#6759

مصنف : ڈاکٹر محمود الطحان

مشاہدات : 586

شرح اردو تیسیر مصطلح الحدیث

  • صفحات: 311
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 12440 (PKR)
(ہفتہ 30 جولائی 2022ء) ناشر : دار الحمد لاہور

علم  اصولِ حدیث ایک ضروری علم  ہے ۔جس کے بغیر حدیث  کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم   میں کما حقہ درک حاصل   کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر   ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’شرح اردو تیسیر مصطلح الحدیث ‘‘   ڈاکٹر محمود الطحان کی  مدارس وجامعات میں شامل نصاب معروف کتاب ’’تیسیر مصطلح الحدیث‘‘  کی اردو شرح ہے۔اس ایڈیشن   میں اردو شرح  ، اضافات جدیدہ  اور معروضی سوالات  شامل ہیں ترجمہ  وشرح کی سعادت مولانا آصف نسیم حفظہ اللہ نے حاصل کی ہے۔یہ ترجمہ  بے حد آسان اور عام فہم  لفظی وبامحاوہ  ہے  ،مترجم نے بریکٹوں کی صورت میں عبارت میں تسلسل پید ا کرنے کے لیے وضاحت کردی ہے ،نیز مختلف جگہوں پر نقشوں کی صورت میں توضیح  اور مغلق وقابل وضاحت عبارتوں کی حواشی کی صورت میں  تشریح کی ہے۔علاوہ ازیں مترجم نے موضوع سے متعلق دیگر کتب سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور لغوی ، صرفی،نحوی، منطقی او ربلاغتی توضیحات کا اہتما م کیا ہے ۔ جبکہ مولانا  محمد شکیل عاصم نے طلباء کے لیے بے حد مفید مشقی سوالات کا التزام کیا ہے۔(آمین) (م۔ا)

حرفِ اوّل

17

مقدمہ طبع دہم

19

مقدمہ طبع اوّل

20

المقدمة العلمیة

24

علمِ مصطلح الحدیث کی ایجاد اور اس پر گزرنے والے مختلف احوال کا مختصر تاریخی جائزہ

25

علم المصطلح میں لکھی جانے والی مشہور تصانیف کا تعارف

27

۱۔اَلْمُحَدَّثُ الْفَاصِلُ بَیْنَ الرَّاوِیْ وَالْوَاعِی

27

۲۔مُعْرِفَةُ عُلُوْمِ الْحَدِیْثِ

27

۳۔اَلْمُسْتَخْرَجُ عَلَی مَعْرِفَةِ عُلُوْمِ الْحَدِیْثِ

27

۴۔اَلْکِفَایَةُ فِیْ عِلْمِ الرَّوَایَةِ

27

۵۔اَلْجَامِعُ لِاِخْلَاقِ الرَّاوِیْ وَآدَابِ السَّامِعَ

27

۶۔اَلْاِلْمَاعُ اِلَی مَعْرِفَةِ اُصُوْلِ الرِّوَایَةِ وَتَقْییْدِ السَّمَاع

28

۷۔مَالَایَسَعْ المُحَدِّثَ جَھْلُهُ

28

۸۔عُلُومُ الْحَدِیْثِ

28

۹۔التَّقْرِیْبُ وَالتَّسِیْرُ لِمَعْرِفةِ سُنَنِ الْبَشِیْرِ وَالنَّذِیْر

28

۱۰۔تَدْرِیْبُ الرَّاوِیْ فِی شَرْحِ تَقْرِیْبِ النَّوَاوِیْ

29

۱۱۔نَظْمُ الدُّرَزِ فِیْ عَلْمِ الْاَثَرِ

29

۱۲۔فَتْحُ الْمُغِیْثِ فِیْ شَرْحِ اَلْفِیَّةِ الْحَدِیْثِ

29

۱۳۔نُخْبَةُ الْفِکْرِ فِیْ مُصْطَلَحِ اَھْلِ الْاَثَرِ

29

۱۴۔اَلْمَنْظُوْمَةُ الْبَیْقُوْنِیَّةُ

29

۱۵۔قَوَاعِدُ التَّحْدِیثِ

29

٭ بنیادی تعریفات

31

۱۔عَلْمُ الْمُصْطَلَحِ

31

۲۔موضوع

31

۳۔ثمرہ

31

۴۔الحدیث

31

۵۔الخبر

32

۶۔اَلْاَثَرُ

32

۷۔اَلْاَسْنَادُ

32

۸۔اَلسَّنَدُ

32

۹۔اَلْمَتْنُ

32

۱۰۔اَلْمُسْنَدُ

33

۱۱۔اَلْمُسْنِدُ  (نون کے کسرہ کے ساتھ )

33

۱۲۔اَلْمُحَدَّث

33

۱۳۔اَلْحَافِظُ

33

۱۴۔اَلْحَاکِمُ

34

مشقی سوالات

34

باب اوّل : خبر کا بیان

36

فصل اوّل :خبر کی ہم تک پہنچنے کے اعتبار سے تقسیم کا بیان

37

٭ تمہید

37

بحث اوّل خبر متواتر کا بیان

37

۱۔خبر متواتر کی تعریف

37

۲۔تعریف کی شرح ووضاحت

37

۳۔تواتر کی شروط

37

۴۔تواتر کا حکم

38

۵۔تواتر کی اقسام

39

۶۔متواتر کا وجود

40

۷۔اخبار متواترہ میں لکھی جانے والی مشہور تصنیفات

40

بحث دوم خبر آحاد کا بیان

41

۱۔خبر آحاد کی تعریف

41

۲۔خبر واحد کا حکم

41

فصل دوم خبر آحاد کی تقسیمات

41

خبرو احد کی دو اقسام

41

بحث اوّل خبر واحد کی عددِ طرق ( یعنی نقل ) کے اعتبار سے تقسیم کا بیان

42

مقصد اوّل حدیث مشہور

42

۱۔مشہور کی تعریف

42

۲۔” حدیث مشہور“ کی مثال

43

۳۔اَلْمُسْتَفِیْضُ

44

۴۔مشہور غیرا صطلاحی

44

۵۔مشہور غیر اصطلاحی کی اقسام

44

۶۔خبر مشہور کا حکم

45

 ۷۔خبر مشہور میں تصنیف کی جانے والی مشہور کتب

45

مقصد دوم خبر عزیز

47

۱۔عزیز کی تعریف

47

۲۔اصطلاحی تعریف کی تشریح

47

۳۔خبر عزیزکی مثال

47

۴۔خبر عزیز کی مشہور تصنیفات

48

۵۔خبر عزیزکی دی گئی مثال کو ذیل کے نقشہ سے سمجھیے!

48

مقصد سوم حدیث غریب

49

۱۔حدیث غریب کی تعریف

49

۲۔” غریب “ کی تعریف کی شرح

49

۳۔حدیث غریب کاایک دوسرا نام حدیث” فرد“

49

۴۔غریب کی اقسام

50

۵۔غریب نسبی کی اقسام

52

۶۔حدیث غریب کی ایک اور تقسیم

53

الف : متن وسند دونوں کے اعتبار سے ” غریب حدیث“

53

ب: صرف سند کے اعتبار سے غریب نا کہ متن کے اعتبار سے بھی

53

۷۔احادیث غربیہ کے مواقع

53

۱۔مُسْنَدُ الْبَزَّارِ

53

۲۔الْمُعْجِمُ الْاَوْسَطُ

54

۸ حدیث غریب کی مشہور تصنیفات

54

مشقی سوالات

54

بحث دوم خبر واحد کی قوت وضعف کے اعتبار سے تقسیم

56

مطب اوّل خبر مقبول

57

مقصد اوّل اقسام مقبول

57

۱۔صحیح لذاته

58

۱۔صحیح لذاتہ کی توریف

58

ب: تعریف کی شرح

58

۳۔حدیث صحیح کی شروط

59

۴۔صحیح حدیث کی مثال

59

۵۔صحیح حدیث کاحکم

60

۶۔محدثین کے اس قول” یہ حدیث صحیح ہے “  یا” یہ حدیث غیر صحیح ہے“ کی مراد

60

۷۔کیا کسی سندکے بارے میں یہ مطلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ” سب سےصحیح“سند ہے؟

61

۸۔خالص صحیح احادیث پر مبنی پہلی تصنیف کون سی ہے ؟

62

الف: بخاری اور مسلم میں زیادہ صحیح کتاب کون سی ہے؟

62

د: صحیحین کی احادیث کی تعداد

63

ھ: بخاری اور مسلم سے رہ جانے والی صحیح احادیث کن کتابوں میں ہیں ؟

64

۹۔مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ پر تبصرہ

64

۱۰۔صحیحین پر ” مستخرجات “

65

۱۱۔اھادیث صحیحہ کے مراتب

67

۱۲۔شیخین کی شرط ( کہ اس سے کیا مرادہے(؟

69

۱۳۔محدثین کے قول ” متفق علیہ “ کا معنی

69

۱۴۔کیاحدیث کے صحیح ہونے کے لیے اس کا ” عزیز “ ہونا بھی شرط ہے؟

69

مشقی سوالات

70

۲۔ حسن لذاته

72

۱۔” حسن لذاته “ کی تعریف

72

۲۔حسن لذاته “ کا حکم

73

۳۔حسن لذاته “ کی مثال

73

۴۔حسن لذاته “ کے مراتب

74

۵۔محدثین  کے قول ، ” حدیث صحیح الاسناد “ یا ” حسن الاسناد“ کا مرتبہ

74

۶۔امام ترمذی رحمہ اللہ علیہ وغیرہ کے قول  ” حدیث حَسَن صحیح“ کا مطلب

75

۷۔امام بغوی رحمہ اللہ علیہ کا ” المصابیح “ کی احادیث کو ( اپنی ایک خاص اصطلاح میں ) تقسیم کرنا

76

۸۔احادیث ” حسن “ کے مواقع کا بیان ( کہ یہ احادیث کن کتب میں مل جاتی ہیں )

76

۳۔صحیح لغیرہ

78

۱۔” صحیح لغیرہ “ کی تعریف

78

۲۔” صحیح لغیرہ “ کا مرتبہ

78

۳۔” صحیح لغیرہ “ کی مثال

78

۴۔حسن لغیرہ

80

۱۔” حسن لغیرہ “ کی تعریف

80

۲۔” حسن لغیرہ“کی وجہ تسمیہ

80

۳۔”حسن لغیرہ “ کا مرتبہ

80

۴۔” حسن لغیرہ “ کا حکم

81

۵۔” حسن لغیرہ “ کی مثال

81

مشقی سوالات

81

اُس خبر واحد مقبول کا بیان جو ( مقبولیت کا تقاضا کرنے والے ) قرائن سے محیط ہو

83

۱۔تمہید

83

۲۔خبر واحدمقبول مخفف بالقرائن کی اقسام

83

۳۔خبر واحد مقبول مخفف بالقرائن کا حکم

84

مقصد دوم خبر مقبول کی ” معمول بہ “ اور ” غیر معمول بہ“ ہونے کے اعتبار سے تقسیم

85

۱۔حدیث ِ محکم اور مختلف الحدیث

85

۱۔محکم کی تعریف

85

۲۔حدیث مختلف کی تعریف

86

۳۔حدیث مختلف کی مثال

86

۴۔دونوں احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت وکیفیت کا بیان

87

۵۔جو شخص دومقبول احادیث میں تعارض دیکھے اسے کیا کرنا چاہیے ؟

88

۶۔اس فن کی قدر واہمیت اور اس میں مہارت حاصل کرنے والے سعادت مندوں کا بیان

88

۷۔” مختلفِ الحدیث “ میں تصنیف کی جانے والی مشہور تالیفات

89

۲۔ناسخ اور منسوخ حدیث کا بیان

89

۱۔نسخ کی تعریف

89

۲۔فن ِ ناسخ ومنسوخ کی اہمیت ، دشواری اور اس فن میں خصوصی امتیاز رکھنے والے مشہور علماء وفقہاء

90

۳۔ناسخ  کو منسوخ سے کیسے پہچانا جاتا ہے؟

90

۴۔ناسخ ومنسوخ پر لکھی جانے والی مشہور کتب

92

مشقی سوالات

92

مطلب دوم خبر مردود

94

خبرِ مردود(ا س کی تعریف ) اور ردّ ( خبر) کے اسباب ( اور اس کی اقسام)

95

۱۔مردود کی تعریف

95

۲۔خبر مردودکی اقسام اور خبر کے مردود ہونے کے اسباب

95

مقصدا وّل حدیثِ ضعیف کا بیان

96

۱۔حدیث ِ ضعیف کی تعریف

96

۲۔احادیث مردودہ میں تفاوت ( اور فرقِ مراتب )

96

۳۔سب سے کمزور ترین اسانید

97

۴۔ضعیف حدیث کی مثال

97

۵۔خبرضعیف کاحکم

98

۶۔ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا حکم

98

۷۔وہ مشہور تصنیفات جن میں احادیث ضعیفہ پائی جاتی ہیں

99

مقصد دوم سند میں سقوط کی وجہ سے ”خبر مردود“ کا بیان

100

۱۔سند سے سقوط کا معنی

100

۲۔سقوط کی اقسام

100

الف۔ سقوط ِ ظاہری کی اقسام

101

۱۔حدیث معلق

101

۱۔معلق کی تعریف

101

۲۔(اصطلاحی ) تعریف کی شرح

102

۳۔حذفِ اسناد کی چند صورتیں

102

۴۔حذفِ اسناد کی مثال

102

۵۔حدیث معلّق کا حکم

102

۶۔صحیحین کی تعلیقات کاحکم

103

۲۔حدیث مرسل

104

۱۔مرسل کی تعریف

104

۲۔اصطلاحی تعریف کی شرح

104

۳۔ارسال کی صورت

104

۴۔حدیثِ مرسل کی مثال

104

۵۔فقہاء اور علمائے اصول کے نزدیک حدیث مرسل

105

۶۔حدیث مرسل کاحکم

105

۱۔حدیث  مرسل ضعیف اورمردود ہے

106

۲۔حدیث مرسل صحیح اور قابل استدلال ہے

106

۳۔حدیث مرسل چند شروط کے ساتھ مقبول ہے

106

۷۔مرسل صحابی

107

۸۔مرسل صحابی رضی اللہ عنہ کا حکم

108

۹۔احادیث  مرسلہ کی اہم تصنیفات

108

۳۔حدیث مُعْضَل

108

۱۔مُعْضَلکی تعریف

108

معضل حدیث کی مثال

109

حدیث مُعّضَل کا حکم

109

۴۔حدیث مُعضل کا حدیث معلّق کی بعض صورتوں کے ساتھ جمع ہوجانا

109

۵۔معضل احادیث کے پائے جانے کے مواقع

110

۴۔حدیث منقطع

110

۱۔منقطع کی تعریف

110

۲۔تعریف کی شرح

110

۳۔متاخرین علمائے حدیث کے نزدیک ” حدیث منقطع “

111

۴۔حدیث منقطع کی مثال

111

۵۔حدیث منقطع کاحکم

112

(ب) سقوطِ خفی ( یعنی ان احادیث )کی اقسام  کابیان جن میں سقوط ِ خفی پایا جاتا ہے)

112

۱۔حدیث مدلس

112

۱۔مُدَلَّس کی تعریف

112

۲۔تعریف کی شرح

113

۳۔تدلیس کی اقسام

113

۴۔تدلیسِ اسناد

113

۵۔تدلیس ِ تسویہ

115

۶۔تدلیسِ شیوخ

117

۷۔تدلیس شیوخ کی تعریف کی شرح

117

۸۔تدلیس کا حکم

118

۹۔تدلیس پر آمادہ کرنے والی اغراض ( یعنی تدلیس کے اسباب وبواعث اور محرکات )

119

۱۰۔مدلس راوی کی مذمت کے اسباب

119

۱۱۔مدلس کی ایک روایت کا حکم

120

۱۲۔تدلیس کیوں کرپہچانی جاسکتی ہے؟

120

۱۳۔تدلیس اور مدلسین کے بارے میں مشہور تصنیفات

121

۲۔مرسل خفی

121

۱۔مُرسَلِ خفی کی تعریف

121

۲۔مرسَل خفی کی مثال

122

۳۔ارسال خفی کو کیوں کر پہچانا جاسکتا ہے؟

122

۴۔مرسل خفی کا حکم

122

۵۔مرسَل خفی کی بابت مشہورتصنیفات

122

حدیث منقطع کے ملحقات اَلْمُعْنْعَن اور اَلْمُؤَنَّن

123

۱۔تمہید

123

۲۔مُعَنْعَن کی تعریف

123

۳۔حدیث معنعن کی مثال

123

۴۔حدیث مُعَنْعَن متّصل ہے یا منقطع؟

124

۵۔حدیث  مُوَنَّن  کی تعریف

124

۶۔حدیث  مؤنَّن کا حکم

125

مشقی سوالات

125

مقصد سوم اُس حدیث کا بیان جوراوی میں طعن کے سبب سے مردود ہو

127

۱۔راوی میں طعن سے کیا مراد ہے؟

127

۲۔راوی میں طعن کے اسباب ( کیا اور کتنے ہیں؟ )

127

(۱)حدیث موضوع

128

۱۔حدیث موضوع کی تعریف

128

۲۔حدیثِ موضوع کا مرتبہ

128

۳۔موضوع حدیث کے روایت کرنے کا حکم

128

۴۔حدیث گھڑ نے میں اِن جعل سازوں نے کیا کیاہتھکنڈوں استعمال کیے؟

129

۵۔حدیث موضوع کیوں کر پہچانی جاتی ہے؟

129

۶۔” جعل سازی “ کے اسباب ومحرکات اور ” جعل سازوں“ کی اقسام

131

۲۔مذہب کی ( بے جا حمایت و) تائید

131

۳۔اسلام پر طعنہ زنی ( کرنے کے لیے حدیثیں گھڑنا )

131

۴۔امراء وسلاطین کا تقرب ( اور ان کی چاپلوسی اور خوشامد پرستی )

132

۵۔طلبِ معاش اور شکم بندگی ( پیٹ پوجا)

133

۶۔شہرت اور نام کی حرص وآرزو

133

۷۔احادیث گھڑنے ( کے جواز اور عدمِ جواز) کی بابت فرقہ کرامیہ کے مذاہب

133

۸۔بعض مفسرین کا غلطی سے اپنی تفاسیر میں موضوع احادیث شامل کرنا

134

۹۔موضوع احادیث پر مشہور تالیفات

134

(۲) حدیث  متروک

135

۱۔متروک حدیث کی تعریف

135

۲۔راوی پرکذب بیانی کی تہمت کے اسباب( یعنی راوی کے ” متھم بالکذب “ ہونے کے اسباب )

135

۳۔حدیث متروک کی مثال

136

۴۔حدیث متروک کا مرتبہ

136

۳۔حدیث منکر

137

۱۔حدیثِ مُنْکَرْ ‘کی تعریف

137

۲۔حدیث منکر اور شاذ کے درمیان فرق

138

۳۔پہلی تعریف کے مطابق حدیث مُنکر کی مثال

138

۴۔حدیث منکر کا رتبہ

139

۴۔حدیث معروف

140

۱۔حدیث معروف کی تعریف

141

۲۔حدیث معرو ف کی مثال

140

۵۔شاذ اور محفوظ

141

۱۔شاذ کی تعریف

141

۲۔تعریف کی شرح

141

۳۔شذوذکہاں واقع ہوتا ہے؟

141

۴۔محفوظ

143

۵۔شاذ اور محفوظ حدیث کا حکم

143

مشقی سوالات

143

۶۔حدیث مُعَلَّل

145

۱۔مُعَلَّل کی تعریف

145

۲۔علت کی تعریف

145

۳۔کبھی لفظ ” علّت “ کا اطلاق اپنے غیر اصطلاحی معنی پر بھی ہوجاتا ہے

146

۴۔اس فن کی عظمت وجلالت ، دِقّت ونزاکت اور اس کے ماہرین کا بیان

146

۵۔تعلیل کس اسناد میں در آتی ہے ؟

147

۶۔کن امور کے ذریعے ” علت“ کو تلاش کیاجاسکتا ہے؟

147

۷۔ حدیثِ معلَّل کی معرفت کا طریقہ کون سا ہے؟

147

۸۔” علّت “ کن کن مواقع میں ہوتی ہے؟

148

۹۔کیا ” علة فی الاسناد“ متن کو بھی مجروح کرتی ہے؟

148

۱۰۔عِلَل حدیث کی مشہور تصانیف

148

۷۔مخالفت ِ ثقات

149

۱۔حدیث مُدْرَج

150

۱۔مدرَج کی تعریف

150

۲۔مُدرَج کی اقسام

150

۱۔مدرج الاسناد

150

۳۔مُدرَج الاسناد کی مثال

151

ب ۔مُدْرَجُ الْمَتَن

151

۱۔”مُدرَج المتن “ کی تعریف

151

۲۔”ادراج فی المتن  “ کی قسمیں ( اور صورتیں )

151

۳۔” ادراج فی المتن “ کی (تینوں صورتوں کی ) مثالیں

152

۳۔(حدیث میں ) ادراج کے ( وقوع کے ) اسباب ومحرکات

154

۴۔”ادراج “ کا ادراک کیوں کر ہوتا ہے؟

154

۵۔” ادراج“ ( کی سب صورتوں ) کا حکم

154

۶۔”ادراج “ پر لکھی جانے والی مشہور کتب

154

(۲)حدیث مقلوب

155

۱۔حدیثِ مقلوب کی تعریف

155

۲۔قلب کی اقسام

155

۳۔قلب کے اسباب ومحرکات

157

۴۔قلب کا حکم

157

۵۔حدیث ِ مقلوب کا حکم

157

۶۔حدیث مقلوب کی مشہور تالیفات

158

۳۔المرید فی متصل الاسانید

158

۱۔تعریف

158

۲۔” المزید فی متّصل الاسانید“ کی مثال

158

۳۔اس کی مثال میں زیادتی ( کیوں کررہے ؟ )

158

۴۔سند میں زیادتی کے ردّ ہونے کی شروط

159

۵۔(اسنادمیں ) زیادتی کے وقوع ( کے امکان ) کے دعویٰ پر چند اعتراضات ( کا جائزہ اور ان کے جوابات)

159

۶۔”المزیدفی متّصل الاسانید“ کی مشہورتالیفات

160

۴۔حدیث مضطرب

160

۱۔حدیثِ مضطرب کی تعریف

160

۲۔تعریف کی شرح

160

۳۔(حدیث میں ) اضطراب کے پائے جانے کی شروط

160

۴۔مضطرب کی اقسام

161

۵۔اضطراب کی اقسام

161

۶۔حدیث مضطرب ے ضعیف ہونے کا سبب ( کیا ہے)

163

۷۔حدیث مضطرب کی مشہور تالیفات

163

۵۔حدیث مُصَحَّف

163

۱۔حدیث مُصَحَّف کی تعریف

163

۲۔فن تصحیف کی دقت واہمیت

163

۳۔حدیث مصَّحف کی تقسیمات

164

۴۔(حدیث مصحّف کی بابت) حافظ ابن حجررحمہ اللہ علیہ کی تقسیم

165

۵۔کیاتصحیف کے ارتکاب سے راوی کی وثاقت مجروح ہوجاتی ہے؟

166

۶۔کسی راوی سے کثرت کے ساتھ تصحیف کیوں کرہوتی ہے؟

166

۷۔تصحیف پر مشہور تصنیفات

166

٭حدیث مصحف کی تقسیمات کا وضاحتی نقشہ

167

(۸) راوی سے جہالت کا بیان

167

۱۔جہالت بالراوی کی تعریف

167

۲۔جہالت بالراوی کے اسباب

168

۳۔جہالت بالراوی کی تینوں اقسام کی علی الترتیب مثالیں

168

۴۔” مجہول “ کی تعریف

169

۵۔مجہول کی اقسام

 

الف۔ ( پہلی قسم) ” مجہول العین“

169

(۱)مجہوم العین کی تعریف

169

(۲)مجہول العین کی روایت کا حکم

169

(۳)مجہول العین کی توثیق کیوں کر ہوتی ہے؟

169

(۴)کیا ”مجہول العین“ کی حدیث کا کوئی خاص نام ہوتا  ہے؟

169

ب۔ ( دوسری قسم ) ” مجہول الحال“

169

(۱)” مجہول الحال“ کی تعریف

170

(۲)مجہول الحال کی روایت کا حکم

170

(۳) کیا اس کی حدیث کا کوئی خاص نام ہے؟

170

ج( تیسری قسم) مُبْہم

170

(۲) مُبْہَم کی روایت کا حکم

170

(۳)اگر راوی ” مروی عنہ“ کو تعدیل کے لفظوں کے ساتھ مبہم ذکر کرے توکیا اس صورت میں ا س کی روایت مقبول ہوگی ؟

170

(۴)کیا مبہم راوی کی حدیث کا کوئی خاص نام ہے؟

170

۶۔اسبابِ جہالت پر لکھی جانے والے مشہور کتب

171

(۹) بدعت

172

۱۔بدعت کی تعریف

172

۲۔بدعت کی اقسام

172

ب ۔ بدعت مُفَسِّقَہ

172

۳۔بدعتی کی روایت کا حکم

173

۴۔کیا بدعتی کی روایت کا کوئی خاص نام ہے؟

173

(۱۰)حافظہ کی خرابی

173

۱۔”سَیّیءُ الْحِفْظ “ ( یعنی خراب  حافظے والے راوی ) کی تعریف

173

سَیّیءُ الْحِفْظ راوی کی اقسام

173

سَیّیءُ الْحِفْظکی روایت کا حکم

174

مشقی سوالات

174

خبر اور اس کی تقسیمات کا اجمالی خاکہ  ( نقشہ)

176

تنبیہ اوّل

176

تنبیہ دوم

176

فصل سوم  مقبول اور مردود کے درمیان مشترک خبر آحاد کا بیان

177

بحث اوّل  خبر کی مسندالیہ کے اعتبار سے تقسیم

177

مطلب اوّل  حدیث قدسی

177

۱۔حدیث قدسی کی تعریف

177

۲۔حدیث قدسی اور قرآنِ کریم میں فرق

178

۳۔احادیث قدسیہ کی تعداد

178

۴۔حدیث قدسی کی مثال

178

۵۔حدیث قدسی روایت کرنے کے صیغے

178

۶۔احادیث قدسیہ پر مشہور تصنیفات

179

مطلب دوم  حدیث مرفوع

179

۱۔حدیث ِ مرفوع کی تعریف

179

۲۔تعریف کی شرح

179

۳۔مرفوع کی اقسام

180

۴۔مرفوع کی ( چاروں اقسام کی) مثالیں

180

مطلب سوم  حدیث موقوف

181

۱۔حدیث موقوف کی تعریف

181

۲۔تعریف کی شرح

180

۳۔حدیث ” موقوف“ کی (تین اقسام کی) مثالیں

181

۴۔لفظ موقوف کا ایک دوسرا استعمال ( یا دوسرا مصداق)

182

۵۔(حدیث موقوف کی بابت) فقہاء خراسان کی ( مخصوص) اصطلاح

182

۶۔حدیثِ موقوف کی کچھ ایسی فروعی صورتیں جو حکم کے اعتبار سے مرفوع ہیں

182

مرفوعِ حکمی کی چند صورتیں

182

۷۔کیا حدیث موقوف قابل استدلال واحتجاج ہوتی ہے؟

184

جملہ اقسام خبر کا مفصّل خاکہ ( نقشہ)

185

مطلب چہارم  حدیث مقطوع

186

۱۔حدیث ِ مقطوع کی تعریف

186

۲۔تعریف کی شرح

186

۳۔حدیث مقطوع کی مثالیں

186

۴۔حدیث مقطوع سے استدلال کرنے کا حکم

187

۵۔کیا مقطوع کا منقطع پر اطلاق کرسکتے ہیں ؟

187

۶۔احادیث موقوفہ ومقطوعہ کے مآخذ ( جہاں انہیں ڈھونڈا جاسکتا ہے  )

187

مشقی سوالات

187

بحث دوم  احادیث کی دوسری متفرق انواع کا بیان جو مقبول اور مردود کے درمیان مشترک ہیں

189

۱۔حدیث مُسْند

190

۱۔حدیث مسند کی تعریف

190

۲۔حدیث مسند کی مثال

190

۲۔حدیث مُتَّصل

191

۱۔حدیث متّصل کی تعریف

191

۲۔حدیث متّصل کی مثال

191

۳۔کیا کسی تابعی کے قول کو حدیث متّصل کہہ سکتے ہیں؟

191

۳۔زیادات ِ ثقات

192

۱۔زیاداتِ ثِقات سے کیا مراد ہے ؟

192

۲۔زیادتی ثقات کو موضوع ِ سخن بنانےا ور اس پر خصوصی توجہ دینےوالے مشہور محدثین اور علماء

192

۳۔زیادتی ثقات کا محل وقوع

192

۴۔متن میں زیادتی کا حکم

193

۵۔متن میں زیادتی کی مثالیں

194

۶۔” زیادۃ فی الاسناد“ کا حکم

195

۷۔” زیادۃ فی الاسناد“ کی مثال

196

مطلب پنجم ۔۔۔ اعتبار ، مُتابع اور شَاھِد کا بیان

196

۱۔ہر ایک کی تعریف

196

۲۔اس بات کا بیان کہ ” اعتبار “ یہ شاہد اور متابع کا قسیم نہیں ہے۔

197

۳۔تابع اور شاھد کے لیے ایک اور اصطلاح ( یعنی ان دونوں کی ایک اور اصطلاحی تعریف )

197

۴۔ مُتَابَعَتْ

198

۵۔(مُتَابعَت اور شاھد وغیرہ کی) مثالیں

198

مشقی سوالات

200

باب دوم  مقبول الروایت رواۃ کی صفات کا بیان اور ا س سے متعلقہ جرح وتعدیل کی تفصیل

201

فصل اوّل  اروی اور اس کی قبولیت کی شروط کا بیان

202

۱۔تمہیدی مقدمہ

202

۲۔راوی کی مقبولیت کی شروط

202

۳۔راوی کی عدالت کیوں کر ثابت ہوتی ہے؟

203

۴۔ثبوت ِ عدالت میں حافظ ابن عبدالبر کا مذہب

203

۵۔راوی کا ضبط کیوں کر پہچانا جاتا ہے؟

204

۶۔کیاسبب کے بیان کے بغیر جرح وتعدیل مقبول ہوتی ہے؟

204

۷۔کیا جرح وتعدیل صرف ایک شخص کے قول سے ثابت ہو جاتی ہے؟ 

205

۸۔جب ایک راوی میں جرح وتعدیل دونوں جمع ہوجائیں تو کیا کیجیے ؟

205

۹۔کسی عادل کا ایک شخص سے روایت کرنے کا حکم

205

۱۰۔فسق وفجور سے تائب کی روایت کا حکم

206

۱۱۔اُجرت لے کر احادیث بیان کرنے والےکاحکم

206

۱۲۔سہل انگاری ، قبولِ تلقین اور کثرتِ نسیان میں معروف شخص سے حدیث لینے کا حکم

207

۱۳۔حدیث بیان کرکے بھول جانے والے کی روایت کاحکم

207

فصل دوم  کتب جرح وتعدیل کا ایک سرسری جائزہ

209

فصل سوم  جرح وتعدیل کے مراتب

211

۱۔تعدیل کے مراتب اور ان کے بعض الفاظ کا بیان

211

۲۔مذکورہ مراتب میں سے  ہر ایک کا حکم

212

۳۔جرح کے مراتب اور ان کے الفاظ کا بیان

212

۴۔مذکورہ مراتب کا حکم

213

مشقی سوالات

213

باب سوم روایت، آدابِ روایت اور کیفیت ِ ضبط کا بیان

215

فصل اوّل  ضبط روایت کی کیفیت اور اس کے تحمل کے طرق کا بیان

215

بحث اوّل  کیفیتِ سماعتِ حدیث ، تحمل حدیث اور صغت ضبط حدیث کا بیان

216

حدیث کا بیان

216

۱۔تمہید 

216

۲۔کیاتحمل حدیث کے لیے مسلمان اور بالغ ہونا شرط ہے؟

216

۳۔کس عمر میں سماعتِ حدیث کا آغاز کرنا مناسب ( اور پسندیدہ ) ہے؟

217

بحث دوم  طرقِ تحمل اور صِیغ ادا کا بیان

218

۱۔اَلسَّمَاعُ مِنْ لَفْظِ الشَّیخِ

218

۲۔قِرَاءَۃّ عَلَی الشَّیْخِ

219

۴۔” اَلْمَنَاوَلَةُ “ ( یہ تحمل ِ حدیث کا چوتھا طریق ہے)

222

الف : مناولہ کی اقسام

222

ب: مناولہ کے طریق سے حاصل کی گئی احادیث کو روایت کرنے کا حکم

222

ج: الفاظِ ادا

223

۵۔کتابت

223

الف: کتابت کی صورت

223

ب: کتابت کی اقسام

223

ج: کتاب کے ذریعے حاصل کی جانے والی احادیث کا حکم

223

د: کیا تحریر پر اعتماد ( حاصل کرنے) کے لیے گواہ ٹھہرانا شرط ہے؟

224

ھ: کتاب کے ذریعے حاصل کرنے والی حدیث کے الفاظ ادا

224

۶۔اِعلام

224

الف: اعلام کی صورت

224

ب: اعلام کے ذریعے حاصل کی گئی حدیث کی روایت کا حکم

224

ج: الفاظِ ادا

225

(۷) وصیت

225

الف: وصیّت کی صورت

225

ب: وصیّت کے ذریعے حاصل کی جانے والی احادیث کی روایت کا حکم

225

ج: الفاظ ِ ادا

225

۷۔اَلْوِجَادَۃُ

225

الف: وجادہ کی صورت

226

ب: وجادہ کے طریق سے حاصل کردہ حدیث کی روایت کا حکم

226

ج: الفاظِ ادا

226

مشقی سوالات

226

 بحث سوم : کتابت ِ حدیث ، ضبطِ حدیث اور تصنیفات ِ حدیث کا بیان

228

۱۔ کتابت حدیث کاحکم

228

۲۔ کتابتِ حدیث کے حکم میں اختلاف کا سبب

228

۳۔ احادیثِ اباحت وممانعت کے درمیان تطبیق اور جمع کی صورت

229

۴۔کاتبِ حدیث کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ 

229

۵۔مقابلہ وموازنہ اور اس کا طریقہ ؟

230

۶۔الفاظِ ادا وغیرہ کی کتابت کی (بعض مخصوص) اصطلاحات

231

۷۔طلبِ حدیث کے لیے اسفار

231

۸۔حدیث سے متعلق مختلف تصانیف

232

الف: ” الجوامع “

233

ب: المسانید

233

ج:”السُّنَنُ “

233

د: المَعَاجِمُ

233

ھ: اَلْعِلَلُ

234

و: اَلْاجْزَاءُ

234

ز: اَلْاطْرَاف

234

ج: المُسْتَدرَکَات

234

ط: اَلْمُسْتَخْرَجَاتُ

235

مشقی سوالات

235

بحث چہارم روایت حدیث کی صفت

237

۱۔(اس بحث کا ) یہ نام رکھنے سے کیا مراد ہے؟

237

۲۔کیا کسی راوی کا ایسی کتاب سے حدیث روایت کرنا جائز ہے جسے وہ کتاب یا د ہو اور نہ اس کی مذکورہ احادیث؟

237

الف: متشددین کا قول

237

ب: متساہلین ( یعنی سہل انگاروں ) کا طریق

237

ج: متوسط ( میانہ رو) اور معتدل  لوگ

237

۳۔ایسے نابینا کی روایت کا حکم جو سنی بات یاد نہ رکھ سکتا ہو

238

۴۔حدیث کی روایت بالمعنی اور اس کی شروط

238

۵۔” لحن فی الحدیث ” اور اس کا سبب

239

الف: علمِ نحو اور لغت کی تعلیم سے نابلد ہونا

239

ب: احادیث کو براہ راست کتابوں اور صحیفوں سے حاصل کرنا او ر مشائخ ( کے آگے زانوے تلمذّ طے کرکے ان)سے حدیث نہ لینا

239

غریب الحدیث

239

۱۔غریب الحدیث

239

۲۔غریب الحدیث کی اہمیت اور کھٹنائی ( اور دشواری)

240

۳۔غریب الحدیث کی بہترین تفسیر

240

۴۔غریب الحدیث“ کی مشہور تصنیفات

241

مشقی سوالات

241

فصل دوم  آداب روایت

242

بحث اوّل  آداب ِ محدّث  

243

۱۔مقدمہ

243

۲۔ایک محدّث میں نمایاں خوبیاں کیا ہونی چاہئیں

243

۳۔مجلس ِ املاء میں حاضر ہوتے وقت ایک محدّث کے لیے کون سے امور مستحب ہیں

243

۴۔ایک محدّث کے لیے عمر کا کون سا حِصّہ مناسب ہے جس میں اسے حدیث بیان کرنے میں لگ جانا چاہیے

244

۵۔آدابِ محدث کی بابت مشہور تصنیفات

244

بحث دوم طالب  حدیث کے آداب

245

۱۔مقدمہ

245

۲۔وہ آداب جن میں طالب علم” محدث “ کے ساتھ شریک ہوتا ہے

245

۳۔وہ آداب جو صرف طالب علم کے ہیں

245

مشقی سوالات

246

باب چہارم ا سناد اورا  س کے متعلقات کا بیان

247

فصل اوّل  لطائف اسناد کا بیان

248

۱۔اسناد عالی ونازل

248

۱۔تمہید

248

۲۔اسناد عالی ونازل کی تعریف

248

۳۔علوِّ اسناد کی اقسام

249

۱۔موافقت

250

۲۔بدل

250

۳۔مساوات

251

۴۔مصافحہ

251

۴۔نزولِ اسناد کی اقسام

252

۵۔علو اسناد افضل ہے یا نزولِ اسناد؟

252

۶۔اسنادعالی ونازل پر مشہور تصنیفات

252

۲۔حدیث مسلسل

252

۱۔حدیثِ مسلسل کی تعریف

252

۲۔اصطلاحی تعریف کی شرح

252

۳۔حدیثِ مسلسل کی اقسام

253

۴۔احادیث مسلسلہ کی سب سے افضل قسم

256

۵۔حدیث مسلسل کے فوائد

256

۶۔کیاپوری اسناد میں تسلسل کا پایا جانا شرط ہے؟

256

۷۔تسلسل اور صحت کا آپس میں کوئی ربط ( وتعلق) نہیں

256

۸۔احادیثِ مسلسلہ پر مشہور تصانیف

256

۳۔بڑوں کی چھوٹوں سے روایت ۔۔المعروف بروایة الکابر عن الاصاغر

257

۱۔” روایة الاکابر عن الاصاغر“ کی تعریف

257

۲۔تعریف کی شرح

257

۳۔”روایة الکابر عن الاصاغر “ کی اقسام اور ان کی مثالیں

257

۴۔روایة الاکابر  عن الاصاغر کی چند مزید مثالیں

258

۵۔روایة الاکابر عن الاصاغر کے فوائد

258

۶۔مشہور تصانیف

259

۴۔” روایت الآباء عن الابناء “ یعنی باپوں کا بیٹوں سے سے روایت کرنا

259

۱۔”روایة الآباء عن الابناء “ کی تعریف

259

۲۔” روایة الآباء عن الابناء “ کی مثال

259

۳۔فوائد

259

۴۔مشہور تصانیف

259

۵۔روایة الابناء عن الآباء یعنی بیٹوں کا باپوں سے روایت کرنا

260

۱۔ روایة الآباء عن الآباء کی سب سے اہم نوع

260

۲۔ روایة الابناء عن الآباء“ کی سب سے اہم نوع

260

۳۔انواع

260

۴۔فوائد

260

۵۔مشہور تصانیف

261

۶۔مُدَبَّح اور روایت اقران

261

۱۔مُدَبج اور روایت اقران

261

۲۔روایت اقران کی تعریف

261

۳۔مُدَبج کی تعریف

261

۴۔حدیث مُدَبج کی مثالیں

262

۵۔حدیث مُدَبج کے فوائد

262

۶۔مشہور تصانیف

263

۷۔سابق ولاحق

263

۱۔سابق ولاحق کی تعریف

263

۲۔سابق ولاحق کی مثال

263

۳۔سابق ولاحق ( کی تحقیق اور تعیین) کے فوائد

264

۴۔مشہور تصانیف

264

مشقی سوالات

264

فصل دوم معرفت رواۃ کا بیان

266

۱۔معرفت صحابه

267

۱۔صحابی کی تعریف

267

۲۔معرفت صحابی کی ( ضرورت و ) اہمیت اور فائدہ

267

۳۔کسی صحابی کی صحابیت کی کیونکر معرفت حاصل ہوتی ہے؟

267

۴۔سب کے سب صحابہ عادل ہیں

268

۵۔زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابہ رضی الہ عنہم

268

۶۔کثیر الفتاوی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

269

۷۔” عَبَادِلَه“ کون ہیں ؟

269

۸۔حضراتِ صحابہ کی تعداد

270

۹۔طبقات (ومراتب) کی تعداد

270

۱۰۔افاضل صحابہ

270

۱۱۔سب سے پہلے اسلام لانے والے

270

۱۲۔سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابی

270

۱۳۔معرفتِ صحابہ پر مشہور تصانیف

271

۲۔معرفتِ تابعین

271

۱۔تابعی کی تعریف

271

۲۔معرفت تابعین کے فوائد

271

۳۔طبقاتِ تابعین

271

۴۔مُخَضْرَمِیْن

272

۵۔فقہائے سبعہ

272

۶۔افضل ترین تابعی

272

۷۔افضل ترین  تابعات

273

۸۔معرفت تابعین پر مشہور تصانیف

273

مشقی سوالات

273

۳۔معرفت برادران وخواھران  یعنی بھائی بہنوں کی معرفت

275

۱۔تمہید

275

۲۔برادران وخواہران کی معرفت کے فوائد

275

۳۔معرفتِ برادران وخواہران کی مثالیں

275

۴۔معرفتِ برادران وخواہران پر مشہور تصانیف

276

۴۔معرفت  مُتّفق ومُفْترق

276

۱۔مُتَّفِق اور مُفْتَرق کی تعریف

276

۲۔متفق اور مفترق کی مثالیں

277

۳۔اس فن کی اہمیت اور فائدہ

277

۴۔متفق ومفترق کی مثالیں پیش کرنا مناسب ہوتا ہے؟

278

۵۔متفق ومفترق پر چند مشہور تصانیف

278

۵۔معرفت مؤتلف ومُختلف

278

۱۔موتلف ومختلف کی تعریف

278

۲۔موتلف ومختلف کی مثالیں

279

۳۔کیا ائتلاف واختلاف کی معرفت کا کوئی ضابطہ اور قاعدہ بھی ہے؟

279

۴۔مؤتلف ومختلف کی اہمیت اور اس کے فوائد

279

۵۔مشہور تصانیف

280

۶۔معرفت متشابه

280

۱۔متشابہ کی تعریف

280

۲۔متشابہ کی مثالیں

280

۳۔متشابہ کی معرفت کا فائدہ

281

۴۔متشابہ کی چند دیگر انواع

281

۵۔متشابہ پر مشہور تصانیف

281

۷۔معرفت مُھْمَل

282

۱۔مُھمَل کی تعریف

282

۲۔اِہمال کب ضرر رساں ثابت ہوتا ہے؟

282

۳۔مہمل کی مثال

282

۴۔مہمل اور مبھم میں فرق

283

۵۔مہمل پر مشہور تصانیف

283

۸۔معرفت مُبْھَمَات

283

۱۔مبہمات کی تعریف

283

۲۔معرفت  مبہمات کے فوائد

283

۳۔مبہمکی معرفت کیوں کر حاصل ہوتی ہے؟

284

۴۔مبہم کی اقسام

284

۵۔مبہمات پر مشہور تصانیف

285

۹۔ معرفت وُحدان

285

۱۔وحدان کی تعریف

285

۲۔وحدان کی مثالیں

286

۳۔کیاشیخین نے ” صحیحین “ میں ” وحدان “ سے روایت ذکر کی ہے؟

286

۵۔معرفت وحدان پر  مشہورتصانیف

286

مشقی سوالات

287

۱۰۔مختلف ناموں یا صفات ( والقاب) کے ساتھ ذکر کیے جانے والوں کی معرفت

288

۱۔مختلف اسماء وصفات کے ساتھ ذکر کیے جانے والوں کی معرفت کی تعریف

288

۲۔مختلف ناموں اور کنیتوں کے ساتھ ذکر کیے جانے والے راوی کی مثال

288

۳۔اس کے فوائد

288

۴۔خطیب بغدادی کا اپنے شیوخ کے ساتھ بالکثرت ایسا کرنا

288

۵۔مشہور تصانیف  

288

۱۱۔مفرد ناموں اور کنیتوں اور القاب کی معرفت

289

۱۔مفردات سے کیامراد ہے ؟

289

۲۔مفردات کی معرفت کا فائدہ

289

۳۔مفردات کی مثالیں

289

۴۔مفردات پر مشہور تصانیف

290

۱۲۔کنیت سے شہرت پانے والوں کے ناموں کی معرفت

290

۱۔اس بحث سے کیامراد ہے؟

290

۲۔اس بحث کا فائدہ

290

۳۔معروف کنیتوں پر کتاب تصنیف کرنے کا طریقہ

290

۴۔اصحاب کنیت کی اقسام اور ( ہر ایک قسم کے اعتبار سے) اس کی مثالیں

291

۵۔کنیتوں پر مشہور کتب

291

مشقی سوالات

292

۱۳۔معرفت القاب

293

۱۔القاب کی لغوی تعریف

293

۲۔معرفت القاب کی بحث سے مراد

293

۳۔معرفت القاب کا فائدہ

293

۴۔القاب کی اقسام

293

۵۔القاب کی مثالیں

293

۶۔القاب پر مشہور تصانیف

294

۱۴۔باپ کے علاوہ ( یعنی دادا اور ماں وغیرہ ) کی طرف منسوب ہونے والوں کی معرفت

294

۱۔اس بحث سے کیا مراد ہے؟

294

۲۔اس بحث کی معرفت کا فائدہ

295

۳۔غیرآباء کی طرف نسبت کی اقسام اور ہر ایک قسم کی مثال

295

۴۔مشہور تصانیف

295

۱۵۔خلافِ ظاہر نسبتوں کی معرفت

295

۱۔تمہید

295

۲۔اس بحث کا فائدہ

296

۳۔خلافِ ظاہر نسبتوں کی مثالیں

296

۴۔خلافِ ظاہر انساب پر مشہور تصانیف

296

۱۶۔تواریخِ رواۃ کی معرفت یعنی رواۃ کے حالاتِ زندگی کی معرفت

296

۱۔تواریخ کی تعریف

296

۲۔مذکورہ بحث میں تاریخ سے کیا مراد ہے؟

297

۳۔تاریخ کی معرفت کی اہمیت وفائدہ

297

۴۔اہم ترین چند تاریخی باتوں کا تذکرہ

297

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1710
  • اس ہفتے کے قارئین 17492
  • اس ماہ کے قارئین 38659
  • کل قارئین71542244

موضوعاتی فہرست