• #3439
    جلال الدین سیوطی

    1 تفسیر در منثور جلد ششم

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر در منثور" دسویں صدی ہجری کے امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر السیوطی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں متن قرآن کا اردو ترجمہ محترم پیر محمد کرم شاہ ازہری﷫نے، جبکہ تفسیر کا ترجمہ محترم سید محمد اقبال شاہ صاحب، محترم محمد بوستان صاحب اور محترم محمد انور مگھالوی صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز کی مطبوعہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور تمام مترجمین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔ آمین(راسخ)

  • #3016
    مرکز البحوث والدراسات

    2 فضائل امہات المومنین کا تذکرہ عنبریں

    اہل  السنۃ  والجماعۃ  کےنزدیک ازواج ِمطہرات  تمام مومنین کی مائیں ہیں ۔ان کوبرا بھلا کہنا حرام ہے ۔اس کی حرمت قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے  ثابت ہے ۔جو ازواج مطہرات  میں سے کسی ایک پر بھی طعن   وتشنیع کرے گا  وہ ملعون او ر خارج ایمان ہے ۔ زیر نظر رسالہ ’’ فضائل  امہات  المومنین کا  تذکرۂ عنبرین‘‘  ایک عربی کتابچہ  ’’شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین‘‘ کاترجمہ  ہے ۔اس  کتاب میں امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت  اور ان کے  فضائل مناقب  قرآن کریم  اور حدیث  نبویﷺ  کی  روشنی  میں بیان  کیے گئے ہیں پھر اہل بیت کے ضمن میں انکے فضائل کو عمومى طور پر بیان کیا گیا ہے۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں جنا ب عبد الحمید  اطہر  ﷾  نے ڈھالا ہے ۔اللہ  تعالیٰ مترجم وناشرین کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کو  امت مسلمہ کے لیے   امہات المومنین سے  محبت اور ان کی عزت واحترام  کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #3017
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    3 فضیلت بیت المقدس اور فلسطین و شام

    اسلام اور ملتِ اسلامیہ  کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ  کا ایک  مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ  نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے  تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ  چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ  نےیہ مسئلہ پیدا کر کے  گویا اسلام  کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں  اسرائیل کے قیام کےبعد  یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے  فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے  دخل کر کے انہیں  کمیپوں  میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے  پر مجبور کردیا ہے۔ گزشتہ  نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ  کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی  مسلمان شہید ، زخمی  یا بے گھر ہوچکے ہیں  اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر  قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔عالمِ اسلام کو خوابِ غفلت سےجگانے اور مسئلہ فلسطین کواجاگر کر نےکےلیے  نومبر2000ء میں ’’ جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی‘‘  کویت نے (بیت  المقدس ہمارا ہے ) کے عنوان کے تحت دوسرا’’ہفتہ اقصیٰ ‘‘منایا جس میں  مسجد اقصیٰ کی فضیلت ،تاریخ اور  اس کے خلاف یہودی سازشوں پر متعدد لیکچرز دیے گئے۔نیراس کے بارے  ایک تصویری نمائش کا اہتمام  کیا گیا۔  اور فضائل  بیت المقدس  پر  لڑیچر  تقسیم کیا گیا ۔ زیر تبصرہ  کتاب’’ فضلیت بیت المقدس اور  فلسطین وشام ‘‘اسی عربی لٹریچر کا  ترجمہ ہے ۔محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی )  نے  اسی موضوع پر مزید کتب  سے استفادہ کرکے اس لٹریچر کو  اردو داں طبقے  کےلیے  اردو زبان میں  منتقل کیا  کیونکہ اردو زبان میں اس نوعیت کالٹریچر موجود نہیں تھا۔تاکہ عربی زبان سے ناآشنا لوگ بھی اس اہم مسئلے کے متعلق آگاہی حاصل کرسکیں۔مولانا شفیق االرحمن فرخ اور  معروف  صحافی  اور تاریخ دان جناب محسن فارانی صاحب نے کتاب کی نظرثانی اور اس میں مزید اضافہ جات کا کام  خاصی محنت سے کیا  جس  سےاس کی افادیت  میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔  مترجم  کتاب  ہذا  استاد محترم ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد﷾ اس  کتاب  کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں اور برصغیر  پاک  وہند  کےخطباء ومبلغین کے  ہاں مقبولِ عام  تین جلدوں پر مشتمل  کتاب زادالخطیب بھی موصوف ہی کی عظیم تصنیف ہے  ۔محترم  حافظ صاحب   دینی تعلیم کے  حصول  کے لیے  1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں  امتیازی نمبر حاصل کرکے  اول  آنے پر انہیں1986 میں  مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ  کا شرف حاصل  ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے  کلیۃ الحدیث سے فراغت سے   کے بعد  1991ء میں اپنے  مادرِ علمی  جامعہ لاہور الاسلامیہ  میں  تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ  بعدکویت تشریف لے گئے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ’’حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ‘‘ ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں  پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے  زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشر اور اس کتاب کو  طباعت  کےلیے تیار کرنےوالے  احباب  کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول  کو آزاد  اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے (م۔ا)
    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #3015
    بلیغ الدین جاوید

    4 طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد بَربَر نسل سے تعلق رکھنے والے مسلم سپہ سالار اور بَنو اُمیّہ کے جرنیل تھے ،جنہوں نے 711ء میں ہسپانیہ (اسپین) میں عیسائی حکومت کا خاتمہ کرکے یورپ میں مسلم اقتدار کا آغاز کیا۔ انہیں اسپین کی تاریخ کے اہم ترین عسکری رہنماؤں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ شروع میں وہ اُموی صوبے کے گورنر موسیٰ بن نصیر کے نائب تھے ،جنہوں نے ہسپانیہ میں وزیگوتھ بادشاہ کے مظالم سے تنگ عوام کے مطالبے پر طارق کو ہسپانیہ پر چڑھائی کا حکم دیا۔طارق بن زیاد نے مختصر فوج کے ساتھ یورپ کے عظیم علاقے اسپین کو فتح کیا اور یہاں دینِ اسلام کاعَلم بلند کیا۔ اسپین کی فتح اور یہاں پراسلامی حکومت کا قیام ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے، جس نے یورپ کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی پسماندگی سے نکال کر ایک نئی بصیرت عطا کی اور اس پر ناقابل فراموش اثرات مرتب کیے تھے۔ طارق بن زیاد کی تعلیم و تربیت موسیٰ بن نصیر کے زیر نگرانی ہوئی تھی،جو ایک ماہرِ حرب اور عظیم سپہ سالار تھے۔اسی لیے طارق بن زیاد نے فن سپہ گری میں جلدہی شہرت حاصل کرلی۔ ہرطرف اُن کی بہادری اور عسکری چالوں کے چرچے ہونے لگے۔طار ق بن زیاد بن عبداللہ نہ صرف دُنیاکے بہترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے بل کہ وہ متّقی، فرض شناس اور بلندہمت انسان بھی تھے۔ اُن کے حُسنِ اَخلاق کی وجہ سے عوام اور سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ افریقا کی اسلامی سلطنت کو اندلس کی بحری قوّت سے خطرہ لاحق تھا،جب کہ اندلس کے عوام کا مطالبہ بھی تھا۔اسی لیے گورنر موسیٰ بن نصیر نے دشمن کی طاقت اور دفاعی استحکام کا جائزہ لے کر طارق بن زیاد کی کمان میں سات ہزار (بعض مؤرخین کے نزدیک بارہ ہزار) فوج دے کر اُنہیں ہسپانیہ کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ 30 اپریل 711ء کواسلامی لشکر ہسپانیہ کے ساحل پر اُترا اور ایک پہاڑ کے نزدیک اپنے قدم جمالیے ،جو بعد میں طارق بن زیاد کے نام سے جبل الطارق کہلایا۔طارق بن زیاد نے جنگ کے لیے محفوظ جگہ منتخب کی۔ اس موقع پر اپنی فوج سے نہایت ولولہ انگیز خطاب کیا اورکہا کہ ہمارے سامنے دشمن اورپیچھے سمندر ہے۔ جنگ سے قبل اُنہوں نے اپنے تمام بحری جہازوں کو جلا دینے کا حکم دیا تاکہ دشمن کی کثیر تعداد کے باعث اسلامی لشکر بددِل ہو کر اگر پسپائی کا خیال لائے تو واپسی کا راستہ نہ ہو۔ اسی صورت میں اسلامی فوج کے پاس صرف ایک ہی راستہ باقی تھا کہ یا تو دشمن کو شکست دے دیں یا اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردیں۔ یہ ایک ایسی زبردست جنگی چال تھی کہ جس نے اپنی اہمیت کی داد آنے والے عظیم سپہ سالاروں سے بھی پائی۔ 7 ہزار کے مختصراسلامی لشکر نے پیش قدمی کی اور عیسائی حاکم کے ایک لاکھ کے لشکر کاسامناکیا،گھمسان کا رَن پڑا، آخر کار دشمن فوج کو شکست ہوئی اورشہنشاہ راڈرک ماراگیا،بعض روایتوں کے مطابق وہ بھاگ نکلاتھا ،جس کے انجام کا پتا نہ چل سکا۔ اس اعتبار سے یہ جنگ فیصلہ کن تھی کہ اس کے بعد ہسپانیوی فوج کبھی متحد ہو کر نہ لڑ سکی۔فتح کے بعد طارق بن زیادنے بغیر کسی مزاحمت کے دارالحکومت طلیطلہ پر قبضہ کرلیا۔ طارق بن زیاد کو ہسپانیہ کا گورنر بنادیا گیا۔ طارق بن زیاد کی کام یابی کی خبر سُن کر موسیٰ بن نصیر نے حکومت اپنے بیٹے عبداللہ کے سپرد کی اورخود طارق بن زیاد سے آملے۔ دونوں نے مل کر مزیدکئی علاقے فتح کیے۔ اسی دوران خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اپنے قاصد بھیج کر دونوں کو دمشق بلوالیا اور یوں طارق بن زیادہ کی عسکری زندگی کا اختتام ہوا جب کہ اسلامی دُنیا کے اس عظیم فاتح نے 720ء وفات پائی۔زیر نظر کتابچہ  ’’ طارق بن زیاد ‘‘ فاتح اندلس طارق بن زیادہی کے متعلق ہے  ۔جو کہ اپنےموضوع میں  ہر لحاظ سے مکمل اور معلوماتی  ہے ۔ (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #3014
    سید حسین حسنی

    5 صاحب السیف والقلم (امام ابن تیمیہ)

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے  جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی  ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔امام ابن  تیمیہ کی  حیات وخدمات  کےحوالے سے   عربی زبان میں  کئی  کتب اور یونیورسٹیوں میں ایم فل  ، پی ایچ ڈی  کے  مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں ۔ اردو زبان میں  امام صاحب کے حوالے    سے کئی کتب اور  رسائل وجرائد میں  سیکڑوں مضامین ومقالات شائع  ہوچکے ہیں ۔   چند کتب  قابل ذکر ہیں ۔ابو زہرہ کی کتاب  جس کاعربی سے اردو میں ترجمہ  رئیس احمد جعفری ندوی  نے کیاہے   حضرت امام پر تحقیق کاحق ادا رکردیا۔ مولانا ابو الحسن ندوی﷫ نے اپنی مشہور تصنیف ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ کی جلد دوم   امام ابن تیمیہ کےلیے  وقف کردی اورڈاکٹر غلام جیلانی  برق نے  ان پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ صاحب  السیف  والقلم ‘‘سید حسین  حسنی کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے   امام ابن تیمیہ کے اصلاحی  کارناموں کو اجاگر کرنےکی کوشش کی  ہے اور بہترین انداز میں امام موصوف کی زندگی  کےمختلف پہلو پیش کیے  ہیں ۔مصنف  نے  امام   صاحب کے متعلق  جتنی  بھی  چھوٹی بڑی کتب لکھی گئی ہیں ان کا گہرا مطالعہ کیا مناسب اور موزوں  اقتباسات  اپنی اس کتاب میں  شامل کیے ۔ جن سے  نوجوان اور عمر رسیدہ  تعلیم یافتہ حضرا  ت  فائد اٹھا سکتے ہیں۔جبکہ   امام موصوف کے متعلق کئی  ایسی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں ۔جن  میں فلسفہ وکلام اور تصوف کے دقیق مسائل سے بھی  بحث کی گئی  ہے ۔ ان سےوہی اصحاب علم زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عربی کے قدیم جدلی علوم سے واقف ہو ں۔اللہ تعالیٰ  امام کو جنت الفردوس میں  اعلیٰ مقام عطافرمائے ا ور مصنف کی اس کاوش  قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #3011
    میاں محمد سلیم شاہد

    6 خطبات شاہد

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطبہ کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ عصر ِحاضر میں   استاذی المکرم  ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ کی  تین جلدوں پر مشتمل زاد الخطیب  اور  فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ ﷾کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب)  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ خطبات شاہد‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔صاحب کتاب میاں محمد سلیم شاہد صاحب  جماعت   اہل حدیث   پنجاب کے امیر ہیں اور گوجرانوالہ میں سول پائلٹ ہائی سکول  کے چئیرمین اور ساتھ ساتھ  خطابت کے فرائض  بھی انجام دے  رہے ہیں۔موصوف کے خطبات دینی ، اصلاحی دعوتی ، تبلیغی ، عقائد اور اعمال صالحہ کی ترغیب پر مشتمل ہیں۔موصوف تقریبا چودہ سال سے  خطبات کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان کے خطبات میں  سلاسلت اور جلالت کے ساتھ ساتھ  متانت اور سنجیدگی  بھی پائی جاتی ہے ۔ موصوف  کوتوحید سے  خاص محبت  ہے اپنے ہر خطبہ  میں  توحید کی بات کو کسی نہ کسی رنگ میں ضرور بیان کرتے ہیں ۔ لیکن سب وشتم نہیں کرتے  بلکہ  جذبہ خیرخواہی  سے سمجھانے کی پوری کوشش  کرتے ہیں۔ان کی بھر پور کوشش ہوتی ہے  کہ بات  سامعین کے دل تک پہنچ جائے اور وہ اپنی اصلاح کر کے جائیں۔فوز وفلاح کی خاطر اپنے خطبات کو مرتب کروا کر  فری تقسیم کرتے ہیں تاکہ دین کی بات زیادہ سےزیادہ عام ہوسکے ۔ خطبات کی  اس جلد  کو مولانا  محمد طیب محمدی صاحب  نے  بڑی حسن ترتیب  سے مرتب کیا  ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتب اور میاں شاہد سلیم صاحب کی  کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے علم وعمل میں برکت فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • #2893
    قاری اظہار احمد تھانوی

    7 خلاصۃ التجوید

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر اب تک عربی کے ساتھ ساتھ  اردو میں بھی  بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔  زیر تبصرہ  کتاب "خلاصۃ التجوید"علم تجوید وقراءات کے میدان کے ماہر شیخ القراء  قاری اظہار احمد  تھانوی  صاحب﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے علم تجوید کے مسائل کو انتہائی آسان اور مختصر انداز میں  بیان کردیا ہے۔ شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2584
    مجموعۃ من العلماء

    8 نضرۃ النعیم فی مکارم اخلاق الرسول الکریم۔1

    قرآن کریم کی تفسیرکی طرح رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کا موضوع بھی ایسا متنوع اور سد ابہار ہے   کہ ہر دور کے اصحاب علم وتحقیق اور اہل قرطاس وقلم اپنے اپنے انداز اور اسلوب میں شانِ رسالت میں خراجِ محبت اور گل ہائے عقیدت پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں   بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ ماضی قریب میں اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول   آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ موسوعۃ نضرۃ النعیم فی اخلاق الرسول الکریم بھی اس سی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’موسوعۃ نضرۃ النعیم فی مکارم اخلاق الرسول الکریم ‘‘ سیرت کے موضوع پرعربی زبان میں 12 مجلدات پر مشتمل ضخیم کتاب ہے ۔ جسے   امام وخطیب حرمِ مکی الشیخ صالح بن حمید ﷾ کی نگرانی   میں دیگر 31 جید علمائے کرام نے مدون کیا ہے۔ سیرت النبی ﷺ کا یہ انکسائیکلوپیڈیا نبی ﷺ کے ان اخلاق حمیدہ اور خصائل کریمہ کابیان ہے جس میں آپ ﷺ کی ذات گرامی ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے   اور جس کی شہادت اللہ تعالیٰ نےبھی قرآن مجید میں دی ہے   اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے    آپ کے اخلاقِ حسنہ کی بابت فرمایا: کان خلقه القرآن اسی خُلقِ عظیم یا خُلق قرآن یاخُلق الرسول الکریم ﷺ کی مفصل تفسیر وتوضیح یہ کتاب ’’نضرۃ النعیم ‘‘ ہےاس کتاب کی 8جلدوں میں مختلف اخلاق حسنہ اور2 جلدوں میں اخلاق رزیلہ اور عادات قبیحہ کا تذکرہ ہے ۔جلداول مقدمہ اور جلدنمبر 12 فہارس پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کی اہمیت اور افادییت کے پیش نظر   بیس سال قبل ڈاکٹر مرتضیٰ ملک  نے اس کا ترجمہ کرنے کا آغاز کیا   لیکن یہ کام اشاعت پذیر نہ ہوسکا۔ زیر تبصرہ کتاب اسی موسوعہ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ ہے جسے کراچی کے ایک   ادارے’’ المرکز الاسلامی للبحوث العلمیۃ‘‘ نےترجمہ کرکے شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس ادارے کو اس   کتاب کامکمل ترجمہ شائع کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) بحر حال سیرت النبیﷺ   کے اس انسائیکلوپیڈیا کا ترجمہ کروا کر شائع کرنا ملک کے معروف اشاعتی اداروں کے ذمے قرض ہے۔اللہ اداروں کے ذمہ داران کو اس قرض کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔ (م۔ا)

  • #2226
    ناصر الدین البانی

    9 ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت

    توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت" اردن کے معروف عالم دین محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی کی وش ہے۔اس میں انہوں نے وسیلے کی لغوی واصطلاحی تعریف،وسیلے کی اقسام ،مشروع وسیلہ اور ممنوع وسیلہ وغیرہ جیسی مباحث کو قرآن وسنت کی روشنی میں جمع فرما دیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پربڑی مفید اور شاندار ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کے اس عمل پر انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #332
    ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن الاعظمی

    10 اتباع سنت (عقائدہ احکام میں)

    اس اہم موضوع پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے مشق استاذ ڈاکٹر محمد ضیاالرحمن اعظمی نے قلم اٹھایا اور سنت رسول اللہ ﷺ اور اتباع سنت کے بارے میں ’’ التمسک بالسنۃ فی العقائد و الاحکام ‘‘ کے نام سے عربی زبان میں ایک جامع کتاب مرتب کی کے مستشرقین کے خلاف اپںے اسلاف کی سنت کو جاری رکھا ۔ ڈاکٹر اعظمی نے مذکورہ کتاب میں محدثین اور فقہا کے نظریات و عقائد کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے دین اسلام میں اتباع سنت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ ہیز جاہلیت کی رسومات و عادات کے بارے میں دین اسلام کا موقف پیش کرتے ہوئے سنت رسول اللہ ﷺ اور اطاعت رسول کا مفہوم واضح کیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ بیان کیا ۔کتاب کی اہمیت و افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب ڈاکٹر اعظمی کی اجازت سے دار السلام نے اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کرنے کا اہتمام کیا  واضح رہے کہ ترجمہ کا کام ڈاکٹر موصوف کے ایک لائق شاگرد ابو الحسن طاہر محمود شیخ نے انجام دیا ہے ۔(ع۔ر)

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39777021

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں