دکھائیں کتب
  • 41 اپنی جمہوریت !یہ دنیا نہ آخرت (جمعرات 22 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:17778

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • ہر مسلمان کا یہ دیرینہ مطالبہ اور تقاضا ہے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کیا جائے،اور اس کی زندگی کے تمام معاملات کا فیصلہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کیا جائے۔کیونکہ اسلام وہ عظیم الشان ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت ،عدالت ،معاشرت،سیاست اور ریاست سمیت زندگی کے ہر شعبے سے متعلق راہنمائی موجود ہے۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہر دور میں اس مطالبے اور خواہش کو زور زبر دستی ،لالچ یا حیلوں بہانوں سے دبا دیا گیا یا الجھا دیا گیا۔لیکن بعض ایسے دور اندیش افراد ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو حالات کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن پر چلتے رہتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " اکیسویں صدی کی جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے عظمت اسلام موومنٹ کا مجوزہ منشور "ایسے ہی ایک گمنام سپاہی میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی "عظمت اسلام موومنٹ" نامی اپنی تحریک کے مجوزہ منشور کے طور پر مرتب کی ہے ،جس میں انہوں نے غیر اسلامی طرز حکومت کی خرابیوں اور نقائص کو اجاگر کرنے کے بعد جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے فوائد اور خدو خال کو واضح کیا ہے۔یہ کتاب تحریکی ذہن رکھنے والے حضرات اور اسلامی قانون کے نفاذ کے خواہش مند نوجوانوں کو ضرور پڑھنی چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 43 اہلحدیث اور سیاست (بدھ 17 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2461

    متحدہ  ہندوستان کی سب سے پہلی وہ انقلابی تحریک  جس کی   با بت یہ کہنا  بالکل صحیح ہے وہ اپنے  نصب العین اور مقاصد کے لحاظ سے صحیح معین میں دینی بھی تھی اور سیاسی بھی ۔ وہ سیدین  شہیدین کی تحریک  جہاد تھی۔ اور اس میں شبہہ نہیں کہ  اس تحریک کے قائدین اور اس کے متبعین ومعاونین میں  احناف اور اہل حدیث دونوں مسلک  کے افراد شامل تھے ۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اس تحریک کوچلانےاوراس کو ایک عرصہ تک باقی رکھنے کے لیے  اہل حدیثوں کی جانی  او رمالی قربانیاں  نمایاں شان رکھتی  ہیں۔ بالخصوص بالاکوٹ میں شہادت کا  حادثہ پیش آجانےکے بعد تواس کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کی سعادت جن بزرگوں  کو حاصل ہوئی وہ  صادق پور   (پٹنہ)  کے اہل حدیث ہی تھے ۔یہاں تک  کہ انگریز حکومت کے دورِ استبداد میں جب  اس تحریک کا ظاہری سطح پرباقی رکھنا دشوار ہوگیا تو وہ اہل حدیث ہی تھے  جنکے سینوں میں اس کے شرارے سلگتے رہے ۔اور انگریزی  حکومت  کےخلاف  ملک  میں جب کبھی  کوئی شورش برپا  ہوئی  او رکوئی سیاسی تحریک چلائی گئی تو اہل حدیث اپنے تناسب آبادی کے لحاظ سےبرابر  اس میں  شریک ہوتے رہے ۔متحدہ ہندوستان کی کوئی ایسی انقلابی تحریک  نہیں بتائی جاسکتی جس  میں  اہل حدیث افراد شامل نہ رہے  ہو ں ۔مگر تاریخ  کے ساتھ  بعض لوگوں نے  بے  انصافی اور تنگ نظر ی کا مظاہرہ کیا کہ اہل حدیث کی جہاد...

  • 44 بادشاہ (منگل 23 اگست 2011ء)

    مشاہدات:10706

    زیر نظر کتاب نکولو میکاولی کی کتاب دی پرنس کا اردو ترجمہ ہے ۔میکاولی اطالبہ کا مشہور مفکر تھا،جسے حکومت وسیاست میں عملا شریک ہونے کا موقع ملا اور اس نے اپنے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کتبا تحریر کی ۔میکاولی نے اس میں بتایا ہےکہ مملکت کیا ہے؟اس کی کتنی اقسام ہیں؟وہ  کس طرح حاصل کی جاتی ہے اور کس طرح برقرار رکھی جاسکتی  اور کیونکر ضائع ہوتی ہے ؟مصنف کے مطابق یہ کتاب اس نے پندرہ برس کے تجربات کی روشنی میں لکھی ہے اور جہاں بانی کے مطالعہ سے جو اصول اس کے سامنے آئے انہیں اس میں سمو دیا ہے۔عموماً میکاولی کو مکر وفریب ،دھوکہ دہی اور دھونس دھاندلی کی سیاست کا علمبردار سمجھا جاتا ہے جو حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر حربے کو جائز قرار دیتا ہے ۔زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے اس کے خیالات سے حقیقی واقفیت حاصل کسی جاسکتی ہے جس سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں یقینا ً مدد ملے گی۔(ط۔ا)

  • 45 بین الاقوامی تعلقات (اتوار 26 اگست 2012ء)

    مشاہدات:15512

    جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کاتعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی مگر اسلام نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ’یا ایہا الناس‘ کے خطاب سے آج سے پندریاں صدیاں قبل ہی اس کی طُرح ڈال دی تھی۔ اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابی کے ساتھ نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک وسیع اور ضخیم لٹریچر اس کا دستاویزی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر وحبہ زحیلی نے اسی موضوع پر ایک ضخیم کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘ کے نام سے لکھی۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا حکیم اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں کیا۔ ڈاکٹر وحبہ زہیلی کی یہ کتاب اسلام کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام پر ایک قابل قدر کاوش ہے جس میں اسلامی قواعد و ضوابط کا جدید بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تمہید اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حالت جنگ میں بین الاقوامی تعلقات کا تذکرہ ہے۔ اس میں پانچ مباحث کے تحت جنگ کے حالات، اس کی ابتدا اور انتہا اور قواعد و ضوابط کا بیان ہے جبکہ دوسرا باب حالت امن میں بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ اس میں متعدد مباحث کے تحت اسلام کے مزاج امن، دارالاسلام اور دارالحرب  کی تقسیم کی منطق اور بین الاقوامی تعلقات کے قیام کے اصول و ضوابط اور عالم اسلام کے علمی تجربات کی تفصیل موجود ہے۔ جدید بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کتاب میں قارئین کے لیے بہت کچھ ہے۔(ع۔م)
     

  • 46 بین الاقوامی تعلقات نظریہ اور عمل (ہفتہ 10 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1949

    اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے اور اقوام متحدہ اور اس کے ساتھ دیگر عالمی ادارے ان بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس لیے ہماری آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں رائج الوقت بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لیا جائے اور اسلامی تعلیمات و احکام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کر کے ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی جائے۔ اور  بین الاقوامی معاہدات اور رسم و رواج کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک کیا ہے؟ جناب رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم نے دور جاہلیت کی بیشتر رسوم و رواجات کو جاہلی اقدار قرار دے کر مسترد فرما دیا تھا اور حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ تاریخی اعلان کیا تھا کہ":کل أمر الجاھلية"  موضوع تحت قدمی۔’’جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔‘‘لیکن کچھ روایات اور رسوم کو باقی بھی رکھا تھا جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں جاہلی اقدار سے معاشرے کو نجات دلانا ضروری ہے وہاں اگر کوئی عرف و تعامل اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہو تو اسے قبول بھی کیا جا سکتا ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ بین الاقوامی تعلقات نظریہ اور عمل‘‘ محمد اعظم چوھدری صاحب کی ہے۔ جس میں تعارف بین الاقوامی تعلقات، قومی ریاست، ریاستی تنازعات کی اکائیاں، سماجی معاشی و سیاسی تحریکیں، جنگ عظیم اول و دوم، بین الاقوامی معاشرے کی اکائیاں، غیر ملکی امداد اور اقتصادی انضمام، بین الاقوامی دفاعی معاہدات، معاشرے کے مسائل اور پاکستان...

  • قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔ ان محققین میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب تحریکِ اہلحدیث کے موضوع پر لکھی گئی ہے‘ جس میں ان مختلف مراحل کا ذکر ہے جن سے یہ تحریک ہندوستان  میں گزرتی رہی اور دیگر مذاہب کے پَیروکاروں کا اس کے متعلق کیا مؤقف رہا؟تقلید اور جمود کے خلاف شاہ ولی اللہ کی کوششوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور انہوں نے تقلید اور جمود کی بیریوں سے آزاد ہونے اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی دعوت دی؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بحث وتحقیق کا پرچم اٹھایا اور اس کے بعد اعتقادی اور عملی بدعتوں کی مزاحمت کرتے رہے؟یہ کتاب مصنف نے مقلدین اور اہل حدیث لوگوں کے درمیان اختلافی مسائل کو مناظرانہ انداز سے رد کرنے اور دفاع کی غرض سے لکھی گئی  ہے جس میں انہوں نے رد کے...

  • تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدید مساعی کے نام سے مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے مختلف اوقات میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ کے مشن کی ترجمانی کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کو قرآن وسنت کی طرف دعوت دینے کی کوشش کی ہے-شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جس دور میں قرآن وسنت کی بالادستی کی فکر کو پیش کیا وہ دور بہت کٹھن دور تھا اور شاہ ولی اللہ کی تحریک کے مقابلے میں تمام مذاہب کے افراد نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی-تقلید جامد کے ماحول میں اجتہاد کے ماحول کو پیدا کرنا اور لوگوں کو مختلف ائمہ کے فہم کے علاوہ کسی بات کو قبول نہ کرنے کی فضا میں قرآن وسنت کی بالادستی کا علم بلند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا-شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی نے اس دور میں اجتہاد،قرآن وسنت کی بالادستی،مختلف ائمہ کی فقہ کی ترویج اور لوگوں میں پائی جانے والی تقلید کی قلعی کو کھولتے ہوئے ان تمام چیزوں کی طرف واضح راہنمائی فرمائی-مصنف نے اپنی کتاب میں تحریک اہل حدیث کی تاریخ،اسباب،اور تحریک کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف علماء کے فتاوی کو بھی بیان کیا ہے-تقلید کا مفہوم،اسباب اور تقلید کے وجود پر تاریخی اور شرعی اعتبار سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف فقہی مسائل کو بیان کر قرآن وسنت کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کی حقیقت کو بھی واضح کیا گیا ہے-

  • 49 تحریک اہل حدیث خدمات وکارنامے (جمعرات 03 مئی 2018ء)

    مشاہدات:974

    اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ہندوستان میں اہلحدیث علماء نے بے شمار علمی خدمات انجام دی ہیں۔ تبصرہ کتاب ’’ تحریک اہل حدیث خدمات وکارنامے‘‘ پروفیسر عبد القیوم صاحب کی تحریرہے، جس میں انہوں نے اہل حدیثوں کی علمی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس...

  • 50 جمہوریت و شورائیت کا تقابلی جائزہ (اتوار 03 جون 2018ء)

    مشاہدات:1253

    یقیناً اس میں شک نہیں کہ نظامِ سیاست وحکومت کے بغیر کسی بھی معاشرے کا پنپنا اور ترقی کی شاہ راہ پر گام زن رہنا تو کجا اس کا وجود تک خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے دونوں بینادی مآخذ ،قرآن مجید اور حدیث وسنت نبوی ﷺ میں اس بارے میں ٹھوس اساسی اصول وضع کردیئے گے ہیں۔قرآن مجید نے وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم کے اصول کے ذریعے اسلامی نظام ِ حکومت کے حقیقی خدو خال کا تعین کردیا ہے ۔ مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے’’ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (آل عمران: ١٥٩ ) ‘‘ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کئی ایک باہمی مشورہ کی مثالیں مو جود ہیں ۔ باہمی مشاورت کا اصول اسلامی ریاست کے نظامِ سیاست وحکومت کی اساس ہے ۔اسی حکم قرآنی سے شورائی نظا م نے ہی جنم نہیں لیا بلکہ اس نے شورائیت کے پورے ڈھانچے کے خدوخال تشکیل دینے میں بھی اہم کرداردار ادا کیا ہےاسی سے ایک ایسا نظام معرض ِ وجود میں آیا جو اپنا جداگانہ تشخص رکھتا ہے۔اسے مزید انفرادیت ان احکامات وتعلیمات نے عطا کی جو قرآن وحدیث میں ہمیں ملتی ہیں۔اور یہی تعلیمات ہمیں بتلاتی ہیں کہ مسلمانوں کی زمامِ کار او...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1504
  • اس ہفتے کے قارئین: 5994
  • اس ماہ کے قارئین: 40015
  • کل قارئین : 47867532

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں