دکھائیں کتب
  • 11 اسلام کا انتظامی قانون (پیر 30 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1513

    قرآنِ حکیم میں انتظامی امور کے لیے تدبیر کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جیسے سورۃ ’’ الرعد‘‘ اور سورۃ ’’ یونس‘‘ اور ’’ السجدۃ‘‘ میں ’’ یدبر الامر‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ انتظامی اداروں کےاختیارات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انتظامی یا قانون ادارت کی بڑی اہمیت ہے ۔کیونکہ اس طرح عوام الناس کےحقوق کی بھی بطرز احسن پاسبانی ہوجاتی ہے۔ یہ عظمت اورخصوصیت دینِ اسلام کو ہی حاصل کہ شروع اسلام سے ہی انتظامی قوانین واضح کردئیے گئے تھے۔نبی اکرم ﷺ نےولایت مظالم جیسےادارے کا سنگ بیناد رکھا۔ اس لحاظ سےحضور اکرم دنیا کےپہلے محتسب ہیں ۔لہذااہل مغرب کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ احتساب کا نظام سویڈن میں 1809ء میں پہلی دفعہ قائم کیا گیا ۔نبی کریم ﷺ نےایسے انتظامی قوانین مقرر فرمائے کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی حتی کہ ماضی قریب کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ اور انگلینڈ میں 19ویں صدی کے اواخر تک نظام ادارت یا قانون ادارت کا تصور مکمل طورپر نہیں تھا۔ زیر نظر کتا ب’’ اسلام کا انتظامی قانون ‘‘ جناب ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی کی اہم تصنیف ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا اسلوب بیان نہائیت سادہ اور دلنشین ہے۔ مواد کی فراہمی میں بساط بھر تحقیق وتفتیش سے کام لے کر ایک مبسوط کتاب مرتب کی ہےفاضل مصنف نے کتاب کے شروع میں اسلامی قانون کا خاکہ پیش کیا ہے ۔ اسلامی دستور کے خدوخال اور نظام شوریٰ پر بھی باب دوم میں بحث کی گئی ہے ۔اسلامی انتظامی قانون کے مطابق عورت سربراہ مملکت نہیں بن سکتی فاضل مصنف نےاس موضوع پر...

  • 12 اسلام کا سیاسی نظام (بدھ 01 فروری 2017ء)

    مشاہدات:4923

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفت...

  • 13 اسلام کا شورائی نظام (پیر 16 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1197

    عربی زبان میں شوریٰ کے معنیٰ اشارہ کرنا، مشورہ کرنا، اظہار رائے کرنا اور غور و خوض کرنا اور عربی لغت میں شہد کو چھتے سے نکالنے کے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی جن امور کے متعلق قرآن وسنت میں واضح تصریح موجود نہ ہو امت مسلمہ ان پر آزادانہ رائے زنی کے ذریعے فیصلہ کرے تو اس کو شوریٰ کہتے ہیں۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے’’ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (آل عمران: ١٥٩ ) ‘‘ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کئی ایک باہمی مشورہ کی مثالیں مو جود ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’اسلام کا شورائی نظام ‘‘ جناب اختر حجازی صاحب کی مرتب کردہ ہے ۔ موصوف نے مولانا جلال الدین انصر عمری کی نگارشات کو اس میں حسن ترتیب سے جمع کیا ہے اس میں انہوں نے اسلامی اجتماعیات کے اس اصول مشاورت کو پیش کر کے مسلمانوں کو شورائیت وجمہوریت کا راستہ دکھایا ہے ۔جس طرح توحید ورسالت وآخرت کےبغیر کسی اسلام کا تصور ممکن نہیں ہےاسی طرح نظام مشاورت کے اہتمام کے بغیر بھی کسی اسلامی نظام مملکت کا تصور ممکن نہیں ہے ۔یہ کتاب سید جلال الدین عمری کے ماہنامہ ’’ زندگی‘‘ رام پور میں مطبوع مقالہ پر مشتمل ہے ۔مقدمہ کے طور پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی اسی موضوع کے متعلق ایک تحریر کو بھی اس کتاب میں شا...

  • 14 اسلام کا قانون قسامت (بدھ 04 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1290

    قَسامَت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یاقتل خطا کا دعویٰ کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔اسلامی شریعت میں انسانی جان کی حرمت اور تحفظ کے لیے جو احکام وضع کیے گئے ہیں قانون قسامت ان میں سے ایک ہے جو کہ دراصل جرمِ قتل کے ثبوت سے متعلق ہے جب قاتل نامعلوم ہو اور اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہ ہوں۔حافظ حبیب الرحمٰن صاحب  کی   زیر نظر کتاب ’’اسلام  کا قانون قسامت‘‘اسی موضوع سے متعلق فقہی آرا کے جائزے پر مشتمل ہے۔اسلام کا  نظام عقوبات  ہر لحاظ سے جامع ،ہمہ گیر  اور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ  تمام جدیدترین آراء اور جملہ ترقی یافتہ اصول  ونظریات   کو اپنے دامن میں رکھنے کے باوجود جدید قوانین کا مقام ومرتبہ اسلامی قانون کےمقابلہ میں انتہائی پست اورکمزور ہے ۔لیکن بدقسمتی سےاسلام کے قانون فوجداری سے  ناواقفیت کی وجہ سے یہ غلط تصور عام ہے کہ یہ قانون نہ دور ِجدید کے مطابق ہے اور نہ ہی آج کے  ترقی یافتہ دور میں ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ  یہ تصور حقائق کے خلاف ہے کیونکہ عموماً قانون سے  وابستہ افراد کو اس کےبارے میں سرسری معلومات بھی نہیں ہیں ۔قانون دان طبقہ کی اس ضرورت کےپیش نظر شریعہ اکیڈمی ، اسلام  آباد نے اسلام کے قانون فوجداری کے تمام پہلوؤں کو اپنی حقیقی شکل وصورت میں پیش کرنے کا منصوبہ بنای...

  • 15 اسلام کا نظام حسبہ (بدھ 20 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1842

    اسلام اللہ کا وہ بہترین اور پسندیدہ مذہب ہے جو قیامت تک ساری دنیا کے لیے رشدوہدایت کا سبب ہے‘ وہی ذریعہ نجات ہے‘ رضائے الٰہی کا سبب ہے۔ اس عظیم کا مذہب کا مرجع ومصدر اور اس کی بنیادوہ وحی الٰہی ہے ۔ اوریہی ضابطۂ حیات ہے‘ قرآن وحدیث سے ہمیں اعمال پر محاسبہ کرنے کا واضح اشارہ ملتا ہے اور احادیث مین ایمان کے ساتھ احتساب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اسلامی نظام زندگی میں عدل وانصاف کویقینی بنانے اور معاشرے کو منظم ومستحکم کرنے کے لیے بہت سے ادارے متعارف کروائے گئے جن میں سے ایک ادارہ احتساب ہے۔محاسبہ انفرادی ہو یا اجتماعی‘ اصلاح معاشرہ اور قیام عدل کے لیے نہایت ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  اسی موضوع( حسبہ/محاسبہ)  کو زیر بحث لایا گیا ہے۔امام ابن تیمیہ نے سب سبے پہلے الحسبہ فی الاسلام کے عنوان سے کتاب مرتب کی اور اس میں تمام ضروری ابحاث  کو جمع کر دیا۔یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں تالیف کی گئی جس کا شریعہ اکیڈمی نے اردو ترجمہ کیا اور ترجمہ نہایت سلیس اور عام فہم ہے۔ اس میں منقول احادیث وآثار کے واضح حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں اور حسبہ کے فکری وتاریخی پس منظر اور مؤلف کے مختصر تعارف کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کا نظام حسبہ ‘‘ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن تیمیہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میز...

  • 16 اسلام کا نظام حکومت (پیر 07 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:3818

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاح کم دیتا ہے جو انسان ِ کامل کو اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہی...

  • 17 اسلام کا نظام حکومت اردو ترجمہ احکام السلطانیہ (اتوار 23 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1431

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے  حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا  مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے اور تمام بھلائیوں کاحکم  دیتا ہے جو انسان ِ کامل  کو  اللہ تعالیٰ کا نائب بناتا ہے۔ اوراسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور اسی کانتیجہ  ہے کہ  مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور اح...

  • 18 اسلام کی احیائی تحریکیں اور عالم اسلام (اتوار 06 مئی 2018ء)

    مشاہدات:2036

    قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ متعدد اسلامی ملکوں میں احیائے اسلام‘ تجدید دین اور نفاذ اسلام کی کوششیں ہوئی اور ہوتی رہیں گی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں اسلام کی تجدید اور نفاذ کے حوالے سے تمام تحریکات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور ہر تحریک کا تعارف اور کارنامے درج کیے گئے ہیں اور ہر تحریک کا شکست وعروج کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ تحریکات کے ساتھ ساتھ اہم شخصیات کے کارناموں اور ان کی تحریکوں کو بھی بیان کیا گیا ہے‘ ہر تحریک کا تنقیدی جائزہ اور نقائص بھی بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام کی احیائی تحریکیں اور عالم اسلام ‘‘ سید قاسم...

  • 19 اسلام یا جمہوریت (ہفتہ 12 مئی 2018ء)

    مشاہدات:2483

    اس وقت عالم اسلام کی جو مجموعی صورت حال ہے کسی بھی صاحب فکر ونظر سے مخفی نہیں‘ ایک زبردست کشمکش ہے جو اسلامیت اور مغربیت‘ اسلامی معاشرت اور مغربی تہذیب کے درمیان چل رہی ہے۔ امریکی استعمار اور سرمایہ داری کا تسلط اسلامی ممالک پر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جس پر امریکی استعمار کی بھر پور توجہ مرکوز ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ 2001ء کے بعد پاکستان کی آزاد حیثیت ختم ہو چکی ہے اور پاکستان امریکی کالونی میں تبدیل ہو چکا ہے‘ مگر 2008ء کے انتخابات کے دوران اور بعد میں امریکا نے براہِ راست پاکستانی اداروں میں جس طرح دھمکی‘ دھونس‘ مراعات اور پر کشش پیکج پیش کر کےپاکستانی سیاست کو اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ امریکا ایک طرف جہاں پاکستانی معاشرے کو تیزی کے ساتھ مکمل طور پر سیکولرائز کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ استعمار کے خلاف کسی بھی سطح پر مزاحمتی کردار ادا کرنے والی تحفظ وغلبۂ دین کی تحریکات بھی ہیں اور امریکا کے اس میں بہت سارے مقاصد چھپے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک صدائے باز گشت ہے۔ یہ کتاب در اصل اہل فکر ونظر کے مرتب کردہ لیکچرز کا مجموعہ ہے اور اس کتاب میں ان سب کو مقالات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب انقلابی مجاہدین کے لیے علمی ہتھیار ہے جس سے لیس ہو کر دور جدید کے لبرل دنش وروں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر امریکی استعمار کی چاکری کرنے والے مفکروں کے پھیلائے ہوئے بے سروپا پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔ ک...

  • 20 اسلامی حکومت میں اقلیتیں (ہفتہ 05 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1937

    اسلام انسانی مساوات، اخوت اور ہمدردی کا مذہب ہے۔ اسلام دنیا میں اﷲ تعالیٰ کے آخری اور مکمل پیغام کی صورت میں دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ اسلام کے اصولوں نے ہر مسلمان کو یہ سکھایا ہے کہ وہ بلا لحاظ رنگ و نسل اپنے پڑوسیوں اور اقلیتوں کی حفاظت کرے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو غیر مذاہب کے لوگوں کے لیے رواداری کا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے بلکہ انھیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی حفاظت میں غیر مسلموں کی جو عبادت گاہیں ہیں ان کا تحفظ ان کا فرض ہے۔اسلام کی خصوصیت اور وصف یہ ہے کہ وہ دین رحمت ہے، دین حیات ہے، دین انسانیت ہے، دین الٰہی ہے، دین معرفت ہے، اس بنا پر اگر اسلام ان موضوعات کا نام ہے تو یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ معاشرے میں ہر مذاہب اور فرقے کے انسان رہتے ہیں اور اکثر اوقات انسان کا ایک دوسرے سے واسطہ رہتا ہے، انسان معاشرے سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔غیر مسلموں کے لیے ہمارے دین اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے، اس بات کا اندازہ کرنا ہو تو نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر ایک نظر ڈالیں، ساری شکایتیں دور ہو جائیں گی۔ آپؐ نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان و ہمدردی اور خوش اخلاقی کے معاملات کیے، ان کی دنیا جہان میں نظیر ملنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی حکومت میں اقلیتیں "محترم حافظ غلام حسین صاحب  ریسرچ آفیسر مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے اسلامی حکومت میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی ہے،اور دشمنان اسلام کے منہ بند کر دئیے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرم...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1098
  • اس ہفتے کے قارئین: 5588
  • اس ماہ کے قارئین: 39609
  • کل قارئین : 47860516

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں