• محمد مسعود الازہر

    جہاد فی سبیل اللہ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے  بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل مین شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نلکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔جہاد اسلام کے فرائض میں نماز، روزہ ، حج، زکوٰۃ کی طرح اسلام کا پانچواں فرض ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ"الجہاد ماض الی یوم القیامۃ" یعنی جہاد قیامت تک جاری رہے گا ۔قرآن و سنّت کی بے شمار نصوص  اور اجماع امت جہا د کی فر ضیت کا اعلان کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "فتح الجواد فی معارف آیات الجہاد" محترم مولانا مسعود اظہر صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں جہاد سے متعلق وارد آیات قرآنیہ کو ایک جگہ جمع کرتے ہوئے ان سے مستنبط رموز و معارف کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور مکتبہ عرفان لاہور کی مطبوعہ ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    دین اسلام میں نماز کی مسلمہ اہمیت سے کوئی بھی بندہ مؤمن انکار نہیں کرسکتا۔ نماز کی اسی اہمیت کے پیش نظر اس موضوع پر اب تک بہت سی کتب منظر عام پر آچکی ہیں جو افادہ کے اعتبار سے قابل قدر حیثیت رکھتی ہیں لیکن ان میں سے بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو نماز کے حوالے سے کسی مخصوص پہلو کی وضاحت کے لیے لکھی گئی ہوتی ہیں۔ پیش نظر کتاب میں ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی نے ان تمام اہم مسائل کو قرآن وسنت سے ماخوذ شرعی دلائل کی روشنی میں جمع کردیا ہے جن کا بجا لانا ہر مسلمان مرد و زن کے لیے ضروری ہے۔ مؤلف نے اختلافی مسائل اور تفصیلی تحقیقات سے اجتناب کیا ہے۔ نماز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسوہ انبیاء کو بھی ملحوظ رکھا  گیاہے اور سلف صالحین کے نماز کے ساتھ شغف کے متعدد نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں۔علاوہ بریں احادیث کی روشنی میں نبی کریمﷺ کا طریقہ نماز بھی کتاب کا حصہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ابو عدنان محمد منیر قمر
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے-اس لیے جو شخص رات کا قیام کرنا چاہتا ہے وہ عشاء کی نماز کے بعد وتر نہ پڑھے  بلکہ رات کےآخری حصے میں وتر ادا کرے-ونماز وتر کے سلسلے میں ہمارے ہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کچھ کے نزدیک یہ واجب ہے تو کچھ کے نزدیک سنت مؤکدہ اور کچھ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رات کو وتر پڑھ کر سو گیا تو صبح اٹھ کر پہلے وہ اپنے وتر کو توڑے گأ پھر نفلی نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح اگر کسی کا وتر رہ گیا ہو تو وہ اس کی قضا کیسے دے گا-زیر نظر کتاب میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے اس حوالے سے پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے لیےقابل قدر کوشش کی ہے-مصنف نے قرآن وسنت، آثار وصحابہ وتابعین اور اقوال آئمہ کی روشنی میں نماز وتر اور تہجد کی فضیلت واہمیت اور اس سے متعلقہ تمام مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے-جس میں نماز وتر اور تہجدکے فضائل اور ادائیگی کا طریقہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دعائے قنوت کے مسائل اور اس کا طریقہ بالدلائل بیان کیا گیا ہے-

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760455

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں