• قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

    قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

  • قاری محمد شریف

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر اب تک عربی کے ساتھ ساتھ  اردو میں بھی  بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ زیر تبصرہ  کتاب " معلم التجوید للمتعلم المستفید "علم تجوید وقراءات کے میدان کے ماہر شیخ التجوید استاذ القراء  قاری محمد شریف صاحب﷫ بانی مدرسہ دار القراء ماڈل ٹاون  لاہور پاکستان کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے علم تجوید کے مسائل کو انتہائی آسان اور مختصر انداز میں  بیان کردیا ہے۔ شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • علی بن عبد الرحمن الحذیفی

    یہود ونصاری پہلے دن ہی سے دین اسلام سے حسد کرتے چلے آرہے ہیں۔ دونوں قوموں کو شروع سے "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم تھا۔ یہود بنی اسرائیل میں آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے۔لیکن بنی اسماعیل میں آخری نبی کے ظہور نے انہیں اسلام کا بدترین دشمن بنادیا ۔ مدینہ میں انہوں نے غزوہ خندق میں معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی ۔نبی کریمﷺ نے انہیں مدینہ سے نکال دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ  نے ان کی سازشوں کی وجہ سے انہیں آخر جزیرۃ العرب سےہی نکال باہرکیا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا جملہ اچھی طرح یاد ہے۔" یہود ونصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دو۔ (ابوداود:2635)ان دونوں قوموں نے مسلسل  اپنی سازشیں جاریں رکھیں اور مسلمانوں کو بڑا نقصان پہچانے کی کوششوں میں رہے اورمسلمانوں کو ان سے بعد میں بہت سی جنگیں لڑنی پڑیں۔ان کے ان سب تخریبی کاموں کے باوجود مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا، بلکہ انہوں نے ہر میدان میں ثابت قدمی کا ثبوت پیش کیا،اور ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔زیر تبصرہ کتاب" یہود ونصاری کی اسلام کے خلاف سازشیں "امام مسجد نبوی فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن الحذیفی﷫ کے خطبہ جمعہ کے اردو ترجمہ  پر مشتمل ہے جو انہوں نے مسجد  نبوی میں ارشاد فرمایا تھا۔اس خطبہ میں انہوں نے مسلمانوں کو یہود و نصاری کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے ہوشیار رہنے کی ترغیب دی ہے،کہ آج عالم اسلام ہر طرح کے وسائل ہونے کے باوجود کس طرح تنزلی  اور محکومی کی زندگی گزار رہا ہے۔امت مسلمہ کا درد رکھنے والے اہم دل  حضرات کے لئے یہ ایک شاندار اور مفید ترین کتابچہ ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو تمام میدانوں میں رہبر اور راہنما بنائے۔آمین(راسخ)

     

  • عادل سہیل ظفر

    اسلام ایک دینِ  کامل اور مکمل ضابطۂ حیات  ہے ۔اسلام کے  تمام اوامر ونواہی  اور حلال وحرام  کو  اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺنے  بیان کردیا ہے  ۔جن امور کو اختیار کرنے کو  کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ نے انہیں کرنے کا  حکم  دیا ہے  یا ان   پر عمل کی فضیلت بیان کردی ہے اسی طرح جن  امور کو اختیار کرنے سے  روکا ہے انہیں حکماً روک دیا ہے  یہ  ان کو کرنے کی سزا اور   نقصانات بیان کردیئے ہیں ۔ ہمارے ماحول  اور معاشرے میں ہماری عادات میں بہت سے اقوال وافعال یعنی کام اور ایسی باتیں شامل کی جاچکی ہیں جن کو عام طور  کوئی اہمیت  نہیں دی جاتی لیکن وہ بہت بڑے جرم ہیں اوران جرائم کی سزا نبی کریم ﷺ نے مقرر فرمائی ہے اور  وہ کام کرنے والے کو اپنی ملت سے خارج قرار دیا ہے۔جس سے یہ معلوم ہوتا ہے  ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کا  حشر ایمان والوں میں نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ رسول اللہﷺ کی شفاعت پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے مجرموں میں شامل ہونے سے محفوظ رکھے ۔زیر نظر کتاب ’’وہ ہم میں سے  نہیں ‘‘ محترم عادل سہیل  ظفرصاحب  کی کاوش ہے  جس میں  انہوں نےاحادیث میں وارد ہونے والے ان جرائم کو  جمع کردیا ہے   جن کی  سزا   رسول اللہﷺ نے یہ طے فرمائی ہے کہ  ان کوکرنے والے  ’’ ہم میں سے نہیں ‘‘اللہ تعالیٰ  ہمیں ایسے کاموں کو  اختیار کرنے  سے محفوظ فرمائے جن کے بارے میں نبیﷺ نے  فرمایا ’’فلیس منا؍‎ٔٔٔ.... پس وہ ہم سے نہیں‘‘ اور اس  کتاب  کو عوام الناس   کے لیے نفع بخش  بنائے۔ (آمین)( م۔ا )

  • قاری ابو الحسن اعظمی

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب  کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر  متعدد اہل علم نے اس کی شاندار شروحات لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  النفحۃ العنبریۃ شرح المقدمۃ الجزریۃ ‘‘ بھی  مقدمہ جزریہ کی ایک مفصل شرح ہے جواستاذ القراء والمجودین مولانا قاری ابو الحسن اعظمی ﷫ کی کاوش ہے۔جو ان کی سالہا سال کی محنت وکوشش اور عرصہ دراز کی تحقیق وجستجو کا نتیجہ ہے۔اور شائقین علم تجوید کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • محمود خالد مسلم

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی   نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر  سےگریز کرنا  چاہیے۔زیر نظر کتاب ’’جہیز جہنم  کے انگارے ‘‘ محترم محمود خالد مسلم‘‘ کی کاوش ہے  جس میں  انہوں نے  جہیز کے حوالے سے  حسب  ذیل سوالات کے جواب دینے کی  کوشش کی ہے ۔کہ کیا اسلام میں جہیز لینے یادینے کی اجازت  ہے ؟۔اسلام میں شادی کے اخراجات کی ذمہ داری کس پر ڈالتا ہے ؟۔برصغیر میں  جہیز کا رواج کس طرح پھیلا اور اس نے  کیا اثرات مرتب کیے ؟۔جہیز سےمتعلق وہ کونسے اقدامات ہیں جن کے اٹھانے سے  ہمارے معاشرے میں لاکھوں خواتین کا گھر بسایا جاسکتاہے  ۔ اور ہماری حکومتوں نے  جہیز کےبارے  میں کیا اقدامات اٹھائے اوریہ کہ ان اقدامات کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔اللہ  کتاب کو   عوام الناس کی  اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • سلیم رؤف

    سلیم رؤف صاحب﷾ ایک معروف مبلغ اور داعی ہیں۔آپ نے تبلیغ دین کے لئےایک منفرد طریقہ اختیار کرتے ہوئے ہر موضوع کو  کہانی کی شکل میں پیش کیا ہے اور بے شمار موضوعات پر لکھا ہے۔آپ نے کتابچوں کے نام بڑے پرکشش او ر جاذب نظر ہوتے ہیں،عنوان کو دیکھ کر انہیں پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔مثلا’’ ننھا مبلغ‘‘ ،’’ واہ رے مسلمان‘‘ ،’’ نایاب ہیرا‘‘ ،’’ شیطان سے انٹرویو‘‘ ،’’ بازار ضرور جاوں گی‘‘ اور ’’ اور میں مر گیا‘‘  وغیرہ وغیرہ۔آپ کے یہ  چھوٹے چھوٹے کتابچے  عامۃ الناس میں انتہائی مقبول اور معروف ہیں۔ یہ چھوٹا سا کتابچہ’’ بھوک اور جھوٹ ‘‘  بھی  محترم سلیم رؤف صاحب﷾ کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ہماری معاشرتی کوتاہیوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے۔اور ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح اور اسلام کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی ترغیب دیتا ہے ،تاکہ ہماری دنیا بھی سنور جائے اور ہماری آخرت بھی بن جائے۔اس کتابچے میں انہوں نے بھوک کے ساتھ جھوٹ بولنے جیسی قبیح عادت کو ترک کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بڑے ہی دل نشین اور منفرد انداز میں گفتگو کی ہے،اور اس جھوٹ کی مذمت کی ہے۔اللہ تعالی مولف کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    اللہ تعالیٰ نے انبیاء﷩کودنیابھر کے انسانوں کی رشد وہدایت اور فلاح ونجات کےلیے مبعوث فرمایا اوران کے ذریعے دنیا میں علم وعمل اور جدو جہد کا ایک ایسا سلسلہ شروع فرمایا جو تا قیامت اسی طرح جاری وساری رہے گا۔سب سے آخری نبی حضرت محمدﷺ کواللہ تعالیٰ کاجو ازلی اور ابدی کلام عطاہوا ۔یہ کلام لائق اور قابل اتباع ہے اور اس میں جن باتوں کاحکم دیاگیا ہے ان تمام باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے تاہم اس کی وہ آیات خصوصاً قابل توجہ ہیں جن میں اہل ایمان کوخصوصی طور پر مخاطب کیا گیا ہے ۔ یہ آیات اپنے اندر بڑی گہرائی اور بصیرت رکھتی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’یایھالذین اٰمنوا‘‘ محترم ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب کی تالیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی ایسی آیات جن کی ابتدا یایہا الذین اٰمنوا کےدل کش جملے سے ہوتی ہے ان کو موضوعات کےلحاظ سے اس کتاب میں جمع کردیا ہے اور اس کے ساتھ   ساتھ آیات کااردو اور انگریزی ترجمہ ،تشریح وتفسیر بھی اس میں شامل کردی ہے اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل ایمان کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین) م۔ا)

  • ناصر الدین البانی

    خدمت حدیث بھی بلاشبہ عظیم شرف وسعادت ہے او راس عظیم شرف اور سعادت کبریٰ کے لیے اللہ تعالیٰ نےہمیشہ اپنی مخلوق میں عظیم لوگوں کاانتخاب فرمایا انہی سعادت مند چنیدہ شخصیات میں سرفہرست مجددِ ملت ،محدثِ عصر علامہ شیخ ناصر الدین البانی(1914۔1999ء) کا نام عالی شان ہے جنہوں نے ساری زندگی شجرِ حدیث کی آبیاری کی ۔امام البانی حدیث وفقہ کے ثقہ اما م تھے تما م علوم عقلیہ ونقلیہ پر عبور واستحضار رکھتے تھے ۔آپ کی شخصیت مشتاقان علم وعمل کے لیے نعمت ربانی تھی اورآج بھی آپ کی علمی وتحقیقی او رحدیثی خدمات اہل علم او رمتلاشیان حق کےلیے روشن چراغ ہیں۔آپ کی خدمات کے اثرات وثمرات کودیکھ کر ہر سچا مسلمان یہی محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کوتجدیدِ دین کے لیے ہی پیدا فرمایا تھا۔علامہ ناصر الدین البانی  کاشمار ان عظیم المرتبت شخصیات میں ہوتاہے کہ جنہوں نے علمی تاریخ کےدھارے کا رخ بدل دیا ۔شیخ البانی نے اپنی خدمات حدیث سے امت میں احادیث کی جانچ پرکھ کاشعور زندہ کیا۔شیخ کی ساری زندگی درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں گزری ۔ان کی مؤلفات اور تعلیقات کی تعداد تقریبا دوصد سے زائد ہے۔دور حاضر میں شیخ البانی  نے احادیث کی تحقیق اور تخریج کا جو شاندار کام کیا ہے ماضی میں اس کی مثالی نہیں ملتی ۔زیر نظر کتاب سلسلة احاديث الصحيحة شیخ کی عظیم الشان تصانیف میں سے ہے جس میں شیخ نے عوام الناس کے فائدے کےلیے مختلف ابواب ،فصول،مسائل اور فوائد سےمتعلقہ صحیح احادیث کو جمع کردیا ہے ۔شیخ نے اس کتاب میں تبویب بندی اور کسی خاص ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا بلکہ تخریج وتحقیق کے اصول وقواعد کے مطابق جیسے جیسے احادیثِ صحیحہ میسر آتی گئیں انہیں کتاب میں قلم بند کرتے رہے۔اور مختصراً متونِ احادیث ،اسانید طرق اور رواۃ پر بھی بحث کرتے ہوئے فقہی فوائد پر بھی روشنی ڈالی ہے اور بعض مقامات پر کسی خاص موضوع پر طویل ابحاث بھی پیش کی ہیں ۔ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان ﷾ نے سلسلہ احادیث الصحیحہ کا ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کتاب کی فقہی ترتیب،کتاب بندی،باب بندی اور تخریج وغیرہ کا کام بھی سر انجام دیا ۔ انصار السنہ پبلی کیشنز،لاہور نے اسے 6جلدوں میں شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی شیخ البانی اس کتاب کو طباعت کےلیے تیار کرنے والے تمام احبا ب کی جہود کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں می کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • ام حمزہ کیلانی

    لعنت ایک بددعا ہے لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دور ہونے اور محروم ہونے کے ہیں جب کوئی کسی پر لعنت کرتا ہے توگویا وہ اس کے حق میں بدعا کرتا ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاؤ رسول کریم ﷺ نے کسی پر لعنت کرنے کو بڑی سختی سے منع کیا فرمایا ہے یہاں تک کہ بے جان چیزوں پر بھی لعنت کرنے سے منع کیا فرمایا ہے لعنت اور ناشکری جہنم میں جانے کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کہ نبی ﷺ نے فرمایا'' اے عورتو! صدقہ کیا کرو میں نےجہنم میں دیکھاکہ عورتوں کی تعدادزیادہ ہے عورتوں نےعرض کیا یارسول اللہﷺ اس کی کیاوجہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ''تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو ''زیر تبصرہ کتا ب ''لعنت اور رحمت ''کی مؤلفہ نے اسی مذکورہ حدیث کے پیش نظر خصوصا خواتین کے لیے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے کتاب کے پہلے حصے میں لعنت کا مفہوم،لعنت کی ممانعت لعنت کی سزا،اللہ ورسول اورفرشتوں کی لعنت کے مستحق لوگ اور دوسرے حصہ میں رحمت کامفہوم اس کے متعلق مزید تفصیلات کوقرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں بیان کیا ہےاللہ تعالیٰ اس کتاب کو معاشرےکی اصلاح بالخصوص خواتین کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39773891

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں