دکھائیں کتب
  • 1 آفاقی حدود میں قید و بند کا عدم جواز (ہفتہ 17 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1699

    پاکستان اس وقت جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہےان پر ہر پاکستانی پریشان اور خوف وہراس کا شکار ہے۔آئے روز ڈکیتیوں، شاہراہوں پر لوٹ مار، قتل وغارت اور بم دھماکوں کی بھر مار ہے۔حتی کہ اندرون خانہ بھی کوئی شہری محفوظ نہیں ہے۔کیا ان جرائم کو روکنے والا کوئی نہیں ؟پولیس اور دوسرے ادارے کیوں ناکام ہو گئے ہیں۔ان جرائم اور لاقانونیت کے پس پردہ وہ کون سے عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث ان پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے؟ان عوامل میں جہاں معاشرتی اور معاشی اسباب ہیں وہاں جزا وسزا کے تصور کا بھی فقدان ہے اور سب سے بڑا سبب ایک اسلامی ملک پاکستا ن میں اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں سے رو گردانی اور ملکی قانون کی گرفت کا کمزور ہونا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آفاقی حدود میں قید وبند کا عدم جواز " محترم خالد محمود مسلم صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کو نمٹانے کی رفتار  کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انصاف مہیا کرنے کی راہ میں ایک بہت بڑا عیب قرار دیا ہے۔ مولف کے نزدیک عدالتی طریق کار میں تاخیری حربوں نے انصاف کی روح کو مجروح کر رکھا ہے اور یہ نظام مجرموں کے لئے بجائے عبرت کے ایک ترغیب اور تشویق کا پہلو رکھتا ہے۔ مولف ایک متحرک، فعال اور درد مند مسلمان ہیں جو امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مختلف اور متنوع قسم کے پروگرام تشکیل دیتے رہتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی انہی کاوشوں کا ایک حصہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے قید وبند کی سزا کو شریعت کے منافی قرار دیا ہے ، کیونکہ شرعی طور پر ہر مجرم کو فوری سزا دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس...

  • 2 ادب القاضی (اتوار 08 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3069

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د...

  • اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت طیبہ ایک ایسا چشمۂ فیض ہے جو ہردور میں انسانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے اس چشمہ صافی سے اربوں انسانوں کی تاریک زندگیوں کوروشنی فراہم ہوئی لوگوں نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ اور تعلیمات نبویﷺ پر جس محبت اور خلوص کے ساتھ لکھا ہے وہ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی کےساتھ ہی مخصوص ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چ...

  • 4 اسلام اور اصول حکومت (جمعرات 31 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:1770

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے، اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے، یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا،بقول ڈاکٹرمحمود احمدغازی  کے:”اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناں چہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کم زورپڑتاہے تو حکومت بھی کم زورپڑجاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہو تی ہے تودین بھی کم زورپڑجاتاہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔“(محاضراتِ شریعت :ص287) زیر تبصرہ کتاب" اسلام اور اصول حکومت"مصر کے معروف عالم دین شیخ علی عبد الرازق ﷫ کی عربی ت...

  • 5 اسلام اور جدید سیاسی و عمرانی افکار (جمعہ 06 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3753

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی افکار"علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے استادمحترم ایس ایم شاہد صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی روشن تعلیمات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 اسلام اور جمہوریت ججوں اور جرنیلوں کے زیر سایہ (ہفتہ 30 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1068

    ایک زندہ انسانی وجود کو جتنی ضرورت آکسیجن کی ہوتی ہے تقریبا اتنی ہی ضرورت نفاذ اسلام میں قیام عدل کی ہے۔ کیونکہ قیام عدل کے بغیر اسلامی نظام کا کوئی بھی جز اپنی صحیح صورت میں نشو و نما نہیں پا سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ میں عدل کو قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔پاکستان میں عدل قائم کرنے کے راستے میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک وہ ادارے صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکے ہیں جن کے توسط سے اسلام کا حقیقی نظام عدل قائم کیا جا سکے۔ یہ کام قدرے صبر آزما اور دیر طلب بھی ہے ،اگر کوئی چاہتا ہے کہ چند مہینوں میں یہ کام ہو جائے تو اس کی یہ خواہش درست نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کا م کو کٹھن سمجھ کر ہمت ہی ہار دی جائےاور کسی قسم کی پیش رفت ہی نہ کی جائے۔کام کرنا ہوگا اور محنت کرنا ہوگی ان شاء اللہ جلد یا بدیر کامیابی حاسل ہوگی۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب مسلمان قاضی اپنے حکمرانوں کے خلاف بھی فیصلے صادر فرما دیا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور جمہوریت، ججوں اور جرنیلوں کے زیر سایہ " محترم سید معروف شاہ شیرازی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے پاکستان میں نظام انصاف کے حوالے سے ججوں اور جرنیلوں کے کردار پر گفتگو کی ہے۔(راسخ)

  • 7 اسلام میں عدل کے ضابطے (جمعرات 22 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2520

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام میں عدل کے ضابطے‘‘ امام ابن قیم ﷫ کی معروف کتاب ’’الطرق الحکمیۃ فی السیاسۃ الشرعیۃ‘‘ کااردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں امام صاحب نےشرعی سیاست ،اسلامی نظام حکومت اور نظام حکومت اور نظام عدل ، اسلام کا عدالتی طریقہ کار ، اسلامی ضابطہ ہائے عدل وانصاف ، شرعی مناہج قضا جیسی مباحث کو بہترین اندازمیں بیان کیاہے ۔ یہ کتاب اسلامی شریعت کے نفا ذ کے لیے جدوجہد کرنے والوں خصوصاً علماء اور قانون دان حضرات کے لیے بہت فائدہ مند ہے ۔پاکستا ن کے وکلاء اور جج صاحبان کے لیے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہے۔فقہ اسلامی کےاردو ذخیرہ میں یہ کتاب ایک گرانقدر اضافہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائےاوراسے عوام الناس کےلیے باعث نفع بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 8 اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور (جمعرات 05 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1063

    لفظ ٹارٹ  لاطینی زبان کےلفظ TORTUM    سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹیڑھے کے ہیں ۔ٹارٹ سے مراد کسی ایسے  فرض کی خلاف ورزی ہے جو کسی معاہد ےکی بنا پر عائد نہ ہو  او رجس کےنتیجے  میں کسی ایسے قطعی فرض کی خلاف ورزی ہو جس کا کوئی دوسرا شخص حق دار ہو یا کسی شخص کے  کسی محدود ذاتی، شخصی ، خانگی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سےخاص نقصان پہنچے یا اس خلاف ورزی کی وجہ سے  عام  افراد کو نقصان پہنچے۔فقہ اسلامی  میں  ٹارٹ کا متبادل لفظ جنایہ ہے اور جنایہ  سےمرادایسا گناہ اور جرم  ہےجس کے کرنے سے انسان پر اس دنیا میں سزا یا قصاص واجب  ہوجاتاہے اور آخرت میں بھی  مستحق عذاب ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور‘‘ جناب ڈاکٹر علی خان نیازی کی کاوش ہے۔ جس   میں انہوں نے   قانون ٹاٹ کے تصور کو فقہ اسلامی  اور  جدید قوانین کی روشنی میں  تفصیلاً بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • 9 اسلام میں مشورہ کی اہمیت (بدھ 17 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3612

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے " وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ(آل عمران ) اور شریک مشورہ رکھو ان کو ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کر(کے اس میں لگ )جاؤ ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا)ہے ایسے بھروسہ کرنے والوں کو۔"اور اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا "وَاَمْ...

  • 10 اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام (منگل 16 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1517

    اسلام ایک روحانی تہذیب کا علمبردار ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اداروں کے قیام وبقاء پر انحصار نہیں کیا، اور اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کسی مخصوص تمدنی ہیئت کو محفوظ رکھا جائےیا کسی خاص تہذیبی مظہر کو اجاگر کیا جائے۔اسلام نے شوری کا حکم دیا ہے ، لیکن شوری کی ہیئت کا تعین لوگوں کے بدلتے ہوئے حالات اور ان کے مصالح پر چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح اسلام نے عدل وانصاف اور قضاء کے زریں اصول عطا کئے لیکن داد رسی کا کوئی خاص طریقہ لازم نہیں کیا کہ عدلیہ کا ادارہ کس طرح تشکیل پائے،عدلیہ کے ذیلی ادارے کون کونسے ہوں؟پولیس عدلیہ کے ماتحت ہو یا انتظامیہ کے؟اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں پولیس اور احتساب کا نظام "محترم ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام میں پولیس اور احتساب کے نظام کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ الل...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 810
  • اس ہفتے کے قارئین: 5999
  • اس ماہ کے قارئین: 26692
  • کل مشاہدات: 45251336

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں