• ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    جہاد دینِ اسلام کی چھوٹی ہے ۔جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب او رمظلوموں ومقہوروں کو عد ل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہادکی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’الجہاد‘‘ڈاکٹر محمداسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔جسے انہوں نے مدینہ کےقیام کےدوران تحریر کیا تھا اس کتابچہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے فضائل بیان کیے ہیں ۔موصوف 1974ء تا 1980ء تک مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • حافظ صلاح الدین یوسف

    اسلام کا ایک اعزاز اورامتیاز یہ ہے کہ یہ ایک مکمل دین ہے ،اس میں دین ودنیا کی جامعیت بھی ہے اورزمانے اور زندگی کےہرشعبے کےلیے مکمل رہنمائی بھی۔اس کا جس طرح ایک نظام ِعبادت ہے اسی طرح ایک نظام زندگی اور دستور العمل بھی ہے ۔اس نظامِ زندگی میں سیاست ومعیشت سے لے کر تہذیب وتمدن اور معاشرت تک سارے ہی معاملات کے لیے ہدایات اور تعلیمات دی گئی ہیں لیکن المیہ یہ ہےکہ مسلمان صرف نام کےمسلمان رہ گئے ہیں ۔ اور انہوں نے اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی سے اسلام کو نکال باہر کیا ہے اور غیروں کی نقالی اوران کی دریوزہ گری ہی کو اپنا شعار بنالیا ہےحالانکہ اسلام نے غیروں کی مشابہت اور نقالی سے سختی کےساتھ منع فرمایا ہے ۔ مگر اب نقالی کی یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اسے غلط اور گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔انہی امورِمتروکہ میں ایک مسئلہ لباس، پردہ ومعاشرت کا ہےحالانکہ انسانی معاشرت میں لباس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی سے کسی قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص قائم ہوتا ہے اور برقرار رہتاہے ۔ زیر نظر کتاب’’ لباس اور پردہ‘‘ کا پہلا حصہ لباس ہی کےاحکام ومسائل اور آداب پر مشتمل ہے جو مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کامرتب شدہ ہے ۔ اور دوسرا حصہ پردہ کےموضوع پر سعودی عرب   کے جید عالم دین شیخ صالح العثیمین﷫ کا ہے اوراس سلیس ورواں اردو ترجمہ عالمِ اسلام کے ممتاز سکالر محترم جناب ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے کیا۔ جسے دار السلام نے یکجا شائع کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت مفید کاوش ہے اور ایک منفرد اندازکی حامل ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلفین وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عالمِ اسلام کی سیدات مومنات کےلیے فائدہ مند بنائے ۔ آمین (م۔ا)

  • حافظ صلاح الدین یوسف

    آج ہر شخص پریشان ہے کسی کوسکون میسر نہیں ۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دین قیم سے رہنمائی کی روشنی نہیں لیتے بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے ٹمٹماتے چراغوں کے گردیدہ ہیں جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ اگر ہمیں اپنے موجودہ مصائب ومکروہات سے نجات پانی ہے اور ترقی کی شاہراہ پر آگے برھنا ہے تو ہمیں صرف قرآن وسنت ہی کے دار الشفاء سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ اسلام نے فرد اور معاشرے کی اصلاح ، استحکام، فلاح وبہبود اورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقرر کردیے ہیں۔اسلام کے بیان کردہ حقوق وفرائض میں سے ایک مسئلہ حقوق الزوجین کا ہے ۔ اسلام کی رو سے شادی چونکہ ایک ذمہ داری کانام ہےاس لیے شادی کےبعد خاوند پر بیوی اور بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا دونوں پر فرض ہے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہیں ایک دوسرے کی عزت ہیں ایک کی عزت میں کمی دونوں کےلیے نقصان کا باعث ہے ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔زوجین اگر دینی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے کےحقوق خوش دلی سے پور ے کرنے لگیں تونہ صرف بہت سےمفسدات اور خرابیوں کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ سکون وطمانیت کی پیاسی مادہ پرست دنیا کے لیےبھی امید اورآرام کی سبق آموز بشارت بن جائے ۔حقوق الزوجین کےسلسلے میں قرآن وسنت میں واضح احکام موجود ہیں اور اس موضوع پر کئی اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حقوق الزوجین‘‘ دینی کتب کے طباعت کے عالمی ادارے دارالسلام کی طرف سے شائع شدہ حقوق سیریز میں ایک ہے جسے مفسر قرآن جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ نے بڑے احسن انداز سے مرتب کیا ۔ایک شوہر ہونے کےناطے بیوی پر اس کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بیوی کی صورت میں شوہر پر اس کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ اوراس کے رسولﷺً نےانہیں کیاحقوق دیے ہیں۔ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری

    تخریج سے مراد مصادر اصلیہ کی طرف حدیث کی نسبت اوررہنمائی او ران پر حکم لگانا ہے۔ یعنی کسی محدث کا حدیث کی بنیادی کتابوں کی جانب کسی حدیث کا منسوب کرنا اورعوام کی اس کی طرف رہنمائی کرنا کہ مذکورہ حدیث فلاں کتاب میں ہےفن تخریج کا جاننا ہر طالبِ حدیث کےلیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ سنت رسول کی معرفت کےلیے یہ فن بنیادی کردار ادا کرتا ہے خاص طور سے موجودہ زمانہ میں علوم شریعت سے تعلق رکھنے والے باحثین اور محققین کےلیے اس کی معرفت بے حد ضروری ہے کیونکہ اس فن کی معرفت سے حدیثِ رسول کی معرفت حاصل ہوتی ہے فن حدیث کی بنیادی کتابوں کی معرفت ان کی ترتیب ، طریقۂ تصنیف اور ان سے استفادہ کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے اسی طرح فنون حدیث کے دیگر علوم کی معرفت حاصل ہوتی ہے جن کی ضرورت تخریج حدیث میں پڑتی ہے۔ مثلاً اسماء الرجال، جرح وتعدیل ،علل حدیث وغیرہ۔نیز اس علم کی معرفت سے بڑی آسانی سے حدیث رسول کی معرفت ہوجاتی ہے اور یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مطلوبہ روایت کتب حدیث میں سے کن کتابوں میں کہاں پائی جاتی ہے ۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ رہبر تخریج حدیث‘‘ انڈیا کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾(صدر شعبہ حدیث ،جامعہ محمد منصورہ مالیگاؤں) کی کاوش ہے جو کہ علم حدیث کےایک اہم گوشہ فنِ تخریج سے متعلق ہے ۔اردو زبان میں اس فن کی یہ پہلی کی کتاب ہے ۔مؤلف نے اس کتاب میں بڑے اچھے انداز میں اورآسان اسلوب میں حدیث تخریج کرنے کاطریقہ بتایا ہے۔فن حدیث کی کتابوں کی کتنی قسمیں ہیں ہر قسم کی تعریف او ران میں سے مشہور کتابوں کا تذکرہ وتعارف اور طریقہ تخریج واضح کردیا ہے۔ کس قسم کےلیے کون سا قائدہ استعمال کیاجاسکتاہے بڑی دقت اورمہارت سے سمجھا دیا ہے۔فن حدیث اور دیگرفنون کی کتابوں سے حدیث کیسے تلاش کی جاسکتی ہے اوراس پر حکم کیسے لگایا جاسکتاہے۔ اس کتاب سے بہت آسانی سے معلوم کی جاسکتا ہے ۔اس کتاب کو ترتیب دینے میں کتاب ’’ تحفۃ التخریج الی ادلۃ التخریج‘‘ کوبنیاد بنایا گیا ہے۔اورانہی اصولوں ، ابواب اورمعلومات کو ذکر کیا گیا ہے جو اس میں موجود ہیں ۔ مصنف موصوف نے کتا ب کوعام فہم مختصر او رمفید بنانے کی حتیٰ الامکان کو شش کی ہے۔یہ کتاب مقدمہ کےعلاوہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ خدمتِ حدیث کےسلسلے میں ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • محمد ادریس فاروقی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مقالم رسالت " جماعت اہل کے معروف عالم دین مسلم پبلی کیشنز کے مالک محترم نعمان فاروقی صاحب کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی صاحب ﷫کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  مقام رسالت ،مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • پروفیسر عبد الرحمن طاہر
    پاکستان میں قرآن مجید کے اردو ترجمہ اور تفہیم کے حوالے سے بہت سے لوگ اور مراکز اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو عوام الناس کو قرآن کے ترجمہ سے آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ’مصباح القرآن‘ کی شکل میں انھوں نے قرآن مجید کے ترجمہ کو آسان اور سائنٹفک انداز میں سکھانے اور پڑھانے کی سبیل نکالی ہے۔ ترجمہ قرآن میں یقیناً ایک نئے اور مفید اسلوب سے آراستہ یہ کوشش قرآنی مطالب کو عام کرنے اور ایک طالب قرآن کو معانی و مفاہیم سے آشنا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میں ترجمہ قرآن کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس میں روز مرہ زندگی میں اردو زبان میں استعمال ہونے والے 65 فیصد الفاظ کو سیاہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے، تکرار کے ساتھ استعمال ہونے والے 20 فیصد الفاظ کو نیلا اور 15 فیصد دوسرے اہم الفاظ کو سرخ رنگ میں پیش کر کے ان کے فہم کے الگ الگ ادارے متعین کر دئیے ہیں تاکہ ایک استاد یا طالب قرآن ان کی مدد سے ان کا خصوصی فہم حاصل کر لے، یوں اسی صفحے کے مقابل صفحہ پر پھر انھی تین رنگوں میں تقسیم الفاظ قرآن کے معانی کو بھی ’مفتاح‘ کے اصولوں کے مطابق انھی رنگوں میں قواعد کی تقسیم اور جوڑ توڑ کے پیرائے میں یوں درج کیا گیا ہے کہ کسی آیت شریفہ کا کوئی لفظ یا ان لفظوں کے مزید کسی گرامر میں منقسم حصے کی تعیین، تشریح اور تفہیم بہت واضح اور دلچسپ ہوگئی ہے۔ ترجمہ میں رنگوں کا استعمال قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق کیا گیا ہے، بعض الفاظ کی ضروری وضاحت بھی حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔ ’مصباح القرآن‘ کو پڑھنے سے قبل اگر پروفیسر صاحب کی کتاب ’مفتاح القرآن‘ میں بیان کردہ علامات کو سمجھ لیا جائے تو قرآن فہمی میں یقیناً بہت بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ’مفتاح القرآن‘ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔(ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل سپارے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر عمر فاروق غازی

    اسلامی تاریخ میں  تحقیق اس کی اہمیت اور اصول وضوابط کو سمجھنے کے لیے سب سےنمایاں مثال جمع وتدوین قرآن کی  ہے  ۔قرآ ن  کریم  کے متن کی تدوین ادبی دنیا کا  عظیم ترین شاہکار ہے ۔تحقیق کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کیا ہواس کےبارے میں بھی  قرآن وحدیث میں واضح طور پر رہنمائی موجود  ہے۔زیر نظرکتاب’’تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان قرآن کی نظر میں ‘‘ کرنل  (ر)عمر فاروق غازی کی  تحقیق کے حوالے سے  دوسری تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے  مختلف مشہور  کتب تفسیر اور دیگر عربی کتب کے مطالعہ سے   قرآن کے حوالے سے  تحقیق کا مفہوم ،تحقیق کے اغراض ومقاصد ،تحقیق کےتقاضے تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان اور تحقیق کے مختلف طریقوں  کو  دلائل سے مزین کر کے پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب  شائقین تحقیق کے لیے  مفید اور موزوں ثابت ہوگی ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کری

  • قاضی اطہر مبارکپوری
    وحی الہٰی کے نزول کی ابتداءقراءت،علم اور قلم  کے ذکر سے ہوئی۔رسول اللہ ﷺمعلم الکتاب والحکمۃ بنا کر مبعوث ہوئے۔قرآن وحدیث میں علمِ دین پڑھنے پڑھانے کی تاکید ،اس کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور عہدِ رسالت سے لے کر آج تک مسلمانوں میں تعلیم و تعلم  کا مربوط نظام جاری و ساری ہے۔اسلام کے نظامِ تعلیم و تعلم اور مذہب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے  زیر تبصرہ کتاب ’’ خیر القرو ن کی درسگاہیں اور ان کا نظامِ تعلیم و تربیت ‘‘از قاضی اطہر مبارکپوری   اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے  جس میں  فاضل مؤلف  نے   عہد رسالت  میں  ہجرت سے  قبل اور بعد کی درسگاہوں کا  ذکرکرتے  ہوئے عہد صحابہ وعہد تابعین کی درسگاہوں اور نظام تعلیم کاتفصیلاً ذکر کرنے بعد  مدینہ منورہ کی  دینی وعلمی اور ادبی مجالس کا بھی ذکر کیا ہے  اللہ تعالیٰ  مؤلف کی اس  کاوش کو قبول فرمائے  (آمین)( م۔ا)
  • عبد الماجد ندوی
    یہ بات بڑی تعجب خیز اور ناقابل فہم ہے کہ کوئی فرد اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور اپنی ذہنی صلاحیتیں علوم وفنون کی درس وتدریس میں اور ان تصنیفات وتالیفات کے مطالعے میں صرف کر دے جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں لیکن اس زبان میں خط وکتابت اور اظہار خیال سے بالکل معذور اور قاصر ہو ۔زبانوں کے سلسلے کا یہ بالکل انوکھا تجربہ ہے جو صرف برصغیر پاک وہند کے عربی مدارس کلیات اور جامعات کی خصوصیت ہے اس معذوری کی واحد وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کو قرآن وحدیث کی زبان اور زندہ وترقی یافتہ زبان کی حیثیت سے پڑھنے پڑھانے کے بجائے ایک نظری علم اور کتابی فن کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے اور اس کی علمی مشق اور تحریر وانشاء کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ’’معلم الانشاء‘‘ تین مختصر حصوں پر مشتمل مولانا عبدالماجد ندوی کی علمی کاوش ہے جو عربی تحریر وتقریر سکھانے کی ایک بہترین فنی کتاب ہے اس کتاب میں انشاء وترجمہ کی تمرینات سے پہلے صرف ونحو کے ضروری قواعد بیان کردیے گئے ہیں جن پر انشاء وترجمہ کی بنیاد ہے ۔مختلف قسم کی رنگ برنگی مشقوں ، متنوع عملی مثالوں اور دلچسپ جملوں کے ذریعے قواعد کو ذہن نشین کروانے اور طلبہ میں صحیح جملے اور عربی عبارت لکھنے کی لیاقت پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دی گئی ہے ۔نیز جملوں اور الفاظ کے انتخاب میں بھی اسلامی ذہنیت اور دینی خیال نمایاں ہے۔بکثرت جملے قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں ۔بہر حال ان خصوصیات کے لحاظ سے یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کو، نہ صرف نصاب تعلیم میں داخل کیا جائے بلکہ پسندیدگی کی نظر سے بھی دیکھا جائے تاکہ یہ مدارس ، کلیات اور جامعات  کے طلبہ کی اس کمی کو پورا کردے جو عرصہ دراز سے عربی زبان وادب کے حلقوں میں محسوس کی جارہی تھی۔پروردگار عالم قابل مصنف کی اس علمی کوشش کو عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(م۔آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  • عبد الستار خاں
    زیر نظر کتابچہ ’’عربی کا معلم‘‘ اگرچہ حجم کے لحاظ سے چار چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہے تاہم عربی قواعد اور عربی زبان دانی کی تعلیم وتعلم کے حوالے سے ناقابل فراموش اور مفید ترین ہے۔قابل مصنف نے اقتضائے وقت کے مطابق اس کتاب میں عربی قواعد کو آسان ترین مشقوں اور مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے تاکہ زبان دانی کے ضمن میں یہ قواعد باآسانی ذہن نشین ہوتے چلے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان کی تفہیم اور افہام کے لیے اسباق کا انتخاب اور ان کی ترتیب کوئی معمولی کام نہیں ھے مگر اس کتابچے کے مشاہدے اور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے شائقین عربی کی مایوسی اور مشقت کو کم کرنے اور تسہیل عربی کے حوالے سے قابل قدر اور کامیاب کوشش کی ہے ۔اسباق کے انتخاب اور ترتیب میں آسانی کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔پہلا جزء پندرہ اسباق پر ، دوسرا جزء دس اسباق پر ، تیسرا جزء اٹھارہ اسباق پر اور چوتھا چزء تیس اسباق پر مشتمل ہے ۔جزء اول کے علاوہ باقی سب اجزاء میں قرآنی امثلہ ، محاکموں او رتمرینات کا قابل قدر اضافہ نظر آتا ہے۔ اگر سب اسباق کو  تطبیق کے ساتھ حل کرلیا جائے تو طالب علم میں عربی سمجھنے ، لکھنے اور بولنے کی لیاقت پیدا ہوجاتی ہے یہ کتابچہ برصغیر پاک وہند کے اکثر سرکاری وغیرسرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں شامل نصاب رہاہے ۔بہر حال یہ کتابچہ اس قابل ہے کہ اسے عربی دانی اور عربی گرائمر کے حوالے سے تمام سرکاری وغیر سرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں داخل نصاب کردیا جائے تاکہ عربی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ متعلمین کے دلوں میں قرآن فہمی کا احساس بھی جاگزیں ہو جائے۔(م۔آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760451

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں