المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

  • 1 اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت (پیر 26 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:20845

    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو پوری دنیا پر چھا جانا چاہتا ہے اور زندگی کی ہر فیلڈ میں جگہ چاہتا ہے-دنیا میں پائے جانے والے دوسرے ادیان کو ان کے ماننے والوں نے ان کو مخصوص جگہوں اور عبادت گاہوں تک محصور کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے کوئی راہنمائی نہ دے سکے اسی طرح کچھ لوگوں نے دین اسلام کو بھی پرائیویٹ کرنے کے لیے اس کو تنگ کر کے مخصوص عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محصور کرنے کی کوشش کی اور اسی کام کو دین کی خدمت اور اصل روح قرار دے کر لوگوں کو صرف خوشخبریاں سنائیں اور انہی چیزوں کو اصل اسلام بنا دیا-اسلام کو جس نام سے سکیڑنے کی کوشش کی گئی وہ تصوف ہے اور تصوف کے ماننے والوں نے اس کو مختلف طریقوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور ثبوت کے طور پر مختلف واقعات کو توڑ مروڑ کر اور من گھڑت احادیث اور واقعات کا سہارا لیا جس کی وجہ لوگ اسلام کی اصل روح سے واقف ہونے کی بجائے اور دوسری چیزوں میں مصروف ہو گئے-ابن تیمیہ نے دین سے مفرور ان لوگوں کی خوب خبر لی اور ان کے من گھڑت دلائل کی حقیقت کو واضح کیا-صحابہ کی طرف نسبت جوڑنے والے صوفیاء کی اس نسبت کی وضاحت کرتے ہوئے صوفیاء میں پائے جاانے والے مختلف سلوک اور من گھڑت روایات سے سہارا لے کر حال اور ناچ گانے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کو ابن تیمیہ نے قرآن وسنت کے دلائل سے واضح کیا ہے اور صحابہ میں تصوف تھا یا نہیں اس کی وضاحت فرمائی ہے- قطب ابدال کی اصطلاحات کی وضاحت، ولیوں کی شان میں من گھڑت روایات اور واقعات کی وضاحت،ولیوں کے غائب ہونے کی وضاحت، اور مشہور مزارات کی نشاندہی کی گئی ہے
     

  • 2 گانا بجانا سننا اور قوالی اسلام کی نظرمیں (اتوار 09 اگست 2009ء)

    مشاہدات:18543

    موسیقی اور گانے بجانے کی اسلام میں شدید مذمت کی گئی ہے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے  لیکن ہمارے ہاں نام نہاد ملا اور صوفیاء حضرات قوالی اور  سماع و وجد کے نام پر موسیقی کو رواج دینے پر تلے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں  وہ کتاب وسنت کی براہین کے ساتھ لہوولعب کرنے سے بھی باز نہیں آتے-زیر نظر کتاب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ  نے قوالی اور گانے بجانے کی اسلام میں کیا حیثیت ہے کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے – کتاب کو اردو زبان کا جامہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے پہنایا ہے- مصنف نے محققانہ انداز میں قوالی اور گانے بجانے کے جواز پر پیش کی جانے والی احادیث کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حرمت موسیقی پر آئمہ کرام کے اقوال اور احادیث رسول پیش کی ہیں-
     

  • 3 الرحیق المختوم (منگل 07 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:41664

    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے ’’وان تطیعوا تہتدوا‘‘(القرآن) اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کامطالعہ کیا جائے او راپنے کرداروعمل کو اس کے مطابق ڈھالا جائے زیر نظر کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘میں انتہائی دلآویز اور مؤثر پیرائے میں رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت پاک  کو بیان کیا گیا ہے کتاب کے علمی مقام ومرتبہ  کے لیے اتنا کافی ہے کہ سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں یہ اول انعام کی مستحق قرار پائی ہے امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے دلوں میں اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عملاًاپنانے کا جذبہ پیدا ہوگا۔

     

  • 4 خلافت و ملوکیت ۔ تاریخی و شرعی حیثیت (بدھ 15 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:17714

    ملوکیت یعنی بادشاہت کے معائب و نقائص اور اس کی ہلاکت خیزیوں کو ابھار کر، جمہوریت کا "الحمرا" تعمیر کرنےوالوں میں ایک نام مودودی صاحب کا بھی ہے۔ جسے انہوں نے "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب لکھ کر خوب واضح کیا ہے۔ جس میں مودودی صاحب نے پہلے تو تاریخی روایات کے متفرق جزئی واقعات کو چن چن کر جمع کیا ، پھر انہیں مربوط فلسفہ بنا کر پیش کیا، جزئیات سے کلیات کو اخذ کر لیا اور پھر ان پر ایسے جلی اور چبھتے ہوئے عنوانات صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے جما دئے کہ جنہیں آج کی صدی کا فاسق ترین شخص بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرے۔ یہ نہ تو دین و ملت کی کوئی خدمت ہے، نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے تاریخ سازی کہنا بجا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے "تحقیق" کا نام دیتے ہیں، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسویدِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پر دین سے بیزار کر دیا جائے۔ اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔

    مودودی صاحب کی اس کتاب نے صحابیت کے قصر رفیع میں جو نقب زنی کی ہے خصوصاً حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کا جو کردار اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے، وہ لائق مذمت ہے۔ ان کی اس کتاب کی تردید میں اگرچہ  متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں لیکن حافظ صلاح الدی...

  • 5 حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:21082

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ذات مجمع علوم و فنون، منبع حرب و پیکار اور ذخیرہ گفتار و کردار تھی۔ امام صاحب رحمہ اللہ نے علم منطق میں وہ دسترس حاصل کی کہ ارسطو کی منطق ایک بے حقیقت چیز بن گئی، فلسفہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس کی تلوار سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، تفسیر میں وہ نکات پیدا کیے اور وہ حقائق آشکار کیے کہ ایک نئے مدرسہ فکر کے بانی بن گئے، حدیث و نقد روایت میں ایسی دقت نظر کا نمونہ پیش کیا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، فقہ میں وہ مجتہدانہ کمال پیدا کیا کہ حنبلی نسبت ہونے کے باوجود اپنے اختیارات و اجتہادات میں وہ کسی متعین فقہ کے پابند نہیں تھے، تقابلی فقہ میں ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے، علم کلام میں درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور نام نہاد فکری تصوف نا قابل بیان علمی تردید فرمائی، فن جدال و مناظرہ میں قدم رکھا تو عیسائیوں، روافض، فلاسفہ اور مناطقہ اور متکلمین کے فکر کی دھجیاں بکھیر دیں، ایک عالم باعمل کی حیثیت سے ملوک و سلاطین کے درباروں میں کلمہ حق بلند کیا، وہ محض صاحب قلم نہ تھے بلکہ صاحب شمشیر بھی تھے، ان کے قلم نے جو نقوش بنائے وہ کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں لیکن ان کی نوک شمشیر نے دشمنان اسلام کے سر و سینہ پر جو لکیریں کھینچیں، تاریخ نے انہیں بھی ناقابل فراموش بنادیا ہے، وہ صرف بزم کے میر مجلس نہ تھے، رزم کے امیر عساکر بھی تھے، وہ علم کا ایک بحر زخار تھے، معلومات کا ایک بے بہا خزانہ تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی جامع صفات کی حامل شخصیت پر قلم اٹھانا کوئی آسان بات نہیں ہے لیکن شیخ ابو زہرۃ مصری رحمہ اللہ نے اس موضوع پر کتاب مرتب کر کے سیر حاصل...

  • 6 قواعد زبان قرآن (نیو ایڈیشن) - جلد1 (ہفتہ 08 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22650

    ’’قواعد زبان قرآن ‘‘کا چھٹا اور نیا ایڈیشن پیش خدمت ہے اور یہ قلمی کتابت پر مشتمل پہلا ایڈیشن ہے جو دو ضخیم جلدوں میں مکتبہ سلفیہ لاہور سے مطبوع ہے۔

    قرآن مجید کے مفہوم تک رسائی کے لیے عربی دانی ضروری ہے اور جن لوگوں کی مادری زبان عربی نہیں ہے ان کے لیے عربی زبان سیکھنا خاصا مشقت طلب کام ہے ۔عربی زبان وادب میں قواعد کی غیرمعمولی حیثیت کے پیش نظر محترم خلیل الرحمن چشتی صاحب نے ’’قواعد زبان قرآن‘‘کو مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب دراصل مولانا حمید الدین فراہی کی کتاب ’’اسباق النحو‘‘ کی تسہیل ہے ’’اسباق النحو‘‘گوکہ نہایت مفید کتاب ہے۔لیکن اس کو ایسے شخص کے لیے سمجھنا انتہائی مشکل ہے جو عربی زبان سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہو مگر وہ نہ تو عربی مدارس کے مروجہ نظام تعلیم سے مستفید ہوا ہو اور نہ اس زبان کی معمولی شد بد رکھتا ہو ۔اس مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے موصوف نے مولانا فراہی کی کتاب کو نہایت سہل انداز میں ترتیب دیا ہے اور جابجا قرآنی مثالوں کے ذریعے عربی زبان کے اصول وقواعد سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں ایسا طریقہ اپنایا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بہت حد تک اسے بغیر استاد کے پڑھ بھی سکے اور سمجھ بھی سکے۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام قواعد عربیہ کی مثالیں قرآن کریم سے پیش کی گئی ہیں ۔اس پر مستزاد یہ کہ مثالوں کی کثرت، مختلف مشقوں کے التزام ، مختلف نحوی اصطلاحات کا انگریزی زبان میں متبادل تحریر کرنے سے یہ کتاب انگریزی دان طبقے کے لیے بھی عربی زبان سیکھنے م...

  • 8 مسلمانوں کا فکری اغوا (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:11327

    یہود و نصاریٰ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دینِ اسلام کی اساسیات کو کھوکھلا کر دیں۔ اور اس روشن، چراغ کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ لہٰذا ٓغاز اسلام سے ہی وہ اسلام اور اہلِ اسلام کے سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں قابلِ مصنفہ مریم خنساء نے ان تمام امور کی طرف نشان دہی کر دی ہے جن کو یہود و نصاریٰ نے غیر محسوس طریقے سے ہم پر مسلط کیا ہے اور ہم ان کی سازشوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ سازشیں کیا ہیں؟ کس نوعیت کی ہیں؟ ان سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب جاننے کے لئے کتاب ھذا کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ قابل مصنفہ نے کتاب ھذا میں فکری اغواء کے عوامل اور طریق کار کو بھی بیان کیا ہے اور اپنی معلومات کو، مسلمانوں کا فکری اغواء، فکری اغواء کے مختلف پہلو، انکار حدیثِ فکری اغواء کے افرادی اور دماغی قوت ختم کرنے کی کوشش جیسے عنادین میں سمو دیا ہے۔ اور کتاب کے اختتام پر ’’حرفِ آخر‘‘ کے عنوان کے تحت پوری کتاب کا نچوڑ اور خلاصہ بیان کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جن مصادر و مراجع سے کتاب میں استفادہ کیا گیا ہے ان کی فہرست بھی کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو کتاب ھذا کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ یہود و نصاریٰ کی رشیہ دوانیوں سے مکمل آگاہی رکھ سے اور ان سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنا سکے۔ بہرحال یہ کتاب نہ صرف قابلِ مطالعہ ہے بلکہ لائق ستائش بھی ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 9 برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش (ہفتہ 15 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15769

    تاریخ اور جغرافیہ کی قدیم عربی کتب کےمطالعے سےاندازہ ہوتا ہے کہ خطہ برصغیر جہاں علم و فضل کے اعتبار سے انتہائی سرسبز و شاداب ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تابعین اور تبع تابیعین نے اس سرزمین پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔ زیر نظر کتاب میں انھی مقدس ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو برصغیر میں تشریف لائیں۔ جس میں پچیس صحابہ کرام، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جو برصغیر سے متعلق مصنف کے علم و مطالعہ میں آئے۔ مولانا اسحاق بھٹی ادیب آدمی ہیں ان کے بیان کردہ تاریخی واقعات میں بھی ادب کی گہری چاشنی ہے۔ تمام حالات و واقعات حتی المقدور باحوالہ بیان کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 10 خطبات جمعہ انتخاب اسلامی خطبات (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:23722

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علم دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے  نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں اور اگر یہی اقتباسات کو تحریری شکل دے کر لوگوں کے لیے شائع کردیاجائے تو گراں قدر خدمت دین ہے۔زیرنظر  کتاب مولانا عبدالسلام بستوی کے خطبات کہ جن میں امور زندگی سےمتعلقہ موضوعات پر  قرآن و حدیث کی نصوص سے مزین، مبسوط اور مستقل تحریریں جمع  تھیں کا  خلاصہ ہے ۔جس میں عقائد و اخلاقیات، عبادات اور معاملات سے متعلقہ بیسیوں مضامین اکٹھے کردیئے گئے ہیں اور ان تحریروں کو بحوالہ بنانے کے لیے  عبارات و نصوص کی تخریج کردی گئی ہے تاہم اگر اس میں موجود روایات کی صحت کا حکم ابھی باقی ہے اگر وہ بھی ہوجاتا تو قارئین کے لیے اس بیش بہا علمی خزانہ سے استفادہ میں اور بہتری پیدا ہوجاتی۔(ک۔ط)
     

  • 11 الفرقان (اردو) (پیر 10 جون 2013ء)

    مشاہدات:4271

    نبی کریمﷺ اور آپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کا اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’الفرقان‘ کے نام سے زیر نظر شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو دین کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہوتے اور تو اور ایسے لوگ بھی ولی کے خطاب سے سرفراز ہوتے ہیں جنھیں زندگی میں کبھی نہانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ایسے میں شیخ الاسلام کی یہ کتاب ان جیسے خانہ زاد اولیاء کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ جس میں اولیاء اللہ کی پہچان کے ساتھ ساتھ بہت سارے اولیاء اللہ کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا غلام ربانی مرحوم نے کیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 12 قاضی محمد سلیمان منصور پوری (جمعرات 14 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:6500

    برصغیر کے افق علمی پر انیسویں صدی کے نصف اوًل کے بعد چار سلیمان ایسے طلوع ہوئے ، جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ علمی میں ایک امتیاز اور اختصاص  حاصل کیا۔شاہ سلیمان پھلواری، سید سلیمان اشرف، سید سلیمان ندوی اور قاضی سلیمان منصورپوری۔چاروں ملت اسلامیہ برصغیر کی علمی محفل کے گوہر شب چراغ تھے۔ان کی سرگرمیوں سے تہذیب اسلامی کو ایک نکھار اور وقار میسر آیا مگر ان میں قاضی محمدسلیمان کی شخصیت میں جو دلآویزی ، خاندانی وجاہت، علمی انہماک ، تدبر و تفکر، آداب و اطوار، زہد و ورع ، فہم و فراست ، امانت و دیانت ، تعلیمی اور تحقیقی استعداد کتاب و سنت کا ذوق اور عملی و کردار کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔آپ رحمہ اللہ نے ایک مجاہد خاندان میں آنکھ کھولی۔اور کئی ایک موضوعات  پر متعدد تصانیف لکھیں۔ جن میں سے سیرت النبی ﷺ کو بالخصوص موضوع بنایا ہے۔سکھ اور انگریز حکومت کے ماتحت زندگی بسر کی اور علم و فکر آبیاری  میں مشغول رہے۔ قاضی  صاحب کی تعلیم و تربیت مشرقی ماحول میں ہوئی۔آپ رحمہ اللہ طبعا بہت ذہین و فطین تھے۔اس پر مستزاد یہ تھا کہ  آپ رحمہ اللہ کے ذوق مطالعہ نے چارچاند لگا دیے۔علوم دینیہ اور فارسی ادبیات  بھر پور استفادہ فرمایا۔زیرنظر کتاب قاضی  صاحب کی سوانح پر ایک جامع دستاویز ہے۔ جسے مولانا اسحاق بھٹی صاحب نے بڑی عرق ریزی  سے تیار کیا ہے۔(ع۔ح)
     

  • 13 طریقہ طہارت و صلاۃ (ہفتہ 19 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:1962

    نماز دینِ اسلام کے ارکان ِخمسہ میں ایک اہم اور بنیادی رکن ہونے کے علاوہ قرب الٰہی کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے پیارے نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک او رمومن کو دکھوں اور تکلیفوں سے نجات دینے والی ہے ۔پریشانیوں اور مصائب میں مومن کاہتھیار اورکامیاب وکامران ہونے والوں کےلیے جنت کی کنجی ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ''اللہ سے صبراور نماز کےساتھ مدد مانگو''نماز کے موضوع پر اردووعربی زبان میں بےشمار کتب موجود ہیں۔اردو زبان میں صفۃ صلاۃالنبی،مسنون نماز نبوی ، نماز محمد ی ،صلاۃالرسول وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ، شیخ ابن باز کے طریقہ طہارت و صلاۃکے موضوع پر مختصر کتابچے کا ترجمہ ہے جس میں خلیل احمد ملک صاحب نے مناسب اضافہ کر وا کر اس مختصر کتاب کو ترتیب دے کر شائع کیا ہے ۔جس میں صحیح احادیث کی روشنی میں تمام ضروری مسائل طہارت وصلاۃ جمع کردئیے ہیں۔ کتاب پر نظر ثانی واضافہ کا کام جید عالمِ دین مولانا محمد شفیق مدنی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ، بانی وشیخ الحدیث مسعود اسلامک سنٹر،وسینئر مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) نے کیا ہے ۔اللہ اس کتاب کو اہل اسلا م کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 14 مسئلہ حیات النبی ﷺ (اتوار 06 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2586

    انبیاء ﷩کی حیات پر صحیح احادیث دلالت کرتی ہیں ، جیسا کہ شہداء کی حیات پر قرآن کریم نے صراحت کی ہے لیکن یہ برزخی حیات ہے جس کی کیفیت و ماہیت کو ماسوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا ۔ اور برزخی زندگی کا دنیاوی زندگی پر قیاس کرنا جائز نہیں ہے ۔ انبیاء کرام  اور  آپ ﷺ کی یہ حیات وفات سے پہلے والی حیات سے مختلف ہے اور یہ برزخی حیات ہے اور یہ ایک پوشیدہ راز ہے جس کی حقیقت کو ما سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا لیکن یہ واضح اور ثابت شدہ امر ہے کہ برزخی حیات دنیاوی حیات کے بالکل مختلف ہے اور برزخی حیات کو دنیاوی حیات کے قوانین کے تابع نہیں کیا جائے گا اس لئے کہ دنیا میں انسان کھاتا ہے ، پیتا ہے ، سانس لیتا ہے ، نکاح و شادی کرتا ہے ، حرکت کرتا ہے اور اپنی دوسری ضروریات پوری کرتا ہے ، بیمار ہوتا ہے اور گفتگو وغیرہ کرتا ہے ۔ کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ مرنے کے بعداس کو یہ تمام امور پیش آتے ہوں حتی کہ انبیاء ﷩کے لئے بھی ان میں سے کوئی ایک چیز ثابت نہیں ہو سکتی ۔زیر نظر  کتابچہ’’مسئلہ حیات النبی ﷺ‘‘ جید عالم دین  شیخ الحدیث  مولانا محمد اسماعیل﷫کے ان  مضامین کا مجموعہ  ہے جو  دیوبندی حلقوں میں باہمی دوفریقوں کے مسئلہ حیات النبیﷺ  کے بارے میں  اختلاف کی وجہ سے  مولانا  سلفی نے  1958ء اور 1959ء میں  تحریر  کیے۔جن میں مولانا سلفی مرحوم نے  مسئلہ حیات النبیﷺ  کو ادلہ شرعیۃ کی روشنی میں  واضح  کیا  ۔یہ  اُس وقت  ماہنامہ ’&...

  • 15 اصول تفسیر (پیر 21 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3806

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام ﷢کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب (اصول تفسیر)شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اصول قرآن اور اصول تفسیر پر بحث کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی﷫ نے کیا ہے اور مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی﷫ نے مفید تعلیق چڑھائی ہے۔قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے کہ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمد پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد نے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔لیکن یہ یقینی ہے کہ باتیں قرآن سے مقصود نہیں ہیں۔قرآنی مقصود صرف وہی ہے جو نبی کریم ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ نے اس کتاب میں یہ بھولی ہوئی بنی...

  • قرآن  مجید پوری انسانیت کے لیے  کتاب ِہدایت ہے  او ر اسے  یہ اعزاز حاصل ہے   کہ دنیا بھرمیں  سب   سے زیاد  ہ پڑھی جانے  والی  کتاب ہے  ۔   اسے  پڑھنے پڑھانے والوں کو   امامِ کائنات   نے    اپنی  زبانِ صادقہ سے   معاشرے   کے  بہتر ین  لوگ قراردیا ہے  اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ  تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت  کرتے ہیں۔   دور ِصحابہ سے لے کر  دورِ حاضر  تک بے شمار اہل  علم نے  اس کی تفہیم  وتشریح اور  ترجمہ وتفسیرکرنے کی  خدمات   سر انجام دیں اور  ائمہ محدثین نے  کتبِ احادیث میں  باقاعدہ  ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔آٹھویں صدی ہجری کے مؤرخ ومفسر حافظ عماد الدین   بن عمر المعروف حافظ ابن کثیر﷫ نےایک  تفسیر ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ تحریر فرمائی جس کواللہ تعالیٰ نے  قبول امت کا درجہ عطا فرمایا جس میں امام ابن کثیر نے  اپنے وقت کے تمام ذرائع بروئے کار لاکر اس میں احادیث وآثار کے علاوہ  بنی اسرائیل کی روایات سے بعض قصص  بھی نقل کیے ۔ اس تفسیر کو  بلاشبہ ہر دور میں  بےحد قبول عام حاصل ہوا۔ اصل عربی کتاب لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہے ۔ہندوستان  کے مختلف اہل علم نے  اس کا اردوزبان میں ترجمہ کیا جن میں   مولانا محمدجوناگڑھ...

  • 18 الایقاف فی سبب الاختلاف (پیر 11 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1750

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الایقاف فی سبب الاختلاف ‘‘محترم مولانا محمد حیات سندھی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ﷫ نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب '' مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی  جائزہ "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین،محقق اور سکالر مولانا ارشاد الحق اثری صاحب ﷾کی تصنیف ہے ۔ جوانہوں نے گوجرانوالہ کے ایک حنفی  فقیہ مولانا سرفراز خاں صاحب کے ایک تلمیذ کی کتاب"نور الصباح" کے جواب میں لکھی ہے،اور اس کے پیش کردہ مغالطات  وادعات کا بھرپور جوا...

  • 20 افضلیت شیخین (جمعہ 10 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1513

    صحابہ کرام﷢ اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام ﷢تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام ﷢کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے ضعیف روایات کا سہارا لے کر بعض کبار صحابہ کرام ﷢پر اعتراضات وارد کئے ہیں ،جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "افضلیت شیخین "ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی﷫کی فارسی تصنیف "وسیلۃ النجات"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت مولانا محمد سلیمان صاحب انصاری کی حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب میں شیخین سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق﷢ پر کئے گئے غیر حقیقی اور بے جا اعتراضات کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور ان پر وارد طعن کو دور کیا ہے اور ان کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست،جو شیعہ مذہب میں کافی دسترس رکھتے تھے،ان کے مطالبے پر انہیں لکھ کر دی۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام ﷢سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 21 پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری دعائیں (ہفتہ 26 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2571

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے   انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ پیارے رسول کی پیاری دعائیں ‘‘ برصغیر پاک وہند کے ممتاز جید عالم دین شارح نسائی مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کی مرتب شدہ   نماز مسنون اور رسول اللہ ﷺ کی مبارک دعاؤں کا مختصر مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف نے اس مجموعہ کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ اس میں تقریباً ہر نوع کی ادعیہ مسنونہ آگئی ہیں۔یہ کتاب اپنی افادیت کے باعث عوام الناس میں انتہائی مقبول ہوئی ۔ چند سالوں میں اس کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ کئی کاروباری ادارے اسے   ایصال ِثواب کی خاطر فری بھی تقسیم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی تدریسی ودعوتی ، تصنیفی وتحقیقی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 22 نصیحۃ المسلمین (اتوار 29 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:970

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نصیحۃ المسلمین‘‘ سیدشاہ اسماعیل شہید کے قافلہ جہاد کے اہل علم وعمل اور صاحب ِ حال وقال سپاہی مولانا خرم علی بلہوری (متوفی1373ھ) کا تصنیف شدہ رسالہ ہے۔توحید کےمسئلہ پر یہ نہایت ہی مفید رسالہ ہے جسے موصوف نے 1228ء میں تحریر فرمایا اور صدہا مرتبہ شائع ہو کر اللہ کےبندوں کوہدایت کی راہ دکھانے میں کامیاب ثابت ہ...

  • 23 تقویۃ الایمان ( تحقیق شدہ ) (پیر 04 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2190

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا- تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں ۔تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمدبریلوی ﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جاچکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  وتطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان      اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں  کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے ۔شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور سراسر مصلحانہ  ہے  علمائے حق کی طرح انہوں نے  صرف کتاب وسنت کومدار بنایا ہے ۔ آیات وآحادیث پیش کر کے  وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں  اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی  رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں ۔انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں...

  • 24 رسالہ عمل بالحدیث (جمعرات 07 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1045

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا...

  • 25 فصل الخطاب فی فضل الکتاب (پیر 18 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1365

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب’’( فصل الخطاب فی فضل الکتاب‘‘ علامہ نواب صدیق حسن خاں﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ رسالہ موصوف نے 1305ھ میں تحریر کیا او رمؤلف کی زندگی میں متعد بارطبع ہوا۔علامہ موصوف نے اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال صحابہ وائمہ دین کی رو...

  • 26 تفسیر احسن التفاسیر اردو جلد اول (منگل 19 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1960

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر احسن التفاسیر اردو"  محترم  مولانا سید احمد حسن محدث دہلوی ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے احادیث صحیحہ حسنہ اور اقوال صحابہ ودیگر سلف سے قرآن مجید کی تفسیر کی ہے اور صحت روایت کا حد درجہ خیال رکھتے ہوئے معتبرہ ومسلمہ تفاسیر مثلا تفسیر ابن جریر، ابن کثیر،معالم، خازن، درمنثور، اور فتح البیان کے اہم مطالب کا بہترین انتخاب کیا ہے،نیز آیات کریمہ کے شان نزول صحیح بہ التزام صحت سند لائے ہیں۔یہ تفسیر پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے ، جسے بلال گروپ آف انڈسٹریز نے چھاپ کر  فی سبیل اللہ فری تقسیم کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے ک...

  • 33 افادات امام ابن تیمیہ  اردو (جمعہ 05 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2061

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ساتویں صدی ہجری  کی وہ عظیم شخصیت تھے،جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔مختلف گوشوں میں آپ کی تجدیدی واصلاحی خدمات آب زر سے لکھے جانے  کے لائق ہیں ۔امام ابن تیمیہ صرف صاحب قلم عالم ہی نہ تھے ،صاحب سیف مجاہدبھی تھے ،آپ نے میدان جہاد میں بھی جرأت وشجاعت کے جو ہر دکھائے۔آپ کی طرح آپ کے تلامذہ بھی اپنے عہد کے عظیم عالم تھے ۔آپ کے معروف ترین شاگرد امام ابن قیم ﷫ ہیں۔آپ 691ھ میں پیدا ہوئے آپ نے علوم دینیہ کی تعلیم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫سے حاصل کی، فن تفسیر کے ماہر، حدیث اور فقہ و معانی حدیث پر گہری نظر رکھتے تھے اصول دین کے رمز آشنا، فن فقہ اور اصول عربیہ میں آپ خاص مہارت کے حامل تھے اپنے بعض عقائد کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ زیر تبصرہ کتاب"افادات امام ابن تیمیہ﷫"انہی دوعظیم الشان شخصیتوں استاد اور شاگرد کی تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہے۔اس میں امام ابن تیمیہ﷫ کے آٹھ رسائل اور امام ابن قیم﷫ کی ادبی کتاب روضۃ المحبین کے آخری باب کا ترجمہ شامل ہے۔اردو ترجمہ محترم حافظ محمد زکریا صاحب﷫ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف اور مترجم دونو...

  • 34 راہ حق کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم (اتوار 07 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2016

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے  ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں  بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے  استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’&rs...

  • 35 تذکرہ علمائے خانپور (پیر 29 فروری 2016ء)

    مشاہدات:924

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین...

  • 36 تاریخ مرزا (منگل 14 جون 2016ء)

    مشاہدات:1401

    تعلیمات اسلامیہ کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ سیدنا آدم سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا ۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ ہو وہ نبی نہیں بن سکتا ۔اور اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت اوروحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ شفیع امت حضرت محمد ﷺ کی  زبانِ صادقہ کا فیصلہ ہے۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کرنے کے آغاز سے ہی اس کی تردید وتنقید میں ہر مکتبۂ فکر کے علماء نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ بالخصوص علمائے اہل حدیث او ردیو بندی مکتبۂ فکر کے علماء کی قادیانیت کی تردیدمیں خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ قادیانی فرقے کے خلاف سب سے پہلا فتوئ تکفیر مولانامحمد حسین بٹالوی ﷫نے تحریرکیاجس پر برصغیر کے تقریباًدوصد تمام مسالک کے علماء نے دستخط ثبت کیے ۔اس فرقے کے خلاف مناظروں کاسب سے کامیاب مقابلہ شیخ الاسلام مولانا نثاء اللہ امرتسری﷫ نے کیا جنہیں بالاتفاق فاتح قادیان کا خطاب دیا گیا ۔تقسیم ملک کے بعدپاکستان میں اس گمراہ فرقے کواقلیت قرار دلوانے کےلیے...

  • 37 الفرقان بین اولیاء الرحمن و اولیاء الشیطن (بدھ 27 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1544

    نبی کریمﷺ اورآپ کی امت کے بہت زیادہ فضائل و خصائص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو دوستوں اور دشمنوں کے درمیان فرق بتانے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ اس لیے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ حضورﷺ پر اور جو کچھ وہ لائے ہیں اس پر ایمان نہ لائے اور ظاہر و باطن ان کی اتباع نہ کرے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت اور ولایت کا دعویٰ کرے اور حضور نبی کریمﷺ کی پیروی نہ کرے وہ اولیاء اللہ میں سے نہیں ہے۔ بلکہ جو ان سے مخالف ہو تو وہ اولیاء الشیطان میں سے ہےنہ کہ اولیاء الرحمٰن میں سے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاپنی کتاب  میں اوراپنے رسول ﷺ کی سنت  میں بیان فرما دیا ہےکہ لوگوں میں سے  اللہ  تعالیٰ کے دوست بھی ہیں اور شیطان کے بھی اور اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے  درمیان  جو فرق ہے  وہ بھی ظاہر کردیا ہے ۔اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے ’’الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان‘‘ کے نام سے شاندار کتاب تالیف کی۔ جس میں اللہ کے دوستوں اور شیطان کے دوستوں کے مابین حقیقی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگوں کو اولیاء اللہ کا درجہ دے دیا جاتا ہے جو دین کی مبادیات تک سے واقف نہیں ہوتے اور تو اور ایسے لوگ بھی ولی کے خطاب سے سرفراز ہوتے ہیں جنھیں زندگی میں کبھی نہانا بھی نصیب نہیں ہوا۔ ایسے میں شیخ الاسلام کی یہ کتاب ان جیسے خانہ زاد اولیاء کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ جس میں اولیاء اللہ کی پہچان کے ساتھ ساتھ بہت سارے اولیاء اللہ کا تعارف بھی کرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  ...

  • 38 مقالات پروفیسر عبد القیوم جلد اول (منگل 27 ستمبر 2016ء)

    مشاہدات:925

    پروفیسر عبد القیوم﷫ علمی دنیا خصوصاً حاملین علو م اسلامیہ و عربیہ کے حلقہ میں محتاج تعارف نہیں ۔ موصوف 1909ء کولاہور میں پیدا ہوئے۔پروفیسر مرحوم کےخاندان کی علمی اور دینی یادگاروں میں مسجد مبارک کی تاسیس اور اس کی تعمیر وترقی میں نمایاں حصہ لینابھی شامل ہے ۔ جس میں پروفیسر صاحب کے والد محترم او رنانا مولوی سلطان دونوں کابڑا حصہ ہے ۔آپ کےخاندان کی نیک شہرت کا اندازہ اس ا مر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کےہاں متعدد اہل علم ، مثلاً مولانا قاضی سلیمان سلمان منصورپوری، مولانا سید سلیمان ندوی ، شیخ الاسلام مولانانثاء اللہ امرتسری﷭آمدورفت رکھتے تھے۔پروفیسر صاحب نے ابتدائی عمر میں قرآن مجیدناظرہ پڑھنے کےبعد اپنی تعلیم کا آغاز منشی فاضل کےامتحان سےکیا۔1934ء میں اوری اینٹل کالج سے ایم عربی کا امتحان پاس کیا۔اور پھرآپ نے1939ء سے لے کر1968ء تک تقریباتیس سال کا عرصہ مختلف کالجز میں عربی زبان وادب کی تدریس اور تحقیق میں صرف کیا ۔ لاہور میں نصف صدی سے زیادہ انہوں نےتعلیم وتعلم کی زندگی گزاری۔ ان کے سیکڑوں شاگرد تعلیم تدریس اورتحقیق کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔علمی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ محبت اور خدمت کا مرکز کالج کی سرگرمیاں ، مقالات نویسی اور مسجد مبارک تھی جس کی وہ بے لوث خدمت کرتے رہے ۔اور مختلف ادوار میں انہوں نے علمی وتحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ۔پروفیسر صاحب تقریباً دس سال تک جامعہ پنجاب کی عربک اینڈ پرشین سوسائٹی کےسیکرٹری رہے اور انہوں نے متعد کانفرنسوں میں اعلیٰ تخلیقی وتحقیقی مقالات پیش کیے ۔اور لسان العرب کا ایسا اشاریہ تیار کیا جسے اندروں وبیرون مل...

  • 40 استقبالیہ و صدارتی خطبات (منگل 20 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2962

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 516
  • اس ہفتے کے قارئین: 2561
  • اس ماہ کے قارئین: 23171
  • کل مشاہدات: 41877466

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں