کل کتب 60

دکھائیں
کتب
  • 1 #4438

    مصنف : اللہ وسایہ

    مشاہدات : 4380

    آئینۂ قادیانیت

    (اتوار 03 اپریل 2016ء) ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

    اسلام کے بنیادی ترین عقائد میں سے ایک عقیدہ، عقیدہ ختم نبوت کا ہے ،جس پر ہر مسلمان کا ایمان لانا واجبات میں سے ہے،اور اس عقیدہ کا انکا رکرنے والا خارج عن الاسلام ہے، اور امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کا تو یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء کے بعد مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مدعی نبوت پر ایمان لانا تو کجا اس سے دلیل طلب کرنا کفر قرار دیا گیا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جو عظیم قربانی دی وہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور جمیع صحابہ کرام ؓکی نظر میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جو اہمیت تھی اس کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے جو معرکہ ہوا اس میں بائیس ہزار مرتدین قتل ہوئے اور 1200 کے قریب صحابہ کرام ؓنے جام شہادت نوش فرمایا جس میں600 کے قریب تو حفاظ اور قراءتھے۔ اس موقع پرصحابہ کرام نے جانوں کا نذرانہ تو پیش کر دیا مگر اس عقیدہ پر آنچ نہ آنے دی۔قرآن کریم نے بھی بہت وضاحت اور صفائی کے ساتھ بتایا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور احادیث مقدسہ نے بھی اس کی تصریح کی ہے بلکہ قرآن کریم و احادیث میں جس کثرت اور تواتر و قطعیت کے ساتھ عقیدختم نبوت کو بیان کیا گیا ہے‘ اس کی نظیر بہت کم ملے گی۔خود آنحضرت ﷺنے اپنے آخری دور میں سب سے پہلے جھوٹے مدعیان نبوت کا خاتمہ کرکے امت کے سامنے اس کام کا عملی نمونہ پیش کیا چنانچہ یمن میں ایک شخص جس کو اسود عنسی کہاجاتا تھا، نے سب سے پہلے ختم نبوت سے بغاوت کرکے اپنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اس کے جواب میں آنحضرت ﷺنے اہل یمن کو اس سے قتال وجہاد کا باقاعدہ تحریری حکم صادر فرمایا اور بالآخر حضرت فیروز دیلمی ؓ کے خنجر نے نبوت کے اس جھوٹے دعویداری کا آخری فیصلہ سنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آئینہ قادیانیت‘‘مناظر ختم نبوت اللہ وسا یا صاحب   کی تصنیف کردا ہے جس میں ان ہوں نے فتنہ قادیانیت سے   متعلق تیس سوالات کے جوابات دیے ہیں اور فرقہ قادیانیت کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • 2 #6625

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1274

    احتساب قادیانیت جلد اول

    dsa (جمعہ 18 مئی 2018ء) ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

    ختمِ نبوت، پیارے رسول اللہ ﷺکا اعزاز بھی ہے اور امتیاز بھی۔ یہ آپ ﷺ کی عظمت و شوکت کی دلیل بھی ہے اور آپ ﷺ کی امت کا شرف و افتخار بھی۔ پہلے تمام نبی اور رسول﷩ خاص وقت، خاص علاقے اور خاص قوم و قبیلہ کی طرف مبعوث ہوئے اور اپنا اپنا وقت گزار کر رخصت ہوتے رہے، بلکہ یوں بھی ہوا کہ ایک ایک وقت میں، ایک ایک علاقے اور قوم میں ایک سے زائد نبی و رسول مبعوث ہوتے رہے۔ جب کہ امام الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ پہلے انبیاء و رسل کی طرح مخصوص عہد، مخصوص قوم اور مخصوص علاقے کی بجائے اپنی بعثت کے وقت سے لے کر تاقیام قیامت ہر عہد اور علاقے کے ہر ذی نفس جن و بشر کے لئے ہادی و رہبر کی حیثیت سے مبعوث ہوئے۔دین تو حضرت آدم کے وقت سے ’’اسلام‘‘ ہی رہا البتہ شریعتیں ہر نبی و رسول کی مختلف رہی ہیں۔ چنانچہ ایک نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ (یا بعد) آ جاتا تھا، مگر جب آقائے مکی و مدنی ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ پر دین کومکمل واتم کر دیا گیااورآپ ﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ختم نبوت کا تاج، پیارے رسول اللہ ﷺ کے سرِاقدس پر یوں رکھا گیا کہ پھر دنیا جہان میں کسی طرف بھی کوئی نبی و رسول نہیں آیا۔ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ ’’ختم نبوت‘‘ کا تاج، ایک عظمت کی حیثیت سے آپ کو عطا ہوا ہے۔ اسی لئے مسلمان جہاں یہ مضبوط عقیدہ رکھتے ہیں کہ ’’پیارے رسول اللہ ﷺکے بعد کسی نبوت و رسالت کے حوالے سے سوچنا بھی گناہ ہے۔‘‘ وہاں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب اگر کوئی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے تو وہ پیارے رسول اللہ ﷺکی عظمت و حرمت پر ’’حرف گیری‘‘ کا مرتکب ہوتا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت، امت مسلمہ میں یوں اتفاقی اور یقینی ہے کہ علماء کرام نے کہا: اگر کوئی جھوٹا مدعی، نبوت کا دعویٰ کرے تو اس سے نبوت کی دلیل طلب کرنا بھی کفر کے مترادف ہے۔ ویسے بھی خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، صرف کذاب اور دجال ہونگے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔‘‘ چنانچہ جب برصغیر میں انگریز حکومت کے مداح مرزا غلام ا حمد قادیانی نے نبوت کا ’’دعویٰ‘‘ کیا تو تمام مکاتب فکر کے مسلمان تڑپ اٹھے۔ ان کی پیارے رسول سے محبت و عقیدت نے ان کو یوں مضطرب کیا کہ وہ اپنے فروعی اختلافات کو نظر انداز کر کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ایک دینی جذبہ کے تحت مرزائے قادیانی اور اس کے حاشیہ نشینوں کے تقابل میں ایک تحریک برپا کر دی، قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر آج تک اسلام اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم نے قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں قانون اور عدالت میں غرض کہ ہر میدان میں انہیں شکستِ فاش دی ۔یوں تو ہر مکتب فکر کے علماء کرام مسئلہ ختم نبوت پر کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے مگر ’’فاتح قادیان‘‘ کا لقب جس رجلِ عظیم کے حصے میں آیا، ان کو شیخ الاسلام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے۔قادیانیوں سے فیصلہ کن قانونی معرکہ آرائی سب سے پہلے بہاولپور کی سر زمیں پر ہوئی جہاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مقدمہ تنسیخ نکاح میں مسماۃ عائشہ بی بی کانکاح عبد الرزاق قادیانی سے فسخ کردیاکہ ایک مسلمان عورت مرتد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی 1926ء سے 1935 تک یہ مقدمہ زیر سماعت رہا جید اکابر علمائے کرام نے عدالت کے سامنے قادیانیوں کے خلاف دلائل کے انبار لگا دئیے کہ ان دلائل کی روشنی میں پہلی بار عدالت کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ پھر اس کے بعد بھی قادیانیوں کے خلاف یہ محاذ جاری رہا بالآخر تحریک ختم نبوت کی کوششوں سے 1974ء کو قومی اسمبلی ، پاکستان نے ایک تاریخی بحث اور ملزموں کو مکمل صفائی کا موقع فراہم کرنے اور ان کے دلائل کما حقہ سننے کےبعد یہ فیصلہ صادر کیا کہ اب سے قادیانی آئین او رملکی قانون کی رو سے بھی غیر مسلم ہیں ۔مرزا قاديانی کے دعوۂ نبوت سے لے کر اب تک قادیانیت کے رد میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے گراں قدر تقریری وتحریری اور قانونی خدمات انجام دی ہیں ۔تصنیفی خدمات کے سلسلے میں فتنہ قادیانیت کے ردّ میں چھوٹی بڑی بے شمار کتب شائع ہوچکی ہیں جن کا ریکارڈ پاک وہند کی سیکڑوں لائبریریوں میں موجود ہے ۔ بعض اہل علم نے ردّ قادیانیت کے ردّ میں لکھی جانے والی کتب کا تعارف یکجا بھی کیا ہے ۔ مولانا سید محمد علی مونگیری نے ’’ حظاظت ایمان کی کتابیں‘‘ نامی کتاب میں 80 کتابوں کا تعارف پیش کیا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی تصنیف ’’ قائد قادیان‘‘ کی آخری فصل میں 112 کتب ردّ قادیانیت کی فہرست شائع کی۔مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’ قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت ‘‘ میں ردّ قادیانیت کے متعلق ایک ہزار(1000) کتابوں کاتعارف جمع کیا ہے۔مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷫نے ’’ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات‘‘ میں قادیانی فتنہ کی ترید میں علماء اہل حدیث کی خدمات اور جہود ومساعی کو بڑے احسن انداز سے ایک لڑی میں پرو یا ہے ۔ اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع شدہ کتاب ’’ احتساب قادیانیت ‘‘ اورڈاکٹر محمد بہاؤ الدین ﷾ کی 70 مجلدات پر مشتمل’’ تحریک ختم نبوت‘‘ختم نبوت اور تردیدِ مرزائیت کی تحریک و تاریخ کے باب میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں ۔آخر الذکر ان دونوں کتابوں میں ردّ قادیانیت کے سلسلے میں مطبوعہ کتب کے مکمل متون کو جمع کردیا گیا ہے ۔جبکہ باقی کتابوں میں کتاب ومصنف کانام اور اس کتاب کا مختصر تعارف ہے ۔۔ڈاکٹر بہاؤ الدین کی کتاب تو ایک نیر تاباں کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں کہ جس نے کئی ٹمٹماتے دیوں اور چراغوں کی لَو کو ماند کر دیا ہے۔ کیونکہ آج تک ایک مخصوص مسلک کے حاملین نے ختم نبوت کے نام پر تسلط جما رکھا تھا اور وہ ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے سارا کریڈٹ خود سمیٹ لیتے تھے، علماء اہل حدیث میں سے صرف مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ ہی کا ذکر کرتے تھے وہ بھی مجبوراً اور محض خانہ پری کے لیے، ڈاکٹر صاحب نے یہ عظیم انسائیکلو پیڈیا مرتب کر کے ان کے تسلط کو نہ صرف توڑا ہے، بلکہ مرزائیت کے تعاقب میں پہلے پہل میدان میں نکلنے والے اور دنیا کو مرزا قادیانی کے فتنے سے اوّلاً آگاہ کرنے والے حضرت مولانا ابوسعید محمد حسین بٹالوی ﷫ اور مرزا قادیانی کے خلاف پہلا فتویٰ جاری کرنے والے شیخ الکل فی الکل حضرت میاں نذیر حسین دہلوی ﷫ کی شخصیت، اس حوالے سے ان کی خدمات، ان کے عظیم شاگردوں کی مساعی اور دیگر بے شمار اہل حدیث علماء کرام کی اسی حوالے سےمحنتوں کو بہترین انداز میں متعارف کرایا ہے۔یقیناً یہ کتاب مسلک اہل حدیث کے حاملین پر ایک احسان ِعظیم ہے۔ ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾اس کتاب کی 70 جلدیں تیار کرچکے ہیں جن میں 40 جلدیں ’’ مکتبہ اسلامیہ، لاہور ‘‘ سے شائع ہوچکی ہیں ۔
    زیر نظر کتاب ’’احتساب قادیانیت ‘‘ یعنی ردّ قادیانیت پر مجموعہ رسائل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے عظیم کاوش ہے ۔یہ کتاب 60 مجلدات پر مشتمل ہے ۔اس عظیم کتاب میں مولانا لال حسین اختر ، مولانا ادریس کاندھلوی ، علامہ محمد انور شاہ کشمیری، مولانااشرف علی تھانوی ، مولانا بدر عالم میرٹھی ، علامہ شبیر عثمانی ،مولانا سید محمد علی مونگیری، معروف سیرت نگار مولانا قاضی محمد سلمان منصور پوری ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی ،فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ،بابو پیر بخش لاہوری مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،علامہ شمس الحق افغانی ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا محمد منظور نعمانی ، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا نظام الدین ،مولانا احمد علی لاہوری،مفتی محمود غلام غوث ہزاروی، ، شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ،مولانا عبد الرحیم اشرف، مولانا یوسف بنوری ،مولانا ظہور احمد بگوی، مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادی ، مولانا ایم ایس خالد وزیر آبادی ،مولانا عبد اللطیف مسعود، مولانا محمد عالم آسی امرتسری،آغا شورش کاشمیری،منشی محمد عبد اللہ معمار،ڈاکٹر غلام جیلانی ، غلام احمد پرویز ، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا عبد القادر آزاد، مولانا حافظ ایوب دہلوی، مولانا ابراہیم کمیر پوری، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا محمد عاشق الہی بلند شہری، امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سید ابو الحسن علی ندوی ، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی﷭ وغیرہم جیسے نامور علماء کرام کے فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھے گئے رسائل ومقالات اور کتب کے مکمل متون کو یکجا کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس عظیم کتاب کو مرتب کرنے میں شامل تمام احباب گرامی وناشرین کی اس گرا ں قدر کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔آمین اس کتاب ’’ احتساب قادیانیت ‘‘ کی مکمل جلدیں اگرچہ مختلف ویب سائٹس پر موجود ہیں جنہیں وہاں سے ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے ۔اب قارئین وناظرین ’’کتاب وسنت سائٹ ‘‘ کے لیے بھی ’’ احتساب قادیانیت‘‘ کی مکمل جلدوں کو اس سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس سائٹ کے منتظمین ومعاونین کی تمام جہود کو شرف ِقبولیت سے نوازے ۔ آمین ( م۔ا)

  • 3 #4169

    مصنف : محمد متین خالد

    مشاہدات : 2488

    احمدی دوستو تمہیں اسلام بلاتا ہے

    (بدھ 02 مارچ 2016ء) ناشر : انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ، پاکستان

    دنیا میں فرقےمختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے موجود ہیں ۔کچھ فرقےفکری و نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اورکچھ فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتےہیں ۔فکری و نظریاتی فرقوں میں سےایک باطل فرقہ قادیانیت ہے جس کی بنیاد ہی غلط ہے۔اور ان کی سب سے بڑی غلطی نبوت و رسالت پر حملہ ہے۔ملک وقوم کے دشمنوں نے اپنے اغراض ومقاصد کی تکمیل کےلیے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد کا رنگ دیاجو بعد میں مسیح موعودنبی اور رسالت کا روپ دھار گیا۔ان کی اسی غلط نظریات کی وجہ سے بالخصوص حکومت پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک نے ان کو غیر مسلم قراردیا۔اس فرقے کو دبانے کےلیے علماء اسلام نے قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائےاور ہر میدان میں ان کا مدلل و منہ توڑ جواب دیاچاہے وہ تحریر ی میدان ہو یا مناظرے کا اسٹیج غرضیکہ مجاہدین ختم نبوت  ان کے ناپاک مقاصدکو نیست ونابود کرتے رہے اورکرتے رہیں گئے(انشاء اللہ) زیر نظر کتاب"احمدی دوستو! تمہیں اسلام بلاتا ہے" مجاہد ختم نبوت محمد خالد متین کی فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں حق کے متلاشی احمدی دوستوں کی مکمل خیر خواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے موصوف نے قرآن و سنت کی روشنی میں قادیانیوں کے پیش کردہ مغالطوں کا مدلل و مسکت جوابات دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 4 #2882

    مصنف : عابدہ سلطانہ

    مشاہدات : 2339

    احمدیت کیا ہے

    (جمعہ 06 فروری 2015ء) ناشر : نا معلوم

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں۔جن کی آمد سے سلسلہ نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب "احمدیت کیا ہے؟ " اسی قادیانی فتنے  کی حقیقت پر لکھی گئی ہے۔جو محترمہ عابدہ سلطانہ  کی کاوش ہے۔مولفہ موصوفہ نے اس میں ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ ،مسئلہ ختم نبوت قرآن مجید کی رو سے،ختم نبوت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات،اجماع صحابہ،اجماع امت، اعلان نبوت سے قبل مرزا صاحب کے خیالات،اعلان نبوت کے بعد مرزا صاحب کے خیالات،امیر جماعت احمدیہ کے فرمودات اور احمدیوں کے سیاسی عزائم وغیرہ جیسے موضوعات کو بیان کرتے ہوئے قادیانی کلچر سے متعلق ہوش ربا مشاہدات وتجربات  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی  تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 #4534

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 2214

    تاریخ مرزا

    (منگل 14 جون 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    تعلیمات اسلامیہ کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ سیدنا آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا ۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ ہو وہ نبی نہیں بن سکتا ۔اور اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت اوروحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ شفیع امت حضرت محمد ﷺ کی  زبانِ صادقہ کا فیصلہ ہے۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کرنے کے آغاز سے ہی اس کی تردید وتنقید میں ہر مکتبۂ فکر کے علماء نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ بالخصوص علمائے اہل حدیث او ردیو بندی مکتبۂ فکر کے علماء کی قادیانیت کی تردیدمیں خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ قادیانی فرقے کے خلاف سب سے پہلا فتوئ تکفیر مولانامحمد حسین بٹالوی ﷫نے تحریرکیاجس پر برصغیر کے تقریباًدوصد تمام مسالک کے علماء نے دستخط ثبت کیے ۔اس فرقے کے خلاف مناظروں کاسب سے کامیاب مقابلہ شیخ الاسلام مولانا نثاء اللہ امرتسری﷫ نے کیا جنہیں بالاتفاق فاتح قادیان کا خطاب دیا گیا ۔تقسیم ملک کے بعدپاکستان میں اس گمراہ فرقے کواقلیت قرار دلوانے کےلیے سب سے پہلے متکلم ِاسلام مولانا محمد حنیف ندوی ﷫ کا قلم حرکت میں آیا۔اوراس فرقے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کےلیے ایک علمی معرکہ مولانا عبد الرحیم اشرف ﷫ کے قلم سے لڑا گیا۔ یہ سب اکابرین مسلک اہل حدیث سے تعلق رکھنے والےتھے۔مختلف انداز میں قادیانیت کی تردید میں علماء کی کاوشیں جاری وساری ہیں۔اکثر علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے عقائد کا محاسبہ کر کے قادیانیوں کو لاجواب کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تاریخ مرزا‘‘ فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے اس مختصر کتاب مں انہوں نے مناظرانہ انداز کی بجائے تاریخ اند از میں صحیح حوالہ جات کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات صحیحہ مصدقہ ازولادت تاوفات درج کیے ہیں ۔یہ کتاب پہلی بار 1919ء میں اور شائع ہوئی موجودہ طبع اس کا چوتھا ایڈیشن ہے جسے 1973ء میں المکتبۃ السلفیہ کے بانی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے بعض حوالہ جات کی ممکن چھان بین کر کے شائع کیا تھا۔(م۔ا)

  • 6 #1237

    مصنف : ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین

    مشاہدات : 21587

    تحریک ختم نبوت - جلد1

    dsa (منگل 01 مئی 2012ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)
     

  • 7 #4189

    مصنف : محمد نعیم طاہر رضوی

    مشاہدات : 1630

    تفہیم ختم نبوت اور محاصرہ قادیانیت

    (بدھ 09 مارچ 2016ء) ناشر : کنز الایمان پبلیکیشنز لاہور

    تاریخ عالم اٹھا کر دیکھئے۔ کفر نے اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہمیشہ ایڑھی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ وہ کون سا جال ہے، جو اسلام کو مقید کرنے کے لیے استعمال نہ کیا گیا۔ وہ کون سی سازش ہے، جو اسلام کی گردن کاٹنے کے لیے تیار نہ کی گئی۔ وہ کونسی درندگی ہے جس کی مشق سینہ اسلام پر نہ کی گئی۔ وہ کونسے ہولناک مظالم ہیں، جو اسلام کے نام لیواؤں پر روانہ رکھے گئے۔ لیکن جب ہندوستان پر فرنگی استعمار قابض ہو چکا تھا۔ مسلمان غلامی کی آہنی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ کفر نے اسلام پر ایک نیا، نرالا اور اچھوتا حملہ کیا۔ ایک خوفناک اور بھیانک منصوبہ بنا۔ جس کے تحت اسلام کو اسلام کے نام پر لوٹنے کا پروگرام بنا۔ کفر نے اپنے اس خاص مشن کو"قادیادنیت" کا نام دیا۔ اور اس کی قیادت ایک ننگ دین، ننگ وطن اور تاریخ کا بدترین انسان مرزا غلام احمد قادیانی کو سونپ دی گئی۔ وہ کذاب مرزا احمد ہی تھا جس نے برطانوی سامراج کے مقاصدے شریرہ کو ہر سطح پر کامیاب کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مرزا نے مذہبی روپ اختیار کر کے اجرائے نبوت، حیات مسیح، مہدویت کی بحثوں میں الجھایا اور مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار بننے پر آمادہ کیا۔ مگر علمائے اسلام نے قادیانیوں کو ہر میدان میں ناقابل فراموش شکست دی۔ زیر تبصرہ کتاب"تفہیم ختم نبوت اور محاصرہ قادیانیت" جس کی ترتیب و تدوین مولانا محمد نعیم طاہر رضوی نے کی ہے۔ مولانا نے قادیانیوں کے باطل نظریات و افکار کا قرآن و سنت کی روشنی میں محاسبہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 8 #349

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 18029

    تھالی کا بینگن

    (ہفتہ 08 مئی 2010ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام  کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو  یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری  اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور  خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں  جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے  اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔
     

  • 9 #2225

    مصنف : محمد متین خالد

    مشاہدات : 2963

    ثبوت حاضر ہیں, قادیانیت

    (منگل 17 جون 2014ء) ناشر : نا معلوم

    اللہ تعالی نے نبی کریم کو ﷺآخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ ﷺ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔زیر نظر کتاب ’’ثبوت حاضر ہیں‘‘ قادیانیوں کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار محمد متین خالد کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد وعزائم پر مبنی عکسی شہادتیں اکٹھی کر دی ہیں۔اور اس کی طرف سے کئے جانے والے جھوٹے دعوؤں اور کفریہ عقائد و قابل اعتراض باتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،تاکہ ان کے جرائم کو تمام مسلمان پہچان سکیں۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو قادیانیوں کے اس خطرناک فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #4909

    مصنف : محمد اکبر خان

    مشاہدات : 1159

    حق و باطل کا معرکۃ الآراء مقدمۂ مرزائیہ بہاولپور جلد۔1

    dsa (جمعہ 11 نومبر 2016ء) ناشر : اسلامک فاؤنڈیشن، لاہور

    اسلامی تصور حیات میں توحید کے بعد سب سے بڑی اہمیت عقیدہ ختم نبوت کو حاصل ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ اصل بنیاد ہے جس کی وجہ سے اسلام دوسرے الہامی مذاہب سے ممتاز ہے اللہ تعالیٰ نے کسی گزشتہ دین کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ اس کی تکمیل ہو چکی ہے اور اس کی حفاظت کا میں ذمہ دار ہو ں اور نہ ہی سابقہ آسمانی کتب وصحائف کے متعلق یہ فرمایاکہ یہ خدا کا آخر ی پیغام ہے اور نہ ہی یہ فرمایااس کو پیش کرنے والا آخری نبی ہے کہ جس کا ہر قول و فعل قیامت تک لوگوں کے لیے نجات کا ذریعہ ہو مگر محمد رسول اللہ1کا پیغام آخری پیغام ہے اور اپنے بعد کسی اور کے نہ آنے کا پیغام دیتاہے اللہ تعالیٰ نے جس طرح دین محمدی کے متعلق (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (المائدہ :٣) ارشاد فرمایا اسی طرح رسول اللہ 1 کے متعلق بھی کہا کہ 'مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَا(الاحزاب :٤٠) حضور 1 نے بھی اس مضمون کو مختلف الفاظ سے بیان فرمایا جس کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔ اسلامی تاریخ میں بہت سے گمراہ فرقے اور فتنے پیدا ہوئے مگر ختم نبوت ،تحفظ ناموس رسالت اور جہاد من الکفار جیسے بنیادی مسائل پر سب متفق رہے اور امت محمدیہ میں سب سے پہلے جس مسئلہ پر اجماع ہوا وہ یہ تھاکہ آنحضرت 1 خا تم انبیاء کے بعد مدعی نبوت واجب القتل اور اس پر یقین کرنے والے مرتد اور دائر ہئ اسلام سے خارج ہیں۔ لیکن انیسویں صدی کے اخر میں جب سلطنت برطانیہ کا ستارہئ اقبال پورے آب وتاب کے ساتھ کرہئ ارض پرچمک رہاتھا تو انگریز نے جہاں دین اسلام کے خلاف اور بے شمار سازشیں کیں وہاں برصغیر پا ک وہند میں اپنے ناپاک منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک نبی پیدا کرکے مندرجہ بالا متفق علیہ مسائل کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کیں مگر اس نے یہ کام اپنے کسی ہم وطن کی بجائے مسلمانان ہند میں سے ہی ایک ایسے ایمان فروش سے کرایا جس نے بے پناہ دولت کے عوض زندیق کا کردار اداکیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے اعلانِ نبوت کے ساتھ ہی تمام اسلامی ممالک او رخصوصاً ہندوستان میں اس کا شدید رد عمل ہو ا پورے عالم اسلام کے علماء کرام اور قضاء نے مرزا قادیان اور اس کے ہم خیالوں کے خلاف ارتداد اور تکفیر کے فیصلے اور فتاوی جاری کئے۔تمام مکاتب فکر کے علماء نے اپنی ذمہ داری کا بر وقت احساس کرتے اپنے تمام تر فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن اس فتنہ کا سد باب کیا جس کی مثال اسلامی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ مرزا قادیانی کے کافر ہونے کا سب سے پہلے فیصلہ بہاولپور کی عدالت نے جاری کیا۔یہ فیصلہ مسماۃ عائشہ بی بی کا ایک قادیانی شخص کے ساتھ نکاح کی صورت میں صادر ہوا۔عائشہ بی بی کے والد نے ایک شخص کے ساتھ اس کا نکاح کردیا لیکن بعد ازاں معلوم ہواکہ یہ شخص قادیانی ہے تو عائشہ کے والد نے اسے کے ساتھ اپنی بیٹی کورخصت کرنے سے انکار دیا۔ قادیانی شخص نے اپنی منکوحہ کو حاصل کرنے کے لیے عدالت میں مقدمہ دائرکردیا ۔اس وقت نواب آف بہاولپور نے اس کیس کوسماعت کرنے والے جج صاحب نے اس مسئلہ کو اس وقت کے کبار علماء کے سامنے رکھے تواس وقت کی عظیم شخصیات فاتح قادیان مولانا علامہ ثناء اللہ امرتسری ، علامہ انور شاہ کشمیری ، ،سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے نامور علماء نے قادیانی عقائد کے حامل کوخارج اسلام اور غیر مسلم قرار دینے کے حق میں دلائل کے انبار لگا دئیے جس کو سامنے رکھتے اس مقدمہ کے جج محمد اکبر خان نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا پہلا عظیم فیصلہ صادر فرمایا اور عائشہ بی بی کا اس قادیانی شخص کے ساتھ نکاح کو فسخ قرار دیا ۔ بعد ازاں اس خاتون کا نکاح محدث العصر مولاناسلطان محمود جلالپوری کے ساتھ کر دیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ''مقدمہ مرزائیہ بہاولپور'' ریاست بہاولپور میں اس وقت کی عظیم شخصیات فاتح قادیان مولانا علامہ ثناء اللہ امرتسری، علامہ انور شاہ کشمیری، سید عطاء اللہ شاہ بخاری جیسے نامور علماء کے قادیانیوں کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے پر دیئے کے تفصیلی دلائل وبراہین اور دلائل کی روشنی میں جج صاحب کے صادر کے گئے تفصیل فیصلہ کے متن پر مشتمل ہے۔ اس ساری روداد کو اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور نے تین ضخیم جلدوں میں شائع کیا ہے۔

< 1 2 3 4 5 6 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 966
  • اس ہفتے کے قارئین 10651
  • اس ماہ کے قارئین 49045
  • کل قارئین49378206

موضوعاتی فہرست