کل کتب 4

دکھائیں
کتب
  • 1 #6789

    مصنف : الطاف جاوید

    مشاہدات : 2273

    غیر سامی مذاہب کے بانی

    (ہفتہ 27 اکتوبر 2018ء) ناشر : اپنا ادارہ

    دنیا میں دو طرح کے مذہب پائے جاتے ہیں  سامی اور غیر سامی مذاہب ۔سامی مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جو سام بن نوح کی اولادسے نکلے ہوں۔ انہیں الہامی مذاہب بھی کہتے ہیں۔ انہیں الہامی مذاہب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں مذاہب کی بنیاد الہام الہٰی یا وحی الہٰی پر ہے۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام اہم بڑے سامی مذاہب ہیں۔غیر سامی مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جن کا تعلق سام بن نوح کی اولاد سے نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہودیت ، عیسائیت اور اسلام کے علاوہ باقی مذاہب غیرسامی مذاہب  میں شمار ہوتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ غیرسامی مذاہب کے بانی  ‘‘جناب   الطاف جاوید کی تصنیف ہے اس کتاب  میں انہوں نے غیر سامی مذاہب  میں  آریہ اور زرد اقوام  وغیرہ میں جو بانیان مذاہب ہوئے ان کے حالات اور تعلیم کے متعلق معلومات سپرد قلم کی ہیں ۔یعنی اس کتا ب میں  چندر کرشن، گوتم بدھ ، مہاویر ، آخن آتوں ، زرتشت ، کنفیوشس، اور سقراط کی اصل الہامی تعلیمات کے متعلق تحقیقی انکشافات  پیش کیے گئے ہیں۔(م۔ا)

  • 2 #6847

    مصنف : احمد عبد اللہ

    مشاہدات : 2232

    مذاہب عالم ( احمد عبد اللہ )

    (جمعہ 11 جنوری 2019ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مذاہب عالم ‘‘ احمد عبد اللہ کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے  اس کتاب میں  مذہب کی حقیقت اور مذہبی تصورات کے ارتقاء  کو پیش کر نے کے بعد   دنیا میں پائے جانے  مشہور  مذاہب(اسلام ،  بدھ مت،ٹاؤمت ،سکھ مت ، شنٹومذہب، عیسائیت  ، کنفیوشی مت، ہندو مت، یہودی مذہب)  کا تعارف پیش کیا  ہے ۔(م۔ا)

  • 3 #2525

    مصنف : لیوس مور

    مشاہدات : 6511

    مذاہب عالم کا انسائیکلوپیڈیا

    (بدھ 22 اکتوبر 2014ء) ناشر : نگارشات مزنگ لاہور

    جب ہم مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تو ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے ۔ کہ جب سے یہ کائنات وجود میں آئیہے ۔تب سے انسان اور مذہب ساتھ ساتھ چلاتے آئے ہیں ۔ابتدا میں تمام انسانوں کا مذہب ایک تھامگر جوں جوں انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا لوگ مذہب سے دور ہونے لگے پھر خالق کائنات نے مختلف ادوار میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے لیکن پیغمبروں کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد ان کے ماننے والوں نے ان کے پیغام پر عمل کرنے کی بجائے خود سے نئے دین اور مذاہب اختیار کر لیے اس طرح مذاہب کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا او ر اس وقت دنیا میں کئی مذاہب پیدا ہو چکے ہیں جن میں سے مشہور مذاہب ،اسلام،عیسائیت،یہودیت،ہندو ازم،زرتشت،بدھ ازم ،سکھ ازم شامل ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان ہر دور میں کسی نہ کسی مذہب کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان تمام مذاہب کی تعلیمات میں کسی نہ کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔جیسا کہ دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی درجے میں قتل، چوری ،زنااور لڑائی جھگڑے کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہیں اور تمام قسم کی اچھائیوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"مذاہب عالم  کا انسائیکلوپیڈیا"  لیوس مورکی تصنیف ہے اور اس کا اردو ترجمہ یاسر جواد اور سعدیہ جواد نے کیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے مذاہب عالم کا مختصر تعارف اور ان کی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اس کتاب کے کل 13 تیرہ باب ہیں، اور ہر باب ایک  بڑے بڑے مذہب اور پھر اس سے متعلق چھوٹے چھوٹے  مذاہب کے تعارف پر مبنی ہے۔مذاہب عالم کے تعارف کے حوالے سے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جو اپنے موضوع پر انتہائی مکمل ہے۔(راسخ)

     

  • 4 #3387

    مصنف : وحید الدین خاں

    مشاہدات : 4871

    مذہب اور جدید چیلنج

    (پیر 06 جولائی 2015ء) ناشر : مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی

    تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ کب آ گے بڑھانے میں اس کے لئے خیر ہے اور کب پیچھے ہٹانے میں، لیکن باوجود اس کے اسے بارہا دھوکہ ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اسے اپنے خالق کی مرضی کا علم ہوجائے تو اس کے علم میں بہت بڑا اضافہ ہوگا اور وہ خطرات کی زد سے یکسر محفوظ ہوجائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب"مذہب اور جدید چیلنج " ہندوستان کے معروف دانشور مولانا وحید الدین خاں کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے مذہب کو درپیش جدید چیلنجز اور ان کے حل کو پیش کیا ہے۔انہوں نے اس کتاب کے آٹھ ابواب ترتیب دئیے ہیں۔جن میں سے باب اول میں مخالفین مذہب کا مقدمہ پیش کیا ہے اور اس کے بعد باب دوم میں ان کی حقیقت بیان کی ہے۔ اس کے بعد آٹھ ابواب ایجابی انداز میں مذہب کے بنیادی تصورات یعنی خدا، رسالت اور آخرت کا اثبات پر بات کرتے ہیں ۔خاص طور پر باب سوم تبصرہ مخالفین مذہب کے دلائل پر باب سوم "استدلال کا طریقہ" اور باب ہفتم "دلیل اخرت" کا انداز بیان اور علمی و عقلی دلائل اتنے سادہ اور اپیل کرنے والے ہیں کہ انسان کو بے ساختہ بار بار اللہ اکبر کہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ (راسخ)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1865
  • اس ہفتے کے قارئین 5742
  • اس ماہ کے قارئین 57775
  • کل قارئین49499766

موضوعاتی فہرست