کل کتب 28

دکھائیں
کتب
  • 1 #3940

    مصنف : ڈاکٹر محمد امین

    مشاہدات : 5323

    اسلام اور تزکیہ نفس مغربی نفسیات کے ساتھ تقابلی مطالعہ

    (جمعہ 15 جنوری 2016ء) ناشر : اردو سائنس بورڈ لاہور

    تزکیۂ نفس ایک قرآنی اصطلاح ہے ۔اسلامی شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ کا مطلب ہے اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھنا جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے پاک صاف کرلینا اور اسے قرآن وسنت کی روشنی میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات وامور سے آراستہ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو جن اہم امور کےلیے بھیجا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے جن میں ترتیب مختلف ہے لیکن ذمہ داریاں یہی دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ تزکیہ ہے۔تزکیہ نفس کے حصول کےلیے قرآن وحدیث میں وارد بہت سے امور کااختیار کرنا اور بہت سےامور کا ترک کرنا ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلام اور تزکیہ نفس‘‘ در اصل ڈاکٹر محمد امین (مدیر البرہان ،لاہور )کے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی کتابی صورت ہے جس میں تزکیۂ نفس کے اسلامی تصور اور مغربی نفسیات کا تقابلی جائزہ پیش کیاگیا ہے ۔ڈاکٹر امین صاحب کی یہ کتاب مذہب اور نفسیات کے حوالے سے ایک معتبر اورسائنٹفک سوچ کا امتزاج ہے ۔یہ کتاب تعمیر سیرت میں تزکیہ نفس کاکردار ، نفسیات میں مذہبی رنگ یا مذہب میں نفسیات کے حوالے سے تعمیر شخصیت میں تزکیہ نفس کی ہر پہلو اور افادیت کو عام فہم زبان میں گیرائی اور گہرائی کےساتھ خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔انسان ، شخصیت ، نفس ، روح اور قلب کی بڑی اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے ۔ مصنف موصوف نے تزکیہ نفس کی اہمیت ، قرآن وحدیث اور مسلمان مفکرین کےحوالے سے بتاتے ہوئے مغربی نفسیات کا بھی بھر پور انداز میں تذکرہ کیا ہے۔(م۔ا)

  • 2 #4924

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی

    مشاہدات : 4545

    اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی و تاریخی جائزہ

    (جمعرات 24 نومبر 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    خانقاہی نظام سے مراد تصوف ہے۔تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور خانقاہی نظام ایک تحقیقی وتاریخی جائزہ ‘‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ بھٹی ﷾ کی تصنیف لطیف ہے اس کتاب میں انہوں نے تصوف اور خانقاہی نظام کی تعریف، تاریخ اور تصوف کےمختلف سلسلوں اور ان کےطریق کار کی مفصل اور چشم کشا دستاویز پیش کی ہیں۔نیز عہد بہ عہد صحابۂ کرام کے نام دے کر بتایا گیا ہے کہ انہوں نےکتنے کٹھن حالات میں دنیا کےدور دراز گوشوں میں پہنچ کر توحید کی اذان دی اور لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا۔ ان کی دعوت سیدھی سادی تھی۔ وہ غیر اللہ کی نفی کرتے تھے۔ دلوں میں اللہ کی یکتائی ،بڑائی کبریائی اور زیبائی کانقش جماتے تھے ، رسول اللہﷺ کی زندگی کے مبارک طریقے سکھاتے تھے ۔اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت بڑی نمایاں ہوجاتی ہے کہ اسلام جیسے جامع دین کے مقابلے میں تصوف اور خانقاہیت ایک ژولیدہ فلسفہ ہے ۔ فاضل مصنف نےخانقاہی نظام کا بڑا مفصل اور مدلل جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نےاکابر علماء اور نامور صوفی بزرگوں ہی کےاقوال سے تصوف کی تعریف بیان کی ہے اور مختلف آراء کے اقتباسات درج کیے ہیں ۔ تصوف کے مختلف سلسلوں اور منازلِ سلوک کی بہت سی شاخوں کےتعارف کے علاوہ ان کےطریق عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ فاضل مصنف نےحوالہ جات پیش کر کے بتایا ہے کہ تصوف کےنظریات کہاں کہاں پہنچ کر اسلامی تعلیمات سےبے آہنگ ہوگئے اورشرک کی آبیاری کاموجب بنے۔پھر اس کے نتیجے میں کیسے کیسے فاسد عقائد کے کانٹے اگتے اورپھیلتے چلے گئے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس عظیم کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 3 #4136

    مصنف : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

    مشاہدات : 4104

    اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش

    (اتوار 21 فروری 2016ء) ناشر : انجمن خدام القرآن، لاہور

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوبِ عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کو رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش‘‘ پروفیسر یوسف سلیم چشتی﷫ کی کتاب ’’تاریخ تصوف‘‘ کا ایک باب ہے ۔اس کی اہمیت کے پیش نظر جناب ڈاکٹر اسرار ﷫ نے اسےپہلے ماہنامہ ’’میثاق میں شائع کیا جسے میثاق کےقارئین اور دوسرے علمی ومذہبی حلقوں میں نہایت پسند کیاگیاپھر ان کے اصر ار پر اس کو کتابی میں شائع کیا گیا۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں ان عناصر اور عوامل کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سےاسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد ونظریات کی آمیزش ہوگئی تھی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ نفس تصوف سے ہی بدظن ہوگیا۔ دوسر ی طرف خودیہ غیر اسلامی تصوف اپنی ساری افادیت کھو بیٹھا ۔وہ خانقاہیں جہاں مسلمانوں کو الہ پرستی کا درس جاتا تھا وہ شخصیت پرستی اور قبر پرستی کامرکز بن گئیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول ﷺ کے جلوے نظر آتے تھے وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور شرک وبدعت کا مرجع بن گئی ہیں۔

  • 4 #19

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 24754

    اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت

    (پیر 26 جنوری 2009ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو پوری دنیا پر چھا جانا چاہتا ہے اور زندگی کی ہر فیلڈ میں جگہ چاہتا ہے-دنیا میں پائے جانے والے دوسرے ادیان کو ان کے ماننے والوں نے ان کو مخصوص جگہوں اور عبادت گاہوں تک محصور کر کے رکھ دیا جس کی وجہ سے وہ ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے کوئی راہنمائی نہ دے سکے اسی طرح کچھ لوگوں نے دین اسلام کو بھی پرائیویٹ کرنے کے لیے اس کو تنگ کر کے مخصوص عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محصور کرنے کی کوشش کی اور اسی کام کو دین کی خدمت اور اصل روح قرار دے کر لوگوں کو صرف خوشخبریاں سنائیں اور انہی چیزوں کو اصل اسلام بنا دیا-اسلام کو جس نام سے سکیڑنے کی کوشش کی گئی وہ تصوف ہے اور تصوف کے ماننے والوں نے اس کو مختلف طریقوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی اور ثبوت کے طور پر مختلف واقعات کو توڑ مروڑ کر اور من گھڑت احادیث اور واقعات کا سہارا لیا جس کی وجہ لوگ اسلام کی اصل روح سے واقف ہونے کی بجائے اور دوسری چیزوں میں مصروف ہو گئے-ابن تیمیہ نے دین سے مفرور ان لوگوں کی خوب خبر لی اور ان کے من گھڑت دلائل کی حقیقت کو واضح کیا-صحابہ کی طرف نسبت جوڑنے والے صوفیاء کی اس نسبت کی وضاحت کرتے ہوئے صوفیاء میں پائے جاانے والے مختلف سلوک اور من گھڑت روایات سے سہارا لے کر حال اور ناچ گانے کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اس کو ابن تیمیہ نے قرآن وسنت کے دلائل سے واضح کیا ہے اور صحابہ میں تصوف تھا یا نہیں اس کی وضاحت فرمائی ہے- قطب ابدال کی اصطلاحات کی وضاحت، ولیوں کی شان میں من گھڑت روایات اور واقعات کی وضاحت،ولیوں کے غائب ہونے کی وضاحت، اور مشہور مزارات کی نشاندہی کی گئی ہے
     

  • 5 #4640

    مصنف : عبد الرحمن عبد الخالق

    مشاہدات : 3782

    افکار صوفیہ کتاب و سنت کی روشنی میں

    (جمعہ 29 اپریل 2016ء) ناشر : ضیاء السنہ ادارۃ الترجمہ و التالیف، فیصل آباد

    تصوف رہبانیت میں مکمل یگانگت ہے تصوف کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ دراصل یونانی افکار کا مجموعہ ہے اسلام کی پہلی تین صدیوں میں تصوف کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ تصوف ایسی مہلک بیماری ہے جس نے امت مسلمہ میں افتراق کی خلیج کو وسیع کیا۔ اس کی ترویج و اشاعت سے بدعات کو فروغ حاصل ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ صوفیہ کی جانب سے ہر دور میں توحید وسنت کے روشن چہرے کو مسخ کرنے کی بھر پور کوششیں کی گئی ہیں ۔تصوف کو خوش نما خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا۔ اس طرح سادہ لوح عوام کو فریب میں مبتلا رکھا گیا۔ اس کی قباحتوں کو نظر سے اوجھل رکھنے کے لیے اس کا نام زہد، عبادت،ذکر وفکر،طریقت رکھا گیا ۔اور الحاد، زندقہ، وحدت الوجود جیسے مشرکانہ نظریات کے پھیلنے کا سبب تصوف ہی ہے۔ اوراس کے پردے میں غیراسلامی افکار کو فروغ ہوا۔ ہندواونہ رسم و رواج کو اختیار کیاگیا۔ خانقاہوں میں عرس کے موقع پر صوفیاء مشائخ کی موجودگی میں رقص وسرور، قوالی، کی محفلیں جمتی ہیں مردوزن کا بے محابا اختلاط ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’افکار صوفیہ کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ کویت کے مشہور سلفی عالم دین شیخ عبد الرحمٰن عبدالخالق کی تصوف کی خرافات او رحقیقت کے متعلق تحریر شدہ عربی کتاب ’’ الفکر الصوفی فی ضوء الکتاب و السنۃ ‘‘کا اردوترجمہ ہے۔ اس کتا ب میں نہایت عرق ریزی اور محنت سے صوفیہ کے حالات پر مرتب شدہ مستند کتابوں سے استفادہ کر کے صوفیا کے افکار کو کتاب وسنت پر پیش کر کے ان کی تردید کی ہے۔ اورمستند کتب کے حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ صوفیہ کی وجہ سے اسلامی معاشرہ میں کس قدر ناقابل علاج بیماریوں نے جنم لیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکیب حملے کیے گئے فرعون کومومن ثابت کیا گیا اور ابلیس کو موحد کہا گیا۔ مولانا صادق خلیل﷫ نے تقریبا 38 سال قبل اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 6 #4488

    مصنف : شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    مشاہدات : 3824

    الطائف القدس فی معرفۃ لطائف النفس

    (منگل 24 مئی 2016ء) ناشر : المعارف لاہور

    اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رشدو ہدایت کے لیے انبیاء کرام کی ایک مقدس جماعت کو مبعوث فرمایا جو اللہ رب العزت کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق انسانوں کے عقائد و اخلاق کی اصلاح کرتے تھے۔ اسی طرح انبیاء کرام کے بعد ان کے جانثار حواری اور اصحاب نے اس مقدس فرض کو بخوبی سر انجام دیا اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کرام کو بذریعہ وحی احکامات کی ترسیل فرماتے تھے اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا اور دین اسلام کو مکمل اور کامل فرما کر تمام انسانیت کےلیے راہ نجات اور مشعل راہ بنا دیا گیا۔ انبیاء کرام اور رسل کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کا کام صحابہ کرام، تابعین عظام، محدثین اور علمائے دین پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے جنہوں نے اپنی شب وروز کی انتھک محنتوں  سے عوام الناس تک پہنچا کر حجت قائم کر دی۔ اللہ رب العزت اپنے برگزیدہ بندوں میں سے کچھ کو کشف و الہام کے ذریعے کچھ خبروں کی اطلاع فرما دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب" الطائف القدس فی معرفۃ لطائف النفس" جو کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تصنیف ہے۔ اس رسالہ میں ان تمام الہامات کو ضبط کیا ہے جو اس زمانہ میں آپ کو وقتاً فوقتاً ہوتے رہے۔ چونکہ یہ رسالہ فارسی میں تصنیف شدہ تھا اس لیے لوگوں کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو سید محمد فاروق القادری ایم۔ اے نے آسان فہم اردو زبان میں منتقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 7 #6341

    مصنف : آصف نسیم

    مشاہدات : 2032

    اللہ کو کیا پسند اور کیا نا پسند

    (منگل 17 اپریل 2018ء) ناشر : اریب پبلیکیشنز نئی دہلی

    اس جہانِ رنگ و بو میں شیطان کے حملوں سے بچتے ہوئے شریعتِ الٰہیہ کے مطابق زندگی گزارنا ایک انتہائی دشوار امر ہے۔مگر اللہ ربّ العزت نے اس کو ہمارے لئے یوں آسان بنا دیا کہ ایمان کی محبت کو ہمارے دلوں میں جاگزیں کر دیا۔ اللہ کی پسند وناپسند ہر مسلمان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی معیار پر اس کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے ۔اگر بندے اللہ تعالی کےپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے راضی اور خوش ہوگا او ران کو مزید نعمتوں اور بھلائیوں سے نوازے گا ۔لیکن اگر وہ اللہ کےناپسندیدہ کام کریں گے تو وہ ان سے ناراض ہوگا اور انہیں سزا دےگا۔پہلی صورت میں بندوں کےلیے کامیابی اور فلاح ہے اور دوسری صورت میں ان کے لیے ناکامی اور خسارا ہے ۔لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنی کامیابی اور فلاح کےلیے صرف وہی کام کریں جو اللہ تعالیٰ کوپسند ہیں اور جن کے کرنے کا اس نے ہمیں حکم دیا ہے خواہ وہ حکم ہمیں قرآن مجید کے ذریعے سےدیا گیا ہے یا سنت کےذریعے سے ۔اسی طرح ہمیں دنیا اور آخرت میں ناکامی اور خسارے سےبچنے کے لیے ایسے کاموں سےباز رہنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں اور جن سے اس نے ہمیں منع فرمایا ہے خواہ وہ ممانعت قرآن میں کی گئی ہو یا سنت میں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اللہ کو کیا پسند اور کیا نا پسند‘‘مولانا آصف نسیم صاحب کی تالیف ہے۔ جس میں مصنف نے اس کتاب میں زندگی کے تقریباً تمام شعبوں کا احاطہ کیا ہے ۔چنانچہ بعض مقامات پر توحید وشرک کی گفتگو ہے تو بعض جگہوں پر اسلامی معاشرت، اجتماعی فرائض ، دعوت وجہاد آداب وعاداتِ اسلامی پر بحث کی ہے ۔ اسی طرح فضائل اعمال ، رقاق ،زہد ، اعمال قلبی پر بڑی نفیس ونازک ابحاث اس کتاب میں شامل ہیں ۔ مصنف نے کوشش کی ہے کہ اس ضمن میں کوئی ضعیف اور منکر ،موضوع روایت کتاب ہذا میں شامل نہ ہونے پائے ۔انہو ں نے ان احادیث کی وضاحت کرنے اور ہر ہر موضوع کو باسلوب احسن واضح کرنے کےلیے انداز نہایت آسان اور دلکش اختیار کیا ہے۔۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں اللہ تعالی اورآپ ﷺ سے محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 8 #334

    مصنف : عبد الرحمن عبد الخالق

    مشاہدات : 21294

    اہل تصوف کی کارستانیاں

    (جمعرات 29 اپریل 2010ء) ناشر : تنظیم الدعوۃ الی القرآن والسنۃ، راولپنڈی

    مشہور زمانہ کتاب "الفکر الصوفی" کے مصنف کی خطرناک صوفیانہ افکار کے رد میں ایک مختصر کاوش ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ صوفیانہ افکار امت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ تزکیہ نفس، احسان، سلوک کے خوشنما الفاظ میں چھپائی گئی شریعت کے متوازی طریقت کے نام سے دین اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی صوفیت کی اصل حقیقت کو جاننے کیلئے اس کتاب کا مطالعہ ازحد مفید ہے۔ اس کتاب میں اہل تصوف کے ساتھ بحث و گفتگو کا ایک مختصر نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے تاکہ طالب علموں کو ان کے ساتھ بحث و گفتگو کی تربیت حاصل ہو جائے اور وہ یہ سیکھ لیں کہ اہل تصوف پر کس طرح حجت قائم کی جا سکتی ہے یا انہیں کس طرح صراط مستقیم کی طرف لایا جا سکتا ہے۔
     

  • 9 #4536

    مصنف : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

    مشاہدات : 5883

    تاریخ تصوف

    (منگل 12 جولائی 2016ء) ناشر : علماء اکیڈمی، لاہور

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوبِ عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی (جمع: صوفیاء) عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ؛ تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں؛ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی اس ہی تصوف کی جانب مراد لیتے ہیں۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کو رد بھی کیا۔تصوف کا لفظ ، اسلامی ممالک (بطور خاص برصغیر ) میں روحانیت ، ترکِ دنیا داری اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کے مفہوم میں جانا جاتا ہے اور مسلم علماء میں اس سے معترض اور متفق ، دونوں اقسام کے طبقات پائے جاتے ہیں؛ کچھ کے خیال میں تصوف شریعت اور قرآن سے انحراف کا نام ہے اور کچھ اسے شریعت کے مطابق قرار دیتے ہیں۔ اس لفظ تصوف کو متنازع کہا بھی جاسکتا ہے اور نہیں بھی؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اشخاص خود تصوف کے طریقۂ کار سے متفق ہیں وہ اس کو روحانی پاکیزگی حاصل کرنے کے لیئے قرآن و شریعت سے عین مطابق قرار دیتے ہیں اور جو اشخاص تصوف کی تکفیر کرتے وہ اس کو بدعت کہتے ہیں اور شریعت کے خلاف قرار دیتے ہیں یعنی ان دونوں (تصوف موافق و تصوف مخالف) افراد کے گروہوں کے نزدیک تصوف کوئی متنازع شے نہیں بلکہ ان کے نزدیک تو معاملہ صرف توقیر اور تکفیر کا ہے۔ دوسری جانب وہ افراد ، عالم یا محققین (مسلم اور غیرمسلم) کہ جو مسلمانوں میں موجود تمام فرقہ جات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے تصوف کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کے نزدیک تصوف کا شعبہ مسلمانوں کے مابین ایک متنازع حیثیت رکھتا ہے۔تصوف کا یہ سلسلہ ہندی،  یونانی اور اسلامی تصوف پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تاریخ تصوف " محترم پروفیسر یوسف سلیم چشتی  صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے تصوف کی تینوں اقسام   ہندی، یونانی اور اسلامی کی تاریخ جمع کر دی ہے۔قطع نظر اس بات کے کہ اب اس میں بے شمار ایسے عقائد ونظریات داخل ہو چکے ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔(راسخ)

  • تزکیہ نفس

    (جمعرات 13 جولائی 2017ء) ناشر : مکتبہ ابن تیمیہ لاہور

    شریعت اسلامیہ میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھے جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا نفس کا تزکیہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کرام  کو جن اہم امور کےلیے مبعوث  فرمایا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ بھی تزکیہ ہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تزکیہ نفس" امام ابو محمد علی بن احمد بن حزم ﷫کی عربی  تصنیف کا اردو ترجمہ  ہے۔ اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر عبد الرحمن یوسف مدنی صاحب نے کیا ہےمولف نے اس کتاب میں  تزکیہ نفس کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہےاور اس کی  متعدد جزئیات پر قلم اٹھایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں تزکیہ نفس کرنے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1705
  • اس ہفتے کے قارئین 11390
  • اس ماہ کے قارئین 49784
  • کل قارئین49396028

موضوعاتی فہرست