خلافت و ملوکیت ۔ تاریخی و شرعی حیثیت(368#)

حافظ صلاح الدین یوسف
المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور
584
14600 (PKR)

ملوکیت یعنی بادشاہت کے معائب و نقائص اور اس کی ہلاکت خیزیوں کو ابھار کر، جمہوریت کا "الحمرا" تعمیر کرنےوالوں میں ایک نام مودودی صاحب کا بھی ہے۔ جسے انہوں نے "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب لکھ کر خوب واضح کیا ہے۔ جس میں مودودی صاحب نے پہلے تو تاریخی روایات کے متفرق جزئی واقعات کو چن چن کر جمع کیا ، پھر انہیں مربوط فلسفہ بنا کر پیش کیا، جزئیات سے کلیات کو اخذ کر لیا اور پھر ان پر ایسے جلی اور چبھتے ہوئے عنوانات صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے جما دئے کہ جنہیں آج کی صدی کا فاسق ترین شخص بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرے۔ یہ نہ تو دین و ملت کی کوئی خدمت ہے، نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے تاریخ سازی کہنا بجا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے "تحقیق" کا نام دیتے ہیں، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسویدِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پر دین سے بیزار کر دیا جائے۔ اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔

مودودی صاحب کی اس کتاب نے صحابیت کے قصر رفیع میں جو نقب زنی کی ہے خصوصاً حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کا جو کردار اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے، وہ لائق مذمت ہے۔ ان کی اس کتاب کی تردید میں اگرچہ  متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں لیکن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی زیر تبصرہ کاوش بعض حیثیتوں سے انفرادیت کی حامل ہے۔ ایک تو اس کتاب میں مودودی صاحب کے اس مؤقف کا نہایت تفصیلی رد ہے۔ حتی کہ کتاب کے آخر میں موجود ضمیمہ کا بھی جواب فاضل مصنف نے دیا ہے۔ دوسرے اکثر مقامات پر مودودی صاحب کا موقف ان کے اپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کا ضعف واضح کیا گیا ہے۔ جس سے طرفین کے دلائل قاری کے سامنے خوب نکھر کر آ جاتے ہیں اور اسے حق بات پہچاننے میں دشواری نہیں ہوتی۔ مودودی صاحب کی کتاب سے جو جو غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیل سکتی تھیں، اس کتاب میں ان سب کا باحوالہ، نہایت مفصل اور مدلل رد کیا گیا ہے۔

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض مصنف

 

13

پیش لفظ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف

 

17

مقدمہ مولانا محمد یوسف بنوری

 

20

باب ۔ اول چند بنیادی نکات کی  وضاحت

 

33

بگاڑ کے چند بنیادی اسباب

 

35

چند بنیادی غلطیاں

 

40

مسائل کی اہمیت؟حقیقت اور تقاضے

 

47

باب دوم :چند بنیادی مباحث اور ان کی تنقیح

 

51

پائے چوبیں سخت بے تمکین بود

 

53

بلند بانگ دعاوی ، برعکس عمل

 

55

طلباء کی مشکلات ، ناتمام حل

 

58

جرأت کا استعمال، ایک خطرناک دعوت

 

61

تین سوال اور ان کا جواب

 

63

1۔تبدیلی ، طریق کار یا اصول و مقاصد میں

 

64

2۔اسلام کا اصل نظام حکومت کونسا ہے؟

 

67

3۔دونوں حکومتوں میں مسلمانوں کا یکساں طرزِعمل

 

72

خلافت ِ راشدہ میں زوال کا آغاز

 

73

سچ یا جھوٹ ، اسے کیا کہیے؟

 

75

ہوائی باتیں

 

76

تاریخی روایات ، اسناد اور تحقیق کی کمی

 

78

عدالت ِ صحابہ کی بحث

 

79

عدالت کا متداول مفہوم

 

81

کلیے کی بنیاد

 

86

مشغلہ یا ضرورت، تعین کون کرے؟

 

89

دامن ترمکن ہشیار باش

 

91

صحابہ کرام سے متعلق تاریخی روایات،ایک کلیہ

 

92

مذکورہ کلیے کی صحت کے دلائل

 

93

ابن کثیر کا طرزِعمل

 

99

ایں گناہ ہے است کہ درشہر شمانیز کنند

 

101

خلطِ بحث

 

104

غلطی یا عظیم ترین غلطیاں

 

105

خوشگوار باتیں،ناخوشگوار طرزِعمل

 

108

موہوم خطرات

 

111

صحابہ میں فرقِ مراتب

 

112

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے عظیم کارنامے

 

114

مآخذ کی بحث

 

115

1۔رواۃ ِ تاریخ کا علمی و اخلاقی مقام

 

115

2۔تاریخ نگاری میں مؤرخین کا طرز عمل

 

116

ابن سعدرحمہ اللہ

 

117

ابن جریر طبری رحمہ اللہ

 

120

ابن البررحمہ اللہ

 

122

ابن الاثیر رحمہ اللہ

 

123

ابن کثیررحمہ اللہ

 

123

تضادکی چندنمایاں مثالیں

 

124

ہماراطرز عمل کیاہونا چاہیے

 

127

مغالطہ انگیزی

 

128

دہی خلط مبحث

 

131

جذباتی اور غیر مقبول انداز بیان

 

132

ردد قبول کامعیار ؟

 

133

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ کی سیرت  کیوں محفوظ رہی ؟

 

136

بچگانہ باتیں

 

138

حدیث او رتاریخ میں فرق او راسکی حقیقت

 

140

تاریخی روایات میں تنقیدحدیث کے اصول کااستعمال

 

145

غیر احکامی روایات میں تنقیدوتحقیق کی ضرورت

 

150

خلاصہ بحث

 

155

اندیشہ ہائے دوردراز

 

156

مجرو ح راوی کیاصرف حدیث میں متروک ہیں؟

 

160

غیر احکامی روایات میں مجروح راویوں کےضعف کی صراحت

 

164

استشہاد اور اعتادمیں باہمی فرق

 

172

تضادیااعتراف شکست

 

174

عباسی پروپیگنڈے کی حقیقت ونوعیت

 

177

مولانامودودی کاایک او راچھوتافلسفہ

 

182

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بے جاوکالت

 

182

وکالت بے جاکادوسرا نمونہ

 

184

ایک اور نمونہ

 

186

 

   

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1171
  • اس ہفتے کے قارئین: 8570
  • اس ماہ کے قارئین: 36819
  • کل قارئین : 46502067

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں