سنت کی آئینی حیثیت(981#)

سید ابو الاعلی مودودی
اسلامی پبلیکشنز،شاہ عالمی مارکیٹ،لاہور
368
11040 (PKR)
6 MB

انکار سنت کا فتنہ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔

انکار سنت کا یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔

زیر نظر کتاب ایک پرویزی ڈاکٹر عبد الودود اور سید ابو الاعلی مودوی رحمہ اللہ کے سنت کی آئینی حیثیت کے بارے ایک طویل مراسلت پر مشتمل ہے جو پہلے ترجمان القرآن میں شائع ہوئی اور بعد ازاں اس کی افادیت کے پیش نظر اسے ایک مستقل کتاب کے طور بھی شائع کیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں عقل و نقل کی روشنی میں پرویزی فکر کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو سنت کے اس دفاع پر جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین(ت۔م)
 

عناوین

 

صفحہ نمبر

دیباچہ

 

13

سنت کی آئینی حیثیت

 

 

ڈاکٹر صاحب کا پہلا خط اور اس کا جواب

 

25

ڈاکٹر صاحب کا دوسرا خط

 

27

جواب

 

29

سنت کیا چیز ہے؟

 

30

سنت کس شکل میں موجود ہے؟

 

33

کیا سنت متفق علیہ ہے؟اور اس کی تحقیق کا ذریعہ کیا ہے؟

 

40

چار بنیادی حقیقتیں

 

44

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کی نوعیت

 

48

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت کا فرق

 

49

قرآن سے زائد ہونا اور قرآن کے خلاف ہونا ہم معنی نہیں ہے

 

50

کیا سنت قرآن کے کسی حکم کومنسوخ کرسکتی ہے؟

 

51

احادیث کے پرکھنے میں درایت اور درایت کا استعمال

 

53

منصب نبوت،صحیح اور غلط تصور کا فرق

 

59

منصب نبوت اور اس کے فرائض

 

67

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریعی اختیارات

 

80

سنت اور اتباع سنت کا مفہوم

 

84

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کس وحی کے اتباع پر مامور تھے اورہم کس کے اعتبار پر معمور ہیں

 

86

مرکز ملت؟

 

89

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف قرآن پہنچانے کی حد تک نبی تھے؟

 

93

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی لغرشوں سے غلط استدلال

 

96

موہوم خطرات

 

99

خلفائے راشدین پر بہتان

 

103

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی؟

 

110

سنت کے متعلق چند مزید سوالات

 

116

اعتراضات وجوابات

 

135

’’بزم طلوع اسلام‘‘سے تعلق؟

 

135

کیا گمشتی سوال نامہ کا مقصد علمی تحقیق تھا؟

 

136

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی  حیثیت شخصی اور حیثیت نبوی

 

137

تعلیمات سنت میں فرق مراتب

 

140

علمی تحقیق یا جھگڑالو پن؟

 

142

عدالت عالیہ مغربی پاکستان کا ایک اہم فیصلہ

 

229

تبصرہ

 

269

احادیث میں اختلاف کی حقیقت

 

343

اعتراضات کا تفصیلی جائزہ

 

253

کیا حدیث قرآن میں ترمیم کرتی ہے؟

 

363

آخری گزارش

 

365

 

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 843
  • اس ہفتے کے قارئین: 5333
  • اس ماہ کے قارئین: 39354
  • کل قارئین : 47858420

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں