کل کتب 3

دکھائیں
کتب
  • 1 #9096

    مصنف : صاحبزادہ شوکت علی خاں

    مشاہدات : 487

    قصر علم ٹونک کے کتب خانے اور ان کے نوادر

    (اتوار 25 اکتوبر 2020ء) ناشر : عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹیٹیوٹ راجستھان ٹونک انڈیا
    #9096 Book صفحات: 317

    کتب خانوں کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔کتب خانہ یا دارُالکُتُب یا مکتبہ (Library)، ایک ایسی جگہ یا مقام جہاں اُن لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیّا کی جاتی ہیں جو لوگ (مالی یا دوسری وجوہات کی بنا پر) کتابیں خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔جدید درالکتب میں کوئی بھی شخص ہر قسم کی معلومات تک کسی بھی شکل و ذریعہ سے بے روک رَسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مع معلومات کے، یہ دارالکتب ماہرین یعنی کِتاب داروں کی خدمات بھی مہیا کرتی ہیں جو معلومات کو ڈھونڈنے اور اُن کو منظّم کرنے میں تجربہ کار ہوتے ہیں۔کسی بھی تعلیم یافتہ معاشرے میں لائبریری اور قارئین کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔افرادکی تربیت اور ترقی میں لائبریریاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ان کی موجودگی اور عدم موجودگی کسی بھی آبادی کے تہذیبی رجحانات اور ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔دنیا بھر  میں تاریخی کتب خانے موجود   ہیں  جوآج بھی مرجع کی حیثیت رکھتے  ہیں ۔برصغیر  پاک وہند کے میں  بھی تاریخی حیثیت کے  حامل کتب خانے موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’

  • 2 #9088

    مصنف : علامہ شبلی نعمانی

    مشاہدات : 429

    مضمون کتب خانہ اسکندریہ

    (جمعہ 16 اکتوبر 2020ء) ناشر : مطبوعہ مطبع مفید عالم گرہ
    #9088 Book صفحات: 76

    کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادبطلیموسی فرمانروا سوتر اول نے اسکندریہ کے مقام پر رکھی ۔ اس کے بیٹے فیلاڈلفس  کی علم پروی اور کتابوں سے دلچسپی نے کتب خانہ اسکندریہ کوجلد ہی اس قابل بنا دیا کہ ایتھنز کی علمی وثقافتی مرکزیت وہاں سمٹ آئی۔ اصحاب علم وفضل دور دور سے اس علمی مرکز کی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتے تھے۔کتب خانہ اسکندریہ کا قیام بھی نینوا کے کتب خانہ کی طرح شاہی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ یہ کتب خانہ ایک کثیر المقاصد عجا ئب گھر میں قائم کیا گیا تھا جو رصدگاہ، ادارہ علم الابدان، ادارہ نشر و اشاعت اور کتب خانہ کی عمارت پر مشتمل تھا۔ مورخین کے نزدیک اس علمی ادارے کو دنیا کی سب سے پہلی جامعہ یا سائنسی اکادمی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔کتب خانہ اسکندریہ میں کتابوں کا ذخیرہ زیادہ تعداد میں پیپرس اور جھلی کے رول یا پلندوں پر مشتمل تھا۔اس  کتب خانے میں کتابوں کی تعداد میں 5 لاکھ سے متجاوز تھی ۔ مسلمانوں پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کو مصرکی فتح کے وقت مسلمانوں نے نذرآتش کر دیاتھا  جبکہ اس الزام کی تردید خود مستشرقین مثلاً ایڈورڈ گبن(Gibbon) اور...

  • 3 #9085

    مصنف : رضا علی عابدی

    مشاہدات : 637

    کتب خانہ ( رضا علی عابدی )

    (منگل 13 اکتوبر 2020ء) ناشر : سعد پبلی کیشنز کراچی
    #9085 Book صفحات: 173

    کتب خانوں کی تاریخ چار ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔کتب خانہ یا دارُالکُتُب یا مکتبہ (Library)، ایک ایسی جگہ یا مقام جہاں اُن لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیّا کی جاتی ہیں جو لوگ (مالی یا دوسری وجوہات کی بنا پر) کتابیں خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔جدید درالکتب میں کوئی بھی شخص ہر قسم کی معلومات تک کسی بھی شکل و ذریعہ سے بے روک رَسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مع معلومات کے، یہ دارالکتب ماہرین یعنی کِتاب داروں کی خدمات بھی مہیا کرتی ہیں جو معلومات کو ڈھونڈنے اور اُن کو منظّم کرنے میں تجربہ کار ہوتے ہیں۔کسی بھی تعلیم یافتہ معاشرے میں لائبریری اور قارئین کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔افرادکی تربیت اور ترقی میں لائبریریاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ان کی موجودگی اور عدم موجودگی کسی بھی آبادی کے تہذیبی رجحانات اور ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔دنیا بھر  میں تاریخی کتب خانے موجود   ہیں  جوآج بھی مرجع کی حیثیت رکھتے  ہیں ۔برصغیر  پاک وہند کے میں  بھی تاریخی حیثیت کے  حامل کتب خانے موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2110
  • اس ہفتے کے قارئین 13221
  • اس ماہ کے قارئین 71953
  • کل قارئین57773134

موضوعاتی فہرست