حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریعی مقام(2738#)

ڈاکٹر مصطفٰی سباعی
غلام احمد حریری
ملک سنز کارخانہ بازار فیصل آباد
648
16200 (PKR)

قرآن کریم شریعت کے  قواعد عامہ اوراکثر احکام کلیہ کا جامع ہے اسی جامعیت  نے اس کو ایک ابدی اور دائمی حیثیت عطا کی  ہے  او رجب تک کائنات پرحق  قائم ہے  وہ بھی قائم  ودائم  رہے گا۔ سنت ِنبوی ان قواعد کی شرح وتوضیح کرتی ۔ ان کے نظم وربط کوبرقرار رکھتی  اور کلیات سےجزئیات کا  استخراج کرتی ہے  یہ ایک  درخشندہ حقیقت ہے جس سے  ہر وہ شخص بخوبی آگاہ  ہے جو سنت  کے تفصیلی مطالعہ سے بہرہ مند ہ ہوچکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر عصر وعہد کے علما وفقہا سنت پر  اعتماد کرتے چلے آئے ہیں ۔ وہ ہمیشہ سنت کے  دامن سے وابستہ رہے اور نئے  حوادث وواقعات کے  احکام اس  سےاخذ کرتے رہے ۔قرآن  کریم  تمام شرعی دلائل کا مآخذ  ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے  بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے  ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے  مصدر شریعت  اور متمم دین کی حیثیت سے  قرآن مجید کے ساتھ  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے  کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے  ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے   ۔حدیث  سے  انکا ر  واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی  اور  فہم قرآن سے  دوری  ہے ۔سنت  رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی  تفہیم  کا  دعو یٰ نادانی  ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش   نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباعِ سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ)  میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری  فرماکر  دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی  بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان  کی فرضیت کے بارے  میں ابہام پیدا کرکے  کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے  حدیث کی شرعی   حیثیت کو مجروح کر کے  دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ  ہر دو ر میں محدثین  اور  علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی  اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’حدیث رسولﷺ کا تشریعی  مقام‘‘سوریا کے  معروف  مفکر  جید عالم  دین  ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی کی  دفاع حدیث میں مشہور ومعرو ف کتاب ’’ السنة ومكانتها في التشريع‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے جسے مصنف موصوف نے 1949 میں   جامعہ ازہر سے   حصول ڈگری کے لیے  بطور مقالہ پیش کیا ۔موصوف نے اس کتاب میں  حدیث کا فقہ اسلامی میں مرتبہ ومقام کو پیش کیا  ہے  نیز یہ  حدیث  کن تاریحی مراحل  وادوار سے گزر کر  موجودہ مقام تک  پہنچی او رعلماء نے اس کی  صیانت وتحفظ میں کیا  حصہ لیا؟ علاوہ ازیں ماضی وحال میں  جن لوگوں نے فن حدیث کو ہدف ِ تنقید ونتقیص بنایا تھا  مصنف نے بڑی پر وقار علمی انداز میں  ان کی  تردید کی ہے  اور انہوں نے  جرح وقدح کےلیے  وہ طرز وانداز اختیار کیا جس سے  حق نمایاں ہوجائے اور سنت مطہرہ کا چہرہ درخشاں وتاباں نظر آئے ۔اور کتاب کے آخر میں ان شہرۂ آفاق مجتہدین ومحدثیں کے سیر وسوانح پر روشنی ڈالی ہے  جنہوں نے سنت کےحفظ وتدوین میں  نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس اہم کتاب کےترجمہ کی  سعادت  معروف  مترجم  پروفیسر غلام احمد حریری﷫ (مترجم کتب کثیرہ )نے  تقریبا 45سال قبل حاصل کی ۔اس کتاب کے  پہلا اردو ایڈیشن 1971ء میں  شائع ہوا۔ کتاب ہذا   دوسرا ایڈیشن ہے جسے  ملک سنز  فیصل آباد  نے   198ء میں شائع کیا  ۔ ایک صاحب کی فرمائش پر یہ  کتاب    ویٹ سائٹ پر   پیش کی گئی ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی  دفاع حدیث کےسلسلے  میں اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اہل  علم اور  طالبان ِعلوم نبوت کے لیے  نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)
 

 

عناوین

 

صفحہ نمبر

مقدمہ الکتاب

 

9

مقدمۃ الطبع

 

15

فقہ اسلامی میں حدیث کا مرتبہ ومقام

 

16

مستشرقین کے ذہنی غلام

 

18

ابوریہ کی گمراہ کن کتاب اضواء علی السنتہ المحمدیہ

 

19

کتب شیعہ سے ابو ریہ کا استدلال

 

23

مستشرقین

 

29

مستشرقین کے بارے میں آخری بات

 

41

ادبی حکایات

 

49

ابو ریہ کی تصنیف کے مندرجات کا خلاصہ

 

51

شیخ عبدہ حدیث میں قلیل البضاعت تھے

 

53

علم یقین کے ذرائع

 

60

مستحیل اور ناقابل ادراک میں فرق وامتیاز

 

62

ابو ریہ کےمتعلق مصنف کا تجزیہ

 

70

فصل اول

 

 

سنت کا مفہوم ومعنی اور تعریف

 

79

فقہاء کی اصطلاح

 

81

حیات رسول میں اس کی اطاعت کا وجوب

 

82

صحابہ کے یہاں اخذ حدیث کا طرز و انداز

 

96

عہد رسالت میں کتابت حدیث

 

100

جواز و منع کتابت حدیث پر مشتمل حدیث پر مشتمل روایات میں جمع و تطبیق

 

101

قلیل الروایت صحابہ

 

104

کثیر الروایت صحابہ

 

106

کیا کثرت روایت کےجرم میں حضرت عمر﷜ کے کسی صحابی کوقید کیا ؟

 

107

کیا صحابہ قبول حدیث کے لیے کچھ شرائط ٹھہراتے ہیں ؟

 

110

حضرت ابوبکرؓ و عمر ؓ وعلی ؓ اور حدیث نبوی

 

112

طلب حدیث کے سلسلہ میں صحابہ کے اسفار بعیدہ

 

119

فصل دوم

 

 

وضع حدیث کا ظہور و شیوع

 

123

وضع حدیث کا آغاز کب ہوا ؟

 

124

وضع حدیث کے عوامل ومحرکات

 

128

مشہور وضاعین کے اصناف و اقسام

 

144

فصل سوم

 

 

وضع حدیث کےمقابلے کے لیے علماء کی مساعی

 

147

حدیث کی تمیز و تقسیم کے لیے وضع قواعد عامہ

 

154

اقسام ضعیف

 

156

حدیث موضوع اور اس کے آثار وعلامات

 

158

فصل چہارم

 

 

علماء کی مساعی کےثمرات و نتائج

 

170

مسند نویسی کا آغاز

 

175

صحاح ستہ

 

176

علم مصطلح الحدیث

 

177

اصول حدیث کا ارتقاء

 

179

علم الجرح و التعدیل

 

180

امام ابوحنیفہ پر جرح کی حقیقت

 

185

راوی کی صداقت وامانت کی پہچان

 

287

احادیث صحیحہ و سقیمہ میں فرق و امتیاز

 

196

احادیث موضوعہ پر مشتمل کتب

 

197

باب دوم

 

 

حدیث نبوی پر اعتراضات

 

205

فصل اول

 

 

حدیث نبوی شیعہ و خوارج کے مابین

 

206

فصل دوم

 

 

قدیم منکرین حدیث

 

217

فصل سوم

 

 

جدید منکرین حدیث

 

231

دلائل منکرین حدیث کے جوابات

 

235

فصل چہارم

 

 

منکرین حجت اخبار آحاد

 

252

فصل پنچم

 

 

معتزلہ و متکلمین اور حدیث نبوی

 

277

فصل ششم

 

 

حدیث نبوی اور مصنفین عصر حاضر

 

289

کیاعہد رسالت میں وضع حدیث کا آغاز ہو چکا تھا؟

 

292

تفسیری روایات کی حقیقت

 

297

کثرت احادیث کا راز

 

303

کیا عبد اللہ بن مبارک ؓ حدیث میں سہل انگار تھے ؟

 

307

عبد اللہ بن مبارک ؓ حدیث کے نقاد تھے

 

308

عوام الناس کی فریب خوردگی

 

310

عبد اللہ بن مبارک کے بارے میں امام مسلم کی رائے

 

312

حدیث سد الابواب

 

314

احادیث فضائل

 

316

احادیث ابی حنیفہ

 

318

حدیث پر اعتماد کرنے میں غلو ومبالغہ

 

320

صحابہ کی عدالت و ثقاہت

 

323

کیا صحابہ ایک دوسرے کوجھٹلاتے تھے ؟

 

325

جرح وتعدیل میں علماء کے اختلاف

 

331

سند ومتن کو جانچنے کے قواعد

 

335

احمد امین کی عظیم جسارت

 

347

کچھ ابو ہریرہ ؓ کے بارے میں

 

363

بعض صحابہ کے ابو ہریرہ پر اعتراضات

 

373

تحدیث بلا سماع

 

381

ابوہریرہ ؓ کی کثرت روایت سے وضاعین کی مقصد بر آری

 

399

چند منٹ ابو ریہ ( منکر حدیث) کے ساتھ

 

402

ابو ہریرہ کاحسب ونسب اور بچپن

 

404

حضرت ابوہریرہ ﷜ کی ظرافت و مزاح

 

424

ابو ہریر ہ بنو امیہ کےحامی تھے

 

442

ابو ہریرہ کےبارے میں چند کلمات

 

444

ابوہریرہ ﷜ سےمتعلق علامہ احمد شاکر کا بیان

 

452

کچھ ابو ریہ اور اس کتاب کے بارے میں

 

454

 

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1284
  • اس ہفتے کے قارئین: 12876
  • اس ماہ کے قارئین: 41125
  • کل قارئین : 46541904

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں