کل کتب 379

دکھائیں
کتب
  • 1 #2572

    مصنف : ابراہیم بن عبد المقتدر

    مشاہدات : 8571

    100 حرام کاروبار اور تجارتی معاملات

    (بدھ 05 نومبر 2014ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام الریاض

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ 100 حرام کاروبار اورتجارتی معاملات‘‘ شیخ ابراہیم بن عبد المقتدر﷾ کی عربی کتاب ’’تحذیر الکرام من مائۃ باب من ابواب الحرام‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں تجارتی معاملات اور خرید وفروخت کے متعلق جدید مسائل کوبڑے احسن پیرائے میں درج کیا گیا ہے ۔ اور اس کتاب کی امیتازی خوبی یہ ہے کہ   اس میں تمام شرعی مسائل اور دینی تعلیمات کو ایک ایک کہانی اور مکالمے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس سے پڑہنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور کتاب کو شروع کرنے کےبعد ختم کیے بغیر چھوڑنے کودل نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف،مترجم ،ناشر اور جملہ معاونین کے لیے ذخیرۂ آخرت اور بلندی درجات کا باعث بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • 2 #4639

    مصنف : پروفیسر مزمل احسن شیخ

    مشاہدات : 5308

    آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن

    (جمعرات 28 اپریل 2016ء) ناشر : خالد بک ڈپو، لاہور

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 3 #4639

    مصنف : پروفیسر مزمل احسن شیخ

    مشاہدات : 5308

    آئینہ اسلامی تہذیب و تمدن

    (جمعرات 28 اپریل 2016ء) ناشر : خالد بک ڈپو، لاہور

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 4 #2663

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2747

    آتش بازی اور لائٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟

    (پیر 01 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کوبھی بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین ( م۔ا)

  • 5 #6730

    مصنف : محمد بشیر جمعہ

    مشاہدات : 3026

    آج نہیں تو کبھی نہیں

    (جمعرات 09 اگست 2018ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    زندگی کل کے انتظار کیلئے بہت چھوٹی ہے۔ اکثر ہم اپنے روزمرہ کے مشکل کاموں کو کل پر ملتوی کر کے ان سے جان چھڑانے کی بیکار کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں جان لینا چاہئے کہ اس طرح کام سے جان نہیں چھوٹتی بلکہ یہ محض وقت کا ضیاع ہو تا ہے ۔ اس لئے ہمیں آج کا کام کل پر چھوڑنے کی غلط عادت کی اصلاح کر لینی چاہئے کیونکہ زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی قدر کرتا ہے اور مشکل ترین حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔اداروں کے ذمہ داران ؍نگران  حضرات  کو اپنے ماتحت  کام کرنےوالےافراد اور  والدین کو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے انہیں آج کا کام آج ہی کرنے جیسی اچھی عادت اپنانے کی تلقین بھی کرنی چاہئے۔ اس سے نہ صرف انہیں وقت کی قدر کرنا آئے گی بلکہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کی جرأت بھی پیدا ہو گی جو انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد دے گی۔ معروف سکالر  جناب محمد بشیر جمعہ نے زیر نظر کتاب ’’ آج نہیں تو کبھی نہیں ‘‘ میں بڑے احسن  انداز میں    مذکورہ بالا مسئلہ کی  طرف توجہ دلائی ہے اور انسان  کے  اندر پائی جانے  والی سستی ، کاہلی اور تن آسانی  کی وجوہات   ، اسباب  اور اس کا  علاج پیش کیا ہے (م۔ا) 

  • 6 #6120

    مصنف : ام عبد اللہ

    مشاہدات : 2433

    آداب سفر

    (جمعہ 29 دسمبر 2017ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی

    اﷲ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و رزق رساں ہے۔ ا س خاکدانِ گیتی پر بسنے والاہر انسان اپنی گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے شب و روزدوڑ دھوپ کرتا ہے اور بڑی محنت ومشقت سے اپنا اور اپنے گھر والوںکاپیٹ بھرنے کے لیے روزی روٹی کماتا ہے۔ اگر وہ یہ تمام کام احکامِ الٰہیہ اور سنتِ نبویہ علیۃ التحیۃ والثناء کے مطابق انجام دے تو یہ سب عبادت بن جاتے ہیں۔ لیکن اگروہ ان امورمیں اسلامی ضابطوں کی پابندی نہ کرے اور انہیں توڑتے ہوئے ناجائز طریقے اختیارکرتے ہوئے یا معاشی جدوجہد کے نام پر دوسروں کے حقوق مارنا شروع کردیتاہے تو یہی کوشش اس کے لیے آخرت میں رسوائی کا سامان بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آدابِ سفر‘‘ تالیف اُمِّ عبد اللہ  ترجمہ و تخریج ابو القاسم حافظ محمود احمد نے کیا ہے۔ جس میں سفر کی وضاحت لغوی اور اصطلاحی طور پر بیان کی ہے اور آداب سفر بیان کرتے ہوئے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔  باب اول میں  سفر کے فوائد و عیوب کو اجاگر کیا ہے۔ باب دوم آداب سفر ۔ باب سوم دوران سفر آداب۔ باب چہارم میں اختتام سفر کے آداب۔   باب پنجم سفر عیوب و نقائص پر مشتمل ہے۔لہذا یہ کتاب آداب سفر کے حوالے سے انتہائی مفید کتاب ہے جس کو قرآن و سنت کی روشنی میں مدوّن کیا ہے۔ ہم مصنف اور دیگٰر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (ر،ر)

  • 7 #3672

    مصنف : محمود خالد مسلم

    مشاہدات : 2080

    آفاقی حدود میں قید و بند کا عدم جواز

    (ہفتہ 17 اکتوبر 2015ء) ناشر : المسلمین لوئر مال لاہور

    پاکستان اس وقت جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہےان پر ہر پاکستانی پریشان اور خوف وہراس کا شکار ہے۔آئے روز ڈکیتیوں، شاہراہوں پر لوٹ مار، قتل وغارت اور بم دھماکوں کی بھر مار ہے۔حتی کہ اندرون خانہ بھی کوئی شہری محفوظ نہیں ہے۔کیا ان جرائم کو روکنے والا کوئی نہیں ؟پولیس اور دوسرے ادارے کیوں ناکام ہو گئے ہیں۔ان جرائم اور لاقانونیت کے پس پردہ وہ کون سے عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث ان پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے؟ان عوامل میں جہاں معاشرتی اور معاشی اسباب ہیں وہاں جزا وسزا کے تصور کا بھی فقدان ہے اور سب سے بڑا سبب ایک اسلامی ملک پاکستا ن میں اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں سے رو گردانی اور ملکی قانون کی گرفت کا کمزور ہونا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آفاقی حدود میں قید وبند کا عدم جواز " محترم خالد محمود مسلم صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کو نمٹانے کی رفتار  کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انصاف مہیا کرنے کی راہ میں ایک بہت بڑا عیب قرار دیا ہے۔ مولف کے نزدیک عدالتی طریق کار میں تاخیری حربوں نے انصاف کی روح کو مجروح کر رکھا ہے اور یہ نظام مجرموں کے لئے بجائے عبرت کے ایک ترغیب اور تشویق کا پہلو رکھتا ہے۔ مولف ایک متحرک، فعال اور درد مند مسلمان ہیں جو امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مختلف اور متنوع قسم کے پروگرام تشکیل دیتے رہتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی انہی کاوشوں کا ایک حصہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے قید وبند کی سزا کو شریعت کے منافی قرار دیا ہے ، کیونکہ شرعی طور پر ہر مجرم کو فوری سزا دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #2595

    مصنف : خادم حسین الہٰی بخش

    مشاہدات : 2907

    اثر الفکر الغربی

    (منگل 28 اکتوبر 2014ء) ناشر : دار حراء للنشر و التوزیع مکہ مکرمہ

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في الأفكار والمعتقدات ، فكان من مباحثه التنصير في عهد المغول ، والتنصير أثناء الحكم الإنجليزي المباشر ، وبيان الطرق التي سلكها المُنَصِّرُوْن لتنصير المسلمين وغير المسلمين ، مع تحديد الأسباب التي قادتهم إلى بعض النجاح ....    وحدد الفصل الثاني لهذا الباب أثر الفكر الغربي في مجال التربية والتعليم ، وذلك ببيان موقف الدولة الإسلامية من التعليم ، وموقف الإنجليز من التعليم المُحَقِّق لمطامع المستعمرين ، وبث التنصير عن طريقالتعليم ، والتعليم في الآونة المعاصرة بروافده الثلاثة ، : التعليم الحكومي ، التعليم الخاص ، التعليم الديني .    وكان ثالث فصول هذا الباب محصوراً في القضايا الاجتماعية : كتعليم المرأة ، وعملها ، والزواج ، والقِوَامة ، وشرب المسكرات ، والاقتصاد ، ووسائل الإعلام ....    وجاء خِتام فصول هذا الباب موضحاً أثر الفكر الغربي في مجال النظم التشريعية ، فتحدثت الدراسة عن قضاء المسلمين في الهند ، واتفاقية بَكْسَر وخيانة شركة الهند الشرقية في تنفيذ بنودها المتصلة بالقضاء والفصل بين الناس ، وبداية التحريف في التشريع وآثاره الوخيمة ، ومناقشة فتوى السيد رشيد رضا المصري حول جواز التحاكم إلى غير شريعة الله ، في ضوء الكتاب والسنة وأقوال علماء الإسلام . كما تطرق هذا الفصل إلى وضع دستورٍٍ لدولة باكستان المسلمة ، وقانون العقوبات الباكستاني و مناقشة محتوياته ، وذكرت الدراسة نماذج مقارنة من الجرائم والعقوبات بين الشريعة والقوانين الباكستاني ، وقانون الإثبات ومحتوياته ، وشهادة المرأة ، وشاهد المَلِك بين الشريعة والقانون ...    وخَتَمَتْ الفصل بطلب إصلاحات في القضاء : كإلغاء الرسوم القضائية ، وتكوين مجمعٍ علمي قضائي ، وإصلاح التعليم التشريعي في كليات القانون ، وكليات الحقوق ، والمدارس الدينية ...    وآخر أبواب الرسالة جاء موضحاً لأثر الفكر الغربي في الفرق المنحرفة عن الإسلام ، فتحدث عن الشيعة الاثني عشرية ، والشيعة الإمامية البهرة ، والشيعة الإمامية الأغاخانية ، فكان من مباحث هذا الباب ظاهرة التعاون بين الأفكار المنحرفة ، وظاهرة إخفاء ما يدين به الشيعة عموما....    كما تحدث هذا الباب عن الصوفية وأثر الفكر الغربي فيها ، وحدد منهج الصوفية في الدعوة إلى الإسلام ، وحال الهند المتصوفة عند الاحتلال الإنجليزي ، والنظرة السلبية إلى الحياة ونتائجها لصالح الفكر الغربي .    وجاء رابع فصول هذا الباب في تحديد الفكر الغربي في القرآنيين ، الذين ينكرون حجية السنة في التشريع وأخذ الأحكام الشرعية منها ، ويعود بداية هذا الفكر إلى السيد أحمد خان مؤسس جامعة عليكره ، كما ذكر هذا الباب نماذج من التحريف في فكر زعماء القرآنيين .    وكان ختام فصول الأطروحة في القاديانية وإخلاصها للفكر الغربي ، وذلك حين ادعى زعيمها غلام أحمد القادياني نسخ الجهاد بنبوته ، وأن الهند دار إسلام لا دار حرب ، وتفسير القاديانية لخاتم النبيين ، ونماذج من وحي الغلام ، وختمت الفصل بذكر ما تختلف فيه القاديانية عن الإسلام .     وقبل الخاتمة بينت الوضع الحالي المبشر لصالح الإسلام ، وجاءت الخاتمة متضمنة بين طياتها نتائج البحث التي توصلت إليها الدراسة  المؤلف د/ خادم حسين إلهي بخش  أستاذ العقيدة والفرق والمذاهب المعاصرة  بكلية الشريعة والأنظمة ، قسم الشريعة في 15 شوال 1435 هـ الموافق 11/اكست 2014م   جامعة الطائف    الطائف ، المملكة العربية السعودية

  • 9 #4098

    مصنف : سید حامد عبد الرحمن الکاف

    مشاہدات : 2206

    احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ

    (بدھ 10 فروری 2016ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور

    زیر تبصرہ کتابچہ"احادیث مزارعت کا ایک مطالعہ، حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" محترم  جناب السید حامد عبد الرحمن الکاف صنعاء، یمن کے ان دو مقالات پر مشتمل ہے، جو اس سے پہلے ہفت روزہ "الاعتصام" میں بالاقساط چھپ چکے تھے۔چنانچہ مولف کی خواہش پر انہیں کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہیں۔ان میں سے پہلا مقالہ ان احادیث مزارعت کے مطالعہ وتحقیق پر مشتمل ہے جو کتب احادیث میں پائی جاتی ہیں اور جن میں بظاہر کچھ تعارض سا نظر آتا ہے۔علمائے کرام نے ان کے درمیان جمع وتطبیق کی کئی صورتیں بیان فرمائی ہیں، جن سے بادی النظر میں محسوس ہونے والا یہ تعارض دور ہوجاتا ہے اور مسئلہ ایک واضح شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔تاہم سطح بین قسم کے لوگ پھر بھی  ان روایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور دوسروں کو مغالطے میں ڈالنے کی مذموم کوشش کرتے ہوئے مزارعت کے مطلقا عدم جواز کا فتوی جاری کر دیتے ہیں۔کتابچے میں دوسرا مقالہ "حقوق کے سلسلے میں اسلام کا قاعدہ کلیہ" کے عنوان سے ہے ، جس میں شورائی نظام اور عصر حاضر میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔امید ہے کہ علمی ودینی حلقوں میں ان دونوں مقالات کو قدر اور تحسین کی نظر سے دیکھا جائے گا اور یہ عوام کی فکری جلا اور ازدیاد بصیرت کا باعث ہوں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • 10 #3542

    مصنف : ڈاکٹر محمد طاہر منصوری

    مشاہدات : 4620

    احکام بیع

    (ہفتہ 05 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد

    اسلام کی نگاہ میں انسان کا مال اسی طرح محترم ومقدس ہے جس طرح اس کی جان اور عزت وآبرومقدس ہیں۔اسلام دوسروں کا مال ناجائز طریقے سےکھانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور باہمی رضا مندی سے طے پانے والے معاہدۂ خریدوفروخت کو حصولِ مال کا ایک جائز وسیلہ قرار دیتا ہے۔قرآن وسنت سےمستنبط فقہ اسلامی کے ذخیرے میں جائز وناجائز مالی معاملات پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے ۔ فقہائے کرام نے کسب مال کے جو جائز ذرائع بیان کیے ہیں ، ان میں معاہدۂ بیع وشراء ،ہبہ ،وصیت اور وراثت وغیرہ شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ احکام بیع ‘‘ جناب طاہر منصور ی صاحب کی کاوش ہے ۔اس کتاب میں انہو ں نے   بیع سے متعلق اہم احکام فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔مصنف نے کتاب کا مواد فقہ کی بنیادی اورمستند کتابوں سے لیا ہے۔ عربی اقتباسات کواردو میں منتقل کرتے ہوئےکوش کی گئی ہے کہ ترجمہ کی زبان رواں، سادہ، سہل او رعام فہم ہو اور اس کے ساتھ ہی مختلف مسائل پر فقہاء کا نقطۂ نظر ممکنہ صحت واحتیاط کے ساتھ نقل کیا جائے ۔ابواب کی ترتیب میں اسلامی قانون معاہدہ کی معاصر کتابوں کامنہج سامنے رکھا گیا ہے اورمعاہدۂ بیع کی اقسام اور اس کےارکان وشرائط ایک منطقی ترتیب کےساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نیزکتاب کے آخر میں ان تمام فقہی اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے جوکتاب میں استعمال ہوئی ہیں۔یہ کتاب اسلامی قانون تجارت سے دلچسپی رکھنے والے افراد کےلیے ایک مفید علمی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 37 38 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1258
  • اس ہفتے کے قارئین 3103
  • اس ماہ کے قارئین 55136
  • کل قارئین49458759

موضوعاتی فہرست