کل کتب 63

دکھائیں
کتب
  • 1 #1751

    مصنف : ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    مشاہدات : 7930

    اخوان المسلمون تزکیہ ، ادب ، شہادت

    (جمعہ 12 جولائی 2013ء) ناشر : القلم پبلی کیشنز کشمیر

    اس میں بھلا کیا شک ہے کہ اس وقت امت مسلمہ پرزوال کا دور ہے۔ مسلمان ہر لحاظ سے ابتر کا شکار ہیں۔ ان کی سیاست میں انتشار، ان کی معاشرت میں بے راہ روی، ان کی معیشت میں تباہ حالی اسی طرح تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کا شدید فقدان ہے۔ گویہ یہ زوال ہمہ جہتی ہے۔ اور یہ شروع بھی گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہواہے۔ امت کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر اسے سدھارنے کےلیے کئی ایک جماعتیں اٹھیں، ان میں سے کچھ دعوتی تھیں اور کچھ عسکری۔ ایسے ان جماعتوں میں سے سب سے اہم ترین جماعت اخوان المسلمین ہے جس نے احیائے امت کےلیے تقریباً ہمہ جہت کام کیا۔ بنیادی طور پر اخوان کامحاذ سیاسی تھا۔ اور گزشتہ صدی میں جو جماعتیں امت کےلیے ایک نمونے کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں ان میں سے بھی اخوان کا شمار ہوتا ہے۔ مختصر بات یہ ہےکہ اخوان کانظم ونسق اور اس کے کارکنان کی تربیت واصلاح ایک مثال تھے۔ زیرنظرکتاب میں اس عظیم تحریک کے نظام اصلاح وتربیت کو سمجھانے کی یا اسےآگے پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں مصنف نے اس تحریک کے دعوتی اور تربیتی پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ (ع۔ح)
     

  • 2 #4443

    مصنف : پروفیسر خورشید احمد

    مشاہدات : 2319

    اسلامی تحریک درپیش چیلنج

    (پیر 02 مئی 2016ء) ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد

    دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لئے نیو ورلڈ آرڈر جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔بیسویں صدی نے بہت سے رہنماؤں کو ایک نئے عالمی نظام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکی صدر وڈروولسن نے مستقبل کے عالمی نطام کے موضوع پر مباحثے مین جان ڈالنے کی کوشش کی۔انہوں نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا  جس میں کچھ اصولوں اور تسلیم شدہ آفاقی قدروں کی حکمرانی کا تصور تھا۔یہ خواب مجلس  اقوام کی ناقص ساخت اور اس کے فوری خاتمے کے ساتھ بکھر گیا۔دنیا نہ ایک نئی جنگ سے بچ سکی اور نہ جمہوریت ہی محفوظ رہی بلکہ دنیا دائیں اور بائیں بازو کی کلیت پسندی کے نرغے میں آگئی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر نئی امیدیں پروان چڑھنے لگیں۔اقوام متحدہ کی بنیادرکھی گئی اور ایک نئے عہد کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔مگر بہت جلد ہی یہ امیدیں بھی خاک میں مل گئیں اور نسل انسانی تباہ کن سرد جنگ کے دور میں داخل ہو گئی۔مغرب کو اسلام سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن مغرب اسلام کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی تحریک درپیش چیلنج"محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی منظر نامے کو پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #2614

    مصنف : سید وقار علی شاہ

    مشاہدات : 3821

    افکار و عقائد و فتاوی جماعت المسلمین

    (پیر 03 نومبر 2014ء) ناشر : سید وقار علی شاہ کریم پورہ بازار پشاور

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔کراچی سے پیدا ہونے والے ایسے ہی ایک خطرناک عقائد کے حامل فرقے کانام ’’ جماعت المسلمین‘‘  ہے ۔اس فرقے کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے ’’ جماعت المسلمین ‘‘  کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے ’’ حزب اللہ ‘‘ کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجرسمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔مسعود احمد صاحب نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے لوگوں کے  ذہنوں میں اسلاف کے خلاف اتنے زیادہ شکوک وشبہات پید اکر دیئے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہونے لگا ہے کہ ہمارے اسلاف غلط تھے اور ان کی وجہ سے دین کی شکل بگڑ گئی ہے،جبکہ محترم مسعود احمد صاحب دین کی بالکل صحیح اور درست شکل پیش کر رہے  ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" افکار وعقائد وفتاوی جماعت المسلمین"محترم سید وقار علی شاہ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے جماعت المسلمین کے تمام باطل عقائد کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے تاکہ علماء امت ان کے خطرناک عقائد ونظریات سے آگاہ ہو سکیں اور عامۃ الناس کو ان کی چنگل میں پھنسنے سے بچا سکیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو پیدا ہونے والے ان نئے فتنوں سے محفوظ اور ان کو صراط مستقیم پر چکائے ۔آمین(راسخ)

     

  • 4 #6271

    مصنف : ابو جابر عبد اللہ دامانوی

    مشاہدات : 1558

    الفرقۃ الجدیدۃ

    (پیر 29 جنوری 2018ء) ناشر : الکتاب انٹرنیشنل، نئی دہلی

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔قدیم زمانے میں نجد عراق میں کوفہ کا شہر گمراہ فرقوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ تھا۔مثلا خوارج ،روافض ،جہمیہ ،مرجئہ ،معتزلہ وغیرہ ۔انہی فرقوں میں سے ایک  نام نہاد جماعت المسلمین بھی ہے جوکراچی کی پیداوار ہے ۔اس جماعت کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے "جماعت المسلمین " کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے "حزب اللہ "کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجر﷫سمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔
     زیر تبصرہ کتاب " الفرقة الجديدة " ابو جابر عبد اللہ دامانوی کی ہے۔جس میں فرقہ کا معنیٰ و مفہوم، مسعودیہ  اور اہل حدیث، مسعودصاحب کے اہل سنۃ پر چند اعتراضات  کو بیان کیا ہے۔اس کتاب میں جماعت المسلمین کے تمام باطل نظریات کا مدلل رد کیا  گیاہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(فیق الرحمن)
     

  • 5 #2627

    مصنف : ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی

    مشاہدات : 3109

    الفرقۃ الجدیدۃ ( دامانوی )

    (پیر 10 نومبر 2014ء) ناشر : مکتبہ اہل حدیث ٹرسٹ، کراچی

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔قدیم زمانے میں نجد عراق میں کوفہ کا شہر گمراہ فرقوں کی جنم بھومی اور آماجگاہ تھا۔مثلا خوارج ،روافض ،جہمیہ ،مرجئہ ،معتزلہ وغیرہ ۔عصر جدید میں کراچی کا شہر خود رو فرقوں کا مرکز ہے۔پہلے ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے ’’برزخی فرقہ‘‘کی بنیاد رکھی اور امام احمد بن حنبل﷫ سمیت  متعدد ائمہ اسلام کی تکفیر کی ۔چنانچہ کراچی  ہی میں رہنے والی ایک  عالم وفاضل شخصیت  محترم ابو  جابر عبد اللہ دامانوی ﷾نے اس کے رد میں ’’ الدین الخالص‘‘ نامی کتاب لکھی ،جس کا آج تک جواب نہیں آ سکا۔برزخی فرقہ کی بیخ کنی کے بعد محترم ابو  جابر عبد اللہ دامانوی ﷾نے ایک دوسرے فرقے   فرقہ مسعودیہ  کے خلاف قلم اٹھایا اور زیر تبصرہ یہ کتاب’’  الفرقۃ الجدیدۃ  ‘‘ تحریر فرمائی۔یہ فرقہ بھی کراچی ہی کی پیداوار ہے ۔اس فرقے کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے ’’جماعت المسلمین ‘‘ کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے ’’ حزب اللہ ‘‘ کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجر﷫سمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے جماعت المسلمین کے تمام باطل نظریات کا مدلل رد کیا ہے اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔اللہ تعالی مولف﷾ کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

  • 6 #2480

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 3071

    انسانی تاریخ کی انتہائی خطرناک و خفیہ ترین تحریک، حقائق انکشافات

    (جمعرات 18 ستمبر 2014ء) ناشر : توحید پبلیکیشنز، بنگلور

    تاریخ عالم آج تک بے شمار تحریکوں سے روشناس ہو چکی ہے۔اور آئے دن چشم فلک کو نئے نئے ناموں سے موسوم عجیب وغریب نظریات اور پروگراموں کی حامل اور طرح طرح کے لوگوں کی قیادت میں کام کرنے والی تحریکوں سے وابستہ پڑتا ہے۔ان میں سے کچھ تحریکیں مثبت طریق کار اور دینی نہیں تو کم از کم دنیاوی مگر اصلاحی وفلاحی نظریات کی پر چارک ہوتی ہیں۔بعض تحریکیں خالص دینی اور اسلامی ہیں،جبکہ بعض ایسی بھی ہیں جو دین کے نام کو شعار بنا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی اور پھر بے دینی کو پھیلاتی ہیں۔انہی رنگا رنگ ناموں اور طرح طرح کے نظریات کی حامل تحریکوں میں سے ایک خطرناک ترین تحریک کا نام الماسونیہ ،فری میسن (FREEMASONRY) ہے جس کے طریقے کار اور عقائد ونظریات کا مطالعہ کرنے سے ایک ایسی خطرناک وخوفناک اور بھیانک جماعت سامنے آتی ہے ،جس کے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان پڑھ تو کیا بڑے بڑے پڑھے لکھے مسلمانوں کا ان کے جال میں پھنس جاناناممکنات میں سے نہیں ہے۔اور جو ان کے جال میں پھنس گیا ،وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتا چلا گیا اور بالآخر دین کا دشمن بن گیا ۔یہی اس خوفناک تحریک کا نصب العین ہے کہ لوگوں کو دین سے دور کر کے دنیا میں بے دینی ،اخلاقی بے راہروی اور جنسی انارکی پھیلا دی جائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " انسانی تاریخ کی انتہائی خطرناک وخفیہ ترین تحریک ۔۔۔ حقائق وانکشافات "سعودی عرب میں مقیم معروف پاکستانی عالم دین ابو عدنان محمد منیر قمر﷾ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اس خطرناک اور خوفناک تحریک کے جالوں سے بچنے کی ترغیب ہی ہے اور اس تنظیم کے خطرناک منصوبوں اور عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو اس سے اس جیسی دیگر اسلام دشمن تنظیموں سے مھفوظ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • 7 #1029

    مصنف : محمد عبد الہادی المصری

    مشاہدات : 16596

    اہل سنت فکر وتحریک ( ڈبل )

    (جمعہ 07 فروری 2014ء) ناشر : مسلم ورلڈ ڈیٹا پروسیسنگ،پاکستان

    دین اسلا م کا اصل ماخذ  کتاب و سنت ہے، جس کے اہتمام کی خاص تاکید ہے  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمیت تمام امتیوں کوہر دورمیں کتاب وسنت سے شدید وابستگی کی تلقین کی گئی ہے-نبی کریمﷺنے ان الہامی تعلیمات پر عمل  اور ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کودین  کی بقا سے  تعبیر کیاہے، اور ان سے بے التفاتی اور کجی کو گمراہی قراردیا، آپ ﷺ نے فرمایا۔میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہاہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے  کبھی گمراہ نہ ہو گے، (وہ دو چیزیں ) اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے- لہذا دین کی بقا اور استحکام کتاب وسنت سے تعلق استوار کرنے ہی میں ہے،اسلام کے ابتدائی ادوار میں اسلام کے غلبہ اور استحکام کا باعث بھی یہی چیز تھی اور مرور زمانہ کے ساتھ اسلام کا استحکام انہی دو چیزوں سے نتھی ہے،سو جس بھی دور میں اہل اسلام خود کو کتاب وسنت کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال لیں گے، عظمت ورفعت ان کا مقدر ٹھہرے گی –نیز مذہب کے نام پر وجود میں آنے والی تنظیمیں اور تحریکیں بھی وہی مستحکم اور دیرپا ہوتی ہیں جن کی بنیاد الہامی تعلیمات پر ہو اور منہج میں سلف کے فہم کی جھلک ہو-لیکن ہوتا یہ ہے کہ اسلامی تحریکیں اٹھان میں تواپنا منشور کتاب وسنت سے کشید کرتی ہیں پھر آہستہ آہستہ مصلحتوں کی آڑ میں دین اسلام کی اصل تعلیمات سے بہت دور نکل جاتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب  اسلامی تحریکوں کے لیے بہترین راہنماہے ، جس میں تحریکوں کی بقاو استحکام کے محرکات اور زوال و فنا کے اسباب کا بیان ہے، یہ ایک بڑی معلوماتی کتاب ہے ،جس کا مطالعہ نہایت اہم اور بہت مفید ہے۔(ف۔ر)
     

  • 8 #1778

    مصنف : انوار ہاشمی

    مشاہدات : 6325

    این جی اوز اہداف ، ترجیحات اور مقاصد

    (جمعرات 08 اگست 2013ء) ناشر : فیکٹ پبلیکیشنز لاہور

    دور جدید میں این جی اوز نے بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لی ہے ۔ ہر معاشرے میں ان کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے ۔ بہت زیادہ سول سوسائٹی کو ان کے ذریعے منظم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ این جی اوز کا تصور بذات خود برا نہیں ۔ ان کے اساسی اہداف نیک ہی ہیں ۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث صحت ، تعلیم ، غربت اور سماجی شعور کے متعلق مسائل گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں ۔حکومتوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ سرکاری سطح پر یہ مسائل حل کر سکیں ۔ اس پس منظر میں این جی اوز کے قیام کا رجحان کسی نیک مشن سے کم نہیں لیکن یہ نیک مشن اس وقت معاشرے کے لیے عذاب بن جاتے ہیں جب ان کے ظاہری اہداف کے پیچھے خفیہ مقاصد بھی دبے پاؤں چلا آتے ہیں ۔ یہ این جی اوز ترقی یافتہ ممالک کے فنڈز اور ڈونر ایجنسیوں کی امداد سے چلتیں ہیں ۔ امداد کے ساتھ ساتھ این جی اوز اپنےمشنری ، مذہبی ، اقتصادی ، جغرافیائی اور دیگر خفیہ مقاصد کو بھی ایکسپورٹ کیا جانے لگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ڈونر ممالک میں زیادہ تر غیرمسلم  مغربی ممالک شامل ہیں ۔ اس لئے ان مخصوص اہداف اور مقاصد کا شکار زیادہ تر تیسری دنیا کے مسلم ممالک ہیں ۔ زیر نظر کتاب این جی اوز کے ان پس پردہ حقائق کو آشکار کرتی ہے ۔ جو کہ اس موضوع پر ایک مکمل دستاویز ہے۔ (ع۔ح)
     

  • 9 #1809

    مصنف : آباد شاہ پوری

    مشاہدات : 6413

    تاریخ جماعت اسلامی حصہ اول

    (پیر 09 ستمبر 2013ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور

    انیس سو تئیس میں انحطاط خلافت اسلامیہ کے بعد مسلمانوں کے اندر خلافت کی بحالی کی  مختلف تحریکیں اٹھیں ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد اور پالیسی کے مطابق اس کی کوششیں کیں ۔ دوسری طرف عالم اسلام پر مغرب کی فکری وتہذیبی یلغار کی وجہ سے مسلمانوں میں اپنی تہذیب کے حوالے سے پسپائی کی روش پیدا ہو گئی ۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے انیس سو بیالیس میں جماعت اسلامی کی اساس رکھی گئی ۔ جس کا اساسی مقصد سیاسی سطح پر اسلامی خلافت کا احیا اور معاشرتی و تہذیبی سطح پر مسلمانوں کے اندر تہذیب اسلامی کا احیاء کرنا تھا ۔ ان کے اندر اپنی تعلیمات کے حوالے سے اعتماد پیدا کر نا تھا ۔ اس سلسلے میں جماعت جب اپنے مشن کو لے کر آگے بڑھنے لگی تو جہاں اسے  غیرمسلموں اور کافروں کی طرف سے  کئی ایک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہاں ان نام نہاد سیکولر اور لادین مسلمانوں کی طرف سے بھی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے علاوہ کٹر مذہبی حلقوں کی طرف سے بھی کئی ایک محاذوں سے نبرد آزما ہونا پڑا ۔ تاہم جماعت اپنی پالیسیوں اور مشن کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی اس سے جماعت کی ایک الگ سے تاریخ مرتب ہوتی رہی ۔ اگرچہ جماعت اپنے  مشن یا منزل تک تا ہنوز بھی نہیں پہنچ سکی لیکن اس کے باوجود ایک انقلابی اور مضبوط جماعت ہونے کی وجہ سے اس نے  اسلامی تعلیمات کے حوالے مسلمانان ہند کے اوپر خاطر خواہ اضافہ ڈالا ہے ۔ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے اوپر بھی اس جماعت کی فکر کے اثرات مرتب ہوتے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیں ۔ زیرنظر کتاب جماعت اسلامی کے تاریخی پہلوں کو سامنے لے کر آتی ہے ۔ اللہ مصنف کو اجر جزیل سے نوازے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 10 #4647

    مصنف : محفوظ الرحمن فیضی

    مشاہدات : 2817

    تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس)

    (جمعرات 05 مئی 2016ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    دینی مدارس کے طلباء، اساتذہ ،علمائے کرام، مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔ صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی   دارالحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور،جامعہ اہل حدیث، لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ مرکز دار العلوم ‘‘ جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام، احوال خدمات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو شیخ محفوظ الرحمٰن فیضی﷾ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی مرکزی دار العلوم کے قیام کی تجویز اورتعمیر کے معلومات درج ہیں۔ دوسرے حصہ 1963ء میں مرکزی دارالعلوم کے سنگ بنیاد وتاسیس کی پر مسرت کی مختصر روداد اور تیسرا حصہ مارچ 1066ءمیں مرکزی دار العلوم کے تعلیمی افتتاح کی پروقار تقریب کی مختصر تفصیل پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کی ان درس گاہوں کوقائم دائم رکھے۔ (آمین)

< 1 2 3 4 5 6 7 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1780
  • اس ہفتے کے قارئین 7620
  • اس ماہ کے قارئین 59653
  • کل قارئین49524635

موضوعاتی فہرست