظیم فریضہ بھی سرانجام دیا جس  کےنتیجے  میں ایک  ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے  جو  اسلامی معاشرت کی صحیح عکاسی کرتا ہے۔اسلامی معاشرت کی بنیاد تقویٰ، مساوات ،اخوت، انصاف ،ایثار، دوسروں کی جان ،مال،عزت کی حفاظت اور تکریمِ انسانیت کے بلند اصولوں پر قائم ہے ۔بلاشبہ اسلامی معاشرت  ایک عظیم معاشرت  ہے ،جس کی عظمت کا اندازہ اس  بات  سےلگایا جاسکتا ہے  کہ  انبیاء  کرام  نے توحید ورسالت کے بعد سب سے  زیادہ توجہ اور اپنی تمام ترتوانیاں اصلاح معاشرہ کے لیے وقف کیں۔اسلامی معاشرت کے فیوض وبرکات اور ثمرات سے متفید ہونے کے لیے  اسلامی  طرز ِمعاشرت کو اپنی زندگیوں میں حقیقی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلامی معاشر ت ‘‘ سعودی عرب کے معروف  عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو  کی  عربی کتاب "توجيهات الاسلامية لاصلاح الفرد والمجتمع‘‘ کا ترجمہ ہے  ۔  جس  میں انہوں نے اسلامی طرزِ معاشرت  کے قیام کے لیے  جو امور  بنیادی کردار اداکرتے ہیں انہیں شیخ  صاحب نے  بڑے احسن انداز میں بیان  کیا ہے ۔شیخ  جمیل زینو   اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے  مؤلف ہیں  ان  میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی  ہوچکے ہیں۔کتاب ہذا کا ترجمہ  کی  سعادت مولانا عبد الستار قاسم  (فاضل جامعہ سلفیہ) نے  حاصل کی  ہے ۔ اللہ تعالی  کتاب کے  مولف ،مترجم اور ناشرین کو  جزائےخیر سے نوازے  اور  کتاب کا نفع عام فرمائے (آمین)(م۔ا)
     

     

  • 4 #6019

    مصنف : مسفر بن عزم اللہ الدمینی

    مشاہدات : 2561

    جادو کی حقیقت، اس کا شرعی حکم، اس سے علاج

    (بدھ 11 اکتوبر 2017ء) ناشر : مکتبہ دار الحدیث لاہور

    قرآن مجید کے مطالعے سے ہمیں بعض ایسے حقائق کا علم ہوتا ہے‘ جنہیں ناپسندیدہ تصور کیا گیا ہے اور ان کا علم شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ایسے امور میں ایک غیر شرعی علم وعمل جادو یا ساحری سے تعلق رکھا ہے۔ساحری یا جادو ٹونا ایک ابلیسی اور شیطانی عمل ہے ۔جہالت اور لا علمی کے باعث آج دنیا میں بہت سی اقوام اور افراد اس ابلیسی علم کے چنگل میں گرفتار ہیں۔امت مسلمہ کے افراد کی بھی ایک بہت بڑی تعداد نہ صرف یہ کہ جادو ٹونے کے علم پر یقین رکھتی ہے بلکہ عملاً اس کی ہلاکتوں میں گرفتار ہے۔ کتاب وسنت کے چشمۂ صافی سے جس طرح تمام گمراہیوں اور گناہوں سے بچنے کا طریقہ ملتا ‘ ساحری‘ کہانت‘عرافت‘ طلسم اور جادو ٹونے سے بھی بچاؤ کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’جادو کی حقیقت‘ اس کا شرعی حکم اور اس کا علاج‘‘ اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے لیکن فائدہ عام کے لیے اسے اُردو زبان میں بھی ٹرانسلیٹ کر دیا گیا ہے اور ترجمے میں انداز نگارش اور اسلوب بہت واضح‘ سلیس اور رواں ترجمہ ہے۔ مترجم نے شگفتہ اردو زبان میں ترجمہ کر کے اردو خواں حضرات کے لیے اس کی افادیت کا سامان پیدا کیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد جادو کی تاریخ کا مکمل علم ہو گا‘ اس علم کی حقیقت کیا ہے اور اس شیطانی فساد میں مبتلا اشخاص اس سے کیسے نجات حاصل کر سکتے ہیں؟نیز اس کی مشروع اور مسنون تعلیمات بھی ملتی ہیں۔ اس میں فاضل مصنف نے جادو کی تعریف‘ اقسام اور اس کی نوعیت کے بارے میں سیر حاصل مواد یا لوازمہ پیش کیا ہے۔مؤلف نے بہت عمدگی کے ساتھ جادو کی مختلف آٹھ اقسام کا ذکر کرنے کے بعد‘ معجزے‘کرامت اور جادو کا فرق بھی واضح کیا ہے۔مصنف نے محدثین کے طریقہ پر ان احادیث اور ان کی اسناد اور متون کا ذکر کرنے کے بعد ان سے ماخوذ بعض اہم مسائل بھی مخصوص عنوان کے ساتھ ذکر کر دیے ہیں جیسے نبیﷺ پر ہونے والے جادو کی ابتداء اور مدت وغیرہ۔کتاب کے آخری باب میں ایک مفید بحث اس موضوع پر ہے کہ وہ حضرات جنہوں نے اس موضوع پر پیش کردہ احادیث پر اعتراضات یا شبہات وارد کئے ہیں‘ ان کا علمی جواب دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور اُن کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 802
  • اس ہفتے کے قارئین 6787
  • اس ماہ کے قارئین 45181
  • کل قارئین49319807

موضوعاتی فہرست