نا معلوم

نا معلوم
  • 1 اصلی اہل سنت (بدھ 11 فروری 2009ء)

    مشاہدات:17288

    دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کےاعتبار سے اختلافات کاہوناایک فطری امر ہے –یہی وجہ ہے کہ دنيا ميں بہت سارے مذاہب اور مسالک پائے جاتے ہیں – اور ان میں سے ہر مسلک یہ نعرہ بلند کرتاہے  کہ وہی حق پر ہے اور باقی تمام مسالک راہ ہدایت سے ہٹے ہوئے ہیں- حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کےمطابق ایسے لوگ حق پر ہیں  جن کا عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل کے عین مطابق ہے-زیر نظر رسالہ میں حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری نےسوال وجواب کی صورت میں ناقابل تردید دلائل کے ساتھ ثابت کیاہے کہ اصلی اہل سنت کون ہے ؟ اور اس کی پہچان کیاہے ؟ موصوف نے باالتفصیل تقلیدشخصی  کی خامیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کتاب وسنت کی صریح براہین پر عمل پیراہونے کے فوائد بیان کیے ہیں-تقلید کی بیخ کنی اور اہلحدیث کی دعوت کو عام کرنے کے لیے تحریری مواد کےلحاظ سے  یہ ایک انتہائی مؤثر رسالہ ہے-
     

  • 2 متنازعہ مسائل کے قرآنی فیصلے (بدھ 25 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:19859

    ہمارے ہاں بہت سے دینی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے ہرفرقہ والا اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے مخالف کو گمراہ قرار دیتا ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب یہ ہے کہ عوام قرآنی تعلیمات سے ناآشنا ہے حالانکہ عقیدہ سے متعلق بعض مسائل ایسے ہیں کہ قرآن میں ان کا دوٹوک حل موجود ہے زیر نظر کتاب میں بعض اختلافی مسائل کے بارے میں قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں جن سے اختلاف کاواضح فیصلہ ہوجاتا ہے اس سلسلہ میں عقیدہ کے چار اہم مسائل یعنی مسئلہ علم غیب ،مسئلہ حاضر وناظر،غیراللہ  کی پرستش اور سفارش  او رمسئلہ مختار کل پرروشنی ڈالی گئی ہے ۔

     

  • یہ کتاب شیخ عبدالرحمٰن امین کی تالیف ’الرد الباہر فی مسئلۃ الحاضر والناظر‘ کا اردو ترجمہ ہے، اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ ’نبی کریمﷺ ہر جگہ حاضر  ناظر نہیں ہیں۔‘ نہ آپ اپنی زندگی میں ہر جگہ حاضر و ناظر تھے اور نہ وفات کے بعد۔ یہ عقیدہ بعض بدعتی لوگوں کی ایجاد کردہ ہے جو سراسر ضلالت و گمراہی پر مبنی ہے۔اس کتابچہ میں بدعقیدہ اور بدعتی لوگوں کے دلائل کی حقیقت بے نقاب کی گئی ہے اور کتاب و سنت سے حق واضح کیا گیا ہے۔ ترجمہ میں حسب ضرورت کچھ اضافے کیے گئے ہیں اور بعض غیر اہم عبارات کا ترجمہ عمداً ترک کر دیا گیا ہے۔ نیز بعض عبارتوں میں مناسب تقدیم و تاخیر بھی کی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت ان کی عمر چھ سال ہونے پر قدیم زمانے سے تمام امت اسلامیہ کا اجماع رہا ہے اور صرف اس مغرب زدہ دور میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ناموس رسالت اور ناموس صحابہ کی دہائی دےکر اس کو تسلیم کرنے سے انکار کرنا اور کروانا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح صحیح احادیث کے انکار کا دروازہ کھل جائے اور اگر ایک بار یہ دروازہ کھل گیا تو پھر خواہش پرست لوگ جس حدیث کو چاہیں گے قبول کریں گے اور جس کو چاہیں گے رد کر دیں  گے اس طرح وہ دین کو موم کی ناک بنا کر جس طرح چاہیں موڑ سکیں گے۔ بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر سے متعلق وارد تمام احادیث صحت کے اعلیٰ درجہ پر اور متواتر ہیں اس کے باوجود کچھ لوگ اس سلسلہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں عطاء اللہ ڈیروی نے اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 سائنس قرآن کے حضور میں (پیر 11 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:74646

    قرآن پاک مذہب اسلام کاایک بڑاماخذ اور وہ کتاب ہے جس کو اس کے ماننے والے یعنی مسلمان مکمل طورپر کلام الٰہی تصورکرتے ہیں۔ مسلمان اس امر پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ قرآن پاک تمام انسانیت کےلیے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک عظیم سر چشمہ ہے یہ تمام تر انسانیت کورہنمائی فراہم کرتاہے اور یہ ہر ایک دور سے ہم آہنگ ہے اور جدید سائنس بھی اس کے مندرجات سے انکار نہیں کر سکتی بلکہ اس کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔ زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اسی موضوع پر ترتیب دی گئی ہے ۔ جس کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ یہ کتاب میں نے ان مسلمانوں کے لیے مرتب کی ہے جو قرآن مجید کو اپنا ضابطہ حیات قرار دیتے ہیں تاکہ ان کا ایمان مزید پختہ ہو جائے کہ سائنس نے جن حقیقتوں کو آج دریافت کیا ہے ان میں سے کئی ایک کا ذکر قرآن مجید میں کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ کتاب کے مؤلف طارق اقبال سوہدروی ہیں جنھوں نے یہ کتاب ڈاکٹر ذاکر نائک کے اس موضوع پر لیکچرز سے متاثر ہو کر تیب دی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 6 مختصر تاریخ اہل حدیث (جمعہ 17 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3853

    اہل  حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں  ہےاورنہ ہی  فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ۔ اہل  حدیث ایک جماعت  او رایک تحریک  کا نام ہے۔  جس کا بنیادی موقف زندگی  کےہر شعبے  میں قرآن  وحدیث کے مطابق عمل  کرنا  او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے  کی ترغیب دلانا  ،یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی  دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے زیر نظر کتابچے  میں  مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ نے     لفظ اہل حدیث  کا معنی بیان کرتے ہوئے   مختصراً تاریخ  اہل  حدیث کو دلائل  کے ساتھ  بڑےاحسن  انداز میں بیان کیا  ہے او ر یہ ثابت کیا ہے کہ اہل سنت سے مراد اہل حدیث ہی ہیں  ۔(م۔ا)
     

  • دنیا کےتمام  مذاہب اور قوموں میں تہوار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں ۔ہر  ایک  تہوار  کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے اور  ہر تہوار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے جن  سےنیکیوں کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے ۔ لیکن لوگوں میں بگاڑ آنےکی وجہ سے  ان میں ایسی بدعات وخرافات بھی شامل ہوگئی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت جاتا ہے ۔جیسے   جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی انسانوں نےکلچر اور آرٹ کےنام سے نئے نئے  جشن  اور تہوار وضع کیےانہی میں سے ایک نئے سال کاجشن ہے ۔ نئے سال کےجشن میں  دنیا بھر میں  رنگ برنگی لائٹوں اور قمقمو ں سے  اہم عمارات کو  سجایا جاتا ہے اور 31؍دسمبر کی رات  میں 12؍بجنے کا انتظار کیا  جاتا ہے۔ 12؍بجتے  ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی کیک کاٹا جاتا ہے ، ہرطرف ہیپی نیوائیر کی صدا گونجتی ہے،آتش بازیاں کی جاتی ہے  اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتا ہےجس میں شراب وشباب اور ڈانس کابھر پور انتظام  رہتا ہے  اس لیے کہ ان کی تفریح صرف دوچیزوں سےممکن ہے شراب اور عورت۔دراصل نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہے۔ان کے عقیدے کےمطابق 25؍دسمبر کو سید نا عیسی﷤ کی پیدائش ہے اسی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے  جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور  یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے ۔آج  عیسائیوں کی طرح بہت سے مسلمان بھی نئے سال کے منتطر رہتے ہیں اور 31؍دسمبر کا بے ص...

  • 8 آپکو شادی مبارک ہو (پیر 17 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19031

    زیر تبصرہ کتاب زندگی کے اہم ترین گوشے شادی سے متعلق ترتیب دی گئی ہے۔ محترمہ ام منیب نے نہایت سادہ انداز میں منگنی ، نکاح و رخصتی کے تمام تر معاملات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نکاح کی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے نکاح میں کی جانے والی بعض رسومات بد کا شدو مد کے ساتھ رد کیا ہے۔ کچھ صفحات مثالی گھرانے کی صفات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ طلاق کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 9 نور من نوراللہ حقیقت کے آئینے میں (منگل 18 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18118

    اس وقت امت کا ایک بہت بڑا طبقہ نبی کریمﷺ کی ذات کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہے۔ بہت سے لوگ آپﷺ کو اللہ کے نور کا جزو قرار دیتے ہیں  اور نام نہاد ملاں اس سلسلہ میں عوام کو خانہ زاد دلائل اورمن مانی تاویلات و تشریحات کے ذریعے اپنے دامن فریب میں پھنسائے ہوئے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے نور من اللہ ہونے میں کس حد تک صداقت ہے زیر نظر کتابچہ میں مولانا خاور رشید بٹ نے اسی کا جائزہ لیا ہے۔ اور دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ دعوی شرک و ضلالت پر مبنی ہے جس کا انجام بہرحال اچھا نہیں ہے۔(ع۔م)
     

  • نبی اکرم ﷺ کی وفات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس دنیا سےتشریف لے جانے  کے بعد امت میں نئے نئے فرقوں نے سراٹھایا۔ جس میں معتزلہ، جہمیہ جیسے کلامی گمراہ فرقے وجود میں آئے اور ان کےبعد صوفیہ، باطنیہ اور اس طرح کے دوسرے گروہ بھی پیدا ہوگئے یہ سب گروہ عقیدہ  کی بنیاد پر تقسیم ہوئے تھے۔ لیکن ہر دور میں مسلمانوں کی ایک جماعت حق کادفاع کرتی رہی اور انہوں نے ہمیشہ باطل نظریات و عقائد رکھنے والے فرقوں کو علمی محاذوں پر للکارا اور دلائل  قاطعہ سے ان  فتنوں کو روکا او ریہ جماعت اہل سنت والجماعۃ کے نام سے معروف ہوئی۔زیر نظر کتاب میں اہل سنت والجماعۃ کے نظریات و عقائد کاتعارف ہے۔ اس کتاب میں اسلامی عقائد پر تفصیل سےروشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے علاوہ اس تحریر پر شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کی تعلیق بھی موجود ہے۔(ک۔ط)
     

  • پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور اس کے ماں باپ یا سوسائٹی اسے یہودی ، نصرانی او رمجوسی بنا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں کےدل میں ایمان کی روشنی رکھی ہوتی ہے جو انہیں سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتی رہتی ہے او روہ حق کی تلاش میں کوشاں رہتے ہیں اور اس وقت تک ان کا سفر ختم نہیں ہوتا جب تک وہ منزل کو نہ پالیں۔ ان کا خلوص، لگن اور حق کی جستجو آخر کار انہیں ان کی منزل و مقصود سے ہمکنار کردیتی ہے اور انہیں وہ حق کا راستہ مل جاتا ہے جس کے لئے ان کے اندر برسوں سے اضطراب برپا ہوتا ہے۔زیر نظر کتاب نو مسلم عیسائی سائمن الفریڈو کی خود نوشت ہے جو اسلام لانے کے بعد ابومریم بنے۔یہ تحریر ان کے اسلام قبول کرنے کی وجوہات او رحضرت عیسیٰؑ کے متعلق عیسائی تعلیمات کے حقائق پر مشتمل ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام  کی فیوض و برکات اور عیسائیت کی تعلیمات کاموازنہ کرکے خدائی فیصلہ کے مطابق اسلام کو ہی نجات کا ذریعہ گردانا اور ثابت کیا ہے اوراسی طرح  عیسائیت میں موجود فکری انحطاط اور خرافات کوبھی  اجاگر کیا ہے ۔یقیناً عیسائی دنیا کے لئے یہ کتاب حقائق و عبر کے نمونہ کی حثیت رکھتی  ہے کہ وہ لوگ بھی اپنے آبائی مذہب سے ذرا ہٹ کر اسلام کا مطالعہ کریں جس طرح ابومریم نےکیا اور اس زاویہ سے اسلام کو سمجھیں تو یقیناً حق کو پالیں گے۔(ک۔ط)
     

  • 12 توحید کے بنیادی اصول (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20249

    اللہ کی توحید وہ روشنی ہے کہ جس کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے اسے زندگی کے تمام فنون و راہیں سجھا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست پر لانے کے لیے انبیاء کا سلسلہ نازل کیا۔جن کی دعوت کا مرکزی موضوع ہی توحید تھا وہ لوگوں کو ان کے رب کی حقیقی شناخت کروانے اور معبودوان باطلہ  کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سےبراء ت کادرس دیتے۔ اسی توحید کےلیے  انبیاء و رسل نے اپنی جان قربان کیں اور اپنے جسم مخالفین کے پتھروں سےلہولہان کروائے۔زیر نظر کتاب نو مسلم ڈاکٹر ابوامینہ بلا ل فلپس کی تصنیف ہے جو جمیکا میں پیدا ہوئے  کینیڈا میں پلے بڑھے اور 1972ء میں  اسلام قبول کیا اور عرب کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیم حاصل کی۔مذکورہ کتاب میں مصنف نے توحید اور اس سے متعلقہ ابحاث کو مفصل ذکر  کردیا ہے اس کتاب کے کل گیارہ باب ہیں۔ پہلا باب توحید کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ دوسرا شرک کی اقسام ۔ تیسرا اللہ کا آدم سے عہدلینا۔ چوتھاطلسم اور شگون۔ پانچواں قسمت سےمتعلقہ بحث ۔ چھٹے میں علم نجوم کی وجہ سے شرک کی قباحتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح ساتویں باب میں جادو  اور  اس کی حقیقت کا بیان ہے۔ آٹھویں باب میں اللہ کےہرجگہ ہونے کے عقیدہ پر وضاحت ہے۔نویں باب میں اللہ تعالیٰ کے دنیا میں دیدار سے متعلق بحث ہے جبکہ دسویں باب میں وحدت الوجود کےمسئلہ کو موضوع  بحث بنایا گیا ہے ۔اس طرح گیارہویں اور آخری باب  فوت شدہ سے دعائیں مانگنے کاردّ پر مشتمل ہے۔(ک۔ط)
     

  • 13 قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی تفسیر (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16615

    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے۔ قرآن کریم کے آخری تین پاروں کی جہاں اور اعتبارات سے بہت زیادہ اہمیت ہے وہیں تفصیلی احوال جنت و جہنم اور دیگر احکامات الٰہیہ نے ان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی کے پیش نظر زیر مطالعہ کتاب میں قرآن کریم کے آخری تین پاروں کا ترجمہ و تفسیر اور دیگر احکام و مسائل کو بالبداہت بیان کر دیا گیا ہے۔ شروع میں قرآن کریم کی فضیلت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس کے بعد آخری تین پاروں کا متن کے ساتھ مکمل اردو ترجمہ قم کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آخر میں ان پاروں سے مستنبط شدہ احکام کو نہایت عمدہ اور سہل انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 14 عبادات میں نیت کا اثر (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16351

    اسلام میں نیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ نیت، خصوصاً ’اخلاص نیت‘ کا موضوع اسی اہمیت کے سبب ہمیشہ علمائے اسلام کی توجہ کا مرکز رہا اور سلف سے خلف تک متعدد علمائے کرام نے اس موضوع کو خوب اجاگر کیا، کچھ نے  تو اس موضوع پر مستقل رسالے اور کتابیں لکھیں اور بعض محدثین خصوصاً امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاریؒ نے اپنی شہرہ آفاق، مقبول عام اور مسلم الصحت تصنیف ’جامع صحیح بخاری‘ کا آغاز حدیث نیت ’إنما الأعمال بالنیات‘ سے کر کے اخلاص نیت کی اہمیت پر مہر ثبت کر دی۔ نیت کی اس قدر اہمیت کے باوجود اردو زبان میں اس موضوع پر یکجا صورت میں کوئی خاطر خواہ کام موجود نہیں تھا۔ محترم ریاض احمد محمد مستقیم سراجی نے بڑی محنت او عرق ریزی کے بعد قدیم و حدید علمی ماخذ و مصادر کھنگھال کر اس موضوع پر قیمتی معلومات جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ’عبادات میں نیت کا اثر‘ کے عنوان سے سلیقہ کے ساتھ مرتب کیا۔ بلاشبہ یہ کتاب اسلامی اردو لٹریچر میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔ یہ کتاب علمی و دینی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور اس کے مشتملات سے عوام و خواص سب مستفید ہوں گے۔(ع۔م)
     

  • 15 شب براءت کی حقیقت (اتوار 09 جون 2013ء)

    مشاہدات:4350

    اسلامی شریعت کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندرکسی بھی نقص واضافہ کی گنجائش قطعی طور پرنہیں ہے ،اللہ تعالی نے اپنے فرمان: ’’ آج کے دن میں نے تمہارےلئے تمہارےدین کومکمل کردیا ہےاورتمہارےاوپراپنی نعمت کاا تمام کردیاہے،اوراسلام کوبطوردین پسندکرلیا ہے‘‘ (المائدۃ :3) میں اس کی مکمل وضاحت  فرمادی ہے ، اوراس کے عقائدواعمال کے اندرکسی بھی کمی وزیادتی کو سرےسے نکال دیاہے ، لیکن بدعت پرستوں اورشکم پرورعلماءنے مذکورہ آیت کریمہ کی دھجیاں اڑاتےہوئے دین میں بدعات وخرافات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا اوراسلامی عقائدوعبادات کواپنی بدعتی چیرہ دستیوں سے داغدار کرکےامت مسلمہ کے عام افرادکوگناہوں کے شکنجہ میں جکڑکرصحیح عقائدوافکار اوراعمال وافعال سے کوسوں دورکردیا ،جس کا نمونہ آپ ان بدعتی محافل ومجالس   اور رسوم واعمال کے موقع سے ملاحظہ کرسکتےہیں ، جس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والے ان  کے قیام اوردفاع میں جان کی بازی تک لگانے کو تیار ملیں گے، لیکن یہی جان فروش نمازپنجگانہ اورعقا‏ئدواعمال کی تصحیح کے لئےمنعقداجتماعات سے کوسوں دورنظرآئیں گے-الامان والحفیظ-

    بدعت پرستوں کی ایجادکردہ بدعتوں میں سے شعبان کی پندرہویں تاریخ کی رات میں کی جانے والی بدعتیں بھی  ہیں  جواسلام میں کئی صدیوں بعدایجاد کی گئیں،  جن کاثبوت نہ اللہ کے کلام میں ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال میں اورنہ اتباع سنت کے خوگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے عہدمیں ۔

    <...
  • 16 طاغوت کے پجاری کون؟ (اتوار 30 جون 2013ء)

    مشاہدات:4229

    فتنےدو طرح کےہوتےہیں ایک وہ جن کی بنیاد لادینیت ہو اور دوسرےوہ جو دینی اساس رکھتےہوں دینی اساس رکھنےوالافتنے  عام طور پردین میں  افراط یا تفریط کی وجہ سے پیداہوتےہیں۔یعنی فہم دین میں غلویا تفصیرکاشکارہونے کی وجہ سے جنم لیتے ہیں ۔ ایسے ہی فتنوں میں سے ایک خوارج کا فتنہ ہے۔جوغلودین کا شکار ہے۔اس فتنےکی بنیادوں میں سے ایک اہم ترین بنیاد کفرباالطاغوت ہے۔ عصر حاضر کےخواج کفرباالطاغوت کو خود ساختہ مفہوم اورتشریحات کے ذریعےاس طرح پیش کرتےہیں کہ عوام الناس اس بارےمیں صحیح معلومات  نہ ہونےکی وجہ سےجلد گمراہ ہوجاتےہیں۔زیر نظر کتاب میں ،عصرحاضرمیں موجود طاغوت کےپجاریوں  اورطاغوت کا انکار کرنےوالوں کا تفصیل سے ذکرکیاگیاہےاورطاغوت کی پہچان ،اسکی حقیقت اوراسکی تفصیل بہت شاندار اورمدلل انداز میں بیان کی گئی ہے۔عصرحاضرکےخواج کےکفرباالطاغوت کےبارےمیں کافی وشافی جواب موجود ہے۔یہ کتاب اس موضوع   پراٹھنےوالی ابحاث کا ایک ممکنہ حد تک احاطہ کرپاتی ہے۔مصنف نےحتی الوسع کو شش کی ہےکہ کسی پہلوسے بھی تشنگی نہ رہے۔(ع۔ح)
     

  • 17 خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور احناف (منگل 02 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:3832

    یہ رسالہ اگرچہ اس سیاق میں لکھاگیاہےکہ اہل حدیث کی صفائی پیش کی جائے کہ   خلفائے راشدین سے ان کا کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس رسالے کا ایک یہ پہلو کہ  احناف کے ان مسائل کی نشاندہی کی جائے جن میں وہ خلفائےراشدین سے مختلف ہیں ۔یہ  علمی دنیامیں کوئی زیادہ مستحسن کاوش شائد ہی قرار دی جائے ۔کیونکہ امت کے اند رفقہی اختلافات کی اجازت ہے اور یہ ہرزمانےکے لحاظ سے مختلف ہوسکتےہیں اسی طرح اگروہ عبادات کے متعلق  ہوں تو ان میں بھی بذات خود صحابہ کےاندر باہمی طور پر اختلافات موجود تھے۔آج امت مسلمہ بحثیت مجموع زوال کا شکار ہے اور یہ زوال جہاں عملی ہے وہاں علمی اور تحقیق کے میدان بھی آیاہے۔اور جب کسی قوم یا امت کے اند علمی وعملی زوال رونما ہوجائے تو وہ باہمی خلفشا رکا شکار ہوکر جدل وجدال اور قیل وقال کی الجھنوں میں پھنس کر رہہ جاتی ہے۔سو ایسے حالات میں افہام تفہیم کی کوشش بہرحال سرہاناچاہیے ۔اور اس وقت امت کو اس کی شدید ضرورت بھی ہے۔تاکہ صحیح اجتہادی صلاحیت بیدار ہوسکے اور باہمی تنازعات کے تصفیے میں مدد و معاونت ملے۔(ع۔ح)
     

  • 18 درہم و دینار مستقبل کے اسلامی سکے (جمعہ 04 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5045

    گزشتہ صدیوں میں استعماری غلبے اور استحصال  کی یہ شکل تھی کہ  استعماری قوتیں بذات خود نوآبایات میں  آکر استحصال کی راہیں ہموار کیا کرتی تھیں۔ لیکن اب ان کا طریقہء کار بدل چکا ہے۔اگرچہ بظاہر  یہ نظر آتا ہے کہ دنیا مہذب ہو چکی ہے۔پہلےکی طرح ظلم و استحصال کرنا ممکن نہیں رہا۔ جبکہ حقیقت یہ  ہے کہ  موجودہ دور میں بھی لوٹنے کھسوٹنے کی  وہی صورت ہے بلکہ اس سے بھی بدترین شکل میں ہے۔چنانچہ آج استعماری قوتیں خود تو نہیں آتیں لیکن انہوں نے عالمی مالیاتی نظام ایسا بنا دیا ہے کہ   جس میں ترقی پذیرممالک خود بخود ہی  اپنا مال و دولت  ان کے عشرت کدوں میں پھینک دیتے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطرناک اور اساسی ترین یہ کاغذ کی کرنسی ہے۔اس کتابچہ میں مصنف نے اسی پہلو کو اجاگر کرنے کوشش کی ہے کہ  اگر اسلامی ممالک بالخصوص اور دنیا بالعموم اس نظام زر  کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کر لیتی اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لے سکتی۔  اور اس کا صرف ایک یہی طریقہ ہے کہ دوبارہ سونے کے سکے رائج کیے جائیں۔(ع۔ح)
     

  • ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار،اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ ’’ نظر بد کا لگنا ‘‘ بھی ہے۔  نظر بد ایک ایسا موضوع ہے،جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں،لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں،اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کا غیر شرکیہ علاج جائز ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ نظر بد لگنا حقیقت ہے،کیفیت، بچاؤ، علاج، اعتراضات کے جوابات ‘‘محترم جناب عال سہیل ظفر صاحب کی تالیف ہے۔ موصوف قرآن وحدیث کی اشاعت سلف صالحین کے منہج پر کرنے کےلیے  ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وحدیث اور اقوال صحابہ وتابعین سے دلائل کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا ہے کہ نظر بد لگ جانا شرعی نصوص کی رو سے حق ہے۔اور اس کا شرعی علاج ممکن ہے جوقرآن وحدیث کی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔(ک۔ح)
     

  • 20 عام مسلمانوں کے لیے ضروری اسباق (پیر 10 مارچ 2014ء)

    مشاہدات:2776

    عام مسلمانوں کے لیے  ضروری ہے  کہ وہ اسلام کے بنیادی احکام ومسائل سے   آگاہ ہوں  کہ جن سے ہرمسلمان کو روز مرہ زندگی میں  واسطہ پڑتا  ہے  مثلاً توحید، وضو،نماز،روزہ  وغیرہ کے آحکام ومسائل۔ زیر نظر کتابچہ  شیخ  ابن باز ﷫ کے دورس پر مشتمل  عربی   رسالہ الدروس  المهمة لعامة الامة کا آسا ن فہم سلیس  ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت  محمد شریف بن شہاب الدین  نے حاصل کی  ہے  اس کتابچہ میں  شیخ ابن  بازنے  ایک  مسلمان کے لیے جن  باتوں کا جانناضروری ہے  انہیں اختصار کے ساتھ   مرتب کیا  ہے اللہ  سے دعا کے اللہ تعالی  شیخ ﷫ کے درجات بلند فرمائے  اور اس رسالہ کو  مسلمانوں کے لیے  فائدہ مند بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 21 تفسیر احسن البیان ( تفسیر مکی) (جمعرات 17 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:4056

    امت مسلمہ کی ذلت ورسوائی کا ایک بڑا سبب ،صب تصریح حدیث پاک ،قرآن حکیم سے منہ موڑنا ہے ۔اگر کچھ لوگ قرآن پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی ومفاہیم سے بے خبر ہیں۔ضرورت ہے کہ ہر مسلمان خدا کی آخری کتاب کو سمجھنے کو شش کرے ۔اس کے لیے کسی ایسی مختصر تفسیر کی ضرورت تھی جس کا مطالعہ آسان ہو اور اس کی عبارت عام فہم ہو۔اس ضرورت کو 'تفسیر احسن البیان'نے بہ خوبی پورا کیا ہے ۔یہ معروف عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر ہے۔جس میں منہج سلف کے مطابق قرآنی مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اسی بناء پر سعودی حکومت اسے شائع کر کے حجاج کرام میں تقسیم کرتی ہے ۔زیر نظر نسخہ بھی سعودیہ کا چھپا ہوا ہے ۔خدا کرے کہ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ فلاح وکامرانی ان کا مقدر بن سکے۔(ط۔ا)

     

  • 23 فتنہ قادیانیت کے خلاف عدالتی فیصلے (جمعرات 08 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1699

    اللہ تعالی نے نبی کریم کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کی حقیقت کو جھوٹ وفریب کا بے نقاب کرد یا ۔چنانچہ اس کے خلاف ایک زبر دست تحریک چلی جو اس کے دھوکے اور فریب کو تنکوں کی طرح بہا لے گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے اور اس کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کیا۔اس سے پہلے بھی اس کے خلاف متعدد عدالتی فیصلے آئے ،جنہیں فاضل مولف محمد متین خالد نے اس کتاب میں جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

     

  • 24 غدار پاکستان (جمعہ 09 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2397

    گوئبلز نے کہا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو،اتنا جھوٹ بولو کہ اس پت سچ کا گمان ہونے لگے۔بالکل یہی فلسفہ ڈاکٹر عبد السلام قادیانی کے متعلق اپنایا گیا ہے۔ہمارے نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں نے میڈیا کے ذریعے اس غدار کو ہیرو بنا کر پیش کیا ہے۔ان عقل کے اندھوں سے یہ پوچھنا چاہئے کہ ڈاکٹر عبد السلام نے تمام تر مراعات حاصل کرنے کے باوجود اپنی پوری زندگی کی تحقیق کے بدلے میں عالم اسلام بالخصوص پاکستان کو کیا تحفہ دیا ہے؟ زیر نظر کتاب معروف رائٹر محمد متین خالد کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے انتہائی محنت اور کوشش سے ڈاکٹر عبد السلام قادیانی کی اسلام اور پاکستان دشمنی پر مبنی تاریخی وتحقیقی دستاویز تیار کر دی ہے ،تاکہ بوقت ضرورت کام آوے۔(راسخ)

     

     

  • 25 خضاب کی شرعی حیثیت (اتوار 18 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2332

    شریعت اسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے کو جائز قرار دیا گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:'' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ۔ تابعین اور بعد کے مشاہیر میں ابن سیرینؒ، ابو بردہؒ، محمد بن اسحاقؒ صاحب المغازی، ابن ابی عاصمؒ اور ابن الجوزی بھی کالا خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، ٥/٣٥٥، علامہ مبارک پوری نے اور بھی بہت سے تابعین و مشاہیر کے نام تحریر کیے ہیں۔ ٥/ ٣٥٧۔ ٣٥٨)زیر نظر کتاب (خضاب کی شرعی حیثیت ،کتاب وسنت کی روشنی میں)معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی کی تصنیف ہے...

  • 26 اسلام میں داڑھی کا مقام (منگل 27 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1640

    اللہ تعالی نے مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ایک ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتاب(اسلام میں داڑھی کا مقام) WWW.AHLULHADEETH.NET ویب سائٹ سے ڈاون لوڈ کی گئی ہے اور اس پر کسی مولف کا نام مکتوب نہیں ہے۔ لیکن یہ اپنے موضوع پر ایک شاندار تصنیف ہے۔اس میں داڑھی رکھنے کے وجوب کے دلائل کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔چنانچہ فائدے کی غرض سے اسے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (راسخ)

     

     

  • 27 پیغام توحید و رسالتﷺ (جمعرات 12 جون 2014ء)

    مشاہدات:1129

    تمام انبیاء کرام ﷩ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔زیر نظر کتابچہ ''پیغام ِتوحید ورسالت'' محترم احمد صدیق قصوری کا تالیف کردہ ہے۔جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آیات و احادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز اختیار کرتے ہوئے عقیدۂ توحید ورسالت کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔اس میں تہذیب وترتیب کا کا م حافظ اختر علی ارشد﷾( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ، سابق رکن مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور) نے انجام دیا ہے اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) ( م ۔ ا )

     

  • 28 مختصر فقہ اسلامی (اتوار 08 جون 2014ء)

    مشاہدات:1349

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو اللہ کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے انبیاء ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب (مختصر فقہ اسلامی) سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن ابراہیم بن عبد اللہ التویجری کی کاوش ہے ،جسے انہوں نے معروف فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے قرآنی آیات ،واحادیث نبویہ سے مزین کر دیا ہے ۔اور فروعی مسائل میں صرف ایک ہی قول راجح وصحیح کوبیان کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لئے سمجھنا آسان ہو اور مبتدی قاری اپنا مطلوب پا لے۔انہوں نے اس کتاب کو مختصر اور مفید بنانے کی از حد کوشش کی ہے ،تاکہ اس سے عابد اپنی عبادت کے لئے ،واعظ اپنی وعظ کے لئے ،مفتی اپنے فتوی کے لئے ،معلم اپنی تدریس کے لئے قاضی اپنے فیصلے کے لئے ،تاجر اپنی تجارت کے لئے اور داعی اپنی دعوت کے لئے فائدہ اٹھا سکے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    فقہ 
  • 29 ثبوت حاضر ہیں, قادیانیت (منگل 17 جون 2014ء)

    مشاہدات:2005

    اللہ تعالی نے نبی کریم کو ﷺآخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ ﷺ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔زیر نظر کتاب ’’ثبوت حاضر ہیں‘‘ قادیانیوں کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار محمد متین خالد کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد وعزائم پر مبنی عکسی شہادتیں اکٹھی کر دی ہیں۔اور اس کی طرف سے کئے جانے والے جھوٹے دعوؤں اور کفریہ عقائد و قابل اعتراض باتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،تاکہ ان کے جرائم کو تمام مسلمان پہچان سکیں۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو قادیانیوں کے اس خطرناک فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 30 ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت (بدھ 18 جون 2014ء)

    مشاہدات:2011

    توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت" اردن کے معروف عالم دین محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی کی وش ہے۔اس میں انہوں نے وسیلے کی لغوی واصطلاحی تعریف،وسیلے کی اقسام ،مشروع وسیلہ اور ممنوع وسیلہ وغیرہ جیسی مباحث کو قرآن وسنت کی روشنی میں جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پربڑی مفید اور شاندار ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کے اس عمل پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 31 قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے (جمعہ 20 جون 2014ء)

    مشاہدات:2025

    تمام اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن اللہ تعالی کی کلام ہے اور مخلوق نہیں ہے۔قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ہے؟ اس بحث کا آغاز عباسی دور میں ہوا۔معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق ہے، کلام الہی نہیں ہے۔ان کے ہاں رسول اللہ پر معانی کا القاء ہوتا تھا اور آپ انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیتے تھے۔ مامون الرشید کے دور میں حکومت کا مسلک اعتزال تھا۔ لہذا یہ مسئلہ 827ء میں شدت اختیار کر گیا۔ اور علمائے اسلام سے جبراً یہ اقرار لیا گیا کہ قرآن کلام قدیم نہیں بلکہ مخلوق ہے۔ بہت سے علما نے انکار کر دیا اور قید وبند کی مصیبتوں میں گرفتار ہوئے۔ امام احمد بن حنبل پر بھی اس سلسلے میں بڑے ظلم ڈھائے گئے لیکن وہ اپنے نظریے پر قائم رہے۔زیر تبصرہ مضمون " قرآن مخلوق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین حافظ زبیر علی زئی کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے مدلل گفتگو کرتے ہوئے اہل سنت والجماعت کے عقیدے کو ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید مخلوق نہیں ،بلکہ اللہ تعالی کا کلام ہے۔اس مضمون کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے۔اللہ ان کی اس خدمت کو قبول فرمائے ۔ آمین (راسخ)

  • 32 قرآن مقدس اور حدیث مقدس (بدھ 09 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:1914

    صحیح بخاری وہ عظیم الشان کتاب ہے،جس کی صحت پر تمام اہل علم کا اتفاق ہے،اور اسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا درجہ حاصل ہے۔امام بخاری﷫ نے یہ کتاب محدثین کی ایک جماعت کے سامنے تیار کی ،اور محدثین نے اسے سند صحت سے نوازا۔حافظ ابن حجر﷫،حافظ ابو نصر السجزی﷫،امام ابو عبد اللہ الحمیدی﷫،حافظ ابو بکر الجوزقی ﷫،امام الحرمین الجوینی﷫ اور حافظ العلائی ﷫نے صحیحین کی صحت پر اجماع کا دعوی کیا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی سازشوں اور اعدائے دین کی چالوں سے بے خبر بعض نام نہاد ملا کتب حدیث کی صحت پر نقب لگانے اور انہیں عامۃ الناس کی نظر میں مشکوک بنانے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اسلام کے دشمن ان آلہ کاروں میں سے ایک   نام نہادعلامہ احمد سعید کا ہے ،جس نے بخاری شریف پر طعن کرتے ہوئے اور اس کی متفق علیہ صحت کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے"قرآن مقدس اور بخاری محدث"نامی کتاب لکھ ڈالی،جس میں اس نے حدیث دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے صحیح احادیث پر طعن کے ساتھ ساتھ محدثین کرام پر بھی ایسے زہریلے وار کئے ہیں ،جو کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔چنانچہ خادم حدیث مولانا محمد حسین میمن میدان میں آئے اور اپنی اس کتاب میں علامہ احمد سعید کی لکھی گئی اس حدیث دشمنی پر مبنی کتاب کا مسکت،مدلل اور بھرپور جواب دیکر اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو گئے۔اللہ تعالی مولف کی حدیث کے ساتھ اس محبت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 33 بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ (منگل 15 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2191

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜  کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢  کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر ﷜ نے  بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی  مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں شیخ کفایت اللہ السنابلی  نے  بیس رکعات سے متعلق جو روایات پیش کی جاتی ہیں  دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ پیش کرکے  ثابت کیا ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑہنا نہ تو نبی ًﷺ سے  اور نہ ہی کسی صحابی سے ثابت  ہے  اس کے برعکس نبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہے  ۔(م۔ا)

     

  • 34 صحیح بخاری جلد اول (جمعہ 25 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3837

    امام بخاری  کی شخصیت اور  ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام  بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ  عطا کیا بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے  مختلف انداز میں  مختلف  زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی  کو  امتیازی مقام  حاصل  ہے  ۔اردو زبان میں سب سے پہلے  علامہ وحید الزمان نے  صحیح بخاری کا  ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث  اور  اہل علم نے  صحیح بخاری  کا ترجمہ  حواشی اور شروح  کا کام  سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی  جانے  والی فیض الباری  ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری  اور  حافظ عبدالستار حماد کی شرح بخاری  قابل ذکر ہیں ۔ زیر نظر  کتاب ’’ صحیح بخاری ‘‘ مو لانا  داؤد راز کے  ترجمے ساتھ سات مجلدات پر مشتمل یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں  منفرد نوعیت  کی  حامل ہے ۔محترم سید شاہنواز حسن، محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری حفظہم&nb...

  • 41 سنن ابو داؤد جلد اول (اتوار 27 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2961

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب م...

  • 45 عکسی تصویر یا فوٹو کی شرعی حیثیت (پیر 08 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1616

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امور کے لئے بھی عکسی تصاویر بنواتے اور رکھتے ہیں۔ زیر تبصرہ مضمون " عکسی تصاویر یا فوٹو کی شرعی حیثیت " ابو الوفاء محمد طارق عادل خان﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں تصویر سازی سے متعلق ایک شاندار بحث کی ہے اور اس موضوع کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ان کے مطابق بعض تصاویر حرام ،بعض مکروہ اور بعض مباح یعنی جائز ہیں ۔اور پھر ہر قسم پر قرآن وحدیث سے استدلال کیا ہے۔یہ اپنے موضوع پر ایک مفید بحث...

  • 46 حج و عمرہ زیارت کی خلاف ورزیاں (منگل 16 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1339

    حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے، اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے ۔اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ''حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ اور نہیں ۔لیکن بہت سارے لوگ ان فرائض کی ادائیگی میں بہت ساری غلطیوں اور کوتاہیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔اس موضوع پر اب تک اردو وعربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیرنظر کتاب "حج وعمرہ وزیارت کی خلاف ورزیاں"سعودی عرب کے معروف عالم دین عبد العزیز بن فہد اسلمی ﷾کی کتاب "من مخالفات الحج والعمرۃ والزیارۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت مولانا مشتاق احمد کریمی ﷾نے حاصل کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں حج ،عمرہ اور زیارتوں کے دوران عامۃ الناس کی طرف سے واقع ہونےان مشہور ومعروف غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں ترتیب وار مرتب فرما دیا ہے ،جو عموما لوگوں سے سرزد ہوتی رہتی ہیں،مولف نے اس کتاب میں 53 غلطیوں کی نشاندہی کی ہے تاکہ لوگ دوران حج ،عمرہ وزیارت ان غلطیوں سے بچ سکیں۔اللہ تعالی مولف کو اس کاوش پر جزائے خیر دےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    حج 
  • 47 بشریٰ (ہفتہ 04 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1322

    چونکہ نبی کریم ﷺ کو اللہ  تعالی نے ایک عالمگیر دین دیکر دنیا میں بھیجنا تھا ،چنانچہ ان کی آمد کے تذکرے  تورات وانجیل اور زبور  جیسی آسمانی کتب میں بھی موجود تھے۔انجیل برنا باس اناجیل اربعہ میں  سے سب سے  زیادہ معتبر اور مستند انجیل ہے ،جو سیدنا عیسی  علیہ السلام کی تعلیمات و سیرت اور اقوال کے بہت زیادہ قریب  ہے۔یہ عیسائیوں کی اپنی بد قسمتی ہے کہ وہ اس انجیل کے ذریعہ سے اپنے عقائد کی تصحیح اور سیدنا  عیسی﷤ کی اصل تعلیمات کو جاننے کا جو موقع ان کو ملا تھا اسے محض ضد کی بنا پر انہوں نے کھو دیا ہے۔ اس انجیل میں متعدد ایسی بشارتیں پائی جاتی  ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں برنا باس نے سیدنا عیسیٰ﷤سے روایت کی ہیں ۔ ان بشارتوں میں کہیں سیدنا عیسیٰ﷤نبی کریم ﷺ کا نام لیتے ہیں ، کہیں ’’ رسول اللہ ‘‘ کہتے ہیں ، کہیں آپ کے لیے ’’ مسیح‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ، کہیں ’’قابل تعریف‘‘(Admirable) کہتے ہیں ، اور کہیں صاف صاف ایسے فقرے ارشاد فرماتے ہیں جو بالکل لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے ہم معنی ہیں ۔اسی طرح انجیل  یوحنا میں  تین مقامات  میں لفظ""فارقلیط "" آ یاہے۔ ''فارقلیط''کلمہ ٔ یونانی ہے جس کا معنی کسی شخص کی تعریف اور حمد و ثنا بیان کرنے کے ہیں اور فرانسیسی زبان میں بھی اس لفظ کا معنی ''پاراکلت'' یعنی یونانی ''فارقلیط'' کاہی مفہوم ہے جو عرب...

  • 48 کتا کلچر (جمعہ 10 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1274

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ۔جو      اپنے متبعین کو پاکیزہ رہنے اور پاکیزگی اختیار کرنے اور نجاستوں سے دور رہنے اور بچنے کا حکم دیتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک نجس جانور ہے جس  کی نجاست دیگر تمام نجاستوں سے زیادہ اور غلیظ ہے۔نبی کریم نے فرمایا:جب کتابرتن میں منہ ڈال جائے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی کے ساتھ اس کو مانجھو۔جبکہ اس کے برعکس مغربی تہذیب میں کتے کو ایک وفادار اور لاڈلا جانور سمجھا اور جانا جاتا ہے۔انہوں نے کتے کو انسانی حقوق دینا شروع کردیئے ہیں ۔وہ تمام جانوروں سے بڑھ کر کتے کو چاہتے ہیں،بلکہ انہوں نے کتوں کو انسانی رشتوں کے طور پر قبول کر لیا ہے۔یورپی اقوام کے اس کتا پیار کی وجہ سے ایک نیا کلچر سامنے آیا ہےجو دنیا کے ہر کلچر سے مختلف ہے۔اسی لئے اس کتابچے کا نام "کتا کلچر "رکھا گیا ہے۔اس کتاب میں آپ اسی کلچر کی چند جھلکیاں آپ دیکھیں گے۔ یہ کتاب  "کتا کلچر "محترمہ بنت حامد کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے مغرب کے کتا کلچر کی چند جھلکیاں دکھائی ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ کتے کے ساتھ رہنے کی وجہ سے کتے  کی تمام گندی صفات اہل یورپ میں پائی جاتی ہیں۔اللہ تعالی اہل یورپ کا حقیقی چہرہ دکھانے پر محترمہ بنت حامد کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • 49 آداب نماز اور خشوع و خضوع کی اہمیت و وجوب (ہفتہ 01 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3184

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے   قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس پر  کتب تالیف کی ہیں  نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے  کیونکہ اللہ عزوجل کے  ہاں وہی نماز قابل قبول  ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق  ادا کی جائے گی  اسی لیے آپ ﷺ نے  فرمایا  صلو كما رأيتموني اصلي  لہذا   ہر مسلمان کےلیے  رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری  ہے ۔نماز ایک ایسی اہم عبادت  ہے کہ جس کی ادائیگی اس انداز اورطریقے سے کی جائے  کہ نماز پڑھنے والا  یہ سمجھے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کواپنی  آنکھوں سے دیکھ رہا ہے  اوراگر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی توکم از کم یہ خیال ضرور رہے کہ  اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا رہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم  میں سے  کوئی کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو درحقیقت وہ اپنے رب  سے باتی...

  • امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی ﷫ بغیر کسی اختلاف کے  معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: ’’ اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سےوزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا ‘‘  آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔اس مقام ومرتبے کے باوجود محدثین کرام نے بیان حق کے لئے آپ پر جرح اور تعدیل بھی کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’  الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح والتعدیل  علی ابی حنیفۃ ‘‘  محترم ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے محدثین کرام کی طرف سے  امام ابو حنیفہ  پر کی گئی جرح اور تعدیل کو حوالوں کے ساتھ نقل کردیا ہے۔اور تمام مصادر سے اصل عبارتوں کو بھی ترجمہ کے ساتھ ساتھ نقل کر دیا ہے۔تاکہ اہل علم کے لئے اس استف...

  • 51 الماتریدیۃ جلد اول (جمعہ 19 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1469

    الحمد لله والصلاة والسلام علىٰ رسول الله ﷺأما بعد: فإن كتاب"الماتريدية وموقفهم من الأسماء والصفات اللّهية " للشيخ شمس الدين السلفي الأفغاني رحمه الله من أهمّ الكتب المصنفة في فهم عقيدة السلف الصّالح وردّ شبهات الزائغين عنها ولكن مع الأسف أن الطبعة الأولىٰ من هذا الكتاب التي نشرته مكتبة الصديق بالطائف عام1431هـ-1993ء كانت مليئة بالأخطاء المطبعية حتىٰ بلغت أخطائها قريبا من 450 خطأ فربما يصعب على القارئ فهم مراد المؤلف في بعض المواضع وبعد مدة طويلة قد طبع الكتاب بعد إصلاح أخطائه و تصحيحها فعلىٰ قارئيه و المستفيدين منه و المحبين لعقيدة السلف أن يختاروا هذه الطبعة الجديدة لأنها طبعة جيدة خالية صافية عن الأخطاء فليسهل عليهم فهم المراد من الكتاب - (إن شاء الله تعالىٰ) علما أنه يوجد هذا الكتاب على انترنت من قبل الذي طبع من المكتبة المذكورة مليئة بالأخطاء المطبعية- فلفت أنظارنا الشيخ أبو سيف جميل (أستاد الحديث والفقه في جامعة الدعوة الإسلامية، باكستان خريج من الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة) إلى الطبعة المصححة وأرسلها إلينا فصورناها ونقدمها على انترنت لیستفد الناس من طبعة جديدة خالية عن الأخطاء

     

  • 54 ایصال ثواب اور اس کی حقیقت (جمعہ 12 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3107

    مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"...

  • 55 درایت تفسیری (جمعرات 18 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:1894

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم  محدث ،مجتہد مفتی اور  محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ  وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعال...

  • 56 احمدیت کیا ہے (جمعہ 06 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1687

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں۔جن کی آمد سے سلسلہ نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب "احمدیت کیا ہے؟ " اسی قادیانی فتنے  کی حقیقت پر لکھی گئی ہے۔جو محترمہ عابدہ سلطانہ  کی کاوش ہے۔مولفہ موصوفہ نے اس میں ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ ،مسئلہ ختم نبوت قرآن مجید کی رو سے،ختم نبوت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات،اجماع صحابہ،اجماع امت، اعلان نبوت سے قبل مرزا صاحب کے خیالات،اعلان نبوت کے بعد مرزا صاحب کے خیالات،امیر جماعت احمدیہ کے فرمودات اور احمدیوں کے سیاسی عزائم وغیرہ جیسے موضوعات کو بیان کرتے ہوئے قادیانی کلچر سے متعلق ہوش ربا مشاہدات وتجربات  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی  تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 57 شہاب نامہ (پیر 02 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3578

    قدرت اللہ شہاب پاکستان کے قیام سے قبل بطور آئی سی ایس آفیسر ہندوستان میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے ہیں ۔پاکستان کے معرضِ وجودمیں آنے کے بعد وہ پاکستان تشریف لے آئے اور صدرمحمد ایوب کے دور تک وہ اعلیٰ عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں ۔اپنی زندگی کے ان اہم ادوار کو انہوں نے اپنی مشہورِزمانہ کتاب ”شہاب نامہ “ میں بڑی تفصیل سے بیان کیاہے جو تاریخ کے قاری کے لیے نہائت معلومات افز ا اور پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کے کردار کو جاننےکے لیے ایک بہترین کتاب ہےشہاب نامہ در اصل قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت کہانی ہے۔ یہ کتاب مسلمانانِ برصغیر کی تحریک آزادی کے پس منظر ، مطالبہ پاکستان، قیامِ پاکستان اور تاریخ پاکستان کی چشم دید داستان ہے۔ جو حقیقی کرداروں کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔ شہاب نامہ دیکھنے میں ضخیم اور پڑھنے میں مختصر کتاب ہے۔ شہاب نامہ امکانی حد تک سچی کتاب ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے کتاب کے ابتدائیہ میں لکھا ہے کہ:’’میں نے حقائق کو انتہائی احتیاط سے ممکنہ حد تک اسی رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس رنگ میں وہ مجھے نظرآئے۔‘‘جو لوگ قدرت اللہ شہاب کو جانتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ ایک سادہ اور سچے انسان کے الفاظ ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب میں وہی واقعات لکھے ہیں جو براہِ راست ان کے علم اور مشاہدے میں آئے اس لئے واقعاتی طور پر ان کی تاریخی صداقت مسلم ہے۔ شہاب نامہ کے حسب ذیل چار حصے ہیں۔(١)قدرت اللہ کا بچپن اور تعلیم۔ (٢)آئی سی ایس میں داخلہ اور دورِ ملازمت۔ (٣)پاکستان کے بارے میں تاثرات۔ (٤)دینی و روحانی تجربات و مشاہدات۔ان چاروں...

  • 58 قرآنی دعائیں اور ان کی تاثیرات (منگل 03 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2225

    قرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آیا۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ   ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔قرآنی دعاؤں میں ہمارے رب کریم نے طلب کےپیمانے بھی ہمیں خود عطا کیے او رعطا کرنے والے کی وستعوں کے بحربے کراں کا توکوئی حساب شمار ہی نہیں اس لیے قرآنی دعاؤں کی بہت عظیم تاثیرات ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’قرآنی دعاؤں کی تاثیرات ‘‘ جناب حافظ مظفر احمدکی کاوش ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کردہ قرآنی دعاؤں کی تاثیر ات کو احادیث کےحوالہ جات سے پیش کیا ہے۔ موصوف نے اس میں ادعیہ قرآنی کو جامع عناوین کے تحت پیش کرتے ہوئے آخر میں حروف تہجی کے لحاظ سے دعاؤں کا انڈکس بھی پیش کردیا ہے ۔ تاکہ پہلا لفظ یاد ہونے کی صورت میں بھی فوری طور پر مطلوبہ دعا عنوان کے تحت تلاش کی جاسکے ۔اور کتاب کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں جو دعا جس نے جس موقعہ پر کی اس کو حوالے کے ساتھ بیان کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)

  • 59 قنوت نازلہ کی دعائیں (بدھ 04 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3380

    نازلہ مصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت دعا کو، اس لیے قنوت نازلہ کا معنی ہے۔ مصائب میں گھر جانے اور حوادث روزگار میں پھنس جانے کے وقت نماز میں اللہ تعالیٰ سے ان کے ازالہ و دفعیہ کی التجا کرنا اور بہ عجزو انکساری ان سے نجات پانے کے لیے دعائیں مانگنا۔پھر مصیبتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً دنیا کے کسی حصہ میں اہل اسلام کے ساتھ کفار کی جنگ چھڑنا ان کے ظلم و ستم کا تختہ مشق بن جانا، قحط اور خشک سالی میں مبتلا ہونا، وباؤوں اور زلزلوں اور طوفان کی زد میں آ جانا وغیرہ۔ ان سب حالتوں میں قنوت نازلہ پڑھنی مسنون ہے اور نبیﷺ، صحابہ کرام اور سلف امت کا یہی معمول تھا ۔ اس کا مقصد فقط یہی ہے کہ مسلمان اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ خدا سے معافی مانگیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام پر رحم و کرم فرمائے اور ان کو ان مصائب اور تکالیف سے نجات دے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد امام سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ.. الخ سے فارغ ہو کر بلند آواز سے دعاء قنوت پڑھے اس کے ہر جملہ پر سکوت کرے اور مقتدی پیچھے پیچھے بآواز بلند آمین کہتے رہیں۔ آں حضرت ﷺاور آپ کے صحابہ کرامؓ سے یہی طریقہ ثابت ہے – قنوت نازلہ سےمقصود مظلوم ومقہور مسلمانوں کی نصرت وکامیابی اور سفاک وجابر دشمن کی ہلاکت وبربادی ہے اس مقصد کو جو بھی دعا پورا کرے وہ مانگی جاسکتی ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں قنوت نازلہ کےحوالے سے کچھ دعائیں جمع کردی گئی ہیں تاکہ قارئین کے لیے انہیں یاد کرنے میں آسانی رہے اور ائمہ مساجد کافروں سے برسر...

  • 60 قرآنی عربی پروگرام جلد اول (پیر 20 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2006

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشا...

  • 61 قرآنی عربی پروگرام جلد اول ( جوابات ) (پیر 20 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1520

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب  کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور  فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے  اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے  مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشا...

  • 70 یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں (پیر 04 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1432

    14 مئی 1948ء وہ المناک دن تھا، جس نے مشرقِ وُسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اُس روز شہر تل ابیب کے ایک عجائب گھر میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ محض چند ایک غیر واضح بلیک اینڈ وائٹ تصاویر، ہلتے ہوئے کیمرے سے بنی ایک مختصر سی فلم اور انتہائی خراب کوالٹی کا صوتی ریکارڈ ہی اِس واقعے کے گواہ ہیں۔ ان تصاویر میں یہودیوں کی خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے پیچھے دیوار پر صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہیرسل کی تصویر آویزاں ہے۔ بن گوریان کے بائیں ہاتھ میں وہ دستاویز ہے، جس پر اعلانِ آزادی کی عبارت درج ہے۔ بن گوریان نے کہا تھا: ’’اسرائیل ہی میں یہودی قوم نے جنم لیا تھا اور یہیں اُس کے فکری، مذہبی اور سیاسی وجود کی آبیاری ہوئی۔‘‘ اور یہ کہ طاقت کے زور پر در بدر کی جانے والی یہودی قوم جلا وطنی کے دور میں بھی اپنے آبائی وطن کے ساتھ وفاداری کا دم بھرتی رہی۔ مزید یہ کہ اُس کی اپنے وطن واپسی کی امید ہمیشہ زندہ رہی۔ پھر بن گوریان نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اعلان کیا:’’ہم یہاں اسرائیلی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ ہے ریاست اسرائیل۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں " شیخ عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی ناجائز ریاست اور تباہ کاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)

  • 71 جرابوں پر مسح جائز ہے ؟ (جمعہ 29 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1297

    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب"جرابوں پر مسح جائز ہے؟"محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف...

  • 72 خارجیت جدیدہ کا عظیم فتنہ (بدھ 06 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2042

    متوازن فکر اور معتدل سوچ اور پھر ان کے مطابق رویہ بنانا انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ معتدل سوچ اور معتدل رویہ انسان کے لیے کامیابی کی دلیل ہوتی ہے اور ضمانت بھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انساان بلاوجہ لوگوں کی دل آزاری اور فکری و ذہنی انتشار کا سبب نہیں بنتا ہے اور نئی الجھنیں اور پریشانیاں نہیں لاتا ہے۔ عدم توازان کی ایک نہایت سطحی شکل یہ ہے اور وہ بھی فساد عام کا نتیجہ ہے کہ انسان دین کے نام پر کسی معمولی سی بات کو اساسی اور اصولی مسئلہ بنا دے، یا ایک مباح شے کو عین اسلام یا عین کفر بتانا شروع کردے۔باہمی نزاعات کو عین دین بتانا شروع کردے، کفر سازی اور فتنہ سازی کو مہم جوئی بنا ڈالے۔ علم کی بو بھی سونگھنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن علّامہ بننے کی کوشش کرے۔ دعوت و افتاء کا کاروبار کرنے لگے اور اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر لوگ اچھلنا شروع کردیں۔بے اعتدالی کی یہ ساری شکلیں اس وقت علمی و دعوتی دائرے میں نظر آتی ہیں اور ان پر اتنا اصرار ہے کہ خارجیت شاداب ہورہی ہے اور اس کے علائم صاف نظر آرہے ہیں۔ عالم اسلام ان دنوں بڑی ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے۔ قدم قدم پہ مسائل کا انبار اور  خارجی سازشوں سے لے کر داخلی پریشانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دراز ہوتا جاتا  ہے۔ یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک...

  • 73 پیارے نبی کی پانچ پیاری نصیحتیں (جمعہ 08 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2027

    ویسے تو نبی کریم ﷺ کی تمام باتیں اور نصیحتیں اپنے موقع محل میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں او رآ پ کے ارشادات وفرمودات وہ مشعل ہدایت ہیں جن کی روشنی میں انسان کو اپنی فلاح وبہبود کی منزلیں نظر آتی ہیں ۔ آپ کی ہر پند ونصیحت میں اسرار وحکم کے سمندر موجزن ہیں۔ آپ کاکوئی بھی ارشاد حکمت ومصلحت سے خالی نہیں۔ اور کیوں نہ ہو جب کہ آپ ﷺ کی مقدس زبان وحی کی ترجمان ہے۔ آپ کی زبان مبارک سے وہی باتیں نکلتی ہیں جو اللہ چاہتا ہے۔اس لیے آپﷺ کا ہر قول اور فرمان انسان کےلیے متاع دنیا وآخرت ہے ۔ زیرنظر کتابچہ نبی کریم ﷺ کی ان پانچ نصیحتوں پر مشتمل ہے جن پر اگر ہم عمل کریں تو ہمارے معاشرے کی غلیظ وادیاں رشک بہشت بن جائیں۔ اور ہمارے بہکے ہوئے افکار وتصورات صحیح ڈھرے پر لگ جائیں اور ہمارے عادات واطوار چال چلن رہن سہن یہاں تک کہ ہماری زندگی کے ہر گو شے میں ایک انقلاب عظیم برپا ہوجائے اور ہم پھر اپنی کھوئی ہوئی ریاست دوبارہ حاصل کرلیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا جلال الدین قاسمی صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بنائے (آمین)

  • 74 موازنہ (پیر 01 جون 2015ء)

    مشاہدات:950

    معرکہ حق وباطل ہمیشہ سے جاری اور قیامت تک جاری رہے گا۔کچھ لوگ شیطان کی پوجا کرتے ہیں تو کچھ رحمن کے پرستار ہیں۔علماء کی بھی دو اقسام ہیں ۔بعض اہل علم خالصتا شریعت کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاتے ہیں تو بعض نام نہاد علماء سوء نے اپنی خواہشات نفس کو دین بنا رکھا ہے اور لوگوں میں شرک وبدعات  اور تفرقہ بازی کو عام کر ہے ہیں۔ان فرقہ پرست علماء کا اصل دشمن وہ ہے جو لوگوں کو قرآن وحدیث کی صحیح باتیں بتائے اور طاغوت کی نشان دہی کرائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ "موازنہ" محترم برکت اللہ پانی پتی آف گوجرانوالہ کی کاوش ہے جس میں انہی علماء سوء کے افکار ونظریات کا قرآن وحدیث کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے کہ کہاں کہاں ان کے نظریات اسلامی شریعت اور قرآن وحدیث سے متصادم ہیں۔مولف نے اس کتابچے میں ایک منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے ٹیبل بنا دئیے ہیں جس میں ایک طرف قرآن وحدیث کا موقف پیش کرتے ہیں اور  پھر اس کے سامنے ہی دوسرے ٹیبل میں ان علماء سوء کا قرآن وحدیث سے متصادم موقف پیش کر دیتے ہیں تاکہ ہر صاحب دانش شخص ان کے غیر شرعی افکار ونظریات سے بخوبی آگا ہ ہوجائے اور دونوں کا باہمی موازنہ بھی کر سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 75 رد بدعات ( عبد اللہ روپڑی) (منگل 02 جون 2015ء)

    مشاہدات:1739

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو...

  • 76 معراج المومنین کتاب الصلٰوۃ (پیر 08 جون 2015ء)

    مشاہدات:1100

    نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے ۔ کلمہ توحید کے  اقرار کےبعد  سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے  نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔  قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے ۔نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس  موضوع پر  کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے  کیونکہ اللہ عزوجل کے  ہاں وہی نماز قابل قبول  ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق  ادا کی جائے گی ۔او ر  ہمارے لیے  نبی اکرم ﷺکی  ذات گرامی  ہی اسوۂ حسنہ  ...

  • 77 ذرا سوچئے! (اتوار 10 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1067

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔اسلام ہر انسان کی فلاح وبہبود اور کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ہر انسان فطری اور طبعی طور پر کامیابی چاہتا ہے اور ناکامی سے دور بھاگتا ہے۔لیکن ایک عام انسان اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ آخر اسے یہ کامیابی ملے گی کہاں سے۔ہر انسان اپنی عقل وفکر کے گھوڑے دوڑا کر کامیابی تک پہنچنا چاہتا ہے۔کوئی مال میں کامیابی تلاش کر رہا ہے تو کوئی دکان مکان میں اور کوئی سلطنت اور حکومت ،لیکن تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی چیز میں کامیابی نہیں ہے۔کامیابی صرف اور صرف اسلام کے مطابق زندگی گزارنے میں پنہاں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ذرا سوچئے!"اسی فکر اور جذبے کے تحت لکھی گئی ہے جس میں کامیاب زندگی کے راز بتلائے گئے ہیں۔ یہ کتاب کسی ایک کی...

  • دیہاتوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے علماء احناف ہمیشہ سے تردد کا شکار رہے ہیں اورمختلف شرائط بیان کرتے چلے آئے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ظہر احتیاطی پڑھتے ہیں۔ان کی نظر میں اگرچہ جمعہ کی کچھ اہمیت نہیں ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسےجمعہ کے دن کی فضیلت باقی دنوں پر ہے،لیلۃ القدر کی فضیلت باقی راتوں پر ہے،اسی طرح نماز جمعہ کو باقی نمازوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کو اہمیت نہ دینا اور معمولی شبہات کی بناء پر اس میں سستی کرنا یا بالکل ترک کر دینا بلکہ پڑھنے والوں سے چھڑانے کی کوشش کرنا یہ ڈبل غلطی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ " مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾کے تایا جان اورہندوستان کے معروف عالم دین حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے ،جو مولوی احمد علی صاحب بٹالوی﷫ پروفیسر دینیات اسلامیہ کالج لاہور کی کتاب ""نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ"کے جواب میں لکھی ہے۔مولوی احمد علی صاحب﷫ نے اپنی اس کتاب میں ظہر احتیاطی پڑھنے  کی ترغیب دیتے ہوئے فرضیت جمعہ سے خوب ہاتھ صاف کیا ہے اور اس کو اتنا کمزور دکھایا ہے کہ وہ اس میں نفل کی جھلک بھی نظر نہ آئے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں شرائط جمعہ پر بحث کرتے ہوئے علماء احناف کے تمام رسائل جو ہندوستان میں شائع ہو چکے تھے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا مکمل جواب دیا ہے۔اللہ  تعالی سے دعا ہے کہ وہ  ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں...

  • 79 رہنمائے حج ، عمرہ و زیارت مسجد نبوی (جمعرات 25 جون 2015ء)

    مشاہدات:1365

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے ۔یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے  او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے  تاکہ وہ  حقوق اللہ  اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ  استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن  ہے بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے۔حج زندگی  میں ایک دفعہ ہر اس  شخص پر فرض ہے حوزادِ راہ رکھتا ہو۔ کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جو مانع سفر ہو اور راستہ میں ایسی رکاوٹ نہ ہو جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو ۔ایسی تمام رکاوٹیں موجود نہ  ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص بغیر حج کے مرجائے تو اس کی موت یہودی اور عیسائی کی طرح ہے۔  اجر وثواب کے لحاظ    سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز  روزہ  صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ  فقط مالی عبادت ہے ۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی  اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ ...

  • 80 مسائل مقروض (اتوار 05 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1221

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے بنی نوع انسان کی خیر وبھلائی اور رشد وہدایت کے لئے کامل واکمل اور بہترین تعلیمات وہدایات فراہم کی ہیں۔اسلام تمام انسانوں کے حقوق وفرائض کا خیال رکھتا ہے اور کسی کو کسی پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی سے قرض لیتا ہے تو اسلامی نقطہ نظر سے اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ وقت مقررہ پر اپنا قرض واپس کرے،کیونکہ قرض کا تعلق حقوق العباد سے ہے اور حقوق العباد اس وقت تک اللہ تعالی نے معاف نہیں کرنے جب تک وہ متعلقہ بندہ خود معاف نہ کر دے یا اس کی تلافی نہ کر لی جائے۔نبی کریم ﷺ ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے جس پر قرض ہوتا تھا۔میت کا قرض ادا کرنا اسے کے ورثاء پر لازم اور واجب ہے،اور وہ قرض وراثت تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی میت کے ترکہ سے ادا کیا جا ئے گا۔ زیر تبصرہ کتاب" مسائل مقروض" گوجرانوالہ کے رہنے والے محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے مقروض کے مسائل کو بیان کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے مقروض شخص  کے حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    قرض 
  • 81 قرآن اور بائبل کے دیس میں حصہ اول (اتوار 29 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:1334

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآ...

  • 82 قرآن اور بائبل کے دیس میں حصہ دوم (پیر 30 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:1310

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔ تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قر...

  • 83 رحمانی دعائیں (جمعرات 27 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1181

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیرنظر کتاب ’’رحمانی دعائیں‘‘ برصغیر پاک وہندکےمشہور روپڑی خاندان کےایک بزرگ حافظ عبد الرحمن امرتسری ﷫ برادر خودر حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ اس رسالہ کو انہوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول میں دعائیں نازلہ یا ہنگامی حصہ دوم دائمی دعائیں حصہ سوم میں قرآن کی دعائیں جمع کی ہیں ۔ اور کتاب کےآغاز میں درج ذیل عنوانات بھی قائم کیے ہیں دعاؤں اور ذکر الٰہی میں فرق، دعاؤں میں غیر شرعی طریقے ، دعاؤں کے آداب ،مسلم اور غیر مسلم کی دعاؤں میں قبولیت کا فرق،توحید اورشرک میں فرق،غیر مسلموں کی مقبول دعائیں وغیرہ ۔(م۔ا)

  • 84 نماز کے بعض اہم مسائل (جمعہ 04 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1777

    نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي۔ لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ نماز کے بعض مسائل پر مختلف علمائے کرام نے مستقل رسالے او رکتابچہ تحریر کیے ہیں زیر تبصرہ کتابچہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ مختصر رسالہ نماز کےحسب ذیل مسائل پر مشتمل ہے ۔1۔ موزوں اور جرابوں پر مسح ؍از مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ 2۔کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا اور اس کاشرعی حکم؍ شیخ فہد بن عبد الرحمن الشویب 3۔سجدۂ سہو کا بیان؍ شیخ عبد الرحمٰن عزیز 4۔جماعت میں شریک ہونےکا بیان؍ شیخ عبد الرحمٰن عزیز۔اس کتابچہ میں مذرکو ہ ان چاروں مسائل کو احادیث نبویہ، اقوال صحابہ وائمہ کی روشنی میں اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قارئین کے لیے اسے نفع بخش بنائے (آمین)

  • وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے،تقوی اور دیگر خصال خیرپر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔"اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ،ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جائے۔اسی طرح منھیات ومحرمات کے اجتناب سے بھی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کریم ﷺکو عطا فرمایا جائےگا،اسی لیےآپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لیے یہ دعائے وسیلہ کرےگا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔شریعت اسلامیہ میں وسیلے کی دو قسمیں ہیں۔پہلی قسم جائز اور درست وسیلے کی ہے جبکہ دوسری قسم ناجائز اور ممنوع کی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ" قرآن کریم، اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق "وسیلہ" کیا ہے؟" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کی حقیقت کوقرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی ﷺ کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لئے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے۔کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لئے فنا ہے نہ آپﷺ پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالی نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم ﷺ پردرود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بیشک اللہ اور ا س کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں،اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔اسی طرح مستند احادیث سے درود و سلام کے فضائل ثابت ہیں۔ لیکن درود وہ پڑھنا چاہئے جو خود نبی کریم ﷺ نے سکھلایا ہے۔آج کل لوگوں نے بے شمار نام نہاد درود بنا لئے ہیں ، جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام ، معنی ومفہوم، صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد، اعمال اور مسائل" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے صلاۃ وسلام کے معنی ومفہوم اور اس کے بارے میں صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد اور اعمال کو ایک جگہ فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 87 سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت (اتوار 18 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1532

    دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر رکھنے کی صلاحیت ایک ایسی صلاحیت ہے جو اعلیٰ انسانی خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔ وہ لوگ جو سماج میں اعلیٰ رتبوں پر فائز ہوتے ہیں ان میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے اچھے تعلقات بنا کر رکھتے ہیں اور وہ ایسا صرف اپنے عہدوں کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ ان کی کامیابی اور سماجی مرتبے کی وجہ ہی بنیادی طور پر یہی ہوتی ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں سے بآسانی میل جول بڑھا سکتے ہیں۔ گھریلو اور دفتری تعلقات کے علاوہ انسان کو بہت سے دیگر تعلقات بھی نبھانا پڑتے ہیں۔ دوستوں اور شناساؤں کے علاوہ کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے روز آپ کا واسطہ پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر لفٹ مین، مالی، گھریلو ملازم اور گارڈ وغیرہ۔ بازار جائیں تو وہاں دکانداروں، سیلزمینوں اور ان کے مددگاروں سے بات کرنا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ گوالا جو آپ کو دودھ دینے آتا ہے، وہ ڈاکیا جو آپ کے خط گھر چھوڑنے آتا ہے اور وہ دھوبی جو آپ کے کپڑے دھو کر گھر دے جاتا ہے اس سے بھی ملنا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ تعلقات گہرے نہیں ہوتے اور انہیں متعین بھی نہیں کیا جا سکتا مگر بہر حال یہ سب تعلق ہماری زندگی کا حصہ ہیں جو اگر زندگی سے نکل جائیں تو کئی قسم کی مشکلات سے ہمارا پالا پڑ جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت " پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر محترم المقام عبدالعزیز ابراہیم الغدیر صاحب کی عربی تصنیف "الحوار والتواصل" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم سعید الرحمن صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب کو انہوں نے پاکستانی معاشرے کے نام منسوب کیا ہے اور اس میں سم...

  • 88 کلمہ توحید کا فکری پہلو (جمعہ 04 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1319

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق  باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا  ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ   اَللّٰہُ الصَّمَدُ  لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ  وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی ﷫توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف...

  • 89 الجبت و طاغوت جادو اور شیطان (بدھ 09 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1872

    کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ دین کے بارے میں اکثر مسلمانوں کا رویہ مثبت نہیں ہے۔اس سلسلے میں ایک تو ہماری معلومات بہت کم  ہیں۔اس قدر کم کہ انہیں واجبی بھی نہیں کہا جا سکتا ۔دوسرے دین کے نام پر ہم جس طرح کے قول وفعل کا مظاہرہ کرتے ہیں اسے خالص دین ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ جو کچھ ہم پیش کرتے ہیں وہ عموما افراط وتفریط پر مبنی ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نہ توعقائد میں متوازن ہیں اور نہ ہی اعمال میں مقتصد ہیں۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الجبت وطاغوت، جادو اور شیطان "ایک گراں قدر تحقیقی مق...

  • 90 تحریک مجاہدین جلد پنجم (اتوار 17 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1015

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبر...

  • 91 تحریک مجاہدین جلد ششم (پیر 18 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1227

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحیدِ خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل شہید تھے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبر...

  • 92 رسومات محرم اور تعزیہ داری (ہفتہ 09 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1301

    اسلام ایک امن وعافیت اور خیر وسلامتی کاکامل دین ہے۔ اور رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد ہی تزکیہ نفوس اور اصلاح عقائد تھا۔آپﷺ کی آمد سے لوگوں کو ایک مقصد حیات ملاآپ ﷺ نے معاشرے سے اخلاقی بحران کا خاتمہ کیا۔ اسی وجہ سے جب تک بنی آدم محمد عربیﷺ کی تعلیمات پر عمل کاربند رہے وہ صراط مستقیم پر گامزن تھےاور جب نام نہاد علماء نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹے قصے کہانیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا تو دین میں بدعات و خرافات کا دور دورہ ہوا۔ جہاں مختلف گروہ اسلام کی مخالفت پر برسر میدان ہیں وہاں ایک گروہ اہل تشیع بھی ہےجس کے گمراہ کن عقائد و نظریات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔اہل تشیع نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، عقیدت اہل بیت وغیرہ کی آڑ میں اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ماہ محرم میں اہل تشیع ماتم، نوحہ خوانی،مجالس کا انعقاد،تعزیہ داری کرنے وغیرہ کو عبادات کا درجہ دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "رسومات محرم و تعزیہ داری" محمود احمد عباسی مرحوم کی تصنیف ہے۔ موصوف نے قرآن وسنت ،آثار صحابہ، تابعین اور علماء کے فتوجات سے اہل تشیع کا مجالس،تعزیہ داری اور دیگر رسومات محرم کو ناجائز اور حرام قرار دیاہےاور شیعوں کے مغالطات کا زبردست تعاقب کیاہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (عمیر)

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، تعارف"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعارف پر،پانچ...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، اہل سنت، اہل تشیع اور اباضی"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر،بریلوی، دیو بندی،اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی م...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، انکار سنت ، انکار ختم نبوت اور اسلام"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظ...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، فقہی مکاتب فکر"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظاہری اور جعفری کے تعار...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، سیاسی، عسکری، دعوتی اور فکری تحریکیں"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظ...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، سیاسی، عسکری، دعوتی اور فکری تحریکیں"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبلی،ظ...

  • زیر تبصرہ کتاب "مسلم دنیا میں پائے جانے والے گروہوں کا تقابلی مطالعہ، روایت پسندی، جدت پسندی اور معتدل جدیدیت"محترم جناب مبشر نذیر صاحب کے اس انٹر نیٹ تصنیفات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، جس میں انہوں نے مسلم دنیا میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کی تاریخ، پس منظر اور عقائد کو تفصیل کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔مولف کے بقول اس کتاب کو لکھنے کا مقصد امت مسلمہ کے مختلف گروہوں اور مکاتب فکر کے مابین جو اختلافات پائے جاتے ہیں ، ان کا ایک غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا اور ان کے نقطہ ہائے نظر کے ساتھ ساتھ ان کے استدلال کا جائزہ لینا ہے۔اس کتاب میں مولف نے کوشش کی ہے کہ تمام نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی اضافے یا کمی کے بیان کر دیا جائے۔ان کے بنیادی دلائل بھی جیسا کہ ان کے حاملین بیان کرتے ہیں، واضح طور پر بیان کر دئے جائیں اور کسی بھی معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا جائے کہ کونسا نقطہ نظر درست ہے اور کونسا  غلط ہے، بلکہ  یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔اس کتاب کے آٹھ حصے ہیں  جن میں سے پہلا حصہ  اس کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے، جبکہ باقی سات حصے مختلف گروہوں کے تعارف پر مبنی ہیں۔ان ساتوں میں سے پہلا حصہ ماڈیولCS01:اہل سنت، اہل تشیع اور اباضیوں کے تعارف پر، دوسرا حصہ ماڈیولCS02:اہل سنت کے ذیلی مکاتب فکر، دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور ماورائے مسلک حضرات کے تعارف پر، تیسرا حصہ ماڈیولCS03:انکار سنت، انکار ختم نبوت اور مین اسٹریم مسلمانوں کے تعارف پر، چوتھا حصہ ماڈیولCS04:فقہی مکاتب فکر، حنفی ، مالکی، شافعی، حنبل...

  • 101 عقائد شیعہ اثنا عشریہ سوالاً جواباً (پیر 01 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3256

    اسلام کی فلک بوس عمارت عقیدہ کی اسا س پر قائم ہے ۔ اگر اس بنیاد میں ضعف یا کجی پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عقائد کی تصحیح اخروی فوز و فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی جانے والی برگزیدہ شخصیات سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ معظمہ میں تیرا سال کا طویل عرصہ صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم سامنے آئے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب’’عقائد شیعہ اثناعشریہ سوالاً جواباً ‘‘ مدینہ یونیورسٹی کےاستاد عبدالرحمٰن الشثری کی تصنیف کاترجمہ ہے۔اس کتاب میں مصنف موصوف نےشیعہ کے ایک فرقہ اثنا عشریہ کے اعتقاد پر علمی انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ فاضل مصنف نے انتہائی عرق ریزی کے ساتھ شیعہ مذہب کے بانی سے لے کر تحریف قرآن تک کے تمام عقائد پر تفصیلی مباحث پیش کی ہیں۔ مصنف نے کتاب میں اپنی نگارشات قلمبند کرتے ہوئے قدرے مختلف اسلوب اختیار کیا ہے اور شیعی عقائد سے متعلق تمام مواد کو سوالاً جواباً قلمبند کیا ہے۔یہ کتاب شعیہ کےعقائد ونظریات کےحوالے سے 164 سوالات اوران کےجوابات پرمشتمل ہے۔اس کتاب کو اپنی جامعیت اورافادیت کے باع...

  • 103 بے لوث نمبر بجواب غوث نمبر (رفیق خاں) (ہفتہ 16 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:796

    اسلامی تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کائنات کلی کا مالک حقیقی ہے تمام تر اختیارات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ تمام جہانوں کا خالق و مالک وہی اکیلا و یکتا ہے وہی موت و حیات ‘صحت و تندرستی مصائب و مشکلات کو ٹالنے والا ہے۔ ایک مومن و مسلمان کا یہی عقیدہ ہے اسی پر چل کر کامیابی و کامرانی مل سکتی ہے اس کے علاوہ غیر اللہ کی پوجا و پیروی کرنے سے گمراہی اور ناکامی اس کا مقدر بن جائے گی۔ بد قسمتی سے اسی طرح کا عقیدہ مشرکین مکہ کا تھا جو غیر اللہ کو خدائی صفات کا حامل مان کر ان سے اپنی حاجات و منات بجا لاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوتے۔ اسی شرک سے منع کرنے اور توحید الوہیت و ربوبیت اور اسماء و صفات کی بنیادی تعلیم کے لیے انبیاء و رسل کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو حضرت آدم ﷤ سے لے کر آخری نبی ﷺپر اختتام پزیر ہوا۔ یہی بنیادی عقیدہ تھا جس پر آپنے بھی دشمن بن گئے طائف کی وادیوں میں لہو لہان کیا گیا۔ مگر افسوس کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت و عقیدت کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد مسلمان آج اسی بنیادی عقیدہ کو مسخ کرنے کے در پہ ہیں۔ محبت رسولﷺ کے نام پہ آج بدعات و خرافات اور تفسیر و تاویل باطلہ کا اس قدر طوفان کھڑا کر دیا کہ اسلامی روایات داؤ پہ لگنے لگیں۔ جیسا کہ بریلوی مکتبہ فکر کا پندرہ روزہ مجلّہ (رضوان) جس کے مدیر سید محمود احمد صاحب رضا خانی ہیں اس رسالہ کےخصوصی شمارے جو کہ ستمبر 952ء میں (غوث اعظم نمبر) کے موضوع پرشائع ہوا جس میں   مندرجہ ذیل من گھڑت کرامات کے سا تھ پیر عبد القادر جیلانی﷫ کی شخصیت کو خدائی صفات کا حامل مانا گیا ہے...

  • 104 جشن عید میلاد (منگل 02 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1038

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرمﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کو عملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھامنے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت نبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کو چھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبیﷺ اور جشن مناتے ہیں۔ عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریمﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ او...

  • 106 اسلامی آداب (بدھ 17 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1533

    ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اگر بچے کی شروع سے اچھی تربیت کی جائے اس میں حق ، نیکی اور خیر کو ترجیح دینے کا جذبہ پیدا کیا جائے تو یہ کام اس کی عادت میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ پھر اس میں حلم ، حوصلہ ، صبر،تحمل، بردبار ، کرم شجاعت اور عدل و احسان جیسے اخلاق حسنہ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر بچے کی تربیت مناسب انداز سے نہ کی جائے تو وہ بری عادت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وہ خیانت، جھوٹ، بےصبری، لالچ، زیادتی اور سختی جیسے اخلاق سیئہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ چناچہ اسلامی تعلیمات کے گزارنے کے لیے اوراپنی زندگی میں اسلام پرعمل کرنے کے لیے ہمیں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ کی زندگی پرعمل پیرا ہونا ہوگا ۔ اپنے بچوں اور اپنے سامنے حضور کی حیات مبارکہ کو ماڈل بنانا ہو گا ۔ آپ ﷺ نے ہمارے لئے زندگی کے ہرشعبہ میں اعلیٰ اور مثالی نمونے چھوڑے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ آپ ﷺ کے بہترین فرمودات بھی موجود ہیں ۔ جن پر عمل کر کے ہم اپنی زندگیوں کو ایک جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی آداب‘‘حافظ نذر احمد ‎﷫ کےقائم کردہ ادارہ تعلیم القرآن خط وکتابت سکول کی جناب سے تیارہ کردہ دس اسباق پر مشتمل ایک تعارفی خط وکتاب کورس ہے ۔اس میں مرتبین نے سلام ،صفائی اور طہارت ،صحت اور حفظان صحت ، کھانے پینے ، عیادت ، لباس ، نشت وبرخاست ،ملاقات اور گفتگو اور مجلس کےآداب کو اختصار کے ساتھ قرآنی آیات اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔قارئین کی آسانی کےلیے ہر بحث کےبعد اس کاخلاصہ بھی تح...

  • 107 نجات المسلمین (جمعہ 19 فروری 2016ء)

    مشاہدات:851

    زیر تبصرہ کتاب"نجات المسلمین" محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے، جو چار مختلف رنگوں میں چار متفرق موضوعات اور حصوں پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے متفرق دینی واصلاحی مسائل کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔پہلا حصہ نجات المسلمین، دوسرا حصہ فاسق اور فاجر مجرم ہیں، تیسرا حصہ اعتقادی منافق ابدی جہنمی ہیں اور چوتھا حصہ متفرق قسم کی تحریروں پر مشتمل ہے۔کتاب غیر مرتب سی ہے اور اس کے موضوعات کو سمجھنا ایک مشکل سا کام ہے۔کیونکہ مولف بلاترتیب احادیث کو جمع کر دیا ہے اور معروف تالیفات کی مانند اس کا کوئی باب یا فصل وغیرہ قائم نہیں کی۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ اصلاح معاشرہ کے حوالے سے متعدد دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 108 جنتی گروہ ( عظیم الدین سلفی ) (اتوار 06 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:937

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "جنتی گروہ" محترم الشیخ ابو عظیم الدین سلفی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مسلک اہل حدیث کے اسی مقام ومرتبے اور شان کو بیان کرتے ہوئے اسے جنتی گروہ قرار دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف...

  • 110 دیوان حضرت علی رضی اللہ عنہ (جمعہ 18 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1668

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔عرب زبان نہایت فصیح وبلیغ ہے اور اس میں بے شمار دیوان اور قصائد لکھے گئے ہیں۔اس میں کچھ دیوان صحابہ کرام کی طرف بھی منسوب ہیں۔ان میں سے ایک معروف دیوان سیدنا علی  کی منسوب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "دیوان حضرت علی  "معروف صحابی رسولﷺ اور چوتھے خلیفہ سیدنا علی دیوان حضرت علی   کی طرف منسوب ہے جس کا  اردو ترجمہ محترم مصطفی وحید  صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کتاب کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نبی  کریمﷺکی عزت، عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کاجزوِلاینفک ہے اور حب ِرسولﷺایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئےجارہے ہیں، دراصل یہ ان کی شکست خوردگی اور تباہی و بربادی کے ایام ہیں۔گستاخ رسول کی سزا ئے موت ایک ایسا بین  امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے۔اور گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو شرعا کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔لیکن افسوس کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک پاکستان  کی عدالتیں توہین رسالت کے معاملے پر کوتاہی اور غیر شرعی فیصلے صادر کر رہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا شرعی جائزہ"محترم علامہ محمد خلیل الرحمن قادری  صاحب  ناظم اعلی جامعہ اسلامیہ لاہورکی تصنیف ہے جس میں...

  • سفارتکاری ایک باقاعدہ اور فن ہے اور مختلف صورتوں میں اس کی مختلف اقسام ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کی صورت میں اس کی دو قسمیں :دوطرفہ سفارتکاری اور کئی طرف سفارتکاری ہیں، جبکہ ملکی تعلقات کے انتظام وانصرام کی صورت میں :خفیہ سفارتکاری اور علی الاعلان سفارتکاری ہوتی ہیں،اسی طرح مقاسڈ کے حصول کے کئے سرانجام دی جانے والی سفارتکاری کی اقسام میں انسانی سفارتکاری، عام سفارتکاری اور حفاظتی سفارتکاری شامل ہیں۔حفاظتی سفارتکاری کا مقصد سفارتکاری ذرائع استعمال کر کے لڑائی جھگڑوں کا سد باب اور ان میں شدت سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس اسباب کا حک تلاش کرنا ہوتا ہے جن کی وجہ سے ان اختلافات میں تیزی آتی ہے اور بڑھ کر تشدد کے مراحل میں داخل ہو جاتے ہیں۔حفاظتی سفارتکاری لڑائی جھگڑوں کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بین الاقوامی برادری نے دنیا بھر میں اس سفارتکاری کی افادیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں  سال 2007ء میں جمہوریہ ترکمانستان میں اس کا پہلا کرکز قائم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"معاشرتی مسائل کے حل کیلئے حفاظتی سفارتکاری کا کردار"پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر محترم جناب عبد العزیز ابراہیم صالح الغدیر صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے سفارتکاری کی تاریخ اور اس کی اقسام بیان کرتے ہوئے لڑائی جھگڑوں کے حل میں حفاظتی سفارتکاری کی افادیت اور اس کے طریقہ کار پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہےکہ وہ ان کی محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسلامی معاشروں میں موجود لڑائیوں اور جھگڑوں کو ختم کر کے انہیں امن واستحکام کا گہوارہ بنائے۔آمین...

  • 115 تفہیم ترجمہ قرآن (ہفتہ 18 جون 2016ء)

    مشاہدات:1347

    اللہ رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔جو قوم قرآن کریم کو اپنا دستور حیات بنا لیتی ہے،خدا اسے رفعت اور بلندی سے سرفراز فرماتا ہے اور جو گروہ اس سے اعراض کا رویہ اپناتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں ہے لہذا اردو دان طبقے کے لئے اسے سمجھنا ایک مشکل کام ہے۔اہل علم نے اس مشکل کو حل کرتے ہوئے قرآن مجید کے متعدد تراجم کئے ہیں اور عامۃ الناس کو ترجمہ قرآن سکھلانے کے مختلف اندازاختیار کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تفہیم ترجمہ قرآن " محترم پروفیسر ریاض احمد طور صاحب، سابق معلم جامعہ ملک سعود، سعودی عرب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے علامات کے ذریعے ترجمہ  قرآن مجید سکھانے کا ایک منفرد اور انتہائی آسان طریقہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے...

  • 116 قربانی کے مسائل (زبیر علی زئی) (ہفتہ 18 جون 2016ء)

    مشاہدات:1928

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے او رعبادات کی مختلف اقسام ہیں ۔مثلاً قولی،فعلی ، مالی اور مالی عبادت میں ایک عبادت قربانی بھی ہے۔ قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔تخلیق انسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے۔ قرآن مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔کتب احادیث وفقہ میں کتاب الاضاحی کے نام   سے ائمہ محدثین فقہاء نے باقاعدہ ابواب بندی قائم کی ہے ۔ اور کئی اہل علم نے قربانی کےاحکام ومسائل اور فضائل کے سلسلے میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’قربانی کے مسائل‘‘محدث العصر حافظ زبیر علی زئی﷫ کےجاری کردہ مجلہ ’’الحدیث‘‘ اور مجلہ شہادت میں قربانی کے احکام مسائل کے حوالے سے مطبوعہ مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس میں شیخ موصوف نے قربانی کے جملہ احکام مسائل کو بادلائل پیش کیا ہے ۔بالخصوص ایام قربانی کے متعلق جامع گفتگو پیش کی ہے۔ (م۔ا)

  • 117 سجود وتر اور ختم القرآن کے لیے منتخب دعائیں (پیر 02 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:978

    شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود ہ شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے ۔دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’منتخب دعائیں‘‘ شیخ محمد بن عبدالعزیز المسند کامرتب کردہ دعاؤں کامجموعہ ہے ۔ یہ مجموعہ شیخ موصوف نے ائمہ مساجد اور دیگر حضرات کے لیے جمع کیا ہے ۔تاکہ وہ رمضان وغیر رمضان ، سجدوں ،نماز وتر میں اور ختم قرآن کےموقعہ پر ان ادعیہ مبارکہ سے استفادہ کرسکیں۔(م۔ا) 

  • 118 مختصر تفسیر سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی ، آخری پارہ (جمعہ 06 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1012

    تفسیر کا معنیٰ بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔اور اصول تفسیر سے مراد وہ علوم ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تشریح کی جاتی ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھاتےدیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں ۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" مخت...

  • 119 ہفت روزہ اہلحدیث لاہور (ہفتہ 07 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:718

    شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ﷫ ۱۸؍ مارچ ۱۹۲۰ء بمطابق ۲۶/جمادی الثانی ۱۳۳۸ھ بروز جمعرات، سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم عرصہ آٹھ سال میں مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سرفہرست اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷭ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ دورانِ تعلیم سے ہی خطابت میں دلچسپی رکھتے تھے اور گاہے بگاہے منبر خطابت پر اپنے جوہر دکھاتے رہتے تھے۔لیکن ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً تدریس اور خطابت اور مدرسہ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات بعد کے گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ نے نے 1968 ء سے اپنی وفات تک جامعہ محمدیہ کے مہتمم کے منصب کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔حضرت مولانا محمد عبداللہ جماعت اہلحدیث کی صف ِاول کے ایک نامور رہنما، کہنہ مشق مدرّس، ممتاز اور...

  • 120 ہفت روزہ اہلحدیث لاہور خدمت اہلحدیث نمبر (بدھ 11 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:951

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ " ہفت روزہ اہلحدیث لاہور، خدمات اہل حدیث نمبر "  مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس میں قیام پاکستان کے 50 سالوں کے حوالے سے پاک وہند میں اھلحدیث کی ہمہ جہت خدمات کا حسین ودلآویز تذکرہ ا...

  • 121 محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر اسلام (جمعہ 30 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:686

    سیرت نبویﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت و توفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریمﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔ قرآن مجید نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلیٰ اور اچھے و خوبصورت نمونہ و کردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔ آپﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں، اور لکھی جا رہی ہیں ۔ کئی غیرمسلم مفکرین اور سوانح نگاروں نے نبی کریم ﷺکی سیرت و اخلاق سے متاثر ہوکر سیرت نبوی ﷺپر بڑی شاندار کتب مرتب کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محمدﷺ پیغمبر اسلام‘‘ بیسویں صدی کے ایک مشہورغیر مسلم مسیحی مصنف و ادیب ورجل جیور جیو کی تصنیف ہے۔ اس نے سچائی کی تلاش میں سیرت پاک کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا اور ایک غیر مسلم ہونے کے با وجود جب اس کے دل نے سیرت مطہرہ کی عظمت کو قبول کیا تو اعتراف حق کے طور پر رومانوی زبان میں یہ کتاب تصنیف کی۔ 1961ء میں لیویا لیمور نے اس کتاب کا رومانوی زبان سے فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اور1979ء میں جناب مشتاق حسین میر نے اسے اردو قالب میں ڈھالا۔ اس کتاب کے مطالع...

  • 122 دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی ( جدید ایڈیشن ) (منگل 17 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:966

    دنیا میں انسان کا اس کی رفتارکاپہلا قدم ہے جب سے یہ دنیا میں آیا ہے اس کو ایک منٹ کےلیے قرارنہیں۔دنیا ایک عارضی اور فانی جگہ ہے،ہر انسان نے یہاں سے چلے جانا ہے۔جبکہ آخرت دائمی اور ہمیشہ رہنے والی جگہ ہے،اور کبھی نہ ختم ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور یہ دنیا کی زندگی تو کھیل تماشا ہے ،آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے ،کاش وہ اس حقیقت کو جانتے ۔(عنکبوت:64)نبی کریم ﷺ نے دنیا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی کہتا ہے میرا مال میرا مال،حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں: ایک وہ جو اس نے کھا لیا۔ دوسرا وہ جو اس نے پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا ،اور تیسرا وہ جواپنے ہاتھ سے اللہ کے راہ میں دے دے کل قیامت کو اس کو اس کا بدلہ ملے گا کیونکہ وہ تو اللہ کے پاس چلا گیا اور اللہ کے پاس چلا گیا تو آخرت میں اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ فرمایا :اس کے علاوہ جو بھی مال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ گئے یہ اس کا مال نہیں ہے۔ یہ تو ورثاء کا مال ہے پھر ورثاء بعد میں لڑتے بھی ہیں۔دوسری جگہ فرمایا: میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی مسافر کسی درخت کی چھاؤں میں گرمیوں کی کوئی دوپہر گزارنے بیٹھ جائے ۔ وہ کوئی پل آرام کر ے گا تو پھر اٹھ کر چل دے گا۔تیسری جگہ فرمایا: ”یہ دنیا اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی وزن رکھتی تو کافرکوا س دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ زیر تبصرہ کتاب" دنیا کا مسافر یا آخرت کا راہی "مولانا سعد حسن خان یوسفی ٹونکی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے آخر...

  • 123 جشن یوم آزادی منانے کا شرعی حکم (بدھ 15 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1144

    انسان کی زندگی دکھ سکھ ، غمی و خوشی ، بیماری و صحت ، نفع و نقصان اور آزادی و پابندی سے مرکب ہے۔ اس لیے شریعت نے صبر اور شکر دونوں کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق کی طرف رجوع کرے۔ دکھ ، غمی ، بیماری ، نقصان اور محکومیت پر صبر کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کو دور کرنے کے اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم ہے جبکہ سکھ ، خوشی ، صحت ، نفع اور آزادی پر شکر کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کی قدردانی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اگر دونوں طرح کے حالات کو شریعت کے مزاج اور منشاء کے مطابق گزارا جائے تو باعث اجر وثواب ورنہ وبال جان۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دونوں حالتوں میں خدائی احکام کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ مشکل حالات پر صبر کے بجائے ہائے ہائے، مایوسی و ناامیدی اور واویلا کرتے ہیں جبکہ خوشی کے لمحات میں حدود شریعت کو یکسر پامال کردیتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی گھر میں کوئی فوتگی ہو جاتی ہے تو لوگوں کی زبانیں تقدیر خداوندی پر چل پڑتی ہیں اور مرنے والے کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ " ابھی تو تیرا وقت بھی نہیں آیا تھا " وغیرہ وغیرہ۔آزادی کے مد مقابل یوں تو غلامی کا لفظ آتا ہے اور غلامی کا مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی انسان یا گروہ، قوم یا نسل کسی دوسرے انسان، گروہ ، قوم یا نسل کے ہاتھوں غلام بنا دی جائے۔دنیا بھر میں مختلف ممالک سال میں اپنے وطن کے لیے ایک دن ایسا مقرر کرتے ہیں کہ جس میں ان کے عوام اور حکومت وطن کی کی آزادی کا دن مناتے ہوئے ملک کی تعظیم کرتے ہیں ۔اس دن کو ''وطن کا د...

  • 124 مسلم کون ( جدید ایڈیشن ) (جمعہ 17 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:819

    دین اسلام  کے پانچ ارکان  ہیں، جن پر اسلام کی بیاد رکھی گئی ہے۔ان  میں سے  پہلا رکن اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریمﷺکی نبوت اور رسالت کا اقرار ہے۔ دوسرا رکن نماز، تیسرا روزہ، چوتھا زکوٰۃ اور پانچواں حج ہے۔ ان پانچوں ارکان  میں سے ہر ایک کے بارے میں متعدد آیات اور اَحادِیث وارِد ہوئی ہیں۔ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا ’’ اِسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قایم ہے، اِس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺاﷲ کے رسول ہیں، نماز قایم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان مبارک کے روزے رکھنا اور بیت اﷲ کا حج کرنا اُس شخص کے لیے جو اُس تک جانے کی طاقت رَکھتا ہو۔‘‘ اِن پانچ اَرکان کو ایک مومن کی شخصیت سنوارنے اور اس کا مثالی کردار بنانے میں بہت بڑا دخل ہے۔ سب سے پہلے رُکن کلمۂ شہادت کو لے لیجیے، جس کے ذریعے ایک مومن اَپنے رَب کی وحدانیت کا اِقرار کرکے مخلوق کی عبودیت سے آزاد ہوجاتا ہے اور نبی کریمؐ کی رِسالت کا اِقرار کرکے زِندگی گزارنے کا رَاستہ متعین کرلیتا ہے۔ یہ اِیمان کی بنیاد اور یہی وہ بنیادِی عقیدہ ہے جس پر باقی اَرکان اور اِسلامی تعلیمات کا دار و مدار ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے عقیدۂ توحید اور رِسالت پر بہت زور دِیا ہے اور سیکڑوں آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسلم کون؟"محترم جاوید اقبال سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ارکان اسلام کی روشنی میں مسلمان کا جائزہ لیا ہے کہ کون مسلمان ہے اور مسلمان نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول ف...

  • 125 وقوف المبتدی (بدھ 29 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:604

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" وقوف المبتدی" قاری محمد اسماعیل خورجوی صاحب ، مدرس تحفیظ القرآن مکہ معظمہ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں &n...

  • 126 دعوتی سوالات اور میرے جوابات (منگل 07 فروری 2017ء)

    مشاہدات:798

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " دعوتی سوالات اور میرے جوابات "محترم شیخ محمد ریاض موسی ملیباری کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کے میدان میں پیش آنے والے مختلف سوالات کے جوابات جمع فرما دئیے ہیں۔ اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • 127 اردو قواعد (پیر 13 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3187

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور ان...

  • 128 اہل فکر کے لیے یاد دہانی (منگل 06 جون 2017ء)

    مشاہدات:638

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اہل فکر کے لئے یاد دہانی "محترم امتیاز احمد صاحب، ماسٹر آف فلاسفی کی تصنیف ہے ، جس  کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر حافظ سلمان الفارس نے کیا ہے۔مولف...

  • 129 اسلام اور وحدت ادیان (منگل 13 جون 2017ء)

    مشاہدات:1004

    عصر حاضر کے بے شمار فتنوں میں سے ایک بڑا فتنہ نظریہ وحدت ادیان ہے۔جس کے مطابق  تمام مذاہب یکساں اور بر حق ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی سے کا ئنات کے خالق اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔لہذا کسی ایک مذہب والے کا اس بات پر اصرار  کرنا کہ اب تا قیا مت نجات کی سبیل صرف ہمارا دین و مذہب ہے یہ ایک بے جا سختی اور تشدد یا انتہا پسندی ہے، جس کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔پھر اس’’نظریہ وحدت ادیان‘‘ کی تفصیل کچھ یوں بیا ن کی جاتی ہے کہ ’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے‘‘ یعنی ہر مذہب والا ایک بزرگ و بر تر ذات کی بات کرتا ہے جسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ، کبھی اللہ تو کبھی بھگوان اور کبھی God جبکہ حقیقتاٌ تمام مذاہب اللہ کی بندگی اور خوشنودی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اس لئے ہر مذہب میں حق و انصاف ، انسان دوستی اور انسانی بھائی چارے کی تعلیم دی گئی ہے لھذا تمام انسانوں کو تمام مذاہب کا برابر کا احترام کرنا چاہیے، کسی ایک مذہب یا دین کی پیروی پر اصرار تشدد اور بے جا سختی ہے ، وغیرہ وغیرہ۔صاحب علم و صاحب مطالعہ حضرات یقیناًاس بات سے اتفاق کرینگے کہ یہ ’’نظریہ وحدت ادیان ‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے  جسے اسلام دشمن عناصر نے یا احباب نما اغیار نے ایجاد کیا ہے۔اور یہ ایک انتہائی اور اسلام مخالف اصطلاح ہے ،جس کا اسلام نے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ متعدد  اہل علم  میدان میں آئے اور انہوں نے اس باطل نظرئیے کا مدلل اور مس...

  • 130 انشورنس ایک شرعی مطالعہ (جمعہ 16 جون 2017ء)

    مشاہدات:765

    اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز میں حلال اور حرام کے مشکل ترین مسائل کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے اس کے لیے کچھ قواعد و ضوابط بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے ضروری ہے کہ تاحیات پیش آمدہ حوائج و ضروریات کو اسی اصول پر پر کھے تاکہ اس کا معیار زندگی اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کے مطابق بن کر دائمی بشارتوں سے بہر ہ ور ہو سکے۔ سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام (بخاری:2059) دور حاضر میں مال حرام کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں، لاٹری، انشورنس، اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"انشورنس ایک شرعی مطالعہ"محترم ڈاکٹر مصطفی احمد الزرقاء کلیۃ الشریعۃ، اردن یونیورسٹی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم الیاس نعمانی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں شریعت اسلامیہ کی روشنی میں انشورنس پر گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • اسلام شرفِ اِنسانیت کا علمبردار دین ہے۔ ہر فرد سے حسن سلوک کی تعلیم دینے والے دین میں کوئی ایسا اصول یا ضابطہ روا نہیں رکھا گیا جو شرف انسانیت کے منافی ہو۔ دیگر طبقات معاشرہ کی طرح اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو بھی ان تمام حقوق کا مستحق قرار دیا گیا ہے، جن کا ایک مثالی معاشرے میں تصور کیا جاسکتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی اساس معاملات دین میں جبر و اکراہ کے عنصر کی نفی کرکے فراہم کی گئی ہے۔جس طرح مسلمان رعایا کی عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت اور ان کی خوشحالی اسلامی حکومت کا فریضہ ہے اس طرح غیر مسلم اقلیت کا تحفظ اور خوشحالی بھی اسلامی حکومت کا فرض ہے۔ غیر مسلم اقلیت معاشی طور پر بھی آزاد ہوتے ہیں جو پیشہ چاہے اختیار کریں، اقلیتوں کو ہر طرح مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے بشرطیکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو اس سے ٹھیس نہ لگتی ہو، اقلیتوں کو مسلمانوں کے ساتھ معاشرتی مساوات بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس غیر اسلامی ممالک میں بسنے والی مسلم اقلیتیں بے شمار مسائل سے دوچار ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور اقلیتیں" عالم عرب کے مشہور ومعروف اسلامی اسکالر اور مفکر محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مسلم اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے شرعی راہ نمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 132 محبت کی کنجیاں (ہفتہ 24 جون 2017ء)

    مشاہدات:728

    اسلام نے جو معاشرتی نظام قائم کیا ہے اس کی بنیادآپسی بھائی چارہ میل جول اور باہمی محبت والفت پر ہے اور معاشرتی نظام میں بنیادی اہمیت زوجین یعنی میاں بیوی کے تعلقات پر ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کی درستگی ہی کے باعث کوئی بھی معاشرہ مضبوط ومستحکم رہ سکتا ہے۔ غرض مرد وعورت کے تعلقات کی بہتری کسی معاشرے کی صحت کی علامت اور اس کی ترقی کیلئے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس معاشرہ میں ان دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا بلکہ بہت جلد زوال وادبار کا شکار ہو کر بکھر جاتا ہے ۔اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات میں اگر بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی شیطان کو ہوتی ہے جو اس تاک میں رہتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے کارندوں (چیلوں) کو بھیجتا ہے (تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں) تو ان میں سب سے زیادہ مقرب کارندہ وہ ہوگا جو سب سے زیادہ فتنہ گر ہو چنانچہ جب کو ئی کا رندہ (چیلہ) آکر اسے یہ رپوٹ دیتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں کام کیا ہے تو کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر اُن میں سے کوئی ایک کارندہ آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر دی ہے تو وہ اسے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بہت اچھا ہے یعنی تو نے واقعی کچھ کام کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" محبت کی کنجیاں، مسلمان شوہر اور بیوی کے لئے ایک انمول تحفہ "محترم ڈاکٹر صلاح الدین سلطان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ق...

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام کی انہی روشن تعلیمات میں سے ایک اہم مسئلہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے ورثاء کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی ہے۔انبیاء کرام کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ اپنے لمحات میں اپنی اولاد کو نیکی اور اطاعت الہی کی وصیتیں کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"ایک باپ کا اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹے کے نام وصیت نامہ "محترم محمد عظیم حاصل پوری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انبیاء کرام کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیتوں کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 135 البابیہ عرض و نقد (ہفتہ 02 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:712

    اللہ رب العزت نے ہمارے نبیﷺ کو ایک کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور نبیﷺ نے اپنی تعلیمات عامۃ الناس تک پہنچا ہی نہیں دیں بلکہ حق بھی ادا کر دیا‘ پھر ان تعلیمات کو صحابہ نے تابعین تک انہوں نے آگے لوگوں تک پہنچائیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے‘ انیسوی صدی مسلمانوں کی مظلومیت اور مغلوبیت کی صدی تھی‘ اِس صدی میں مسلمانوں کو ان کے وطنوں سے محروم کیا گیا‘اور مسلمانوں پر حملہ آور طاقتوں کی یہ کوشش رہی کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی اسلام سے مرتد کر دیں اور انہوں نے بہت سے حربے بھی استعمال کیے اور مسلمانوں میں بہت سے مصنوعی عقائد بھی داخل کرنے کی بھی کوشش کی گئی تاکہ مسلمان شکوک وشبہات کا شکار ہو جائیں اور وہ مسلمانوں میں بھیس بدل کر داخل ہوئے انہوں نے بہت سے فرقے مسلمانوں میں چھوڑے جن میں سےدو فرقے’’بابیہ‘‘اور ’’بہائیہ‘‘ ہیں‘ جن کا مقصد مسلمانوں سے اسلام کو جڑ سے نکال دینا اور مسلمانوں کو جہاد وقتال سے دور کرنا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الباییہ عرض و نقد‘‘ مولانا احسان الہی ظہیر شہید کی تصنیف ہے جو کہ پاکستان کے نامور عالم دین اور عظیم سیاسی ومذہبی رہنما ء ، خطیب اور اچھے مصنف بھی تھے آپ نے بہت زیادہ کتب تصانیف فرمائیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور آپ کی چند مشہور ومعروف کتب یہ ہیں: الشیعہ والسنہ‘ الشیعہ واہل بیت‘ الشیعہ والتشع فرق و تاریخ‘ الشیعہ والقرآن‘ الاسماعیلیہ، تاریخ وعقائد اور البابیہ، عرض و نقد و غیرہم۔ اس کتاب میں بابی او...

  • 136 مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات (منگل 07 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:743

    مکہ مکرمہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو سب شہروں سےزیادہ محبوب ہے ۔ مسلمانوں کا قبلہ اوران کی دلی محبت کا مرکز ہے حج کا مرکز اورباہمی ملاقات وتعلقات کی آماجگاہ ہے ۔ روزِ اول سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعظیم کے پیش نظر اسے حرم قرار دے دیا تھا۔ اس میں ’’کعبہ‘‘ ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سےپہلا گھر ہے ۔ اس قدیم گھر کی وجہ سےاس علاقے کو حرم کا درجہ ملا ہے۔ اوراس کی ہر چیز کو امن وامان حاصل ہے ۔ حتیٰ کہ یہاں کے درختوں اور دوسری خورد ونباتات کوبھی کاٹا نہیں جاسکتا۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کوڈرا کر بھگایا نہیں جاسکتا۔ اس جگہ کا ثواب دوسرےمقامات سے کئی گناہ افضل ہے۔ یہاں کی ایک نماز ایک لاکھ نماز کا درجہ رکھتی ہے۔ مکہ مکرمہ کو عظمت، حرمت او رامان سب کچھ کعبہ کی برکت سےملا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات‘‘ امتیاز احمد کی ہے۔جس میں مکہ مکرمہ کے چند تاریخی واقعات کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، تا کہ حج و عمرہ کے دوران مسلمان یہ سمجھ سکیں کہ امت مسلمہ کی بقا اور ترقی کے لئے کیسی کیسی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ اور اس کتاب کے شروع میں نو مسلم کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے کہ کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور کتنی مشکلات اٹھانا پڑیں اسلام کو قبول کرنے میں۔ہر ایک مسلمان کے لیے اس کتاب کا مطالعہ کرنا بہت ضروی ہے جس کی بنیاد پر ہم سب دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ صاحب مصنف کی اس مبارک قلمی کاوش کو قبول فرمائے اور خیر و فلا...

  • 137 کہیں دیر نہ ہو جائے (اتوار 12 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:461

    ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیوں نے جڑ پکڑی ہوئی اور ہر شخص پریشان اور انگشت بدنداں ہے کہ یہ سب کیا ہے نہ والدین اپنے فرائض کو پوری طرح اداکر پا رہے ہیں اور نہ ہی اولاد فرمانبردار ہے اور اپنے فرائض بھی انجام دینے میں کوتاہی کرتے ہیں اور ہر گھر میں والدین اور اولاد کے درمیان ایک عجیب کشمکش پیدا ہو چکی ہے اور ہر گھر کی طرح پورا معاشرہ کشمکش کا شکار ہے اور ہزاروں برائیوں سے بھراہوا ہے‘’انسان‘ جسے کسی وقت صرف فکرِ معاش نے بے چین کر رکھا تھا اب بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’کہیں دیر نہ ہو جائے‘‘کی مصنفہ نے اس کتاب کو تصنیف بھی انہیں تمام مسائل کے حل کے لیے کیا ہے اور ان مسائل کا ادراک کر کےاسلامی تعلیمات کے مطابق ان کا بخوبی حل بھی بتایا ہے ۔یہ کتاب ہر عمر کے شخص‘خواتین اور بچوں کے لیےبشرط یہ کہ توجہ سے پڑھا جائے تو انتہا مفید اور آسان فہم ہے ۔اور مصنفہ ایک دینی مبلغہ ہیں جن کا مشن اصلاح معاشرہ ہے اور معاشرے کی اصلاح اسوۂ رسولﷺ کی پیروی کے بغیر ناممکن ہے اس لیے مصنفہ نے بڑے سلیس اور پُر اثر انداز میں کتاب مرتب کی ہے اور دلوں پر نیکی کی ایک دستک ہے۔اور معاشرے میں موجود بیماریوں کا تدارک کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اور انسانی مقصد حیات اورطرز ِ حیات سے واقفیت کروانے کی کوشش کی گئی ہے اور انسان کو اس کے فرائض سے آگاہی کروائی گئی ہے کہ معاشرے کی اصلاح ہو سکے۔۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کےعلم وعمل میں برکت دےاور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین...

  • 138 میں کرسچن کیوں نہیں ہوں (منگل 14 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:567

    اسلام کے آنے سے پہلے بہت سے مذاہب گزرے ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں: عیسائیت‘ یہودیت‘ نصارنیت‘ ہندومت‘ جین مت‘ باطنیت‘ سکھ مت اور دہریت وغیرہ لیکن اسلام کے آ جانے کے بعد ہمیں یہ رہنمائی اور تلقین کی گئی ہے کہ ہم ان تمام مذاہب کی تعلیمات کو چھوڑ کر اسلام کی تعلیمات پر کما حقہ عمل کریں اور ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ہی ہم کامیابی سے سُرخرو ہو سکیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مصنف نے عنوانِ کتاب یہی دیا ہے کہ میں عیسائی کیوں نہیں ہوں؟کہ میرے عیسائی نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟وغیرہ اور پھر اسلامی تعلیمات کی طرف گامزن ہوئے ہیں اور کتاب پڑھنے سے پہلے انہوں نے کتاب کو پڑھنے کی چند شرطیں عائد کی ہیں:اگر قاری کمزور اعصاب کا مالک ہے ‘ یا دِل ناتواں رکھتے ہیں‘ یا ذہن کی کوٹھری کا دروازہ بند کیے بیٹھے ہیں ‘ یا بنیاد پرست ہیں تو اس کتاب کو نا پڑھیئے‘ اور اگر آپ عام قاری ہے تو اپنی ذمہ داری پر پڑھیں اور اگر مولوی ہیں تو ضرور پڑھیں۔ اور زیرِ تبصرہ کتاب کے اسلوب کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے اسے چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں مصنف نے عام جائزہ لیا ہے کہ کیا ہم واقعی مسلمان ہے؟اور ارکان ایمان کو بیان کیا گیا ہے اور اسلام کیا ہے‘اور مسلم ومغربی معاشرے کا تقابل کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں فرد ‘انسان اور معاشرے پر بحث کی گئی ہے‘ تیسرے حصے میں اس بات کی مکمل تفصیل ہے کہ دین اجتماعی نظام ہے اور چوتھے حصے میں اسلام پر کیے گئے چند اعتراضات اور ان کا جواب ہےاور اسلام کی ہمہ گیر...

  • 139 تراویح تحقیق و تقلید کے تناظر میں (منگل 20 جون 2017ء)

    مشاہدات:787

    رمضان کے مہینے میں عشاء کی نماز کے بعد اور وتروں ,سے پہلے باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ جوبیس یا آٹھ رکعت پر مشتمل ہوتی ہے، اور دو دو رکعت کرکے پڑھی جاتی ہے۔ ہر چار رکعت کے بعد وقف ہوتا ہے۔ جس میں تسبیح و تحلیل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے اس کا نام تروایح ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان شریف میں رات کی عبادت کو بڑی فضیلت دی ہے۔ حضرت عمر نے سب سے پہلی تروایح کے باجماعت اور اول رات میں پڑھنے کا حکم دیا اور اُس وقت سے اب تک یہ اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔ اس نماز کی امامت بالعموم حافظ قرآن کرتے ہیں اور رمضان کے پورے مہینے میں ایک بار یا زیادہ مرتبہ قرآن شریف پورا ختم کردیا جاتا ہے۔ حنفی بیس رکعت پڑھتے ہیں اور اہل حدیث آٹھ رکعت ، تروایح کے بعد وتر بھی باجماعت پڑھے جاتے ہیں۔بخاری شریف کی مشہور ومعروف شرح لکھنے والے حافظ ابن حجر عسقلانی نے تحریر کیا ہے کہ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ کے معنی: ایک دفعہ آرام کرنا ہے، جیسے تسلیمہ کے معنی ایک دفعہ سلام پھیرنا۔ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ عشاء کے بعد باجماعت نماز کو تراویح کہا جاتا ہے، کیونکہ صحابہٴ کرام کا اتفاق اس امر پر ہوگیا کہ ہر دوسلاموں (یعنی چار رکعت) کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تراویح تحقیق و تقلید کے تناظر میں‘‘ سید حسین مدنی کی ہے۔ جس میں نماز تراویح کا اصطلاحی مفہوم مختلف محدثین کے اقوال کے ساتھ بیان کیا ہے۔ گویا کہ نماز تراویح کے متعلق تمام قسم کے مسائل کو بیان کرتے ہوئے ان کا حل احادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کتاب کو...

  • 140 دعوت توحید وسیلے کی حقیقت (بدھ 18 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:510

    اسلامی تعلیمات میں تمام امور پر عقیدہ توحید کو اولیت حاصل ہے اور توحید ہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسی پر دنیا وآخرت کی کامیابی کا انحصار ہے الغرض دین اسلام کی اساس وبنیاد عقیدہ توحی ہے۔عقیدہ توحید کی ضد شرک ہے اور شرک ایسا جرم عظیم ہےکہ اگر بندہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے فوت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کو بھی مبعوث فرمایا اور ہر نبی نے جس دعوت سے آغاز کیا وہ دعوت توحید ہی تھی۔زیرِ تبصرہ کتاب’’ دعوت توحید وسیلے کی حقیقت ‘‘ بھی اسی موضوع کو اُجاگر کرنے کے لیے تالیف کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی کی دعوت دی گئی ہے‘ توحید کے بعد وسیلہ کی حقیقت کو بیان کیاگیا ہے جو شرک کی ہر قسم کی بنیادی جڑ ہے۔اور وسیلہ کی ایک شکل جو تعویز ہے اس کو بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ امت شرک کی ہر قسم سے نکل کر خالص اللہ کی توحید کی طرف آجائے۔ اور اس کتاب میں قرآن وحدیث سے غلط عقائدونظریات کی تردید کی گئی ہے اور حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے۔زبان کی سلاست اور سہل انداز اپنایا گیا ہے اور اس کتاب کی جمع وترتیب بھی نہایت عمدہ ہے تاکہ قارئین کے لیے نہایت آسانی ہو۔یہ کتاب مولانا ابو بلال عبد اللہ طارق صاحب کی علمی اور تحقیقی کاوش ہے‘ آپ خط وکتابت کاعمدہ ذوق وشوق رکھتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )...

  • 141 قبر پر مٹی دیتے وقت (اتوار 24 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:480

    اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو شریعت محمدیﷺ کو لوگوں تک پہنچاتے رہے اور مسلمانوں تک احادیث رسولﷺ کا گراں قدر سرمایہ پہنچانے کے لیے ائمہ حدیث نے بڑی محنتیں کیں اور بہت مشقت اُٹھا کر لمبے لمبے اسفار کیے ہیں اور کئی کتب حدیث کے کئی مجموعے مرتب کیے   اور احادیث کی تحقیق پر بھی کئی کتب تالیف کی گئی جن میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب بھی ہے اس میں قبر پر مٹی دیتے وقت ’’منہا خلقناکم وفیہا نعیدکم ومنہا نخرجکم تارۃ اخری‘‘ پڑھنے والی روایات کی تحقیق کی گئی ہے‘ سب سے پہلے مسند احمد والی‘ پھر سنن بیہقی والی‘ پھر مستدرک حاکم والی روایت کی تحقیق کی گئی ہے۔ اسی طرح متن کے ساتھ ساتھ راویوں کی مختصر تحقیق بھی پیش کی گئی ہے۔ روایت کے بعد خلاصہ تحقیق بھی پیش کیا گیا ہے اور آسانی کے لیے اہم

  • 142 اہل سنت و الجماعت کون (جمعرات 21 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:868

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے جتنے بھی انبیاء کو مبعوث کیا سب کے سب انبیاء کا بنیادی مقصد اور بنیادی دعوت عقیدہ توحید کی ہی تھی۔ عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کی اولین شرط ہے اگر عقیدہ درست ہو گا تو عمل قبول ہو گا اگر عقیدے میں کجروی ہوئی تو عمل قبول نہیں ہوگا۔ انبیاء کے بعد یہ کام علماء امت نے جاری وساری رکھا کہ لوگوں کے عقائد کو درست  کیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی عقیدہ اہل سنت والجماعت کو بیا ن کیا گیا ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے لوگ اپنے آپ کو صحیح عقیدہ پر مبنی قرار دے رہے ہیں اور ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ وہ اہل سنت والجماعۃ کے عقائد پر مبنی مذہب وفرقہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  اصل عقیدہ اہل سنت والجماعت ہے کونسا؟ اس کتاب میں وہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ فرقوں کی تعداد اور جنتی فرقے کی وضاحت  مکمل  دلائل کے ساتھ کی گئی ہے اور  ہر بات کو قرآن اور حدیث سے بیان کیا گیا ہے اور حوالہ جات کا خاص اہتمام کیا گا ہے اورقرآنی حوالہ میں سورۂ کا نام اور آیت نمبر دیا گیا ہے اور حدیث کے حوالے میں مصدر کا نام اور حدیث نمبر اور اس کا اجمالی حکم بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اہل سنت والجماعت کون؟ ‘‘ ابو عمار عبد الغفار بن عمر  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھت...

  • 143 صبح کے صحیح اذکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (اتوار 31 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:612

    شریعتِ اسلامیہ میں عبادات اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مناجات کانام ہے اور بندے کا اپنے خالق سےقلبی تعلق کا اظہار ہے ۔ایک مسلمان جب اپنی غمی،خوشی اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ سےرہنمائی حاصل کرتا ہے تو اس کا یہ تعلق اس کے رب سے اور بھی گہرا ہوجاتا ہے ۔ عبادات کاایک حصہ ان دعاؤں پر مشتمل جو ایک مسلمان چوبیس گھنٹوں میں نبی ﷺ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق بجا لاتا ہے او ر یقیناً مومن کےلیے سب سے بہترین ذریعہ دعا ہی ہے جس کے توسل سے وہ اپنے رب کو منالیتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت کی مشکلات سے نجات پاتا ہے۔کتبِ احادیث نبی کریمﷺ کی دعاؤں سے بھری پڑی ہیں ۔مگر سوائے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تمام احادیث کی کتب میں صحیح ضعیف اور موضوع روایات مل جاتی ہیں ۔دعاؤں پر لکھی گئی بے شمار کتب موجود ہیں اوران میں ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف وموضوع روایات کی بھر مار ہے۔ ۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں انہی اذکار وادعیہ کو کتاب  کی زینت بنایا ہے جو صحیح ہیں اورجن کی بدولت انسان اپنے رب کی طرف سے ملنے والے اجر جزیل کو حاصل کر سکتا ہے اور اپنے دن اور رات کا اللہ کے حضور شکر ادار کرسکتا ہے۔ اس کتاب کی ترتیب نہایت عمدہ دی گئی کہ جس  میں خصوصاً صبح کے وقت کیے جانے والے اذکار کو الگ سُرخی کے تحت بیان کیا گیا ہے جو کہ تعداد میں اُنیس ہیں اور پھر صبح اور شام دونوں وقتوں میں ہونے والے اذکار کو بیان کیا ہے جو کہ تعداد میں دو ہیں اور اس کے بعد شام کے وقت ہونے والے اذکار کو بیان کیا گیا ہے جو کہ  تعداد میں اٹھارہ ہیں۔ اور ہر ایک کو نقل کرنے کے بعد مصدر کا نام اور حدیث...

  • 144 توحید ، عقیدہ اور فقہ کے مفید مبادیات (جمعرات 04 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:492

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے جتنے بھی انبیاء کو مبعوث فرمایا سب کا اولین مقصد عقیدے کی درستگی رہا ہے اور  انبیاء کے بعد اسلامی عقیدے کی تعلیم وتفہیم اور اس کی طرف دعوت دینا ہر دور کا اہم فریضہ ہے۔ کیونکہ اعمال کی قبولیت عقیدے کی صحت پر موقوف ہے۔اور دنیا وآخرت کی خوش نصیبی اسے مضبوطی سے تھامنے پر منحصر ہے اور اس عقیدے کے جمال وکمال میں نقص یا خلل ڈالنے والے ہر قسم کے امور سے بچنے پر موقوف ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  خاص عقائد اور توحید کے حوالے سے ہے اس میں سوال جواب کے انداز میں مسائل کو سمجھایا گیا ہے اور اس کا ترجمہ نہایت سلیس اور اسلوب شاندار ہے اور بات کی مزید تفصیل بتانے کے لیے فٹ

  • 145 عجائبات عالم (ہفتہ 13 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:774

    عجائبات عجیب کی جمع ہے اور عجیب سے مراد ہے کہ کوئی ایسی تخلیق جسے عام انسان کے ذہن میں تخلیق کرنا نا ممکن یا انتہائی مشکل سا ہو ۔اسے عجیب کہتے ہیں۔ فرض کریں اگر کوئی دوست کہتا ہے کہ فلاں آدمی ایسا ویسا تھا اگر آپ کو بات میں شک نظر آتا ہے تو آپ فوراََ کہتے ہیں ـ" یار عجیب بات ہے یا وہ عجیب آدمی ہے ــ" اسی طرح کوئی عجیب چیز تخلیق ہو تو عام انسان اُس کو دیکھ کر ہکا بکا رہ جاتا ہے اور کہتا ہے یہ عجیب شے ہے ۔ یا خدا کی کسی مخلوق کو دیکھتا ہے تو بھی کہتا ہے کہ یہ عجیب جانور ہے یا عجیب طرح کا جانور ہے ۔ اور اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کا کئی ایک طرق سے لوگوں کے سامنے اظہار فرمایا ہے اور ہم اور ہماری عقلیں دھنگ رہ جاتی ہیں جب ہم ایسے عجائب کو دیکھتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ایسے ہی عجائبات دنیا کا ذکر کیا گیا ہے کہ جنہیں ہم واقعی میں کوئی عجوبہ کہہ سکتے ہیں  جس میں سات شہروں کی سیروتفریح اور دنیا کے عظیم حیرت کدے ‘ حیرت انگیز اور انوکھی تعمیرات کے شاہکار ریستوران  اور ان کے علاوہ دیگر عجائبات کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ہمارے لیے معلومات کا باعث بھی ہی ۔ یہ کتاب’’ عجا ئبات عالم ‘‘ ڈاکٹر ذوالفقار کاظم کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 146 اہل حدیث کے صفاتی نام پر اجماع پچاس حوالے (جمعرات 25 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:660

    اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے جسے نبیﷺ پر ایک امین فرشتہ حضرت جبریلؑ کے ذریعہ نازل کیا گیا جس کا اسم گرامی قرآن مجید ہے۔ اس قرآن کی جو کچھ تفسیر وتشریح رسول اللہﷺ نے اپنی زبان مبارک سے فرمائی اور اس کے فرمودات پر اپناعملی نمونہ پیش کیا تو آپ کے اسی فرمودات وارشادات کا نام ’’سنت‘‘ ہے۔ حقیقت میں انہی دونوں مجموعے کا نام اسلام ہے۔ ان دونوں سے الگ ہو کر اسلام کا تصور بے کار اور باطل ہے اور ان دونوں مصادر پر عمل کرنے والے صرف اہل حدیث ہی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں مصنف نے  اہل حدیث کا یہ لقب اور صفاتی نام بالکل درست اور صحیح ہے اس پر سلف صالحین  کے پاس آثار پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ اسی بات پر اجماع ہے کہ یہ نام صفاتی ہے اور صحیح ہے۔ ہر اثر بیان کرنے کے بعد مصنف نے مکمل حوالہ بھی درج کیا ہےاور ہر اثر کو معتبر اور مستند کتابوں سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اہل حدیث کے صفاتی نام پراجماع پچاس حوالے ‘‘ مولانا زبیر علی زئی  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب مثلا ہدایۃ المسلمین(نمازکے اہم مسائل مع مکمل نمازنبوی‘ اختصارعلوم الحدث (حافظ ابن کثیرکی کتاب کاترجمہ ھے)‘ تحقیقی اصلاحی اورعلمی مقالات جلداول تاچہارم (ان میں ماہنامہ الحدیث میں شائع ہونےو...

  • 147 سوانح حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا (جمعہ 26 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:521

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام بخاری  بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں   انتہائی اختصار کے ساتھ امام بخاری کے حالات زندگی درج کیے گئے ہیں جس میں نام ونسب اور پیدائش‘ کرامات اور ان کا حافظہ‘ ان کے طلب علم کے لیے اسفار‘ ان کی تصانیف ‘ ان کی سیرت وکردار‘ صحیح بخاری کا طریقہ تالیف اور اس پر ائمہ کی آراء وغیرہ درج ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا ‘‘ مولانا اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 148 احسن الحدیث ( تفسیر پارہ عم ) (منگل 06 فروری 2018ء)

    مشاہدات:620

    اللہ رب العزت نے دنیا ومافیہا کی رہنمائی کے لیے روز اول سے سلسلہ نبوت جاری کیا جس کی آخری کڑی ہمارے نبیﷺ ہیں جنہیں ایک عظیم الشان کتاب عطا فرمائی گئی۔ جسے ہم قرآن مجید فرقان حمید کے نام سے پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور اس کتاب کو سمجھنے سمجھانے کے لیے اس کی بیسیوں تفاسیر منظر عام پر آ چکی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری وساری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی آخری پارے کی تفسیر پر مشتمل ہے  اور  اس میں قرآن مجید کی پندرہ سو آیات‘ صحیح احادیث نبویہ اور مستند تفسیروں سے مدد لی گئی ہے۔ آج کل لوگ عدیم الفرصت ہوگئے ہیں اور مطالعہ کتب کا ذوق بھی کافی کمزور پڑ گیا ہے اس لیے یہ ناممکن بات ہے کہ وہ آٹھ یا دس جلدوں پر مشتمل تفسیروں کا مطالعہ کریں اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا اسلوب عام فہم  ہے اور اس کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اگرایک شخص روز صرف ایک گھنٹہ اس کا مطالعہ کرے تو دو ماہ میں پوری کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔ اس میں تفسیر کرتے ہوئے تفسیر قرآن بالقرآن‘ اقوال صحابہ کی جستجو اور اقوال تابعین  کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ احسن الحدیث ‘‘ ڈاکٹر محمد قاسم کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 149 سیارہ ڈائجسٹ فرمان رسول نمبر (جمعرات 01 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:662

    سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیارہ ڈائجیسٹ فرمان رسول نمبر‘‘ اس ڈائجیسٹ کے مدیر اعلی امجد رؤف خان صاحب ہیں۔اس کی کتابت علی احمد نے کی ہے۔اس کتاب میں نبی اکرمﷺ کے فرامین کو بیان کرتے ہوئے معاشرے کے ہر ایک پہلو کو اجاگر کیا ہے۔جس سے معاشرے میں انفرادی و اجتماعی کردار سازی ہوسکے۔۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی اس ڈائجیسٹ کے تمام ممبران کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 150 اخلاق اہل قرآن (جمعرات 21 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:867

    وہ لوگ معراجِ سعادت پاتے ہیں جو قرآن کی تعلیم وتعلّم کو اپنی مشغولیت اور زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں ۔ نبیﷺ نے ایسے اصحاب خوش بخت کو بہترین‘ افضل‘ اہل اللہ اور خدا کے خاص بندے جیسے القابات دے کرشان بخشی ہے۔ ان کی عزت ورفعت کے کیا کہنے کہ جنہیں دیکھ کر ذاتِ الٰہی ملائکہ کے سامنے رشک کرے کہ جس کی تخلیق پر تم معترض تھے‘ دیکھو وہی میرے کلام کو اپنی جلوت وخلوت کا مدارِ گفتگو بنائے ہوئے ہے۔قاری قرآن  کو کل قیامت کو بہت سے اجر سے نوازا جائے گا مگرقارئ قرآن قراءت کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں فہم وتدبر بھی کرے۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب  عربی کتب کا اردو ترجمہ ہے جو نہایت سلیس ہے جس میں قارئ قرآن کے اوصاف اور آداب تلاوت سے متعلقہ تفصیل ذکر کی گئی ہے۔ اس کے دو بڑے حصے کیے جا سکتے ہیں پہلے حصے میں قرآن کے اوصاف وخصائل کو نہایت عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہےکہ قاری کو کیسا ہونا چاہیے اور کیسا نہیں اور نہایت اختصار اور جامعیت سے کام لیا گیا ہے‘ اور دوسرے حصے میں مصحفِ قرآنی کے آداب بیان کیے گئے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔۔ یہ کتاب’’اخلاق اہل القرآن ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 151 بیت الحمد تک عبد اللہ کے ساتھ میرا سفر (جمعہ 01 جون 2018ء)

    مشاہدات:685

    اللہ رب العزت نے انسانیت کو پیدا کرنے کا مقصد بیان کیا ہے کہ وہ آزمائے کہ ان میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ اس لیے کوئی دنیا میں آ رہا ہے اور کوئی جا رہا ہے کیونکہ یہ فطری عمل ہے جسے بدلنے کی انسانی کوشش ناکام ونامراد ہے۔ اللہ رب العزت نے دنیا میں جو بھی نعمت دی ہے اس کے بارے میں کل قیامت کو سوال بھی کیا جانا ہے اور کبھی نعمت دینے کے بعد دنیا میں ہی واپس لے لی جاتی ہے جیسے کہ اولاد ہے لیکن اگر اولاد کے فوت ہو جانے کے بعد اس پر صبر کرنے اور اللہ کی تعریف کرنے  سے جنت میں ایک ایسا گھر بنا دیا جاتا ہے جسے بیت الحمد کا نام دیا جاتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی مصنف کے ان ایام کا تذکرہ ہے جس میں ان کا بیٹا بیمار تھا اور اس کے بعد اللہ سے جا ملا ان کی یہ کتاب مریض‘ اس کے گھر والے اور ساتھ رہنے والے‘ بیماری کا علاج کرنے والے‘ اپنے بیٹوں اور چہیتوں کی وفات کا غم برداشت کرنے والے‘ علاج کے لیے دوسرے ممالک کا سفر کرنے والے اور صحت مند وہ افراد جو اپنے پیاروں کی وفات کا غم اور اس کے احکام جاننا چاہتے ہیں کے لیے مفید ہے۔اس کتاب میں مرض‘ علاج اور وفات سے متعلقہ مفید معلومات دی گئی ہیں اور غافل حضرات کو آگاہ کرنے اور جاہل کو راستہ بتلانے اور عمل کرنے والے کے لیے ہمت کا سامان ہے۔ اس کتاب میں ماضی اور دور حاضر دونوں کی جھلک موجود ہے اور جدید فوائد اور اچھی حکمتوں کو جمع کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ بیت الحمد تک ‘‘ڈاکٹر عبد المحسن عبد اللہ الجار اللہ الخرافی  کی...

  • 152 ڈوگرز یونیک واقفیت عامہ (جمعہ 05 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:606

    اللہ رب العزت نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے کار نہیں پیدا کیا یا ایسا نہیں کہ فضول اشیاء پیدا کی ہوں بلکہ ہر ایک کے پیدا کرنے کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہے اور ہر ایک کے ذمہ کچھ نا کچھ کام ضرور ہیں کہ جن کا ادا کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ دنیا وما فیہا میں بہت سے مخلوقات زندگی بسر کر رہی ہیں اور ہر ایک کے بارے میں یا چند ایک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنا  عام افراد کے لیے مشکل ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ڈوگرز یونیک کی کتاب ہے جو کہ اہم ذمہ دار،علم شناس اور بااعتماد اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے جنرل نالج جیسے موضوع کو بنیاد بنا کہ معلومات کا عظیم ذخیرہ بیان کیا ہے اور موجودہ دور میں جس تیز رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی  ہیں سب  کو مد نظر رکھ کر اس ایڈیشن کو شائع کیا گیا ہے اور اس کا لفظ لفظ اور سطر سطر نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد تحریر کیا گیا ہے اور یہ کتاب ہر عام وخاص کے لیے یکساں مفید ثابت ہو گی۔اس میں کئی ایک اہم موضوع ہیں اور ان کے ذیل میں اور اہم جز بنا کر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں فلکیات‘ جغرافیہ‘ سائنس‘ انسانی جسم اور جینیاتی ریسرچ‘ کمپیوٹر سے متعلق بنیادی معلومات‘ تاریخ عالم اور متفرق عالمی معلومات‘ تاریخ پاکستان‘ اسلامیات‘ کھیلیں‘ اصطلاحات‘ مخففات اور حالات حاضرہ سے متعلق معلومات کا خزانہ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’&rsqu...

  • 153 دوسری شادی کیجیے (ہفتہ 23 جون 2018ء)

    مشاہدات:1232

    شادی انبیائے کرام کی سنت ہے، اللہ کا فرمان ہے : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً (الرعد: 38) ترجمہ: ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا ۔‘‘ جو مسلمان نبی کی اس سنت سے اعراض کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: النِّكاحُ من سنَّتي، فمن لم يعمَل بسنَّتي فليسَ منِّي (صحيح ابن ماجه:1508) ترجمہ’’ نکاح میرا طریقہ ہے اور جو شخص میرے طریقے پر عمل نہیں کرتا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘ جس نے طاقت رکھتے ہوئے شادی کرلی اس نے سنت پر عمل کیا، جو طاقت رکھنے کے باوجود شادی نہیں کرتا وہ تارک سنت ہے۔ رہا مسئلہ دوسری شادی کاتو یہ بھی مردوں کے لئے مباح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ کثرت سے شادی کیا کرتے تھے، اسلام نے شادی کی حد متعین کی کہ اگر کوئی شادی کرنا چاہے تو چار تک اس کی حد متعین ہے۔ ایک سے زائد شادیاں بیویوں کے درمیان حقوق کی رعایت اور عدل وانصاف سے مشروط ہے ورنہ ایک ہی شادی پر اکتفا کرے۔قرآن میں اللہ نے پہلے دوشادی کا ہی ذکرکیا ہے پھرتین،پھرچار، ان میں انصاف نہ کرسکنے کی صورت میں ایک کواختیار کرنے کا حکم ملا۔ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً(النساء:3) ترجمہ: اور عورتوں میں سے جوبھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو،دو دو، تین تین، چارچار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے ک...

  • 154 کلمہ شہادت (جمعرات 03 مئی 2018ء)

    مشاہدات:718

    لہ تعالیٰ ہمارا رب اور الٰہ ہے وہی ہمارا خالق وحاکم ہے‘ ہم اس کی مخلوق ہیں اور اسی کے محکوم ہیں‘ دین وقانون صرف اسی کا مانا جائے گا‘ عبادت واطاعت صرف اسی کا حق ہے‘ یہی ہمارا مقصدِ زندگی ہے اور اسی حوالہ سے ہماری آزمائش ہے‘ اس مقصد کے حصول کی خاطر ہمیں عارضی طور پر دنیا میں بھیجا گیا ہے پھر وہ ہمیں موت دے گا اور ہم اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے پھر وہ ہم سے باز پرس کرے گا اور اس کے مطابق ہمیں انجام تک پہنچائے گا۔اللہ رب العزت نے دین اسلام کو ہی پسند فرمایا ہے اور اسی پر چلنے اور عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے‘ دین اسلام کے تین بنیادی اصول ہیں: توحید‘ رسالت اور آخرت۔ اور فرمان نبویﷺ کے مطابق پانچ ارکان اسلام ہیں ان میں سے پہلا کلمۂ شہادت ہے اور اسلام میں داخلے کی اولین شرط ہے اور کلمۂ شہادت کو شعور واعتقاد کے ساتھ پڑھنا اور عمل کرنا ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص کلمۂ شہادت کے حوالے سے ہے جس میں کلمۂ شہادت کی اہمیت‘ اس کی شرائط اور اس کے اجزاء کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ کلمہ شہادت ‘‘عباس صاحب کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 532
  • اس ہفتے کے قارئین: 2577
  • اس ماہ کے قارئین: 23187
  • کل مشاہدات: 41877615

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں