کل کتب 2

دکھائیں
کتب
  • 1 #5148

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 2809

    احکام سفر

    (ہفتہ 11 فروری 2017ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    سفر انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے،جس کے بغیر کوئی بھی اہم مقصد حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔انسان متعدد مقاصد کے تحت سفر کرتا ہے اور دنیا میں گھوم پھر کر اپنے مطلوبہ فوائد حاصل کرتا ہے۔اسلام دین فطرت ہے جس نے ان انسانی ضرورتوں اور سفر کی مشقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رخصتیں اور گنجائشیں  دی ہیں۔مثلا مسافر کو حالت سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،جس کی بعد میں وہ قضاء کر لے گا۔اسی طرح مسافر کو نماز قصر ونماز جمع پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے کہ وہ  چار رکعت والی نماز کو دو رکعت کر کے  اور دو دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔اسی طرح  سفر کے اور بھی متعدد احکام ہیں جو مختلف کتب فقہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " احکام سفر " شیخ الحدیث  مولانا محمد علی جانباز صاحب کی تصنیف ہے، جس  میں انہوں نے  سفر کی مختلف اقسام بیان کرتے ہوئے ان  کے شرعی  احکام کو بیان کیا ہے ۔ نیز اس سفر میں نماز کی ادائیگی کے مسائل مثلا یہ کہ نماز قصر کب ہو گی اور کتنے دنوں تک ہو گی اور کیا سواری پر نماز ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں کی جا سکتی ہے وغیرہ وغیرہ جیسے مسائل تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 2 #5156

    مصنف : عبد الرحمن ناصر البراک

    مشاہدات : 2045

    جشن یوم آزادی منانے کا شرعی حکم

    (بدھ 15 فروری 2017ء) ناشر : نا معلوم

    انسان کی زندگی دکھ سکھ ، غمی و خوشی ، بیماری و صحت ، نفع و نقصان اور آزادی و پابندی سے مرکب ہے۔ اس لیے شریعت نے صبر اور شکر دونوں کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق کی طرف رجوع کرے۔ دکھ ، غمی ، بیماری ، نقصان اور محکومیت پر صبر کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کو دور کرنے کے اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم ہے جبکہ سکھ ، خوشی ، صحت ، نفع اور آزادی پر شکر کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کی قدردانی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اگر دونوں طرح کے حالات کو شریعت کے مزاج اور منشاء کے مطابق گزارا جائے تو باعث اجر وثواب ورنہ وبال جان۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دونوں حالتوں میں خدائی احکام کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ مشکل حالات پر صبر کے بجائے ہائے ہائے، مایوسی و ناامیدی اور واویلا کرتے ہیں جبکہ خوشی کے لمحات میں حدود شریعت کو یکسر پامال کردیتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی گھر میں کوئی فوتگی ہو جاتی ہے تو لوگوں کی زبانیں تقدیر خداوندی پر چل پڑتی ہیں اور مرنے والے کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ " ابھی تو تیرا وقت بھی نہیں آیا تھا " وغیرہ وغیرہ۔آزادی کے مد مقابل یوں تو غلامی کا لفظ آتا ہے اور غلامی کا مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی انسان یا گروہ، قوم یا نسل کسی دوسرے انسان، گروہ ، قوم یا نسل کے ہاتھوں غلام بنا دی جائے۔دنیا بھر میں مختلف ممالک سال میں اپنے وطن کے لیے ایک دن ایسا مقرر کرتے ہیں کہ جس میں ان کے عوام اور حکومت وطن کی کی آزادی کا دن مناتے ہوئے ملک کی تعظیم کرتے ہیں ۔اس دن کو ''وطن کا دن ''یا یوم آزادی کہا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" جشن یوم آزادی منانے کا شرعی حکم " سعودی عرب کے معروف عالم دین الشیخ عبد الرحمن بن ناصر البراک اور الشیخ حامد بن عبد اللہ احمد علی صاحبان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے عرب  علمائے کرام کے فتاوی کی روشنی میں جشن یوم آزادی منانے کے شرعی حکم پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس  کاوش  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1603
  • اس ہفتے کے قارئین 3448
  • اس ماہ کے قارئین 55481
  • کل قارئین49464062

موضوعاتی فہرست