مکتبۃ السلام، وسن پورہ، لاہور

  • 1 اسلام کا نظام فلکیات (الشمس والقمر بحسبان) (جمعہ 22 مئی 2009ء)

    مشاہدات:14697

    آج کل دنیا کے اکثر ممالک، حتٰی  کہ  بیشتر مسلم ممالک میں بھی  عیسوی تقویم رائج ہےحالانکہ حقیقی اور قدیمی تقویم قمری ہے نہ کہ شمسی-عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت مولانا عبدالرحمن کیلانی نے اس کتاب میں ہجری اور عیسوی تقویم کے بکھیڑوں کو سلجھاتے ہوئے محققانہ اور عالمانہ انداز میں اسلام کےنظام فلکیات پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے- کتاب کے شروع میں ان اصول وقواعد پر روشنی ڈالی گئی ہے جو قمری تقویم کی بنیاد ہیں-سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کو تسلیم کیا جاتا رہاہے ، اسلام نے علم ہیئت میں غور وفکر کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ  سیاروں کے اثرات کی کلیتاً نفی کی اور اسے واضح شرک قرار دیا ہے، لہذا ایسے اثرات کی دلائل کی مدد سے تردید کی گئی ہے-علم ہیئت کے موجودہ نظریات میں کچھ ایسے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں ، کچھ متعارض ہیں اور کچھ متصادم ہیں-مولانا  نے ایسے امور کا شرعی نقطہ نظر سے تقابل پیش کرتے ہوئے راہ صواب کی جانب راہنمائی کی ہے-کتاب کے دوسرے حصے میں کئی ایسے طریقے بیان کیے گئےہیں جن میں ہجری تقویم میں بذات خود دن معلوم کیا جاسکتا ہے-اس کے بعد ہجری تقویم اور عیسوی تقویم میں مطابقت کے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کے آخر میں مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق اہم واقعات کےہجری اور عیسوی سنین بقید ماہ و سال درج  کیے گئے ہیں-
     

  • 2 روح،عذاب قبر اور سماع موتٰی (اتوار 22 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:18892

    عبدالرحمٰن کیلانی صاحب کی یہ کتا ب دراصل ترجمان الحدیث اور محدث میں چھپنے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا موضوع کتاب کے نام سے ظاہر ہے اور شاید مسلمانوں کا کوئی فرقہ اور کوئی طبقہ ایسا نہ ہوگا جو اس موضوع سے گہری دلچسپی نہ رکھتا ہو۔  ان مسائل میں کچھ لوگ اگر افراط کی راہ پر نکل کر گمراہ ہوئے تو کچھ رد عمل میں تفریط کا شکار بنے۔ زیر تبصرہ کتاب اس موضوع پر کتاب و سنت کی صحیح راہنمائی مہیا کرتے ہوئے اعتدال کی راہ دکھاتی ہے۔  اس کتاب میں احناف اور توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے  افراط و تفریط پر مشتمل عقائد پیش کر کے ان کا علمی محاکمہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عالم برزخ کی زندگی اور دنیاوی زندگی کی صورت حال کو واضح کیا ہے،روح کا سفر اور شہید کی زندگی کا تصور،سماع موتٰی کے بارے میں مختلف اقوال ورائے اور اس کی  استثنائی صورتیں،برزخی جسم اور برزخی قبر کا تعارف، توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے پیدا کردہ مختلف شبہات کا بھرپور علمی رد پیش کیا ہے،اور اسی طرح سماع موتی کی آڑ لے کر اولیاء کو تصرفات کا حامل قرار دینا اور کیا سماع موتی کے عقیدے سے بندہ مشرک ہو جاتا ہے یا نہیں ،ایسی ابحاث کو حتی الامکان معتدلانہ رویے کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کا انداز انتہائی سادہ اور عام فہم ہے اور بات کو نکھارنے اور سمجھانے کی غرض سے مختلف استفسارات اور سوالات کو پیش کرکے ان کا جواب بھی تحریر کر دیا گیا ہے تاکہ سوال کے ساتھ جواب بھی موجود ہو اور بات بالکل واضح ہو کر لوگوں میں حق اور باطل میں فرق کرنے کا شعور بیدار...

  • 3 شریعت و طریقت (جمعرات 19 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15788

    دین رہبانیت، صوفیت، صوفی ازم، طریقت کے متوالوں کو سنہری شریعت دین اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں طریقت کے حق میں دیے جانے والے دلائل اور شخصیات کا احترم آمیز انداز میں بہترین اور باحوالہ علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کے غیر متعصب  متلاشی کو واقعی راہِ حق دکھانے کی قوت رکھتی ہے۔ دین طریقت کے مختلف بنیادی نظریات، وحدت الشہور، حلول، وحدت الوجود کا علمی محاسبہ۔  ولایت، کرامت، تصوف،  باطنی علوم، قیوم،قطب، ابدال، صوفیاء اور محدثین، اولیاء اللہ اور گستاخی، عشق و مستی، سماع و وجد،  جام و مے، تصور شیخ، حضرت خضر علیہ السلام کی شخصیت، رجال الغیب، پیران پیر، شیعیت، خرقہ، لوح محفوظ، آستانے، مزارات، درگاہیں، ولایت یا خدائی، علم غیب، تصرف، توجہ ،بیعت،شفاعت، اولیاء اللہ کے مقابلے، ولی بننے کے طریقے، کرامات اور استدراج،صوفیائے کرام کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات کا تقابلی جائزہ، تصرف باطنی، مشاہدہ حق، دیدار الٰہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات، ذکر قلندریہ، ذکر نور اور کشف قبور، محبت الٰہی، صحبت بزرگان، صوفیائے کرام کا تفسیری انداز، موضوع احادیث و واقعات، شریعت و طریقت کا تصادم، توحید، رسالت،قرآن،نکاح سے گریز، جنت اور دوزخ کا مذاق، ارکان اسلام کا مذاق اشرف علی تھانوی کا اعتراف حقیقت، خورشید احمد گیلانی اور روح تصوف، شریعت و طریقت کاتقابلی جائزہ
     

  • ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے –احناف  کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبه کہا گیا  لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے-ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے تمام مسائل کو بالدلائل واضح کر دیا ہے جس پر کوئی عالم بھی قدغن نہیں لگا سکتا-جس میں رسول اللہﷺکے دور میں طلاق کی صورت،مجلس واحد میںتین طلاقوں کا حکم، بعد میں صحابہ کرام کا عمل اور حضرت عمر کے بارے میں بیان کیے جانے والے مختلف واقعات کی اصلیت کی نشاندہی اور مجلس واحد کی تین طلاقوں کے موثر ہونے کے دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا جواب تحریر کیا گیا ہے-تطلیق ثلاثہ کے بارے میں پائے جانے والے چار گروہوں کا تذکرہ،انکار اور تسلیم کرنے والے علماء کے دلائل کا تذکرہ،تطلیق ثلاثہ سے متعلق  ایک سوال کی وضاحت،مسائل میں باہمی اختلاف کی شدت کی وجہ تقلید کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے-
     

  • 5 احکام ستر و حجاب (منگل 12 مئی 2009ء)

    مشاہدات:15757

    علامہ ناصر الدین البانی جو کہ ایک بلند پایہ علمی شخصیت اور محدث ہیں،نے کچھ عرصہ قبل خواتین کے چہرے کے پردے کے حوالے سے ''الحجاب المرأۃ المسلۃ'' کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا جس میں بہت سارے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں کا پردہ مستحب ضرور ہے مگر واجب نہیں-زیر نظر کتاب میں مولانا عبدالرحمن کیلانی نے موصوف کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی براہین کی مدد سے تفصیلی رد پیش کیا ہے-كتاب کے شروع میں تہذیب  حاضر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس کے اسباب اور خطرناك نتائج پرروشنی ڈالی گئی ہے-اس کے بعد احکام سترو حجاب سے متعلق چند ضروری وضاحتیں پیش کی گئی ہیں جس میں مرد و عورت کے سترکی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے پردے میں عورتوں کے لیے رعایت کے پہلو کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے-پردے اورحجاب کے آغاز پربحث کرتے ہوئے احکام حجاب کی رخصت کس کس سے ہے ؟ پر آراء کا اظہار کیا گیا ہے-اس کے بعد چہرے اور ہاتھوں کے قائلین اور غیر قائلین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے راجح مؤقف کی وضاحت کی گئی ہے-

  • 6 اسلام میں دولت کے مصارف (منگل 07 جولائی 2009ء)

    مشاہدات:17188

    مصارف دولت کے مضمون پر اس کتاب میں موصوف نے تین ابواب پر بحث کی ہے اس میں مصنف نے بے شمار دلائل کو کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے پہلے باب میں شرعی احکام کی حکمت بتائی ہے حالات کے لحاظ سے مراعات کی تقسیم , کم استعداد والوں کے لیے مراعات اور زیادہ استعداد والوں کے لیے ترغیبات کی وضاحت فرماتے ہوئے واجبی اور اختیاری صدقات کا بلند درجہ بھی بتایا ہے جبکہ دوسرے باب میں عورتوں کا حق مہر اور اسلام میں دولت فاضلہ یا اکتناز کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ارکان اسلام کی بجا آوری کی بھی وضاحت فرمائی ہے اور اس طرح خلفائے راشدین اور فاضلہ دولت پر بحث کرکے امہات المومنین کا کردار اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی بھی نشاندہی کی ہے تیسرے باب میں جاگیرداری اور مزارعت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں بنجر زمین کی آبادکاری , جاگیریں بطور عطایا , آبادکاری کے اصول , ناجائز اور غیر آباد جاگیروں کی واپسی , زمین سے استفادہ کی مختلف صورتیں اور اسلام نظام معیشت میں سادگی اور کفالت شعاری کا مقام بتاتے ہوئے مزارعت کے قائلین اور منکرین کے دلائل کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔

  • 7 خلافت و جمہوریت (جمعرات 27 اگست 2009ء)

    مشاہدات:19822

    جس طرح سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری انتہاء ہے بالکل اسی طرح موجودہ جمہوریت شخصی اور استبدادی حکومت کی دوسری انتہاء ہے- اسلام ہر معاملہ میں راہ اعتدال کو ترجیح دیتا ہے اسی لیے اس نے خلافت کا نظام متعارف کروایا ہے جس میں  ہر شخص کو اس کا جائز حق  عطا کیا جاتاہے- زیر نظر کتاب میں خلافت  وجمہوریت اور اس کی ضمنی مباحث کو تحقیقی اور علمی امانت کے ساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے- کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے-پہلے حصے میں خلفائے راشدین کا انتخاب  کس طرح عمل میں آیا ، پر تفصیلی بحث کی گئی ہےپھر  اس کے ضمن میں دیگر مباحث جن میں عورت کے ووٹ کا حق اور طلب امارت یا اس کی آرزو جیسے مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیاہے-کتاب کے دوسرے حصے میں دور نبوی اور خلفائے راشدین میں مشہور مجالس مشاورت اور اس کی ضمنی مباحث کو درج کیا گیاہے پھر ان تمام اعتراضات اور اشکالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو جمہویت نوازوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں-کتاب کے تیسرے اور آخری حصے میں ربط ملت کے تقاضے اور اسلامی نظام کی طرف پیش رفت  میں ایک مجمل سا خاکہ پیش کرتے ہوئے مغربی جمہوریت کے مزعومہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے- جس سے اس بحث کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ موجودہ وقت میں اسلامی نظام حیات کی طرف کیسے پیش رفت کی جاسکتی ہے-

     

  • 8 احکام تجارت اورلین دین کے مسائل (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:14510

    اسلامی تعلیمات میں حلال و حرام کے مابین تمیز و تفریق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے ۔تجارت اور لین دین کے باب میں بھی اس پر بہت زور دیا گیا ہے کہ حرام طریقوں سے بچا جائے او رکسب معاش کے حلال ذرائع اختیار کیے جائیں۔فی زمانہ معاشی مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت برتی جارہی ہے اور ایسی بے شمار باتیں مسلمان معاشروں میں رواج پا گئی ہیں جو شرعاً نا جائز ہیں۔زیر نظر کتاب میں کسب حلال ،نا جائز ذرائع آمدنی ،تجارت کے احکام و مسائل،تجارت کی جائز و  ناجائز صورتیں اور لین دین کے احکام کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔اسی طرح بنک کا سود،بچت اور سرمایہ  کاری کا اسلامی نظر ،بینکوں کے شراکتی کھاتوں کی حقیقت ،بلا سود بینکاری،بیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کا متبادل حل ،مالک اور مزدور کے مسائل،مسئلہ مزارعت میں جواز اور عدم جواز کی صورتیں،زکوۃ اور ٹیکس میں فرق اور انعامی بانڈز وغیرہ مسائل پر بھی محققانہ بحث کی گئی ہے ۔یہ امر لائق مسرت ہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی نے کتاب میں مذکور احادیث و آثار کی تحقیق و تخریج او راس پر نظر ثانی کی ہے ۔لہذا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشی مسائل کے حوالے سے یہ ایک جامع کتاب ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ وہ حرام سے بچ کر حلال ذرائع اختیار کر سکے اور شرعی احکام سے کما حقہ عہدہ بر آں ہو سکے۔
     

  • 9 عقل پرستی انکار معجزات (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:22464

    اسلام عقل ونقل كاايك حسين امتزاج ہے اوراس ضمن میں کمال اعتدال اورتوازن سے کام لیاگیاہے اسلام نے یہ اصول مقررکیاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تمام افعال واعمال اورہدایات عقل ومنطق سے کسی طورمتصادم نہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ ان کی تفہیم میں عقل انسانی عاجزآجائے ۔معجزات بھی اسی قبیل سے ہیں یعنی ایسے افعال جن کے کرنےسے انسان عاجزوقاصررہ جائیں۔ان پرایمان لاناواجب ہے اس اصولی نکتہ کونظراندازکرنے سے بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔چنانچہ بعض لوگ جب معجزات کوبظاہرعقل کےخلاف دیکھتے ہیں توان کے انکارکی روش اپنالیتے ہیں جوکہ صریحاً غلط ہے زیرنظرکتاب میں ایسے ہی ایک صاحب کی غلط فہمیوں کاازالہ کیاگیاہے جوعقل پرستی کاشکارہوکرمعجزات کاانکارکربیٹھے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں معجزات کاثبوت ملے گاوہیں عقل انسانی کے صحیح کردارکی بھی تعیین ہوجائے گی ۔


     

  • 10 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت سپہ سالار (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15618

    جہاد  اس وقت عالمی ومقامی میڈیا ،مسلم و غیر مسلم حکمرانوں  او ر نام نہاد  دانشوروں  کی بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ ستم ظریفی   دیکھیے کہ  اسلام کے نظریہ جہاد سےجو  جتنا ناواقف ہے وہ دانش کی اتنی ہی اعلی معراج پہ براجمان ہے ۔ ہر دانش ور صغرے کبرے ملا کر اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جہاد دہشت گردی کی  نعوذباللہ بد ترین شکل ہے  جس سے دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ ناقدین جہاد   کی ان مغالطہ آرائیو ں  کی حقیقت  سے  پردہ اٹھانے کی غرض سے کی جانے والی مولانا  عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ علیہ کی  یہ کاوش  نہایت مفید ہے ۔اور دفاع جہاد  یا  یوں کہیے کہ دفاع اسلام کی غرض سے کی جانے والی کوششوں میں   ایک قابل قدر اضافہ ہے ۔ اس تالیف میں  مولانا مرحوم نے نظریہ جہاد کی توضیح اور  اعتراضات  و شبہات  کورفع کر نے کی بھر پور کوشش کی ہے جس میں وہ الحمدللہ   کامیاب رہے ہیں۔اس کے علاوہ دارلاسلام او ردار الحرب  جیسی پچیدہ بحث کو خوش اسلوبی  سے نکھارا گیا ہے ۔ کتاب کے  آخر میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی  زندگی کے جہادی پہلو  کو نشانہ مشق بنانے  والوں کو شرعی  اورمنطقی  دلائل سے شافی جواب دیا گیا ہے  ۔اس کے علاوہ  آپ کی  عظیم شخصیت  پر غیر جانبدار مغربی مفکرین  کے اقوال بھی پیش کیے گئے ہیں  جو کہ جہاد اور پیغمبر جہاد  کے انتہا پسند ناقدین کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں ۔(ناصف)

    <...

  • 11 تیسیر القرآن (اردو) - جلد1 (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:27323

    مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)
     

  • 15 مترادفات القرآن (ہفتہ 08 فروری 2014ء)

    مشاہدات:23086

    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے،قرآن مجید کا ظاہری حسن یہ بھی  ہے کہ یہ ادب و بلاغت کی شاہکار کتاب ہے ،جس ایک ایک معنیٰ کے لیے متعدد الفاظ بیان ہوئے ہیں۔جن کے فرق اوربیان کو سمجھنا اور بیان کرنا بھی ایک اہم فن ہے ،جسے ہمارے ممدوح مولانا عبدالرحمٰن کیلانی پ‎﷫ نے نہایت ذوق ،شوق اور پور ی دلجمعی سے کتاب ہذا میں بہترین انداز سے مرتب کیا ہے ۔زیر نظر کتاب مترادفات القرآن کے موضوع پر اہم تصنیف ہے ،جوقارئین اور محقیقین کی علمی آبیاری کا بہترین سامان اور خدمت قرآن کے ایک شاندار کاوش ہے۔(ف۔ر)
     

  • 16 بہترین زاد راہ تقوی (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:17386

    تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ  کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ  اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔ زیر نظر کتاب پروفیسر نجیب الرحمٰن کیلانی کی ایک علمی کاوش ہے، جس میں انہوں نے قرآن و حدیث کی متعدد نصوص سے تقویٰ کے موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کو پانچ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ باب اوّل میں تقویٰ کا مفہوم، معیار اور مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ باب دوم میں حصولِ تقویٰ کے ذرائع نقل کئے گئے ہیں۔ باب سوم میں مختلف انبیائے کرام کے حوالے سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی امت کو تقویٰ کی تائید کرتے رہے تھے۔ باب چہارم میں تقویٰ کی   برکات و ثمرات کا بیان ہے اور باب پنجم میں تقویٰ کے مظاہر کا بیان ہے۔ مجموعی لحاظ سے کتاب ھذا قابلِ مطالعہ اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 17 آئینہ پرویزیت (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:27298

    اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی ک...

  • 18 یسئلونک (بدھ 21 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1723

    قرآن مجید خالق کائنات کی طرف سے انسانیت کے لیے حتمی اور آخری پیغام ِ ہدایت اور مسودۂ قانون ہے جسے ہادئ دوجہاں خاتم النبین ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جن کے بعد نبوت کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔کتاب وسنت او رسیر صحابہ ﷢ کا بغور مطالعہ کرنے سےپتہ چلتا ہے کہ فتویٰ دینا سنت اللہ،سنت رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سلف صالحین وائمہ دین کی سنت ہے ۔قرآن مجید میں ''استفتاء، افتاء اور یسئلونک کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے جن مسائل ،احکام ،اور اشکالات کے متعلق صحابہ کرام ﷺ نے نبی اکرم ﷺ سے سوالات دریافت کئے اورآپ ﷺ کی طرف سے ان کے ارشاد کردہ جوابات فتاوائے رسول اللہﷺ کہلاتے ہیں ۔جو کتب احادیث میں بکثرت موجودہیں ۔زیر نظر کتاب ''یسئلونک'' پروفیسر نجیب الرحمن بن عبدالرحمن کیلانی کی مرتب کردہ ہے ۔جس میں انہوں نے قرآن مجیدکے ان مخصوص مقامات کو بیان کیا ہے جہاں يسئلونك اور يستفتونك كے ذریعے امت کےسوالوں کے جوابات نقل کئے گئے ہیں ۔ فاضل مرتب نے ان مقامات کی نہایت جامع او ر سہل انداز میں شرح کردی ہے جو قاری کےدل میں بڑے ہی بہتر انداز میں جاگزین ہوجاتی ہے ۔او ر کتاب کےباب سوم میں نبی ﷺ سے صحابہ کرام او ر دوسرے لوگوں کے پوچھے گے 100 سوالات وجوابات کوبیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف کے لیے زریعہ نجات بنائے (آمین)(م۔ا)

     

     

  • 19 تکمیل حج ( سلیمان کیلانی) (جمعرات 11 جون 2015ء)

    مشاہدات:1101

    حج بیت  اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن  ہے بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز  روزہ  صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ  فقط مالی عبادت ہے ۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی  اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے   زیر تبصرہ کتاب ’’ تکمیل حج ‘‘ مفسر قرآن  مولانا عبد الرحمٰن کیلانی ﷫ کے  برادرِحقیقی    مولانا محمد سلیمان  کیلانی ﷫ کی تصنیف ہے  یہ کتاب  دراصل  ان  کے ان خطبات کا مجموعہ ہے  جو انہوں  نے 1955ء میں  فری...

    حج 
  • 20 اسلام میں ضابطہ تجارت (بدھ 11 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:1686

    اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں ضابطۂ تجارت &l...

  • انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی...

  • مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے اس کا حق ادا کر دیتے ، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب  کے  علاوہ ان  کے  بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات   ملک کے   معروف   علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان  الحدیث ، سہ ماہی  منہاج لاہور وغیرہ )  میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی  سرکاری  ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے  عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس  قرآن  کریم  کی  انہوں  نے  کتابت کی ۔١٩٨٠ء کے بعد جب انہیں فکر معاش سے قدرے آزادی نصیب ہوئی تو تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے ۔اس میدان میں بھی ماشاء اللہ علماء ومصنفین حضرات کی صف میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے  تقریبا 15  کتب تصنیف کرنے کے  علاوہ  ’سبل السلام شرح بلوغ المرام ‘ اور  امام شاطبی کی  کتاب ’الموافقات ‘کا ترجمہ بھی کیا۔ دو دفعہ قومی سیرت کانفرنس میں مقالہ پیش کر کے  صدارتی ایوارڈ حاصل کیا۔آخری عمر میں تفسیر تیسیر القرآن لکھ رہے تھے  اور انکی خواہش تھی کہ...

  • 28 مقالات مولانا عبد الرحمن کیلانی (ہفتہ 21 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1402

    پچھلی صدی کے نصف اول میں جہاں برصغیر نے ایک سے ایک قد آور سیاست دان کو دیکھا ہے‘ وہاں صحافت‘ وکالت‘ شعروشاعری میں بھی صفِ اول کی شخصیتوں کا جُھرمٹ اپنے دامن میں سجا رکھا ہے‘ اور اساطینِ منبر ومحراب اورکاروانِ علم ومعرفت کی بات ہو تو ایسی ضوفشاں مثالیں سامنے آئیں گی جن کے شعور وآگہی کی تمازت ابھی تک دلوں کو گرماتی نظر آتی ہے۔ ان شخصیات میں سے ایک  مولانا عبد الرحمان کیلانی بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب مولانا کے حالات زندگی مختصر اور تفصیلی طور پر مختلف مقامات پر درج کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے جن موضوعات پر قلم اُٹھایا ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کی اور حق ادا بھی کیا۔ اس کتاب میں ان کے چیدہ مقالات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مقالات مولانا عبد الرحمن کیلانی ‘‘مولانا عبد الرحمن کیلانی  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں مثلاً تیسیر القرآن جو کہ تفاسیر ماثورہ  کی جامع پہلی مفصل تفسیر بالحدیث ہے جو کسی خاص مسلک یا فقہ کی ترجمانی کی بجائے براہ راست قرآن کریم‘صحاح ستہ کی صحیح اور حسن درجہ کی احایث وغیرہ پر مشتمل ہے‘ اس کے علاوہ آئینہ پرویزیت‘عقل پرستی اور انکار معجزات اہم ترین تصانیف ہیں اور بہت سے اہم موضوعات پر مصنف کی کتب موجود ہیں جیسا کہ احکام ستر وحجاب‘ احکام تجارت اور لین دین کے مسائل‘دولت کے اسلام میں مصارف‘ ایک...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 527
  • اس ہفتے کے قارئین: 2572
  • اس ماہ کے قارئین: 23182
  • کل مشاہدات: 41877544

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں