دکھائیں کتب
  • آج کل  فرقہ بندی اس قدر عام ہے کہ ہرمسلمان پریشان ہے ۔کچھ لوگ اس صورت  حال سے تنگ آکر اسلام سےدور   ہو  رہے ہیں ۔ اور کچھ لوگ تمام فرقوں کو درست سمجھتے ہیں ۔حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے جہاں  اپنی امت کے  فرقوں کا ذکر کیا ہے وہاں صرف ایک فرقے کو جنتی کہا ہے ۔اور مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا  لیکن  اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ  اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا  اقرار کرنا ضروری  ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو  اس تقلیدی  گروہ بندی سے نجات  دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔نبی کریم ﷺنے اپنی زبان ِرسالت سے  جس ایک فرقہ کو  جنتی کہا  وہ  اہل سنت والجماعۃ ہے ۔اب اہل سنت کی صحیح تعریف  کیا ہے یہ ساری بحث اس زیر تبصرہ رسالہ ’’تعریف اہل سنت  اور مسنون تراویح ایک دلچسپ  علمی مکالمہ‘‘ میں ایک مکالمہ کی صورت میں    پیش کی  گئی ہے ۔اس کتابچہ کےمطالعہ سے  اصلی اور نقلی  اہل سنت کا فرق واضح ہوجائے گا۔ قارئین تعصب کی عینک اتار کر  تلاش حق کے جذبے سے   اس کتابچے کو پڑھیں دل ٹھک جائے تو راہِ حق کوقبول کرنے میں ہر گز دیر نہ کریں اس کتابچے پر اگرچہ  اسے مرتب کرنے والے کا نام  نہیں ملا لیکن  می...

  • 12 تواترعملی یا حیلہ جدلی (جمعہ 24 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:8807

    اللہ تعالیٰ نے انسان ذات کی ہدایت کےلیے اپنی طرف سے آفاقی پیغام پیغام ہدایت دے کر انبیاء کرام ورسل عظام کو مبعوث فرمایا جنہوں نےاس تعلیم کے اصول ومبادی کی توضیح وتشریح فرمائی اور اس میں کسی اور کی آراء وقیاس  کے دخل کے تمام راستے مسدود کردیئے تاکہ کوئی بھی دین متین میں اپنی من مانی تاویلیں نہ کرسکے۔

    یہی سبب ہے کہ جب بھی دین متین وشریعت محمدیﷺ میں اس قسم کی اخل اندازیاں ہوئیں تو اہل حق علماء ان کی بیخ کنی کےلیے میدان کارزار میں اتر آئے اوران کا قلع قمع کرکے ہی دم لیا ۔

    زیر تبصرہ کتاب تواتر عملی وحیلہ جدلی  شیخ بدیع الدین شاہ راشدی  رحمہ اللہ نے مسعود بی ایس سی کے جواب میں لکھا جنہوں نے ایک اصول تواتر عملی نامی وضع کرکے وضع الیدین بعدالرکوع والوں کو ہدف تنقید بنایا ۔جبکہ وہ خود کتاب صلواۃ المسلمین  اور تفہیم الاسلام  وغیرہ میں  اس اصول کی تردید کرچکے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ جزائے خیردے شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی  رحمہ اللہ کو کہ جنہوں نے مسعود بی ایس سی کےاس مصنوعی مذہب  اور اس کے اصولوں کا قلع قمع کیا ۔اور خصوصاً اس تواتر عملی کو 31 وجوہات سے رد کیا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو شاہ صاحب مرحوم کےلیے  نجات اور ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین

  • روزہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم ترین رکن ہے،جو اللہ تعالی نے تقرب الہی کے حصول کے لئے اہل ایمان کو ایک تحفہ دیا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ماہ رمضان کا روزہ ہر عاقل وبالغ شخص پر فرض ہے۔جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرتا ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔اس سے توبہ کرائی جائے گی ،اگر وہ توبہ کرلیتاہے اور اس کی فرضیت کا اقرار کر لیتا ہے تو ٹھیک ہے،ورنہ اسے مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔روزہ جہاں تقرب الہی کا ذریعہ ہے ،وہاں متعدد فوائد اور حکمتوں کا بھی حامل ہے۔اس سے انسان کے اندر صبر وتحمل اور برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔غریبوں کی بھوک اور پیاس کا اندازہ ہوتا ہے اور انسان کی زندگی میں ڈسپلن کی تربیت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صبح سے بھوکا آدمی اپنے سامنے بے شمار مشروبات اور ماکولات کی موجودگی کے باوجود ٹائم سے ایک دو منٹ بھی پہلے روزہ افطار نہیں کرتا ہے،بلکہ ٹائم پورا ہونے کا انتظار کرتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب" روزہ،تراویح اور زکوۃ سے متعلق اہم احکام ومسائل"سعودی عرب کے معروف عالم دین سماحۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ مولانا عطاء الرحمن ضیاء اللہ نے کیا ہے۔مولف نے اس کتابچے میں رمضان المبارک جیسے عظیم الشان مہینے میں روزے سمیت کی جانے والی تراویح اور زکوۃ جیسی عبادات کے احکام ومسائل کو قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے۔تاکہ عامۃ الناس کو اپنے مسائل کے حل میں آسانی ہوسکے۔اللہ تعالی مولف کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ہمارے لئے مفید بنائے۔آمین(راسخ)

  • 14 رکعات التراویح مع اضافات و ضمیمہ (ہفتہ 24 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:13985

    نفلی عبادت اللہ تعالی کے قرب کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے اور نفلی عبادات میں سے قیام اللیل کی عبادت اللہ تعالی کو بہت زیادہ محبوب ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ کے صحابہ اس کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے -اسے خلفائے راشدین اور بعد کے ادوار میں مسلمہ اہمیت حاصل رہی ہے- قیام اللیل کہ جس کی ایک صورت نماز تراویح بھي ہے کے حوالے سے ہمارے ہاں کچھ اشکالات پائے جاتے ہیں-جن میں اس کی رکعتوں کی تعداد جیسے مسائل شامل ہیں-کہ قیام اللیل کی کتنی رکعات سنت ہیں-بعض کا خیال ہے کہ بیس رکعت سنت ہے اور بعض کا موقف ہے کہ گیارہ رکعتیں مسنون ہیں-اس اختلاف کے پیش نظر زیر نظر کتاب میں آپ کو اس طرح کے سوالات کے تسلی بخش جواب پڑھنے کو ملیں گے-مثلا کہ کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکعات تراویح پڑھانا ثابت ہے؟کیا حضرت عمر اور دیگر خلفائے راشدین کے زمانہ میں تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا ؟رکعات تراویح کے عددمیں علماء کے درمیان  کیا اختلافات ہیں؟کتاب کے دوسرے حصے میں بھی آپ کو درج ذیل سوالات کے جوابات مل جائیں گے-نماز تراویح کی تعریف کیا ہے؟تہجد کے کیا معنی ہیں؟صلوۃ اللیل کا افضل وقت کیا ہے؟وغیرہ وغیرہ
     

  • 15 رکوع سے سجدے میں جانے کی کیفیت (پیر 08 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:16396

    نماز کی قبولیت کے لیے جہاں اس کے ارکان وشرائط کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ  اسے ہوبہو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے-ارکان نماز کو انتہائی اطمینان اور خضوع وخشوع کو مدنظررکھتے ہوئے ادا کرنا چایہے-رکوع سے سجدے میں کس طریقے سے جھکا جائے اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں-کہ رکوع سے سجدے میں جاتےوقت پہلےگھٹنے زمین پر لگائے جائیں گے یا کہ ہاتھ؟زیر نظر کتابچہ میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے رکوع سے سجدے میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے جائیں یا ہاتھ ، اس حوالے سے محدثین وسلف صالحین کی تصدیقات وحوالہ جات کی روشنی میں مسئلے کی مکمل وضاحت کی ہے- ان کا کہنا ہے کہ احادیث رسول اور عمل صحابہ سے سجدےمیں جاتے ہوئے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنا ہی ثابت ہے
     

  • نماز کے ارکان کی ادائیگی اگر سنت کے مطابق ہو گی تو نماز قابل قبول ہو گی –نماز کےمسائل میں جس طرح سے فقہاء کے درمیان اختلاف  پایا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتنا محتاط پہلو ہے کہ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی باقی نہ رہ جائے-اسی طرح نماز کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص رکوع میں آکر ملتا ہے تو کیا اس کی رکعت شمار کی جائے گی یا اس کو وہ رکعت دوبارہ پڑھنی ہو گی؟زير نظر كتابچہ میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے تجزیہ پیش کیا ہے کہ رکوع میں آکر ملنے والے کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے رکعت ہونے یا نہ ہونے والے دونوں مؤقف کے دلائل کا حقیقی موازنہ پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص کو وہ رکعت دوبارہ ادا کرنا ہوگی کیونکہ جمہور سلف صالحین کا یہی مؤقف ہے-
     

  • 17 سجدہ سہو (جمعرات 13 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2288

    سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت  نے    یہ طریقہ بتایا کہ  کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد  سلام  پھیرنے سے  قبل  یا بعد میں  دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی  مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی  کمی و بیشی  یا بھول چوک  کی   وجہ سے  پوری  نماز ہی  باطل قرار دے  دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ  ’’سجدہ سہو‘‘  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے  جس  میں انہو  ں جن  امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا  جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے  اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے   آسان انداز میں  بیا ن کیا اللہ  تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

     

  • 18 سجدۂ سہو (منگل 03 جون 2014ء)

    مشاہدات:2864

    یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ آج اکثر مسلمان نماز کے احکام ومسائل اور ارکان و شرائط وغیرہ سے ناواقف ہیں،اور انہیں نماز کے اہم مسائل کا بالکل علم نہیں ہے۔وہ نہیں جانتے کہ اگر آدمی نماز میں بھول جائے تو انہیں کب اور کس صورت میں سجدہ سہو کرنا چاہئے،سلام سے پہلے کرنا چاہئے یا سلام کے بعد کرناچاہئے۔یا کن کن امور کی غلطی پر سجدہ سہو کیا جاتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’سجدہ سہو‘‘ سعودی عرب کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ علامہ محمد بن صالح العثیمین ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے عامۃ الناس کے لئے سجدہ سہو سے متعلقہ تمام تفصیلات جمع فرما دی ہیں۔اور مسلک سلف کو واضح کرنے کی سعی مشکور کی ہے،موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مولانا مختار احمد ندوی نے اس کا اردو ترجمہ کروا کر اسے طبع کروا دیا ہے۔اللہ تعالی مولف،مترجم اور ناشر کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں شامل فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو اپنی نمازیں درست کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 19 صلوٰۃ التراویح ( عبد الرحمن دیوبندی) (پیر 29 جون 2015ء)

    مشاہدات:1772

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" صلوۃ التراویح"محترم مولانا عبد الرحمن فاضل دیو بندی  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا عمر فاروق سب کی یہی سنت تھی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول...

  • زير نظرکتابچہ میں مصنف نے ارکان اسلام میں سے اہم ترین عبادت روزہ کے فضائل ومسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے  روزے کی اہمیت وفرضیت کو بیان کیا ہے اور ساتھ ان امور کی نشاندہی کی ہے جن کا ارتکاب روزے کی حالت میں حرام ہے اور وہ نواقض روزہ ہیں –اور اسی طرح ان امور کی بھی نشاندہی کی ہے جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں-اس کے بعد اعتکاف کے احکام ومسائل کو بیان کرتے ہوئے رکعات تراویح کی اصل تعداد معتبر حوالوں سے ذکر کی ہے –مصنف نے روزہ رکھنے کا ثواب اور سحری وافطاری کی دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے روزہ نہ رکھنے پر کفارے کا بھی تذکرہ کیا ہے- نیز اعتکاف کے عمومی مسائل سے آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث نبوی اور جدید علماء کے فتاوی جات کی روشنی میں رکعات تروایح کی تعداد کتنی ہے؟ کی وضاحت پیش کی ہے-اور یہ ثابت کیا ہے کہ مسنون رکعات تراویح بیس ہی ہیں اور اس کے ثبوت کے لیے مختلف دلائل کے ساتھ ساتھ احناف کے جید علماء کے فتاوی کو بھی ذکر کیا ہے-
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1885
  • اس ہفتے کے قارئین: 12999
  • اس ماہ کے قارئین: 26970
  • کل قارئین : 48443384

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں