کل کتب 27

دکھائیں
کتب
  • 1 #2299

    مصنف : محمد لقمان سلفی

    مشاہدات : 4350

    اسلام میں سنت کا مقام

    (منگل 05 اگست 2014ء) ناشر : دار الداعی للنشر و التوزیع ریاض

    قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے  ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی  تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے  میں ابہام پیدا کرکے  کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  سنت کی شرعی  حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ  ہر دو ر میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں سنت کا مقام ‘‘ ہندوستان کے جید عالم دین مفسر  قرآن  ڈاکٹر  محمد لقمان  سلفی ﷾ کی حجیت سنت کے اثبات  اور منکرین سنت ومستشرقین کی تردید کے سلسلہ میں  ان کی  مایہ ناز  عربی تصنیف مكانة السنة فى التشريع الإسلامى کا  سلیس  ورواں  اردو ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر صاحب  نے  اس  کتاب میں  شریعت ِاسلامیہ میں سنت کا  جو عظیم مقام  ہے اسے  قرآن  کریم  کی آیات مبارکہ اور صحیح احادیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے  واضح کیا ہے کہ  جس طرح قرآن کریم دینِ اسلام کے بنیادی عقائد اور شرائع اسلامیہ کو جاننے کا  پہلا ذریعہ ہے اسی طرح نبی کریم ﷺکی احادیث کریمہ دوسرا ذریعہ ہیں ۔ان کے بغیر اسلام کی تکمیل کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ا س کےبعد تاریخی حوالہ جات کی مدد لیتے ہوئے سنت کی جمع وتدوین پر روشنی ڈالنے  کے علاوہ محدثین عظام کی ان  کوشش کو اجاگر کیا  ہے  جن کے  نتیجہ میں  یہ علم شریعت بحفاظت تمام  اکٹھا  کردیا گیا ۔ فاضل مصنف  ڈاکٹر لقمان سلفی ﷾ اس کتاب کے علاوہ کئی کتب کے  مصنف  جامعہ  ابن تیمیہ ،ہنداور  دار الداعی للنشر والتوزیع ،الریاض کے مؤسس ومدیر  ہیں۔ سعودی عرب میں  ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے بعد  وہیں  تصنیف وتدریس  میں  مصروف ہیں  ۔ان کی خدمات اور  کارناموں کی  وجہ سے انہیں سعودی شہریت بھی حاصل  ہے  ۔اور موصوف مدینہ  یونیورسٹی میں  تعلیم کے دوران  علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیداور استاذ الاساتذہ حافظ  ثناء اللہ مدنی ﷾ (شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)  وغیرہ کے ہم کلاس ر ہے ہیں اور ان کا  شمارشیخ ابن  باز   کےخاص تلامذہ میں سے ہوتا ہے  ۔اللہ تعالی  دین اسلام کے لیے ان کی مساعی جمیلہ کو قبول  فرمائے۔ اور اس کتاب کو مستشرقین  و منکرین سنت کے تمام  مکائد  اور شبہات واوہام  اور ان کے مکر وفریب کے  خاتمہ کا  ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)  
     

  • 2 #5927

    مصنف : محمد حسین میمن

    مشاہدات : 1702

    اسلام کے مجرم کون

    (اتوار 01 اکتوبر 2017ء) ناشر : ادارہ تحفظ حدیث فاؤنڈیشن

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین ،سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ بعض نے کسی انداز سے تو بعض نے کسی اور انداز سے حدیث نبوی ﷺ کی خدمت کی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام کے مجرم کون؟" محترم محمد حسین میمن صاحب کی تصنیف ہے، جو منکر حدیث ڈاکٹر شبیر کی"اسلام کے مجرم " نامی کتاب کا جواب ہے۔ ڈاکٹر شبیر نے اپنی کتاب میں متعدد احادیث مبارکہ عقلی پر اعتراضات وارد کئے ہیں، جن کا محترم محمد حسین میمن صاحب نے تسلی بخش جواب دے کر دفاع حدیث کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 #4546

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 2178

    اعجاز حدیث

    (اتوار 26 جون 2016ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر کوئی حدیث کاانکار کردے تو قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ منکرین اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر دائرہ اسلام سے نکلنے لگی ۔ لیکن الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر تبصرہ کتاب’’اعجاز حدیث ‘‘ پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے دلائل سےثابت کیا ہے کہ قرآن مجید کے احکام اور مسلمان کی زندگی کے تمام دین ودنیا کے کام صرف حدیث ہی کی روشنی میں انجام پاتےہیں۔ مومن پیدائش سے لے کر تادم واپسیں حدیث ہی کی آغوش میں ہے او رکسی کو اس کی ضرورت ،حجیت اورخاتمیت سے انکار نہیں ہے ۔(م۔ا)

  • 4 #496

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 14813

    الاعتصام ۔حجیت حدیث نمبر

    (اتوار 03 اپریل 2011ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور

    ہر زمانہ میں اہل علم نے کتاب وسنت کی ترویج اور نشر واشاعت کے ساتھ ساتھ ان کے دفاع کا بھی کام کیا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنن مبارکہ کی حجیت کا قائل نہیں ہے یا اگر قائل ہے تو اس کے استخفاف کے فتنہ میں مبتلا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب کی ادارت میں ہفت روزہ ’الاعتصام‘کا حجیت حدیث پر ایک خاص نمبر شائع ہوا جس میں برصغیر پاک وہند کے منکرین حدیث کے اعتراضات کا مدلل علمی انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ہفت روزہ ’الاعتصام‘ جماعت اہل حدیث کا ایک قدیم اور مستند علمی ترجمان شمار ہوتا ہے۔ اس رسالہ کا اجرا ۱۹۴۹ء میں مولاناعطاء اللہ حنیف کی سرپرستی میں ہوا۔ اس رسالہ نے ’حجیت حدیث‘ کے علاوہ ’تحریک آزادی‘ اور ’اسلامی آئین‘ اور ’حافظ محمد گوندلوی‘ اور ’مولانا محمد حنیف‘ اور ’مولانا عطاء اللہ حنیف‘ وغیرہ پر بھی خاص نمبرز شائع کیے ہیں۔’الاعتصام‘ کے حجیت حدیث نمبر میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کے مقالہ جات شائع کیے گئے ہیں۔ اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے ۲۰۱۰ء میں دوبارہ شائع کیا گیاہے۔ اس رسالہ میں مولانا داؤد غزنوی، مولانا اسحاق بھٹی، مولانا محی الدین قصوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانامحمد حنیف ندوی، علامہ محمد اسد، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا ہدایت اللہ ندوی، قاضی عبد الرحیم، پروفیسر عبد القیوم، مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا ہدایت اللہ سوہدروی وغیرہ کی تحریریں شامل ہیں۔ ان جلیل القدر علماء کے ناموں ہی سے اس رسالہ کی اہمیت اور علمی مقام کا ایک ہلکا سا اندازہ ہو سکتا ہے۔ افادہ عام کے لیے اس رسالہ کو پی۔ ڈی۔ ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا جا رہا ہے تا کہ منکرین حدیث کے جواب میں ایک مصدر کا کام دے۔
     

  • 5 #3945

    مصنف : سید محمد اسماعیل مشہدی

    مشاہدات : 1719

    اہمیت حدیث

    (جمعرات 07 جنوری 2016ء) ناشر : محمد یحی خطیب، حافظ آباد

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپﷺنے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ ﷺکو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہمیت حدیث‘‘سید محمداسماعیل مشہدی کے 1376ھ کو عام خاص باغ ،ملتان میں حدیث کی اہمیت کے موضوع پر سالانہ جلسہ میں کیےگیے خطاب کی کتابی صورت ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے منکرین حدیث کے چند اعتراضات کے مدلل جواب دیے اور حدیث کی اہمیت وحجیت کو خو ب اجاگر کیا۔ تو بعد ازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔

  • 6 #233

    مصنف : حافظ عبد الستار حماد

    مشاہدات : 18076

    حجیت حدیث

    (پیر 18 جنوری 2010ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے جو اصلاً اس کتاب کی توضیح وتشریح ہی ہے جو اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے- کتاب ہذا میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے- فاضل مصنف نے کتاب کی دو ابواب میں تقسیم کی ہے  پہلے باب میں حجیت حدیث اور دوسرے باب میں انکار حدیث کے عوامل ومحرکات بیان کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کیا ہے جو حدیث وسنت کے متعلق شبہات واعتراضات وارد کر کے اس کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ قرآن کی من مانی اور خانہ زاد تشریحات کے ذریعے اسلام کی اپنی خواہشات کے عین مطابق تشریح پیش کی جا سکے-
     

  • 7 #2741

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 2879

    حجیت حدیث ( اسماعیل سلفی)

    (جمعرات 25 دسمبر 2014ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین)زیر نظر  کتاب ’’ حجیت  حدیث ‘‘شیخ الحدیث مولانا اسماعیل سلفی ﷫ کی حجیت حدیث   کے سلسلے میں بڑی  اہم  کتاب ہے  جوکہ مولاناکے  چار مقالات (حدیث  کی تشریعی  حیثیت،جماعت اسلامی کانظریہ حدیث،سنت قرآن کے آئینے  میں ،حجیت حدیث آنحضرت کی سیرت کی روشنی میں ) پر مشمتل ہے ۔ان مقالات کو حافظ شاہد محمود ﷾  نے   مولانا اسماعیل سلفی﷫ کے مجموعہ مقالات حدیث میں   بھی بڑے عمدہ   طریقے کے ساتھ شائع کیا ۔اللہ   تعالیٰ مولانا مرحوم کی دفاع    حدیث کےسلسلے میں کی گئی کوششوں کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا) 

     

  • 8 #2888

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 2924

    حجیت حدیث ( البانی ،سلفی)

    (پیر 09 فروری 2015ء) ناشر : ادارہ بحوث الاسلامیہ بنارس

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر کتاب’’ حجیت حدیث‘‘ علامہ  محمد ناصر الدین البانی﷫ ،  شیخ الحدیث  محمد اسماعیل سلفی  ﷫ کی دفاع  وحجیت حدیث کے موضوع پر اہم مقالات کا  مجموعہ ہے ۔اس کتاب کے  حصہ اول میں  علامہ ناصر الدین البانی ﷫کے  تین رسالوں کا اردو ترجمہ شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ  مولانا  محمد اسماعیل سلفی﷫ کے حجیت حدیث کے موضوع پر پانچ مقالات پر مشتمل ہے ۔اس میں  مولانا سلفی کا  ’’حسن البیان فیما سیرۃ  نعمان ‘‘کے  لیے  لکھا گیا  وقیع مقدمہ  بعنوان ’’ درایت اور فقہ راوی‘‘ بھی شامل ہے ۔یہ کتاب اپنے  موضوع پر ایک  اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ  البانی  اور مولانا سلفی  کی دفاع حدیث  کےسلسلے میں  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور اس مجموعہ کو  مفید ومقبول بنائے (آمین) (م۔ا)   
     

     

  • 9 #2740

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 2424

    حجیت حدیث (ادارہ محدث)

    (بدھ 24 دسمبر 2014ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    اللہ تعالیٰ  نے بنی  نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے  انبیاء ورسل کو اس  کائنات میں مبعوث  کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت  اللہ تعالیٰ کی رضا کو  حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی  ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے  اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ  زندگی گزارنے کے لیے  اسی منہج کو اختیار نہ کرے  جس کی انبیاء﷩ نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے  ہر رسول کی  بعثت کا مقصد صرف اس کی  اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی  نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی  اور جو انسان آپ  کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی  کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے  ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو  قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت  وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی  ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانے میں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن  اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث  سے  کلیتاً انکار کردیا  بلکہ  اطاعت رسولﷺ سے روگردانی  کرنے لگے  اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔اگر  کوئی حدیث انکار  کردے  تو قرآن  کا  انکار بھی  لازم  آتا  ہے۔ منکرین  اور مستشرقین کے پیدا کردہ شبہات سےمتاثر ہو کر مسلمانوں کی بڑی تعداد   انکار حدیث کے فتنہ میں مبتلا ہوکر  دائرہ اسلام سے  نکلنے  لگی ۔ لیکن   الحمد للہ اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں  برصغیر پاک وہند  میں  جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید  کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس  الحق عظیم  آبادی ،مولانا  محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد  راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی  ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷭وغیرہم کی خدمات  قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح  ماہنامہ محدث، ماہنامہ  ترجمان  الحدیث ،ہفت روزہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ  صحیفہ اہل حدیث ،کراچی  وغیرہ کی    فتنہ  انکار حدیث کے رد میں   صحافتی خدمات بھی   قابل قدر  ہیں ۔اللہ تعالیٰ علماءاور رسائل وجرائد کی    خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے  (آمین) زیر نظر کتاب ’’حجیت حدیث‘‘  ماضی قریب کے  عظیم  محدث علامہ شیخ  ناصرالدین البانی ﷫ کی  حجیت حدیث کے  موضوع پر عربی  کتاب الحديث حجة بنفسه في العقائد والاحكام کا   اردو ترجمہ ہے  ۔اس مختصر کتاب میں   شیخ البانی نے   کتاب وسنت کے واضح دلائل سے یہ  ثابت کیا ہے کہ حدیث عقائد اور احکام میں ایک مستقل حجت ہے ۔حجیت حدیث پر مشتمل اس اہم کتاب  کا سلیس ورواں ترجمہ  پاکستان کے معروف اسلامی  سکالر ڈاکٹر حافظ  عبد الرشید اظہر ﷫(سابق استاد جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور)   نےکیا  اور  تقریبا 23 سال قبل حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ، و مجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور نے اسے شائع کیا۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم ،ناشرکی  اشاعت اسلام کےلیے  کی کئی کوششوں وکاوشوں کوقبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)
     

     

  • 10 #525

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 15651

    حجیت حدیث (البانی صاحب)

    (اتوار 22 مئی 2011ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔عالم اسلام کے عظیم محدث اور جلیل القدر عالم علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب میں اسی دوسرے گروہ کے افکار کی تردید کی گئی ہے۔یہ کتاب تین رسالوں کا مجموعہ ہے پہلا رسالہ  سنت کے مقام و مرتبہ کے بیان پر مشتل ہے۔اس میں واضح کیا گیا ہے کہ سنت کے بغیر قرآن کریم کا فہم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔دوسرے رسالے میں اس امر پر بحث کی ہے کہ خبر واحد عقیدہ میں بھی حجت ہے ۔اس سلسلہ میں متکلمین اور احناف وغیرہ کے شبہات کا مکمل ازالہ کیا گیا ہے ۔تیسرے رسالہ میں بھی اسی نکتے کو ایک اور انداز میں نکھارا ہے اور اس فن میں بے شمار قیمتی نکات معرض تحریر میں آگئے ہیں ۔حجیت حدیث کے دلائل و براہین پر مشتمل بہترین کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے ۔
     

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1398
  • اس ہفتے کے قارئین 3324
  • اس ماہ کے قارئین 41718
  • کل قارئین49277493

موضوعاتی فہرست