اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2441

    مصنف : شاہ اسماعیل شہید

    مشاہدات : 3358

    عظمت صحابہ و اہلیبت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین

    (جمعرات 18 ستمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    صحابہ کرام  اور ہل بیت ﷢ کی عظمت سے  کون انکار کرسکتاہے۔یہ  وہی پاک باز ہستیاں  ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔لیکن اس پر فتن دور میں بعض بدبخت لوگ ان کی شان میں گستاخی کے  مرتکب ہوکر اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب  کودعوت دیتے ہیں ۔زیر نظر  کتاب ’’ عظمت صحابہ  اہل بیت‘‘ شاہ محمد اسماعیل دہلوی﷫ کی    تصنیف ’’تذکیر الاخوان ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔جس میں  شاہ صاحب نے   نبی کریم ﷺ  کے  صحابہ کرام   بالخصوص خلفاء اربعہ  اور حضرت طلحلہ، حضرت زبیر ﷢ کے فضائل  سرور کائنات  کی زبانی بیان کیے ہیں ۔نیز انصار ،اصحاب بدر اور اہل بیت کے  فضائل ومناقب بھی  بیان کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں  صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کوسمجھنے  اوران کی  مبارک زندگیوں کی طرح   زندگی بسر کرنے کی  توفیق  دے (آمین)(م۔ا)

     

  • 2 #3572

    مصنف : ابو یحیٰ امام خان نوشہری

    مشاہدات : 1988

    اہل حدیث کے دس مسئلے

    (منگل 01 ستمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ضرورت اس امر کی مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے ۔مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے ۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ،جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو- زیر تبصرہ کتاب ’’ اہل حدیث کےدس مسئلے‘‘ مولانا ابو یحیٰ امام خاں نوشہروی ﷫ کی تصنیف ہے۔ مولانا نے اس کتاب میں اہل حدیث کے دس مسائل (نماز ،اذان ، جمعہ ، امام کی شرطیں، روزے ، وضو اور طہارت ، زکوٰۃ، حج ، نکاح اورجنازے کےمسائل) کو کتاب وسنت کی روشنی میں سوال وجواب اور ایک دلچسپ مکالمے کی صورت میں بیان کیا ہے جس سے ایک تو مسئلہ سمجھنے میں آسانی اور قاری کوکتاب پڑہتے ہو ئے کوئی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ۔اور وعظ نصحیت کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کے درجات بلند فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا) 

  • 3 #3584

    مصنف : سید داؤد غزنوی

    مشاہدات : 3141

    اسلامی ریاست کے اساسی اصول و تصورات

    (پیر 07 ستمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاستکی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا،بقول ڈاکٹرمحمود احمدغازیکے:”اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناں چہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کم زورپڑتاہے تو حکومت بھی کم زورپڑجاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہو تی ہے تودین بھی کم زورپڑجاتاہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔“(محاضراتِ شریعت :ص287) زیر تبصرہ کتاب" اسلامی ریاست کے اساسی اصول وتصورات " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا سید داود غزنوی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسلامی حکومت کے بنیادی اصول وتصورات بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 #3808

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 3710

    معارف الاسماء شرح اسماء الحسنٰی

    (منگل 08 دسمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    اللہ تعالی ٰ کے  بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے  ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ  توحید کی  معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ  کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی  اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن  واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے  کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے  اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله  تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام  ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان  کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے  سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی  ہے زیر تبصرہ کتاب ’’معارف الاسماء شرح اسماء الحسنیٰ ‘‘  سیرت النبیﷺ پر مقبول عام کتاب رحمۃ للعالمین  کے  مصنف  جناب  قاضی محمد سلیمان منصورپوری﷫ کی تصنیف  ہےجو کہ اللہ  تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی  بنظیر شرح ہے ۔مصنف موصوف نے روایات کی روشنی میں  اسماء  الحسنی ٰ کو نقشہ جات  کی صورت میں پیش  کی ہے۔اللہ تعالیٰ   مصنف کتاب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 5 #3931

    مصنف : محمد حنیف یزدانی

    مشاہدات : 1709

    قرآنی دعائیں ( حنیف یزدانی )

    (منگل 12 جنوری 2016ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    قرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آتا ۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔دعا چونکہ اہم عبادت ہے لہذا اسے مشروع طریقے پر ہی کرنا چاہیے ۔ انسان بسا اوقات اللہ تعالیٰ سے ان چیزوں کاطلب گار بن جاتا ہے جو اس کےلیے فائدہ مند یا مشروع نہیں ہوتیں۔ اس لیے ہمار ی کو شش ہونی چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے انہی الفاظ میں دعا مانگیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن وحدیث میں سکھائیں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآنی دعائیں ‘‘ مولانا محمد حنیف یزدانی کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن مجید کی تمام دعاؤں کو یکجا کر کے انکا ترجمہ وتشریح بھی بیان کردی ہے ۔ اور ساتھ ساتھ زندگی کےمختلف ادوار وحالات میں ان کےپڑھنے کے مواقع بھی ذکر کیے ہیں توحید، رسالت ، فضائل اور فضائل ادعیۃ کی اہمیت بھی ساتھ ہی ساتھ اجاگر کی ہے۔اور بعض مقامات پر بعض تفسیری نکات بھی ذکر کیے ہیں تاکہ قاری کو آیت اور دعا کا شان نزول بھی معلوم ہوجائے ۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1968ء میں شائع تو اسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھوڑے عرصہ میں اس کےکئی ایڈیشن ہوئے ۔ زیر نظر ایڈیشن 1972ء میں شائع ہوا۔ (م ۔ا)

  • 6 #4369

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 3205

    تفسیر سورہ اخلاص

    (جمعہ 01 اپریل 2016ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    سورۂ اخلاص قرآن کریم کی مختصر اور اہم ترین سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک تہائی قرآنی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اور توحید کا محکم انداز میں اثبات کرتی ہے۔ اس کےشان نزول کے سلسلے میں مسنداحمدمیں روایت ہے کہ مشرکین نے حضورﷺ سے کہا اپنے رب کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔اور اس سورۃسے محبت جنت میں جانے کا باعث ہے اسی لیے بعض ائمہ کرام نماز میں کوئی سورۃ پڑھ کر اس کے ساتھ سورۃ اخلاص کو ملاکرپڑھتے ہیں صحیح بخاری میں ہے کہ حضورﷺنے ایک لشکر کو کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرات کے خاتمہ پر سورۃ قل ھواللہ پڑھا کرتے تھے، آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ پوچھنے پر انہوں نے کہا یہ سورۃ اللہ کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے ،حضورﷺنے فرمایا انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔اور اسی طر ح ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے،ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کرکے پھر اس سورۃ کو پڑھتے، پھر جونسی سورۃ پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے۔ایک دن مقتدیوں نے کہا آپ اس سورۃ کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورۃ ملاتے ہیں یہ کیا ہے؟ یاتو آپ صرف اسی کو پڑھئے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورۃ ہی پڑھ لیاکریں ،انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا تم چاہو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں..۔ ایک دن حضورﷺان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگو ں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ نے امام صاحب سے کہا تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہﷺمجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے۔آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔اور یہ سورت ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو... تو صحابہ کہنے لگے بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں آپ نے فرمایا قل ھو اللہ احد تہائی قرآن ہے۔اور اسی طرح جامع ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول ﷺنے صحابہ سے فرمایا جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے آپ گھر سے آئے سورۃ قل اللہ احد پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو حضورﷺکا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آگئی ہو اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔  زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر سورۃ اخلاص‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی سورۃ اخلاص کی عربی تفسیر کا ترجمہ ہے اس کے ترجمہ کی سعادت محترم جناب مولانا غلام ربانی نے حاصل کی ہے ۔اس سورۃ اخلاص کی تفسیر میں خالص توحید کومدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔اور اس میں عیسائیت، مادہ پرستی، ہندوازم، قدریت، جہمیت اور رافضیت جیسے باطل نظریات پر کڑی تنقید بھی ہے۔چند آیات کی تفسیر میں قرآن وسنت کے بے شمار نئے نئے نکات ومعارف کا انکشاف ہے۔یہ کتاب اہل علم کے لیے ایک بے نظیر علمی خزانہ ہے ۔مکتبہ نذریہ ،لاہور نے اسے 1979ء میں اسے حسن طباعت سے آراستہ کیاتھا۔(م۔ا)

  • 7 #4556

    مصنف : حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مشاہدات : 1904

    حکومت اور علماء ربانی

    (پیر 20 جون 2016ء) ناشر : مکتبہ نذیریہ لاہور

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔دنیا کا کوئی بھی کام احسن انداز میں کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کام میں پہلے اچھی طرح مہارت حاصل کی جائے اور پھر اس کی مناسب منصوبہ بندی کرکے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ جو لوگ اللہ کے دین کی دعوت کا کام سوچ سمجھ کر کرنا چاہتے ہوں ، ان کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ خود میں وہ صلاحیتیں پیدا کریں جو دعوت دین کے لئے ضروری ہیں اور پھر اس کام کو مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے انجام دیں۔ زیر تبصرہ کتاب" حکومت اور علماء ربانی " پاکستان کے معروف اہل حدیث عالم دین، روپڑی خاندان کے جد امجد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾کے تایا جان مجتہد العصر علامہ حافظ محمد عبد اللہ محدث روپڑی صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے علماء ربانی کی طرف سے حکمرانوں کی دی گئی دعوت دین اور ان کی اصلاح کی کوششوں کے تذکرے بیان کئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1881
  • اس ہفتے کے قارئین 7721
  • اس ماہ کے قارئین 59754
  • کل قارئین49529312

موضوعاتی فہرست