کل کتب 4

دکھائیں
کتب
  • 1 #3377

    مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    مشاہدات : 5754

    اسلام اور سیکولرزم

    (جمعہ 26 جون 2015ء) ناشر : عالمی ادارہ فکر اسلامی، اسلام آباد

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور دنیا میں اسلامی نظام حکومت کا نفاذ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 2 #6459

    مصنف : ڈاکٹر شاہد فریاد

    مشاہدات : 1841

    سیکولرازم ایک تعارف

    (جمعہ 12 اکتوبر 2018ء) ناشر : کتاب محل لاہور

    سیکولرزم (Secularism)انگلش زبان کا لفظ ہے۔   جس کامطلب’لادینیت‘‘ یا ’’دُنیویت‘‘ ہے  اور یہ ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے آخرت کے بجائے اکیلی دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیکولرازم محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک سوچ، فکر، نظریہ اور نظام کا نام ہے۔ مغربی مفکروں، دانشوروں، ادیبوں، فلسفیوں اور ماہرینِ عمرانیات کے مابین سیکولرازم کے مباحث میں مختلف النوع افکار و خیالات پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیکولرازم کا کوئی ایک رنگ نہیں، یا اس کا کوئی ایک ہی ایڈیشن نہیں۔ یہ کبھی یکسر مذہب کا انکار کرتا ہے اور کبھی جزوی اقرار۔انفرادی سطح پر مذہب کو قبول کرنا اور اجتماعی (معاشی، سیاسی اور ریاستی) سطح پر اسے رد کردینا سیکولرازم کا جدید اسلوب ہے۔  دراصل ’سیکولرازم‘ مغرب کا تجربہ ہے جسے مغربی معاشروں نے صدیوں کی کشمکش کے بعد اختیار کیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’سیکولرازم‘‘ جناب ڈاکٹر شاہد فریاد  صاحب  کی تصنیف ہے ۔اس کتاب  میں  فاضل مصنف نے انسانیت کو ’سیکولرازم‘ کا اصل چہرہ دکھایا  ہے ،اس کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ اس نظریے کو وجود میں لانے کے اغراض و مقاصد کیا تھے؟ اور اس کے دنیا پر کیا اثرات رونما ہوئے؟ مصنف  نےاس کتاب  چارابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں سیکولرازم کی تعریف اور اس کے معنیٰ و مفہوم کی وسعت جیسے موضوعات زیربحث آئے ہیں۔باب دوم میں سیکولرازم کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے کہ کس طرح مذہبی معاشرے میں تبدیلی آئی اور اہلِ مغرب کے نظریات بدلے، عقلیت پسندی اور تجربیت پسندی نے مغربی معاشرے کو سیکولر نظام کا حصہ بنایا۔باب سوم میں سیکولرازم کی فکری اور نظریاتی بنیادیں زیربحث آئی ہیں۔ اس باب میں اُن مفکرین، دانشوروں، فلاسفہ اور ان تحریکوں کا تعارف کروایا گیا ہے جنہوں نے مذہب سے متعلق شک و ریب پیدا کیا اور آخر یورپ و مغرب کے روایتی و مذہبی معاشرے میں سیکولرازم کا غلبہ ہوا۔باب چہارم میں اسلام اور سیکولرازم کا تقابل اور موازنہ کیا گیا ہے۔(م۔ا) 

  • 3 #1728

    مصنف : طارق جان

    مشاہدات : 5453

    سیکولرزم مباحث اور مغالطے

    (ہفتہ 22 جون 2013ء) ناشر : ایمل مطبوعات اسلام آباد

    جدیدفتنوںمیں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ سیکولرزم اور لادینیت کا ہے۔آج امت کے اندرلاشعوری طور پر سیکولرافکارونظریات سرایت کرگئے ہیں۔اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ وہ اصطلاحات ہیں جن کے ذریعے ان افکار کو بیان کیا جاتاہے۔وہ اصطلاحات بظاہر دنیاکے عام تصوارات سے ملتی ہوئی نظرآتی ہیں لیکن درحقیقت تھوڑی سی تحقیق کےبعد یہ سمجھ آتاہےکہ وہ بالکل الگ ہی اپنا پس منظررکھتی ہوتی ہیں۔بدقسمتی سےکچھ لوگ ایک عرصے سےوطن عزیز پاکستان کو سیکولرثابت کرنے کی مذموم کوششوں میں لگےہوئےہیں۔جناب طارق جان صاحب نے اپنی بڑی عرق ریزی سے پاکستان کی تاریخ کےاہم ترین ابواب سے یہ ثابت کرنےکی کوشش کی ہےکہ یہ ملک اسلامی اساس پرقائم ہواہے۔سیکولرزم ایک الگ  اور جداگانہ طرز فکر ہےجس کااسلامی نظریےسے دورکابھی واسطہ نہیں۔(ع۔ح)
     

  • 4 #5996

    مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    مشاہدات : 1714

    معاصر اسلامی فکر۔2؛ اسلام اور سیکولرزم

    (منگل 28 نومبر 2017ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    اِسلامی نظریے کی ایک خصوصیت اُس کی ہمہ گیری اور جامعیت ہے۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے۔ اِسلام کی جامع رہنمائی اخلاقِ فاضلہ کی بلندیوں کی طرف اِنسان کو لے جاتی ہے اور بارِ امانت کا حق ادا کرنے کے لیے اس کو تیار کرتی ہے ۔ اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کا اہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبے اسلام کے نزدیک اہم ہیں، خاندانی نظام، معاشرتی روابط ، معاشی تگ و دو، سیاست و حکومت، صلح وجنگ، تہذیب وتمدن، ثقافت و فنونِ لطیفہ اور تعلیم وتربیت سب پر اسلام نے توجہ کی ہے۔ اِسلام کی دعوت سامنے آجانے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکولرزم کس بات کا علمبردار ہے اور وہ اِنسانوں کے سامنے کیا پیغام پیش کرتا ہے؟ آج کل بحث وگفتگو میں سیکولرزم کی اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے۔یعنی ’’سیکولرزم ایسا نظریہ ہے جو اِس دنیا کے معاملات سے بحث کرتا ہے اور روحانیت یا تقدس سے عاری ہے۔ یہ مذہب یا مذہبی عقیدے سے کوئی سروکار نہیں رکھتا‘‘۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلام اور سیکولرزم‘‘ مصنف یوسف القرضاوی نے ایک عام فہم اور پرزور اسلوب میں اسلامی ریاست کی وکالت، اس کے خدوخال کی وضاحت اور سیکولرزم کے تصور کی نفی کی ہےجس کے تحت اسلام کو ریاستی امور سے بے دخل قرار دیا جاتا ہے۔ بنیادی طور یہ کتاب عربی زبان میں ہے مگرکتاب کا موضوع اور اس کی علمی حیثیت کی بنا پراس کتاب کو اردو قالب میں محترم ڈاکٹر ساجد الرحمان صدیقی نے انجام دیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کی محنت کو قبول فرمائے۔ آمین ( پ،ر،ر)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 936
  • اس ہفتے کے قارئین 10621
  • اس ماہ کے قارئین 49015
  • کل قارئین49377944

موضوعاتی فہرست