کل کتب 101

دکھائیں
کتب
  • 1 #3672

    مصنف : محمود خالد مسلم

    مشاہدات : 2073

    آفاقی حدود میں قید و بند کا عدم جواز

    (ہفتہ 17 اکتوبر 2015ء) ناشر : المسلمین لوئر مال لاہور

    پاکستان اس وقت جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہےان پر ہر پاکستانی پریشان اور خوف وہراس کا شکار ہے۔آئے روز ڈکیتیوں، شاہراہوں پر لوٹ مار، قتل وغارت اور بم دھماکوں کی بھر مار ہے۔حتی کہ اندرون خانہ بھی کوئی شہری محفوظ نہیں ہے۔کیا ان جرائم کو روکنے والا کوئی نہیں ؟پولیس اور دوسرے ادارے کیوں ناکام ہو گئے ہیں۔ان جرائم اور لاقانونیت کے پس پردہ وہ کون سے عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث ان پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے؟ان عوامل میں جہاں معاشرتی اور معاشی اسباب ہیں وہاں جزا وسزا کے تصور کا بھی فقدان ہے اور سب سے بڑا سبب ایک اسلامی ملک پاکستا ن میں اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں سے رو گردانی اور ملکی قانون کی گرفت کا کمزور ہونا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آفاقی حدود میں قید وبند کا عدم جواز " محترم خالد محمود مسلم صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کو نمٹانے کی رفتار  کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انصاف مہیا کرنے کی راہ میں ایک بہت بڑا عیب قرار دیا ہے۔ مولف کے نزدیک عدالتی طریق کار میں تاخیری حربوں نے انصاف کی روح کو مجروح کر رکھا ہے اور یہ نظام مجرموں کے لئے بجائے عبرت کے ایک ترغیب اور تشویق کا پہلو رکھتا ہے۔ مولف ایک متحرک، فعال اور درد مند مسلمان ہیں جو امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مختلف اور متنوع قسم کے پروگرام تشکیل دیتے رہتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی انہی کاوشوں کا ایک حصہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے قید وبند کی سزا کو شریعت کے منافی قرار دیا ہے ، کیونکہ شرعی طور پر ہر مجرم کو فوری سزا دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #3739

    مصنف : ڈاکٹر محمود احمد غازی

    مشاہدات : 3816

    ادب القاضی

    (اتوار 08 نومبر 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب القاضی ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی ی‎﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب عدالتی نظام اورعدالتی طریق کار کےاہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔موضوع سےمتعلق قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اور آثار صحابہ مربوط شکل میں پیش کرنے کے بعد فاضل مصنف نےاہم عدالتی دستاویزات ، نظام قضاء ،سماعت مقدمہ اور فیصلے لکھنے کا اسلامی طریق کار عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ مسلمانوں کے عدالتی نظام کےمعاون اداروں سے متعلق ہے۔یہ کتاب شبعہ قانون سے وابستہ جج صاحبان ،وکلاء کرام طلبہ قانون اور اسلامی شریعت کےمیدان میں کام کرنے والوں کولیے ایک عمدہ تحقہ ہے۔(م۔ا)

  • 3 #3899

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمود اختر

    مشاہدات : 1966

    استحکام مملکت اور بد امنی کا انسداد (تعلیمات نبوی کی روشنی میں)

    (بدھ 30 دسمبر 2015ء) ناشر : الائیڈ بک سنٹر، لاہور

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت طیبہ ایک ایسا چشمۂ فیض ہے جو ہردور میں انسانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے اس چشمہ صافی سے اربوں انسانوں کی تاریک زندگیوں کوروشنی فراہم ہوئی لوگوں نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ اور تعلیمات نبویﷺ پر جس محبت اور خلوص کے ساتھ لکھا ہے وہ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی کےساتھ ہی مخصوص ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔آج کے دور میں مسلمان گوناں گوں مسائل سے دوچار ہیں ۔ ان مسائل میں سے ایک بنیادی مسئلہ مسلمانوں میں وحدت ویگانگت کا فقدان ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ نبی کریم ﷺ کےساتھ ہمارا تعلق محض اس قدر ہی نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ وارفتگی کے ساتھ محبت کریں۔ یہ تعلق انسان کی بہت بڑی متاع ہے لیکن محبت کا حق اس وقت ادا ہوگا جب آپ کے اسوۂ احسنہ کوہم اپنی عملی زندگیوں میں بھی زیر عمل لائیں گے ۔نبی کریم ﷺ نے روز مرہ زدندگی کے جو اصول ہمیں دئیے ہیں ہم ان پر بڑی آسانی سے عمل کرسکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’استحکامِ مملکت اور بدامنی کا انسداد تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمود اخترصاحب (سابق چیئر مین شبعہ علوم اسلامیہ ،پنجاب یونیورسٹی ،لاہور) کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے اتحاد ویگانگت کےموضوع پر احادیث نبویہ یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتحاد ویگانگت پیدا کرنے کے لیے سیرت طیبہ کے فکری وعملی دونوں پہلو پیش کیے ہیں ۔اسلامی حکومت پر اتحاد ویگانگت پیدا کرنے کے حوالے سے جوذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔اور جو ایک اسلامی حکومت کے لیے ’’راہنما اصول ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں ان کا ذکر بھی اختصار کےساتھ کیا ہے ۔ اور سب سے اہم بات کہ بدامنی اورفتنہ وفساد کا انسداد کس طرح کیا جاسکتاہے اور اس سلسلے میں سیرت طیبہ میں کیا لائحہ عمل دیاگیا ہے اس پر قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کوسیرت طیبہ کے سنہری اصولوں کے مطابق بسر کرنے کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 4 #3900

    مصنف : علی عبد الرزاق

    مشاہدات : 2367

    اسلام اور اصول حکومت

    (جمعرات 31 دسمبر 2015ء) ناشر : بزم اقبال کلب روڑ لاہور

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے، اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا،بقول ڈاکٹرمحمود احمدغازی  کے:”اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناں چہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کم زورپڑتاہے تو حکومت بھی کم زورپڑجاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہو تی ہے تودین بھی کم زورپڑجاتاہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔“(محاضراتِ شریعت :ص287) زیر تبصرہ کتاب" اسلام اور اصول حکومت"مصر کے معروف عالم دین شیخ علی عبد الرازق ﷫ کی عربی تصنیف"الاسلام اصول الحکم "کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم راجا محمد فخر ماجد نے کیا ہے۔ مولف نے اس کتاب میں اسلامی حکومت کے بنیادی اصول وتصورات بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 5 #3735

    مصنف : ایس ایم شاہد

    مشاہدات : 5100

    اسلام اور جدید سیاسی و عمرانی افکار

    (جمعہ 06 نومبر 2015ء) ناشر : ایورنیو بک پیلس لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی افکار"علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے استادمحترم ایس ایم شاہد صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی روشن تعلیمات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #6014

    مصنف : معروف شاہ شیرازی

    مشاہدات : 1527

    اسلام اور جمہوریت ججوں اور جرنیلوں کے زیر سایہ

    (ہفتہ 30 ستمبر 2017ء) ناشر : منشورات اسلامی چنار کوٹ، مانسہرہ

    ایک زندہ انسانی وجود کو جتنی ضرورت آکسیجن کی ہوتی ہے تقریبا اتنی ہی ضرورت نفاذ اسلام میں قیام عدل کی ہے۔ کیونکہ قیام عدل کے بغیر اسلامی نظام کا کوئی بھی جز اپنی صحیح صورت میں نشو و نما نہیں پا سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ میں عدل کو قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔پاکستان میں عدل قائم کرنے کے راستے میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک وہ ادارے صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکے ہیں جن کے توسط سے اسلام کا حقیقی نظام عدل قائم کیا جا سکے۔ یہ کام قدرے صبر آزما اور دیر طلب بھی ہے ،اگر کوئی چاہتا ہے کہ چند مہینوں میں یہ کام ہو جائے تو اس کی یہ خواہش درست نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کا م کو کٹھن سمجھ کر ہمت ہی ہار دی جائےاور کسی قسم کی پیش رفت ہی نہ کی جائے۔کام کرنا ہوگا اور محنت کرنا ہوگی ان شاء اللہ جلد یا بدیر کامیابی حاسل ہوگی۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب مسلمان قاضی اپنے حکمرانوں کے خلاف بھی فیصلے صادر فرما دیا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور جمہوریت، ججوں اور جرنیلوں کے زیر سایہ " محترم سید معروف شاہ شیرازی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے پاکستان میں نظام انصاف کے حوالے سے ججوں اور جرنیلوں کے کردار پر گفتگو کی ہے۔(راسخ)

  • 7 #3683

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 3400

    اسلام میں عدل کے ضابطے

    (جمعرات 22 اکتوبر 2015ء) ناشر : فاروقی کتب خانہ، ملتان

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام میں عدل کے ضابطے‘‘ امام ابن قیم ﷫ کی معروف کتاب ’’الطرق الحکمیۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ‘‘ کااردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں امام صاحب نےشرعی سیاست ،اسلامی نظام حکومت اور نظام حکومت اور نظام عدل ، اسلام کا عدالتی طریقہ کار ، اسلامی ضابطہ ہائے عدل وانصاف ، شرعی مناہج قضا جیسی مباحث کو بہترین اندازمیں بیان کیاہے ۔ یہ کتاب اسلامی شریعت کے نفا ذ کے لیے جدوجہد کرنے والوں خصوصاً علماء اور قانون دان حضرات کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔پاکستا ن کے وکلاء اور جج صاحبان کے لیے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔فقہ اسلامی کےاردو ذخیرہ میں یہ کتاب ایک گرانقدر اضافہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائےاوراسے عوام الناس کےلیے باعث نفع بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 8 #6678

    مصنف : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

    مشاہدات : 1476

    اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور

    (جمعرات 05 جولائی 2018ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

    لفظ ٹارٹ  لاطینی زبان کےلفظ TORTUM    سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹیڑھے کے ہیں ۔ٹارٹ سے مراد کسی ایسے  فرض کی خلاف ورزی ہے جو کسی معاہد ےکی بنا پر عائد نہ ہو  او رجس کےنتیجے  میں کسی ایسے قطعی فرض کی خلاف ورزی ہو جس کا کوئی دوسرا شخص حق دار ہو یا کسی شخص کے  کسی محدود ذاتی، شخصی ، خانگی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سےخاص نقصان پہنچے یا اس خلاف ورزی کی وجہ سے  عام  افراد کو نقصان پہنچے۔فقہ اسلامی  میں  ٹارٹ کا متبادل لفظ جنایہ ہے اور جنایہ  سےمرادایسا گناہ اور جرم  ہےجس کے کرنے سے انسان پر اس دنیا میں سزا یا قصاص واجب  ہوجاتاہے اور آخرت میں بھی  مستحق عذاب ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور‘‘ جناب ڈاکٹر علی خان نیازی کی کاوش ہے۔ جس   میں انہوں نے   قانون ٹاٹ کے تصور کو فقہ اسلامی  اور  جدید قوانین کی روشنی میں  تفصیلاً بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • 9 #4244

    مصنف : حبیب الرحمٰن عثمانی

    مشاہدات : 4628

    اسلام میں مشورہ کی اہمیت

    (بدھ 17 فروری 2016ء) ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے " وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ(آل عمران ) اور شریک مشورہ رکھو ان کو ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کر(کے اس میں لگ )جاؤ ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا)ہے ایسے بھروسہ کرنے والوں کو۔"اور اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا "وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ "اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام میں مشورہ کی اھمیت " محترم مولانا حبیب الرحمن عثمانی مہتمم دار العلوم دیو بند اور محترم مولانا مفتی محمد شفیع پاکستان صاحبان کی مشترکہ کاوش ہے۔جس میں انہوں نے اسلام میں مشورہ کرنے کی اہمیت وضرورت پر ورشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 10 #4243

    مصنف : ساجد الرحمٰن صدیقی کاندھلوی

    مشاہدات : 2320

    اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام

    (منگل 16 فروری 2016ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلام ایک روحانی تہذیب کا علمبردار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اداروں کے قیام وبقاء پر انحصار نہیں کیا، اور اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کسی مخصوص تمدنی ہیئت کو محفوظ رکھا جائےیا کسی خاص تہذیبی مظہر کو اجاگر کیا جائے۔اسلام نے شوری کا حکم دیا ہے ، لیکن شوری کی ہیئت کا تعین لوگوں کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کے مصالح پر چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح اسلام نے عدل وانصاف اور قضاء کے زریں اصول عطا کئے لیکن داد رسی کا کوئی خاص طریقہ لازم نہیں کیا کہ عدلیہ کا ادارہ کس طرح تشکیل پائے،عدلیہ کے ذیلی ادارے کون کونسے ہوں؟پولیس عدلیہ کے ماتحت ہو یا انتظامیہ کے؟اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام "محترم ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام میں پولیس اور احتساب کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 968
  • اس ہفتے کے قارئین 10653
  • اس ماہ کے قارئین 49047
  • کل قارئین49378231

موضوعاتی فہرست