• #3807
    ڈاکٹر محمد عبد الرحمن الخمیس

    1 ائمہ حنفیہ کی کوششیں شرک اور اس کے وسائل کے بیان میں

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ شرک کا لغوی معنی برابری جبکہ شرک کی واضح تعریف جو علماء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے کہ اَللہ تعالیٰ کے کسی وصف کو غیر اللہ کیلئے اِس طرح ثابت کرنا جس طرح اور جس حیثیت سے وہ اَللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے ،یعنی یہ اِعتقاد رکھنا کہ جس طرح اَللہ تعالیٰ کا علم اَزَلی، اَبدی ، ذاتی اور غیر محدود ومحیطِ کل(سب کو گھیرے ہوئے ) ہے ،اِسی طرح نبی اورولی کو بھی ہے اور جس طرح اَللہ تعالیٰ جملہ صفاتِ کمالیہ کا مستحق اور تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ،اِسی طرح غیر اللہ بھی ہے تو یہ شرک ہو گا اور یہی وہ شرک ہے جس کی وجہ سے اِنسان دائرۂ اِسلام سے خارِج ہو جاتا ہے اور بغیر توبہ مرگیا تو ہمیشہ کیلئے جہنم کا اِیندھن بنے گا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں جس قدر شرک کی مذمت اور توحید کا اثبات کیا ہے اتنا کسی اور مسئلے پر زور نہیں دیا ہے۔سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر  نبی کریمﷺ تک ہر رسول و نبی نے اپنی قوم کو یہی دعوت دی ہے۔شرک کی اسی قباحت اور اس کے ناقابل معافی جرم ہونے کے سبب تمام علماء امت نے اس کی مذمت کی اور لوگوں کو اس سے منع کرتے رہے۔عصر حاضر میں شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبردار احناف اور معتقدین ہیں، جنہوں نے ہزاروں درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔لیکن متقدمین احناف شرک کی مذمت کرتے اور لوگوں کو اس سے منع کیا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب" ائمہ حنفیہ کی کوششیں،  شرک اور اس کے وسائل کے بیان میں" سعودی عرب کے معروف عالم دین ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن الخمیس کی عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم سعید مرتضی ندوی صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں علماء احناف کے وہ اقوال جمع فرما دئیے ہیں جن میں انہوں نے شرک کی مذمت کی ہے،تاکہ عصر حاضر کے مشرکین پر حجت قائم ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3350
    عبد المجید سوہدروی

    2 استاد پنجاب

    علماء علوم نبوت کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ہماری اسلامی درسگاہیں انہی علوم ِنبوت کی درس وتدریس ،تعلیم وتعلم اوراس حوالے سے تزکیۂ نفوس کےادارے ہیں۔برصغیر میں اسلامی درسگاہوں کی ایک مستقل اورمسلسل روایت رہی ہے۔ اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ کےخاندان نے اس روایت کا سب سےروشن مرکز تشکیل دیا۔ اس خاندان کےایک چشم وچراغ شاہ محمداسحاق دہلوی سے سید نذیر حسین محدث دہلوی نے تیرہ سال تک تعلیم حاصل کی ۔شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی نے کامل 63 سال تک درس وتدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ برصغیر میں علم حدیث کی تدریس کا سب سے مضبوط مرکز اورقلعہ انہیں کی قائم کردہ درسگاہ تھی ۔جس میں شبہ قارہ کے ہر حصے سےطلبہ استفادے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ایسے ہی تلامذہ میں ایک تلمیذ الرشید حافظ عبد المنان وزیرآبادی ہیں۔بیسویں صدی میں علوم حدیث کی روایت کومستحکم کرنے میں حافظ عبد المنان وزیر آبادی نےپنجاب میں سب سے زیاد فیض رسانی کےاسباب پیدا کیے ۔ حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی اپنےعہد میں پنجاب میں حدیث کے سب سےممتاز استاد تھےجن کےتلامذہ پنجاب کےہر حصے میں بالعموم اوراس علمی اور سلفی روایت کے چراغ روشن کرتے رہے۔مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی ﷫ کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظاہری آنکھوں سے محروم کردیا تھا مگر ان کی دل کی آنکھیں روشن فرمادی تھیں۔ آپ کا شمار ممتاز محدثین میں ہوتا ہے شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محددہلوی ﷫ نےاپنے اس شاگرد کو جوعمامہ عطا فرمایا تھا اس عظیم شاگرد نے اس عمامے کاحق ادا فرمادیا۔پوری زندگی درس حدیث دیا ۔ مسند حدیث پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی میں 100 مرتبہ درس بخاری دیا۔ ایسی مثالیں اسلامی تاریخ میں نظر نہیں آتیں۔ پیش نظر کتاب ’’استاد پنجاب‘‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی کی تصنیف ہے یہ کتاب حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کی وفات کےچھ سال بعد 1922 میں شائع ہوئی ۔کتاب ہذا اسی طبع کا جدید ایڈیشن ہے۔اس کتاب میں مصنف نے استاد پنجاب کے ابتدائی حالات، حصول تعلیم کےلیے روانگی،استاد پنجاب کا حدیث سے والہانہ شوق،پنجاب اور وزیرآباد کےحالات، مولانا کی اولاد ،اساتذہ، معاصرین اور آپ کے چند تلامذہ کا تذکر ہ بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔مولانا وزیر آبادی کے حالات واقعات اور اور ان کے سوانح حیات پر مشمتل جامع اور مستند کتاب ہے۔مولانا محمد ادریس فاروقی کی تزئین وترتیب سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • #2963
    طالب ہاشمی

    3 یہ تیرے پر اسرار بندے (جدید ایڈیشن)

    طالب الہاشمی ۱۹۲۲ء میں ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور ۱۶ فروری ۲۰۰۸ء کو لاہور میں وفات پائی ۔جناب طالب ہاشمی ان خوش نصیب ہستیوں میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لیتا ہے۔موصوف ایک بلند پایہ مصنف ، خوبصورت نثر نگار، اور علم و ادب کے نکتہ شناس تھے بہت سے علمی و تاریخی موضوعات کے علاوہ ان کا سب سے محبوب موضوع تحریر و تصنیف اصحاب رسولﷺ و ﷢ کا تذکرہ جمیل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر کام کرنے کا انہوں نے حق ادا کر دیا (جتنا کہ انسانی استطاعت میں ہے) اس موضوع پر ان کا کام اپنی کیفیت و کمیت کے اعتبار سے اتنا دقیع اور وزنی ہے کہ شاید کوئی ایک ادارہ بھی اتنا کام نہ کر سکتا جتنا اکیلے انہوں نے کیا، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ ان کے کام کی قبولیت کی ایک علامت تو خود ان کی کتابوں کی بے پناہ مقبولیت ہے ۔ بہت کم مصنف ایسے ہوں گے جن کی تصانیف کو ایسا قبول عام حاصل ہوا ہو۔ اسے ان کے خلوص کا ثمرہ بھی کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی ان کی تصانیف بڑی تعداد میں ہیں۔زندگی کے آخری برسوں میں انہوں نے شاید اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت حاصل کی کہ سیرت پاک پر ایک متوسط ضخامت کی ایسی کتاب تالیف فرمائی جو خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے سر مایہ ہدایت ہے اگرچہ اس سے ہر عمر کا انسان یکساں کسبِ فیض کر سکتاہے۔ متوسط کتب سیرت میں یہ کتاب ایک اہم حیثیت رکھتی ہے ۔بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی انہوں نے بطور خاص بہت قیمتی سرمایہ فراہم کیا جو زیادہ تر کہانیوں کی شکل میں ہے ۔ جناب طالب ہاشمی کی چھوٹی بڑی تصنیفات کی تعداد ۱۲۰ تک پہنچتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مغفرت کاملہ سے نوازے اور ان کی خدمات کا انہیں بہترین اجر عطا فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’یہ تیرے پُر اسرار بندے ‘‘ طالب الہاشمی  کی تصنیف ہے ۔جس میں 80 صحابہ کرام ﷢ اور 40 مشاہیر امت کا دلنشیں تذکرہ ہے ۔اصحاب صفہ کے عمومی حالات ان کے علاوہ ہیں۔ یہ کتاب اس قدر مقبولیت کی حامل ہے کہ اس کے تقریبا 12 ایڈییشن شائع ہوچکے ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ طالب الہاشمی  کی کاوشو ں کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کو صحابہ کرام جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(م۔ا)

  • #2650
    علامہ وحیدالزمان

    4 تبویب القرآن جلد اول

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے  مختلف اہل علم  نے اس حوالے  سے كئی    کتب تصنیف کی   ہیں علامہ وحید الزمان   کی ’’تبویب  القرآن فی مضامین  الفرقان ‘‘ اور  شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ قابل  ذکر ہیں ۔زیر تبصرہ  کتاب ’’تبویب القرآن  فی مضامین   الفرقان‘‘ کتب  صحاح ستہ اور دیگر  کتب کے معروف  مترجم علامہ وحیدالزماں   کی  قرآن مجید  کے مضامین کےمتعلق دو جلدوں پر مشتمل  اہم کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے پورے قرآن مجیدکے  مضامین کے   ایک سو ایک  عنوان بناکر  ہر عنوان کے متعلقہ  جس قدر آیات کریمہ متفرق مقامات پر آئی ہیں ۔ان کوعمدہ ترتیب سےموضوع وار ایک جگہ  جمع کردیا   ہے اوران کےساتھ ان کاترجمہ بھی لکھ دیا ہے ۔یہ کتاب   خطباء اور واعظین کےلیے  انتہائی  مفید ہے کہ وہ قرآن مجیدکی ایک موضوع  کےمتعلقہ آیات کو ایک  جگہ  دیکھ  کر ان سے  استفاہ کرسکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اصحاب ذوق،ارباب تذکیر وتبلیغ اور عام مسلمانوں کےلیے مفید بنائے (آمین)  (م۔ا)

     

  • #2269
    غلام رسول مہر

    5 جماعت مجاہدین

    مولانا غلام رسول کی شخصیت کسی تعارف کی  محتاج نہیں  انہوں نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ غالب پر انکی کتاب کو غالبیات میں ایک بڑا اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے غالب کے خطوط دو جلدوں میں ترتیب دیے۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔زیر نظرکتاب  بھی مولانا غلام رسول مہر کی تصنیف ہے  جس کو انہو ں نے  دو حصوں میں تقسیم کیاہے  پہلے حصہ میں جماعت مجاہدین کی تنظیم وترتیب کے  متعلق  تفصیلات  پیش کی ہیں  او ردوسرے  حصےمیں سید صاحب کے ان مجاہدوں اور رفیقوں کے سوانح حیات درج کیے ہیں کہ جو ان کی زندگی میں ان کے ساتھ شہید ہوئے یا جنہیں خو د سید صاحب نے  دعوت وتبلیغ پرمتعین کیا تھا او رانہیں مشاغل میں زندگی گزار کر  مالک حقیقی سے  جاملے  (م۔ا)

     

  • #2207
    علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین

    6 کنز العمال۔ حصہ 13

    کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو تدریس ،تقریر یا تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے،آپ ﷺ نے ایسے سعادت مند افراد کے لئے تروتازگی کی دعا فرمائی ہے۔چنانچہ محدثین کرام ﷭نے اسی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے کوششیں کیں احادیث نبویہ کو اپنی اپنی کتب میں جمع فرمایا۔اسلام کے انہی درخشندہ ستاروں میں سے ایک علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین ہندی برھان پوری ﷫ہیں ،جنہوں نے زیر تبصرہ کتاب " کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال "تصنیف فرمائی ہے۔اور اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا مفتی احسان اللہ شائق نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب دراصل امام سیوطی﷫ کی ہے ۔انہوں نے پہلے "الجامع الکبیر"نامی ایک کتاب لکھی ،جس میں تمام احادیث کو جمع فرمایا،اور یہ کتاب آج بھی نام سے موجود ہے۔اس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کو حروف تہجی کی ترتیب پر مرتب فرمایا،اور قسم الاقوال اور قسم الافعال دونوں کو الگ الگ جمع فرمایا۔پھر اسی جامع الکبیر کی قسم الاقوال میں سے مختصر احادیث کو منتخب کیا اور "الجامع الصغیر "نامی کتاب لکھ ڈالی۔پھر کچھ عرصہ بعد "جامع صغیر " کا استدراک کرتے ہوئے "زوائد الجامع "نامی کتا ب لکھ دی۔علامہ علاء الدین علی متقی ﷫کا کام یہ ہے کہ انہوں نے امام سیوطی﷫ کی ان کتب کو فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے "کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال"نامی یہ کتاب تالیف فرمادی،جو نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ پر مشتمل ایک عظیم الشان ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ کی احادیث مباکہ پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1995
    عبد العزیز محمدی رحیم آبادی

    7 حسن البیان

    بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے اپنے اسلاف کے حالات او ران کے کارناموں سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری ہے،تا کہ ان کے نقوشِ قدم پر چل سکیں اور زندگی میں ان سے راہنمائی حاصل کی جاسکے اوراسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھا جا سکے ۔ اس سلسلے میں برصغیر کے معروف سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی﷫ نے امام ابو حنیفہ﷫ کی حیات و خدمات کے حوالے سے سیرۃ النعمان کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس میں نے انہوں نے امام صاحب کے مناقب وخوبیاں بیان کر نے کے ساتھ ساتھ اصولِ حدیث او راکابر محدثین وعلماء اہل اصول پر نقد جر ح بھی کی ،تومولانا شبلی کے معاصر شیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلو ی ﷫کے تلمیذ خاص علامہ محمد عبد العزیز رحیم آبادی ﷫ نے سیرۃ النعمان کے جواب میں حسن البیان فیما سیرۃ النعمان کے نام سے کتاب تصنیف کی ، جس میں انہوں نے مولانا شبلی نعمانی کی طرف سے سیرۃ النعمان میں حدیث اور محدثین پر کی جانے والی نقدو جرح کا علمی وتحقیقی اور تنقیدی جائز لیا ہے او ر بعض ایسی علمی اور مضبوط گرفتیں کی ہیں کہ جن کا لوہا علامہ شبلی  کوبھی مانے بغیر چارہ نہ رہا ۔اور بعد والی طبع میں مولانا شبلی نے خو د ہی اس کی اصلاح کردی۔ حسن البیان پہلی دفعہ 1311ھ میں مطبع فاروقی دہلی سے طبع ہوئی ۔زیر نظر طبع مکتبہ ثنائیہ سرگودھا کی ہے، جس میں مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کی تصدیر اور شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی﷫ کاعلمی مقدمہ بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کے سلسلے میں ان علماء کی کوششوں کوقبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • #1595
    قاری محمد ابراہیم میر محمدی

    8 تحفۃ القاری

    قاری ابراہیم میر محمدی علمی دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں خاص طور پر انہوں نے خدمت قرآن اور قراءات کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔ عوام الناس کے قرآن کے تلفظ کی درستی کے لیے اور تجوید سے آگاہی کے لیے آپ نے کافی سارے کتابچے اور کتب لکھیں۔ زیر نظر رسالہ میں بھی موصوف قاری صاحب نے فن تجوید کے مسائل کو اختصار اور احسن انداز سے بیان کیا ہے، اور متشابہ الصوت حروف کی پہلے مفردات میں پھر مرکبات میں اور ساتھ ہی حرکات ثلاثہ کی آسان انداز سے مشق کرائی ہے۔ جس سے تلفظ کی درستی کے ساتھ ساتھ حرکات کو مجہول کی بجائے معروف پڑھنا بھی آ جائے گا۔ قاری صاحب نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ ملتی جلتی آوازوں والے حروف اور دوسرا حصہ تجوید کے چند ضروری احکام پر مشتمل ہے۔ کتابچہ کے اخیر میں واضح الفاظ میں اس فن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ 66 صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ فن تجوید سے شد بد کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #1284
    ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین

    9 تحریک ختم نبوت - جلد14

    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1104
    عبد الوکیل ناصر

    10 اِمراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ

    اسلام معتدل نظام کا حامل دین ہے ،جوانسانوں کے مسائل واحکام     سے بخوبی آگاہ اور ان کے حل کا بہتر حل پیش کرتاہے۔اسلام میں معاشی وسائل کا ذمہ دار مرد ہے اور عورت کا نظام حیات گھر کی چاردیواری میں مقید ہے او رکتاب وسنت کی تعلیمات عورت کو پردہ اورچادر چاردیواری تک محدود رہنے کی تاکید کرتی ہیں ۔عورت جس قدر مردوں کے اختلاط،بے پردگی اور مخلوط محافل و مجالس سے اجتناب کرے گی ،بارگاہ ایزدی میں یہ اتنی ہی مقبول و معتبر ٹھہرے گی اور اسی قدر یہ اپنی عزت وناموس کو محفوظ بنالے گی ۔الغرض جسمانی ساخت اور کئی دیگر عوامل کی وجہ سے مرداور عورت کی ذمہ داریاں اورباہمی حقوق وفرائض مختلف ہیں ،جنہیں مبنی بر حق ماننا لازم ہے ،لیکن جدت پسندی اور مغربی افکار سے متاثر مستشرقین کا روشن خیال طبقہ صنف نازک کو مردوں کی شمع محفل اور بنت حوا کو بازار کی رونق اورمردوں کی ہوس کانشانہ بنانے پر تلاہے اور سادہ لوح عوام ان کے دام فریب میں آکر عورتوں کو جدت پسندی اور روشنی خیالی کی چکا چوند میں ان کی عصمت کو پامال کرنے اور انہیں اصل دین سے دور کرنے پر بخوشی آمادہ ہیں ،جب یہ طرز عمل مذہب کی موت اور معاشرے کی ہلاکت کاباعث ہے ،زیر نظر کتاب مرد وعورت کی ذمہ داریوں اوران کے حقوق وفرائض کےبنیادی فرق کی آگاہی کے متعلق ایک اچھی تصنیف ہے ۔(ف۔ر)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825423

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں