دکھائیں کتب
  • 11 تزکیہ نفس ( محمد سعید صدیقی ) (اتوار 14 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1060

    تزکیہ نفس ،تہذیب اخلاق اوراطمینان نفس ک کا سرچشمہ نبی کریم ﷺ کی ذات  اقدس ہے ۔شریعت اسلامیہ میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھے جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا نفس کا تزکیہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کرام  کو جن اہم امور کےلیے مبعوث  فرمایا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ بھی تزکیہ ہی ہے زیر نظر کتاب ’’تزکیہ نفس‘‘ جناب محمد سعد صدیقی  صاحب  کی کاو ش  ہے   اس میں انہوں نے لفظ...

  • 12 تزکیہ نفس حصہ اول (منگل 23 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3565

    شریعت اسلامیہ میں تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھے جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا نفس کا تزکیہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کرام کو جن اہم امور کےلیے مبعوث فرمایا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہیدہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ بھی تزکیہ ہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تزکیہ نفس" پاکستان کے معروف عالم دین مولانا امین احسن اصلاحی ﷫کی تصنیف ہے،جو دو جلدوں پر مشتمل ہے۔اس میں انہوں تزکیہ نفس کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی ہےاور اس کی متعدد جزئیات پر قلم اٹھایا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ مولانا صاحب کے متعدد افکار ونظریات ایسے ہیں جو شاذ اور انفرادی حیثیت کے حامل ہیں ،...

  • 13 تزکیہ نفس میں شکر کا کردار (جمعرات 06 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1958

    اسلامی شریعت کی اصطلاح میں تزکیہ کا مطلب ہے اپنے نفس کوان ممنوع معیوب اور مکروہ امور سے پاک صاف رکھنا جنہیں قرآن وسنت میں ممنوع معیوب اورمکروہ کہا گیا ہے۔گویا نفس کو گناہ اور عیب دارکاموں کی آلودگی سے  پاک صاف کرلینا اور  اسے  قرآن وسنت کی روشنی  میں محمود ومحبوب اور خوب صورت خیالات  وامور سے آراستہ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے  انبیاء کو جن اہم امور کےلیے بھیجا ان میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے  جیسا کہ  نبی اکرم ﷺ کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘اس  آیت سے معلوم ہوتاہےکہ رسول اکرم ﷺ پر نوع انسانی کی اصلاح کےحوالے جو اہم ذمہ داری  ڈالی گئی اس کےچار پہلو ہیں ۔تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت،تزکیہ انسانی۔ قرآن مجید میں یہی مضمون چار مختلف مقامات پر آیا ہے  جن میں ترتیب مختلف ہے  لیکن ذمہ داریاں یہی  دہرائی گئی ہیں۔ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تلاوت آیات اورتعلیم کتاب وحکمت کا منطقی نتیجہ تزکیہ ہے۔تزکیہ نفس  کے حصول کےلیے قرآن وحدیث میں وارد بہت سے امور کااختیار کرنا اور بہت سےامور کا ترک کرنا ضروری ہے ۔ حصول تزکیہ  نفس کے لیے  اختیارکیے جانے والے امور میں شکر  کا کرداربڑا اہم ہے ۔شکرایک  مومن کی صفات وعادات میں سے بنیادی صفت ہے یہی صفت ایک مومن کو اصل مومن اورایک بندے کو بہترین بندہ بناتی ہے۔ انبیائے کرام چوں کہ ان...

  • 14 تصوف تاریخ وحقائق (جمعرات 23 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:15236

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور خدا تعالیٰ نے تمام تر احکامات انسان کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق نازل فرمائے ہیں لیکن مسلم معاشرے میں ایک ایسے فرقے کا بھی وجود ہے جس نے اپنے عقائد میں اس قدر غلو اختیار کیا کہ عیسائیوں کے نظریہ تثلیث کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ زیر مطالعہ کتاب شہید اسلام علامہ احسان الہٰی ظہیر کی گرانقدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں صوفیت کے چہرے پر چڑھے ہوئے نقاب کو اتار پھینکا ہے۔ علامہ صاحب نے تصوف کے اصول، بنیاد اور مصادر پر تفصیلی مباحث پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کسی تصنع اور تکلف کے بغیر تصوف کی دوسرے مذاہب کے ساتھ واضح مشابہت کو بیان کیا ہے۔ مولانا نے نہ صرف صوفیت کی اپنی معتبر کتابوں کے حوالے دئیے ہیں بلکہ دیگر مذاہب کی کتابوں کے ڈھیروں حوالے موجود ہیں۔ اس کتاب میں کچھ اشیاء ایسی پیش کی گئی ہیں جن سے ابھی تک کسی اور نے بحث نہیں کی اور ایسے پہلو سامنے لائے گئے ہیں جن کی طرف عام محققین کی نظر نہیں گئی۔ مولانا نے خصوصی طور پر ایک باب صوفیاء اور شیعہ کے متلعل قائم کیاہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ صوفی اور شیعہ بہت سے عقائد میں مشترک ہیں۔

     

  • 15 تصوف دین یا بے دینی (منگل 05 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2491

    تصوف ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے دین وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے انسان کو ہر قدم پر شریعت سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر انسان شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر تصوف کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی آزادی اور اباحیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے تصوف کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے دین سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی قرآن وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر تصوف کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔ (م۔ا)

  • 16 تصوف کتاب و سنت کی روشنی میں (بدھ 23 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:2814

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوب اس عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کا رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تصوف کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ شیخ محمد جمیل زینو﷫ کی تصوف کےموضوع پر جامع کتاب ’’الصوفیہ فی میزان الکتاب والسنۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ مولانا عبد الجبار صاحب نےاردو ترجمہ کرنےکی سعادت حاصل کی ہے ۔موصوف مترجم ایک اچھا علمی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ فرق ضالہ پر بھی اچھا مطالعہ رکھتے ہیں۔شیخ جمیل زینو ﷫ نےاس کتاب میں تصوف کی ابتدا، صوفیت کتاب وسنت کے میزان میں ، صوفیوں کے اقوال، صوفیوں کی کرامات، صوفیوں کانظریہ جہاد،صوفیوں کے پیراور مشائخ صوفیہ کےنزدیک تقلیدِ شیخ، صوفیہ...

  • 17 تصوف کی حقیقت ( اپ ڈیٹ) (جمعرات 19 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:24077

    ہر دور کے علمائے ربانی اور کتاب و سنت کی اتباع پر زور دیتے آئے ہیں اور وہ ان تمام طریقوں اور سلسلوں کی مذمت کرتے آئے ہیں جو کتاب و سنت کے خلاف تھے۔ ان علمائے ربانی میں ایک قد آور شخصیت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی ہے۔ جو خلاف کتاب و سنت افکار و نظریات کی تردید کے لیے شمشیر برّاں ہیں۔ انہوں نے جس طرح دیگر شعبوں سے متعلق ان افکار و آراء کی تردید کی جو کتاب و سنت کے خلاف تھے اسی طرح انہوں نے ان افکار و نظریات پر بھی شدید تنقید کی جو تصوف کے نام سے مسلمانوں میں فروغ پا گئے تھے اور حقیقت میں اسلامی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھے۔ صوفیا کے اسی قسم کے افکار و نظریات سے متعلق ان کی بعض تحریروں کو ’حقیقۃ التصوف‘ نامی کتاب میں یکجا کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی نے منتقل کیا ہے۔ کتاب کی افادیت میں اس اعتبار سے مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ ترجمے کی نظر ثانی مولانا خالد سیف نے کی ہے۔ صوفیت سے متعلقہ بنیادی معلومات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ (ع۔م)
     

  • 18 تصوف کیا ہے (اتوار 01 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2884

    آج امت مسلمہ کی زبوں حالی اس انتہاکو پہنچ چکی ہے کہ جھوٹ سچ سے اور کھوٹا کھرے سے بالکل پیوست نظر آتا ہے۔جس طرح علم ظاہر کے حامل علمائے حق کی صفوں میں علمائے سوءداخل ہو چکے ہیں ، اسی طرح علم باطن کے حامل مشائخ حق پرست کے بھیس میں نفس پرست لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کی روحانی اور باطنی تنزلی کی انتہا یہاں تک ہو چکی کہ ایک طبقے نے بیعت طریقت کو لازم قرار دے کر فرائض کے ترک کرنے اور شریعت اور طریقت کو الگ الگ ثابت کرنے کا بہانہ بنا لیا ۔ ضلو ا فا ضلوا (خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔ دوسرے طبقے نے بیعت طریقت کو گمراہی سمجھ کر اس کی مخالف کا بیڑا اٹھا لیا۔ان حالات میں اہل حق کیلئے افراط و تفریط کے شکار ان دونوں طبقوں سے چومکھی لڑائی لڑنے کے سوا چارہ نہیں۔ تاکہ احکام شریعت کو نکھار کر پیش کیا جائے اور حق و باطل کی حد فاصل کو واضح کیا جائے۔ زیر  تبصرہ کتاب’’تصوف کیا ہے‘‘جو کہ  مولانا  محمد منظور نعمانی،مولانا محمد اویس ندوی،اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے مقالات سے تحریر کی گی ہے  جس میں مذکورہ مصنفین      نے افراط و تفریط سے دامن بچائے ہوئے اہل سنت والجماعت کے حقیقی نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔علم تصوف، تصوف کیا ہے، لفظ صوفی کی تحقیق،بیعت طریقت کا شرعی ثبوت، ضرورت مرشد، آداب مرشد، خانقاہوں کا قیام، اعتقادات، اسباق تصوف، معمولات شب و روز، معارف و حقائق، اخلاق حمیدہ ، تصوف کے متعلق کیے جانے والے عمومی سوالات وغیرہ جیسے اہم ترین عنوانات پر تسکین بحث کی ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ک...

  • 19 تقویٰ کے ثمرات اور گناہوں کے اثرات (ہفتہ 20 فروری 2016ء)

    مشاہدات:3109

    تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگان دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس...

  • 20 تنبیہ الغافلین (سمر قندی) (جمعرات 07 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3031

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کےلیےبےشمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔پس انسان کے لیےلازم ہےکہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی اداکرے۔اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہےکہ صراط مستقیم(سیدھی راہ)ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ اسی لیے روزانہ کروڑوں اہل ایمان اپنی ہر نماز میں باربار اپنے آقاو مالک سے اگر کوئی چیز طلب کرتے ہیں تو یہی کہ وہ انہیں ہمہ وقت اور تازیست صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہےکہ عامۃ الناس جس قدر کثرت سے اس نادراور انمول شے کی طلب اور آرزو کا اظہارکرتے ہیں اتنا ہی اس کے مفہوم اور تقاضے سے بے خبراور ناآشناہیں۔ انسان کا تعلق اپنے خالق حقیقی سے کمزور ہوتا چلا جارہا ہےروزی کی تلاش میں رازق کو بھلابیٹھا ہے۔ دنیاوی معاملات میں اس قدر الجھ گیا ہےکہ وہ اپنی آخرت کو بھی یاد نہیں کرتا انسان بھول گیا ہےکہ اس کو ایک دن موت آنی ہے،قبر اس کے انتظار میں ہے،قیامت کے روز حساب ہو گا ان تمام باتوں کے باوجود بھی انسان غفلت اور لاپروہی میں اپنی زندگی بسر کر رہاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"تنبیہ الغافلین"نصر بن محمد بن ابراہیم ابو اللیث السمر قندی ؒ کی ایک شاہکار تصنیف ہےجس کو مولانا عبدالنصیر علوی نے اردو قالب میں بڑے احسن اندازسے ڈھالا ہے۔موصوف نے غفلت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کوان کا مقام و مرتبہ اور فکر آخرت کی یاد ہانی کرائی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے اللہ تعالیٰ مؤلف و متر...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1314
  • اس ہفتے کے قارئین: 2862
  • اس ماہ کے قارئین: 9146
  • کل مشاہدات: 44661138

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں