دکھائیں کتب
  • 1 آئینہ دیوبندیت (جمعہ 11 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:5151

    کسی بھی مذاکرہ ،مباحثہ ومناظرہ اور علمی گفتگو میں اصول وضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنا آداب ِگفتگو کاحصہ ہے لیکن عموما مختلف مسالک کے حاملین اہل علم اور علماء علمی گفتگو ،مباحثہ ومناظرہ کے موقع پر اصول وضوابط کو سامنے نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں اکثر مباحثے ومذاکرے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتا ب ''آئینہ دیوبندیت'' اسی لیے مرتب کی گئی ہےکہ جب کوئی اہل حدیث کسی دیوبندی سے کوئی حدیث بیان کرتا ہے یاپھر کوئی دیوبندی کسی اہلِ حدیث کو تقلید کی دعوت دیتا ہے تو عام طور پر دیوبندیوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اصل موضوع کو چھوڑ کر طرح طرح کی دوسر ی باتیں شروع کردیتے ہیں ۔اورکبھی خود ساختہ اصول بنا کر اہل حدیث پر طعن کرتے ہیں۔آل دیوبند کےاس قسم کے اعتراضات کے جواب میں محترم ابو نعمان محمد زبیر صادق آباد ی ﷾ نے یہ کتاب مرتب کی جس میں علامہ حافظ زبیرعلی زئی﷫ کے بھی بعض مضامین بھی شامل ہیں اللہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • 2 اتحاد ملت کا نقیب فکر اہل حدیث ہی کیوں ؟ (منگل 08 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5444
    قرآن میں ہے’’ اسی طرح ہم نے تم کو میانہ روش بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اس آیت  کے تناظر میں  اہل حدیث فکر کے حاملین کا یہ کہنا ہے کہ  ہم حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔عقائد ، عبادات اور معاملات وغیرہ میں کسی بھی پہلو سے افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں۔حضرات صحابہ کرام اور سلف صالحین کا یہی منہج اور مسلک تھا۔جس طرح اسلام باقی تمام مذاہب و ادیان کےمقابلے میں وسط و اعتدال پر مبنی ہے اسی طرح صحابہ کرام ؓ و سلف تمام فرق کےمقابلے میں اعتدال و وسط کے پیروکار ہیں۔مثلا خوارج اور روافض کے مقابلہ میں صحابہ کرام ؓ کے بارےمیں انہی کا موقف اعتدال ، میانہ روی کا آئینہ دار ہے۔خوارج، معتزلہ اور مرجئہ کے مابین مسلہ وعدہ و وعید کے بارے میں سلف کا موقف ہی معتدل و وسط ہے۔قدریہ اور جبریہ کے مابین تقدیر میں وسط پہلو سلف ہی کا ہے۔جہمیہ معطلہ اور مشبہ کےمابین مسلہ صفات باری تعالیٰ میں وسط مسلک سلف ہی کا ہے۔ نہ ان کے ظاہریت ہے نہ تقلید جامد، نہ جمود ہے نہ ہی آزاد خیالی، نہ رہبانیت ہے اور نہ ہی حیلہ سازی۔فکر اہل حدیث کے قائلین و حاملین کا کہنا ہے کہ ہم اسی منہج فکر کے پر کار بند ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ مصنف کی اسی طرز کی ایک کاوش ہے جس میں موصوف نے تاریخی اور علمی دلائل سے یہ بات ثابت کرنے کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

  • 3 پردہ محافظ نسواں (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19055

    زیر نظر کتاب ہیئۃ کبار العلماء سعودی عرب کے رکن الشیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید کی ممتاز کتاب ’’حراسۃ الفضیلۃ‘‘ کا ترجمہ و تفہیم ہے۔ شیخ محترم نے اس کتاب میں دورِ حاضر میں پردے پر وارد ہونے والے الزامات واعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ پردہ عورتوں کی عصمت کا اصل محافظ ہے۔ اس کتاب کو اردوقالب میں منتقل کرنے کی سعادت الشیخ محمد یوسف طیبی صاحب نے حاصل کی ہے۔ قابل مصنف نے کتاب کو دو فصول پر تقسیم کیا ہے۔ پہلی فصل میں عورت کی فضیلت و عظمت پر مبنی دس اصولوں کو بیان کیا گیا ہے جو فضیلت نسواں، حفاظت نسواں اور مؤمنات و مسلمات کی ثابت قدمی کی ترغیب پر مشتمل ہیں اور دوسری فصل میں ایسے اصولوں کا بیان ہے جو عورتوں کو ذلت وخواری کی طرف بلانے والوں کی سازش فاش کرتے ہیں اور عورتوں کو خبردار کرنے کے متعلق ہیں تاکہ وہ ان میں ملوث نہ ہو جائیں۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں عورت کے موضوع پرلکھی گئی دو صد کتابوں کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ پردے کے موضوع پر یہ ایک اچھوتی تحریر ہے جس کو عالم عرب میں بہت پذیرائی ملی ہے۔ عصر حاضر کے حوالے سے پردے کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر یہ کتاب اردو زبان میں پیش خدمت ہے۔ خواتین اسلام کے لئے یہ قابلِ قدر تحفہ ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 4 شیعیت کا آپریشن (منگل 24 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1551

    نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس  سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " شیعیت کا آپریشن " محترم محمود اقبال  کی تصنیف  ہے۔جس میں انہوں نے شیعہ کے عقائد ونظریات کے متعلق بڑی اچھی بحث کی ہے اور بڑی جامعیت کے ساتھ ان کی شاخوں ،،عقائد،ان کی تحریفات وتاویلات،تاریخ اسلام میں ان کے منفی وظالمانہ،تقیہ کے تحت ان کے مخفی خیالات سے حقیقت پسندانہ انداز میں پردہ اٹھایا ہے۔یہ کتاب اس اہم موضوع پر بڑی جامع اور شاندار کتاب ہے اور اردو کے دینی وتاریخی لٹریچر  کے ایک خلا کی بڑی حد تک تکمیل کرتی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس قدیم فتنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 کتاب الکبائر (جمعرات 14 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1418

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے ۔مستقل تصانیف میں امام ذہبی ، شیخ احمد بن ہیثمی ،ابن النحاس، محمد بن عبدالوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی ﷭ کی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب الکبائر‘‘ امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذ ہبی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں نے 70 کبیرہ گناہوں کو تفصیلاً ذکر کیا ہے ۔ موضوع کی اہمیت اور کتاب ہذا کی اف...

  • موت وہ منزل ہے جس سے آئے دن ہمارا گزر ہوتا ہے۔موت کہاں سے آتی ہے ،کہاں لے جاتی ہے کی کوئی تفصیل۔۔۔؟اس پر ہم توجہ نہیں دیتے ہیں۔دینا چاہتے نہیں ہیں۔حوصلہ نہیں رکھتے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دئیے یا بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔یہ باتیں اگر ابتداء سے ہی سمجھی نہ جائیں ،سمجھائی نہ جائیں تو پوری زندگی غلط سمت دوڑتے گزر جاتی ہےاور ایک دن اچانک ملاقات ہو جائے گی۔کس سے؟ملک الموت سے! اس وقت دم بخود انسان حیرت سے تکتا رہ جائے گا کہ ابھی تو سوچا ہی نہ تھا۔تیاری بھی نہ تھی،لیکن پوچھا جائے گا کہ اب؟اب ہوش آئی ہے؟ان آنکھ کھلی ہے،سوئے ہوئے جاگے ہو؟اب تو یونہی پلک جھپکنے میں مہلت ختم ہوگئی ،امتحان کا وقت ختم ہو گیا ۔شیطان ہمیں اصل حقائق کا سبق نہیں پڑھنے دیات ہے۔پوری زندگی مصروف رکھتا ہے ،جیسے آپ شرارتی بچے کو مصروف رکھتے ہیں تاکہ وہ آپ کے ناپسندیدہ کام نہ کرے۔اسی طرح شیطان زندگی کے بے شمار ایجنڈے ہمیں دئیے رکھتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کا اصل کام نہ کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب "واپسی،اس دنیا کی کہانی جو ایک سانس کے فاصلے پر ہے۔" محترمہ عامرہ احسان صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے اور آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ مولفہ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 740
  • اس ہفتے کے قارئین: 4201
  • اس ماہ کے قارئین: 10418
  • کل مشاہدات: 41277689

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں