کل کتب 36

دکھائیں
کتب
  • 1 #3319

    مصنف : عبد الرشید انصاری

    مشاہدات : 1940

    البرہان ( بیس تراویح کے متعلق )

    (بدھ 01 جولائی 2015ء) ناشر : عدنان جہانگیر پرنٹنگ پریس لاہور

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" البرھان"محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ گیارہ تراویح  کو ثابت کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ نماز تراویح کے  حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #3518

    مصنف : فاروق احمد آزاد

    مشاہدات : 1759

    التراویح بجواب نماز تراویح کی حقیقت

    (جمعرات 13 اگست 2015ء) ناشر : شعبہ تبلیغ جماعت غربا اہلحدیث، ڈیرہ غازی خان

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" التراویح بجواب نماز تراویح کی حقیقت"محترم فاروق احمد آزاد خطیب جی بلاک ڈیرہ غازیخان کی تصنیف ہے۔ جو دراصل مولوی عبد اللہ نانی والے کے ایک اشتہار "نماز تراویح کی حقیقت" کا جواب ہے۔ مولوی عبد اللہ نے اپنے اس اشتہار میں یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے کہ قیام رمضان المعروف نماز تراویح کا کوئی وجود نہیں ہے،اس کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔چنانچہ مولف موصوف نے مستند دلائل سے   ان کا رد کیا ہے اور نماز تراویح کا وجود ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #3520

    مصنف : عزیز بیدی

    مشاہدات : 1421

    التلویح بتوضیح التراویح

    (ہفتہ 15 اگست 2015ء) ناشر : مکتبہ فاران، منڈی وار برٹن، شیخو پورہ

    صحیح احادیث کے مطابق نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’التلویح بتوضیح الترایح‘‘ معروف عالم دین اورمضمون نگا ر مولاناعزیز زبیدی﷫ کی ایک تحریری کاوش ہے جو انہوں نے منڈی واربرٹن کے ایک بریلوی مولوی صاحب کےجواب میں تحریر کی اور ثابت کیاکہ نماز تراویح کی صحیح تعداد بیس نہیں بلکہ آٹھ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس علمی کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ (آمین)

  • 4 #3404

    مصنف : عبد العزیز نورستانی

    مشاہدات : 1626

    الدلیل الواضح

    (جمعرات 23 جولائی 2015ء) ناشر : مکتبہ غزنویہ، لاہور

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ سے نماز وتر پڑھنے کے مختلف طریقے ثابت ہیں۔آپ ﷺ ایک، تین،پانچ،سات اور نو تک وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ اور یہ سب عدد ہی آپ ﷺ کی سنت اور طریقہ ہیں۔آپ ان میں جس طریقے پر بھی عمل کریں گے وہ سنت کے مطابق ہوگا۔لیکن بعض احباب ایک وتر پڑھنے کو ناجائز خیال کرتے ہیں اور لوگوں کو ایک وتر پڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "الدلیل الواضح علی ان الایتار شرعۃ الرسول الناصحﷺ" محترم مولانا عبد العزیز نورستانی واماوی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایک وتر پڑھنے کی احادیث کو بیان کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ جس طرح تین وتر پڑھنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اسی طرح ایک وتر پڑھنا بھی آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • 5 #6963

    مصنف : ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 1221

    انوار التوضیح لرکعات التراویح مسنون رکعات تراویح اور شبہات کا ازالہ

    (پیر 20 مئی 2019ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث  کے مطابق  رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے  ۔مسنون تعداد کا  مطلب  وہ تعداد  ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں  فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ  جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے  ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ  ہے  کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے  منتخب کی  ہے یہ سمجھتے  ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے  اس لیے جتنی  رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔

    زیر نظر کتاب ’’انوار التوضیح لرکعات  التراویح؍مسنون رکعاتِ تراویح اور شبہات کا ازالہ ‘‘انڈیا  کے  جید عالم دین  محقق  مصنف  کتب  کثیرہ مولانا  ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی  تصنیف ہےموصوف  پختہ  عالم  دین  ہیں  اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  انہیں   مکمل دسترس  حا صل ہے  متعدد  علمی  وتحقیقی مسائل میں  ان کی تحقیقی کتب  موجو د  ہیں ۔کتاب ہذا میں انہوں نے  رکعاتِ  تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی  مکمل  تحقیق پیش کرتے ہوئے  ثابت کیا ہے  کہ تعداد رکعات تراویج  بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں  اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜  کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢  کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں۔سیدناعمر ﷜ نے   بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔ امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷢سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔نیز  صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ  سے مروی  حدیث  پر  احناف نے  اضطراب کا جو اعتراض کیا ہے اس کا مفصل جواب پہلی بار اس کتاب میں  پیش کیاگیا ہے۔اور عہد فاروقی  سے متعلق موطا کی روایت  پر شذو وغیرہ کے جو اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں  ،ان کےمفصل جوابات اس کتاب میں موجود ہیں۔ایک بریلوی عالم احمدیار نعیمی کی ’’ جاء الحق‘‘ نامی کتاب میں بیس رکعات کو سنت ثابت کرنے کےلیے  جو مضحکہ خیز استدلالات کیے گئے ہیں  مولانا کفایت اللہ صاحب نے  اس کتاب میں  ان کے تسلی بخش جوابات پیش کیے ہیں۔حرمین میں بیس رکعات کی نوعیت اور ا س کے پسِ منظر پر بھی مفصل گفتگو کی ہے۔بہت سارے علمائے احناف نے  اعتراف کیا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آٹھ رکعات تراویح ہی پڑھی ہیں ۔ان علماءکے اس اعتراف کے  اصل کتابوں سے حوالے پیش کیے گئے ہیں ۔میرے علم کے مطابق اپنے موضوع  میں  تحقیقی نوعیت کی اتنی ضخیم   یہ پہلی کتاب ہے۔  اللہ تعالیٰ  مولانا کفایت  اللہ  ﷾  کی تحقیقی  وتصنیفی، تدریسی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے ۔یہ کتاب مولانا  نےکتاب وسنت سائٹ  پر پبلش  کرنے کے کے لیے  پی ڈی ایف  فارمیٹ میں  عنائت کی  ہے ۔  (آمین) (م۔ا)

  • 6 #67

    مصنف : نذیر احمد رحمانی

    مشاہدات : 13316

    انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح

    (ہفتہ 03 جنوری 2009ء) ناشر : ادارہ اشاعت قرآن وحدیث،پاکستان

    اس کتاب میں نہایت پرزور دلائل سے اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ تراویح کی آٹھ رکعتیں بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت اور محقق ہیں اور اس کے مقابلے میں بیس رکعت تراویح بسند صحیح نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے اور نہ اجماع امت سے۔ مؤلف "رکعات تراویح" نے اہل حدیث کے دلائل پر جتنے شبہات وارد کئے ہیں اور اپنے مزعومہ دعاوی کے ثبوت میں جتنی بھی دلیلیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک بھی اصولِ حدیث اور فنِ رجال کی تحقیق کی رو سے قبولیت و استناد کے قابل نہیں۔

     

  • 7 #2287

    مصنف : ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 3059

    بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ

    (منگل 15 جولائی 2014ء) ناشر : نا معلوم

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜  کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢  کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر ﷜ نے  بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی  مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں شیخ کفایت اللہ السنابلی  نے  بیس رکعات سے متعلق جو روایات پیش کی جاتی ہیں  دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ پیش کرکے  ثابت کیا ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑہنا نہ تو نبی ًﷺ سے  اور نہ ہی کسی صحابی سے ثابت  ہے  اس کے برعکس نبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہے  ۔(م۔ا)

     

  • 8 #3412

    مصنف : محب اللہ شاہ راشدی

    مشاہدات : 1615

    تائید عالم الغیب والشہادۃ الکبیر المتعال لأہل الإرسال

    (جمعہ 31 جولائی 2015ء) ناشر : انس بن عبد الخالق السندی، کراچی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب "الشھادۃ الکبیر المتعال لاھل الارسال" پاکستان کے معروف عالم دین محترم ابو القاسم سید محب اللہ شاہ راشدی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ایک کتاب بنام "نیل الامانی وحصول الآمال" لکھی تھی ،جس کے جواب میں محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫نے اپنی کتاب " القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال "لکھ ڈالی اور سید محب اللہ شاہ راشدی﷫ کے موقف کی تردید کرتے ہوئے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے والے موقف کو اختیار کیا۔چنانچہ سید محب اللہ شاہ صاحب نے ان کی اس کتاب کے جواب میں اپنی یہ کتاب لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ چونکہ دونوں مصنف ہی اہل حدیث ہیں اور یہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 9 #6993

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 686

    تراویح اور اعتکاف

    (اتوار 23 جون 2019ء) ناشر : شعبہ نشر و اشاعت، امام ابن باز تعلیمی و رفاہی سوسائٹی، جھار کھنڈ

    نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث  کے مطابق  رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے  ۔مسنون تعداد کا  مطلب  وہ تعداد  ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں  فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ  جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے  ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ  ہے  کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے  منتخب کی  ہے یہ سمجھتے  ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے  اس لیے جتنی  رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔اور رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت  و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ مسنون رکعات تراویح اور اعتکاف کے احکام ومسائل کتب حدیث وفقہ میں موجود ہیں  اوراس کے متعلق  ائمہ محدثین  اورعلمائے عظام کی بیسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تراویح اور اعتکاف‘‘ محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی ﷫ کی قیام رمضان اور اعتکاف کے موضوع  ایک شاندارکتاب  بعنوان’’ قیام رمضان والاعتکاف‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس مختصر کتابچہ  میں شیخ نے  دونوں عبادتوں کی جملہ جزئیات کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ ، آسان اور عام فہم انداز میں سمجھایا ہے۔جناب مولانا اشفاق سجاد سلفی (استاد جامعہ ابن تیمیہ، بہار) نے اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظراردو قارئین کےلیے  اس کا آسان فہم اردوترجمہ کیا ہے اس کتابچہ کو نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے  ۔(م۔ا)

  • 10 #3300

    مصنف : حافظ زبیر علی زئی

    مشاہدات : 3680

    تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ

    (پیر 29 جون 2015ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے نامور محقق اور معروف عالم دین محترم حافظ زبیر علی زئی صاحب  ﷫کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ گیارہ رکعات  تراویح مع وتر کو ثابت کیا ہے،اور بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کئے گئے مغالطات کا دلائل کے ساتھ رد کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1913
  • اس ہفتے کے قارئین 7753
  • اس ماہ کے قارئین 59786
  • کل قارئین49531139

موضوعاتی فہرست