سید ابو الحسن علی ندوی

  • تاریخ گزرے ہوئے زمانے کو اور افراد کوزندہ رکھتی ہے اور مستقبل اس گزری ہوئی تاریخ کی روشنی میں استوار کیا جاتا ہے اس لیے عام طور پر تاریخ کو بڑی احتیاط سے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ بعد والے زمانےمیں گزرے ہوئے دور کی غلط تشہیر نہ ہو جائے-اسی چیز کی ایک مثال سید احمد شہید رحمہ اللہ تعالی ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھیوں اورحالات کی موجودگی کے باوجود ان کی تاریخی حیثیت کو یوں بیان کیا گیا کہ جیسے بہت پرانے ادوار کوکھنگالنے کی کوشش کی گئی ہو-برطانوی مؤرخین نے جس چشم پوشی کا اظہار کیا سو کیا کئی عرب مؤ رخین نے بھی تحقیق کیے بغیر ان واقعات کی روشنی میں سید احمد شہید کی تاریخ کو رقم کر دیا-جب یہ صورت حال ابو الحسن علی ندوی نے دیکھی تو انہوں نے اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی اور تاریخ کے اس پہلو کو سچائی کے ذریعے بیضائی بخشی-انہوں نے عربی میں ایک رسالہ لکھا جس کا نام  الأمام الذی لم یوف حقہ من الإنصاف والاعتراف رکھا اور اس کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ  سيد محمدالحسنی سے خود کروایا اور اس کا  نام'تحقیق وانصاف کی عدالت میں ایک مظلوم مصلح کا مقدمہ'خود ہی تجویزفرمایا-

  • 2 المرتضیٰ (ہفتہ 05 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:78881

    زیر تبصرہ کتاب چوتھے خلیفۃ الاسلام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر لکھی گئی ہے۔ جس کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں جن کے حقوق نہ صرف یہ کہ ادا نہیں ہوئے بلکہ ان کے حق میں شدید بے انصافی روا رکھی گئی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بلند و محبوب شخصیت بھی ہے، مخصوص حالات، خاص قسم کے عقائد اور چند نفسیاتی اسباب کی بنا پر ان کی سیرت پر بہت گہرے اور دبیز پردے پڑ گئے ہیں، ارباب بحث و تحقیق تو الگ رہے، خود وہ لوگ جو ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اور ان کے نام پر اپنے عقائد کی عمارت تعمیر کیے ہوئے ہیں، انھوں نے بھی اکثر اوقات ان کی سیرت کا مطالعہ معروضی و تحقیقی انداز میں نہیں کیا اور پورے ماحول اور ان کے عہد کے تقاضوں اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر امانت و غیر جانبداری کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ کتاب کے مصنف مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کتاب مرتب کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام تر حالات و واقعات اور مختلف ادوار میں ان کا کردار کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ جس کے عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 3 ارکان اربعہ کتاب وسنت کی روشنی میں (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:18691

    عبادات سے متعلق بیسیوں نہیں سیکڑوں کتب طباعت کے مراحل طے کر چکی ہیں جو افادہ عوام کا کام بہت کامیابی سے کر رہی ہیں۔ لیکن مولانا ابوالحسن ندوی نے زیر نظر کتاب ’ارکان اربعہ‘ میں جس ادبی پیرائے اور عصری اسلوب میں ارکان اسلام میں سے چار ارکان نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی وضاحت کی ہے اور جس طرح ان کے مقاصد و اسرار کی جھلک دکھائی ہے  یہ صرف انہی کا خاصہ ہے۔ محترم مصنف نے سب سے پہلے قرآن و حدیث کو سامنے رکھا، ان اراکین اربعہ کی حقیقت اور مقاصد و طریقہ کار کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا مطالعہ کیا پھر اس سلسلہ میں اَئمہ کرام کی کی گئی تشریحات کو سامنے رکھا پھر خدا تعالیٰ نے آپ پر ان ارکان کی حقیقتوں اور حکمتوں کے جو پہلو آشکار کئے ان کو قرطاس پر منتقل کرتے چلے گئے۔ اس کتاب میں وہ لوگ بھی کشش محسوس کریں گے جو متقدمین کے اسلوب کو قدیم خیال کرتے ہوئے ان کی فیوض و برکات سے محروم چلے آرہے ہیں۔ کتاب کی تیار ی میں شاہ ولی اللہ کی مشہور زمانہ کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ سے بھی کافی حد تک مدد لی گئی ہے۔ مصنف نے کتاب میں کسی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔
     

  • 4 دریائے کابل سے دریائے یرموک تک (بدھ 29 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:14292

    زیر مطالعہ کتاب’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘ خطہ ارضی پر واقع چھ ممالک افغانستان، ایران، لبنان، شام، عراق اور اردن کی تہذیب وثقافت اور حالات و کیفیات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مکہ مکرمہ میں ’رابطہ عالم اسلامی‘ کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے اس ادارے نے ایک وفد ان مذکورہ ممالک میں بھیجا۔ اس وفد کی قیادت محترم مصنف ابوالحسن ندوی نے کی۔ اس پروگرام کا مقصد مسلمانوں کے حالات و کیفیات، ان کے علمی و تہذیبی ادارے، اور ان کی ضرورتوں سے واقفیت حاصل کرنا اور وہاں کے باشندوں کو اس ادارے کے مقاصد سے آگاہ کرنا تھا۔ مولانا ابو الحسن ندوی نے اس دورے کی مکمل روداد سفر نامہ کے انداز میں قلمبند کر دی ہےجس سے ان ممالک کے حالات و حوادث کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ مصنف نے ان ممالک کی دینی، فکری، سیاسی واقتصادی صورتحال کی تصویر کشی کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری برتی ہے۔

     

  • 5 انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر (ہفتہ 01 فروری 2014ء)

    مشاہدات:13270

    جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔
     

  • 6 معرکہ ایمان ومادیت (ہفتہ 01 فروری 2014ء)

    مشاہدات:11776

    زیر مطالعہ کتاب ’معرکہ ایمان و مادیت‘ میں سورۃ کہف کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ اس سورۃ کا اکثر حصہ قص پر مشتمل ہے۔ جس میں 1۔ اصحاب کہف کا قصہ 2۔ دو باغ والوں کا قصہ 3۔ حضرت موسیٰ و خضر علیہما السلام کا قصہ اور 4۔ ذو القرنین کا قصہ شامل ہے۔ یہ قصے جو اپنے اسلوب بیان اور سیاق و سباق کے لحاظ سے جدا ہیں، مقصد اور روح کے لحاظ سےایک ہیں اور اس روح نے ان کو معنوی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کر دیا ہے اور ایک لڑی میں منسلک کر دیا ہے۔ کہ ان میں ایمان و مادیت کے مابین کشمکش نظر آتی ہے۔ مولانا ابوالحسن ندوی جو ایک صاحب طرز قلم کار اور متعدد خوبیوں کے حامل شخص ہیں، انہوں نے سورہ کہف کا تفصیلی تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ اس کے لیے انہوں نے تفسیر قرآن، حدیث، قدیم تاریخ اور حالات حاضرہ کی روشنی میں عبر و نصائح کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے۔
     

  • 7 منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15040

    اس کائنات میں خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء انسانیت کے کامل نمونوں کی صورت میں موجود رہے ہیں۔جن کی زندگیاں محبت الہٰی میں گندھی ہوئی تھیں۔ دنیاوی جاہ و حشمت ان کے سامنے پرکاہ سے بڑھ کر نہیں تھی۔ اپنے رب کے حکم کی تعمیل ان کا مقصد زندگی تھا۔ پیش نظر کتاب میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی  نےانہیں عالی مقام کے حاملین کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انبیاء ہی کا کارنامہ ہے کہ معاشرہ میں خیر کی محبت اور شر سے نفرت کا جذبہ پیدا کر کے انہوں نے احسانات عظیم کیے۔ مصنف نے متعدد عناوین کے تحت انبیاء کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے نبوت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے مزاج اور طریقہ فکر کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔تاکہ علمائے کرام، جو وارثین انبیاء کی صورت میں اصلاح معاشرہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہ اس سلسلہ میں نبوی طریقہ کار سے حظ اٹھائیں۔ مولانا نے اخیر میں ختم نبوت کی ضرورت و اہمیت کو موضوع سخن بناتے ہوئے موجودہ معاشرے پر اس کے اثرات سے متعلق بھی نہایت قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔
     

  • تعلیم کا مسئلہ  ہر ملک کےلیے  ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔کسی بھی  ملک یا قوم کی ترقی کے لیے  یہ ایسی شاہ کلید ہے  ،جس  سے سارے  دروازے  کھلتے  چلے جاتے  ہیں ۔مسلمانوں نے  جب تک اس حقیقت  کو فراموش نہیں کیا وہ دنیا کے منظرنامہ پر چھائے رہے  اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ، لیکن جب  مسلمانوں کی  غفلت کے نتیجے  میں  پوری دنیا اخلاقی بحران کاشکار ہوگئ تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا۔اس کی سب سےبڑی وجہ یہ ہے کہ  اس نے  اپنی بنیاد ہی فراموش کردی اور یورپ کے نظام تعلیم کو اختیار کرلیاجس نے  پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔  خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے وہ  جب اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ کرنکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے  وہ یورپ کے پروردہ ہیں  جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں میں ایک کشمکش کی فضا پید ا ہوگئی ہے۔مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ﷫  نے  اپنی تقریروں او رتحریر وں  میں اسلامی ملکوں میں ذہنی کشمکش کا بنیادی سبب  مسلمانوں میں  رائج یورپی نظام تعلیم کو قرار دیا  اوراز سرنو پورا نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے  اس کوعالم اسلام کا سب سے  بڑا چیلنچ قرار دیا۔ زیر نظر کتاب بھی  مولانااابو الحسن  علی ندوی  کی اس موضوع پر اہم تقاریر ومضامین کا مجموعہ ہے  جس میں  مولانانے  اسلامی ملکوں میں نظام تعلیم کی اہمیت اور وہاں کی قیادت، نظام تعلیم وتربیت...

  • 9 علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں (منگل 28 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3737

    امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے او رہر دور میں  اللہ تعالی نے ایسے  علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے  امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی  ڈوبتی  ہوئی  کشتی  کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ۔ اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے  جنہوں نے  حالات کو سمجھا  اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے  لیے  اور ان کو صحیح رخ  پر لانے  کے لیے  ہر طرح کی قربانیاں دیں  جو اسلامی تاریخ کا  ایک سنہرا باب ہے ۔مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی شخصیت بھی ان ہی  علمائے  ربانیین او ر مجددین ومصلحین  کے طلائی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے  پورے  عالم اسلام میں  مسلمانوں کے ہر طبقہ کو راہنما خطوط دیئے ہیں  اورپیش آنے والے  خطرات سے آگاہ کیا ہے۔  مولانا  ابو  الحسن ندوی  نے  حالات کی روشنی  میں علماء کےلیے  ان کے کام کی نوعیت واضح فرمائی اور ان کی زندگی کا مقصد او ران کا مرکز عمل بتایا ہے  او ردعوت الی اللہ اور اشاعت  ِعلمِ دین  کی طرف ان کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے ۔ زیر نظر کتاب  اسی موضوع پر مولاناکے مختلف مضامین اورتقریروں کا چوتھا  مجموعہ ہے  جوعلماء کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ہے جس میں  مولانا نے  درج ذیل  اہم موضوعات پر مفصل  گفتگو کی  ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے&...

  • تعلیم وتربیت کاجو کام مدارسِ اسلامیہ  نے سر انجام دیا  ہے اس سے تاریخ  پر نگاہ رکھنے والا ہرانسان واقف ہے  ۔ان  ہی مدارس نے امت کو وہ افراد فراہم کیے ہیں  جنہوں نےمشکل سے مشکل ترین زمانہ میں بھی  امت کی رہنمائی کا کام کیا ہے ۔ان ہی  مدارس نے امت کومجددین ومصلحین بھی  فراہم کیے اور علمائے کبار بھی  بلکہ ان ہی مدارس سے بڑے بڑے  مسلمان فلسفی، سائنس دان  اور اطباء  پیدا  ہوئے ۔فکر اسلامی  کے ماہرین اورمعتدل  مزاج اور فکر رکھنے  والے  علماء بھی  ان ہی  مدارس  کے فیض یافتہ نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ کی بنیاد زمانۂ نبوت میں پڑی تھی  اور دور نبوت سے ملے  ہوئے  اصولوں کی روشنی  میں علم کا  یہ سفر شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ نے  زبانِ نبو ت  سے حاملین علم   کے فضائل و مناقب  اور  ان کی ذمہ داریوں کو  بیان فرمایا ۔زیر کتاب’’طالبانِ نبو ت کا مقام  اور ان  کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا  سیدابوالحسن  علی ندوی  کے  اس موضوع پر خطبات و تقاریر کا مجموعہ  ہے  جس میں  انہوں  نے  علماء  وطالبانِ علوم نبوت کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاہے  اور انہیں معاشرے  میں  ان  کےکرنےکے  کا م اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او...

  • تعلیم وتربیت کاجو کام مدارسِ اسلامیہ  نے سر انجام دیا  ہے اس سے تاریخ  پر نگاہ رکھنے والا ہرانسان واقف ہے  ۔ان  ہی مدارس نے امت کو وہ افراد فراہم کیے ہیں  جنہوں نےمشکل سے مشکل ترین زمانہ میں بھی  امت کی رہنمائی کا کام کیا ہے ۔ان ہی  مدارس نے امت کومجددین ومصلحین بھی  فراہم کیے اور علمائے کبار بھی  بلکہ ان ہی مدارس سے بڑے بڑے  مسلمان فلسفی، سائنس دان  اور اطباء  پیدا  ہوئے ۔فکر اسلامی  کے ماہرین اورمعتدل  مزاج اور فکر رکھنے  والے  علماء بھی  ان ہی  مدارس  کے فیض یافتہ نظر آتے ہیں۔اس سلسلہ کی بنیاد زمانۂ نبوت میں پڑی تھی  اور دور نبوت سے ملے  ہوئے  اصولوں کی روشنی  میں علم کا  یہ سفر شروع ہوا اور نبی کریم ﷺ نے  زبانِ نبو ت  سے حاملین علم   کے فضائل و مناقب  اور  ان کی ذمہ داریوں کو  بیان فرمایا ۔زیر کتاب’’طالبانِ نبو ت کا مقام  اور ان  کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانا  سیدابوالحسن  علی ندوی  کے  اس موضوع پر خطبات و تقاریر کا مجموعہ  ہے  جس میں  انہوں  نے  علماء  وطالبانِ علوم نبوت کے مقام ومرتبہ کو بیان کیاہے  اور انہیں معاشرے  میں  ان  کےکرنےکے  کا م اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  ندوی کی اشاعت  دین  حنیف کے سلسلے  میں تمام مساعی کو قبول  فرمائے  او...

  • 12 تاريخ دعوت وعزیمت حصہ اول (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22547

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(ط۔ا)

  • 13 نقوش اقبال (بدھ 05 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18011

    یہ کتاب عظیم مفکر اسلام مولانا ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ کی تصنیف ’روائع اقبال‘کا اردو قالب ہے ۔اس میں مولانا موصوف نے علامہ اقبال کی اہم نظمون اور متفرق اشعار سے اسلام کی بنیادی تعلیمات ،ان کی روح اور ملت اسلامیہ کی تجدید واصلاح،مغربی تہذیب اور اس کے علوم وغیرہ کے متعلق اقبال کے افکار وخیالات کا خلاصہ اور لب لباب پیش کر دیا ہے۔جس سے اس کے اہم رخ سامنے آجاتے ہیں ۔کتاب کے بعض مندرجات سے اختلاف ممکن ہے لیکن بحثیت مجموعی یہ انتہائی مفید کتاب ہے ۔مختصر ہونے کے باوصف یہ کتاب اقبال کے مقصد،پیام اور افکار وتصورات کو سمجھنے کے لیے بالکل کافی ہے ۔اقبال کو خاص طور پر ان کے دینی رجحان اور دعوتی میلان کی روشنی میں دیکھنے کو کوشش اب تک بہت کم ہوئی ہے ۔زیر نظر کتاب میں اقبال کے قلب وروح تک پہنچنے اور اس کی چند جھلکیاں دکھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔(ط۔ا)
     

  • 14 دستور حیات (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:14901

    ’دستور حیات‘ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی وہ تصنیف ہے جس میں انھوں نے نفع عام کے لیے ضروری دینی تعلیمات، روزہ مرہ کے فرائض و اعمال، اسلامی اخلاق اور  انفرادی و اجتماعی زندگی کی ہدایات کو رقم کیا ہے تاکہ ایک اوسط درجے کا مسلمان اس کو زندگی کا دستور العمل بنا سکے۔ اس سے قبل اس موضوع پر امام غزالی کی شہرہ آفاق کتاب ’احیاء العلوم‘ منظر عام پر آ چکی ہے۔ سیدنا عبدالقادر جیلانی نے بھی ’غنیۃ الطالبین‘ لکھ کر اس موضوع کو بہت سہل انداز میں بیان کیا۔ اسی طرح حافظ ابن قیم نے ’زاد المعاد‘ لکھ کر عوام کی اصلاح و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بھی اپنے دور کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس موضوع کو آگے بڑھایا اور اس کا مکمل حق ادا کر دیا۔ انھوں نے سب سے پہلے عقیدے کے مسائل کو جگہ دی ہے اور دقیق بحثوں سے صرف نظر کرتے ہوئے آسان انداز میں عقیدے کے بعض اساسی مسائل کو قلمبند کیا ہےجنھیں معمولی سمجھ بوجھ والا انسان بھی آسانی کےساتھ سمجھ سکتا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے اذکار مسنونہ اور جہاد کے موضوع پر مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔ تہذیب اخلاق اور نفس ربانی کی تربیت کے عناوین سے ایسی گزارشات کی ہیں کہ جن کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے نظام زندگی کو شرعی تقاضوں کے مطابق آسانی سے ڈھال سکتا ہے۔ مولانا نے شرعی احکام و مسائل کو رقم کرتے ہوئے غیر جانبداری دکھانے کی پوری کوشش کی ہے لیکن بعض جگہوں پر ان کے منہج سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے۔ لاریب یہ کتاب تاثیر و افادیت کے اعتبار سے انتہائی مفید ہے۔(ع۔م)
     

  • 15 اسلام اور علم (پیر 10 فروری 2014ء)

    مشاہدات:1961

    نبی کریم ﷺ کے ابد ی احسانات اور آپ کی بعثت ودعوت کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ  نے دین وعلم کےدرمیان ایک مقدس دائمی رشتہ ورابطہ پیداکردیا اور ایک  دوسرے کے مستقبل اورانجام کو اایک  دوسرے سے وابستہ کرکے  علم کی ایسی عزت افرزائی فرمائی  او راس کے حصول کا ایسا شوق دلایا کہ جس پر کوئی اضافہ نہیں کیاجاسکتا اللہ تعالی نے قرآن مجید کونازل کرکے  علم کو ایسا عزت وقار بخشا اور اہل علم   اور علماء کوایسی قدرومنرلت سے نوازاکہ   جس کی سابقہ صحیفوں اور قدیم مذہبوں میں کوئی  نظیر نہیں ملتی  نبی کریم ﷺ  نے اپنی زبان مبارکہ سے فرمایاکہ  ’’عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے  جیسی میری فضیلت تم میں   سےادنیٰ انسان پر    اور آپ نے فرمایا کہ ’’ علماء انبیاء کے وارث ہیں‘‘ ۔زیر نظر کتاب   علم  او رفضیلت علم کے موضوع پر سید ابو الحسن ندوی کی اہم تصنیف  ہے  کہ   جس میں  انہوں نے   بتایاکہ  علم  کا اسلام سے کیسا بنیادی  اور گہرا رشتہ ہے  او ر اسلام نے کس طرح علم کی سرپرستی  کی  ہے  اور اس کے لیے  کیسے کیسے راستے   ہموار کیے ہیں اور پورپ نے  انسانی  دنیا کو کیا  نقصان  پہنچایا ہے  اس کے اسباب کیا ہیں  اور پھر اس کا  حل کیا ہے  اللہ  اس کتاب کو  مفید بنائے  او رمولانا کے درجات بلند فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • زیر مطالعہ کتاب ابوالحسن علی ندوی کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس میں انھوں نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کی خونچکاں داستان رقم کی ہے۔ مصنف نے ان نقصانات کی نشاندہی کی ہے جو مسلمانوں کے تنزل و زوال اور دنیا کی قیادت و رہنمائی سے کنارہ کش ہو جانے سے انسانیت کو پہنچے۔ اس کے لیے انھوں نے عام انسانی تاریخ، نیز اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا اور دکھایا کہ محمد ﷺ کی بعثت کس جاہلی ماحول میں ہوئی پھر آپ کی دعوت و تربیت کے باوصف کس طرح ایک امت تیار ہوئی جس نے دنیا کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی اور اس کے اقتدار و امامت کا دنیا کی تہذیب اور لوگوں کے رجحانات و کردار پر کیا اثر پڑا۔ کس طرح دنیا کا رخ ہمہ گیر خدافراموشی سے ہمہ گیر خدا پرستی کی طرف تبدیل ہوا۔ پھر کس طرح اس امت میں زوال و انحطاط کا آغاز ہوا اور اس کو دنیا کی قیادت و امامت سے ہاتھ دھونا پڑےاور کس طرح یہ قیادت مادہ پرست یورپ کی طرف منتقل ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتےہیں۔ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اس کتاب کا موضوع ہیں۔ کتاب کی افادیت کا اس سے اندازہ کیجئے کہ اس کے عربی، اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرنچ زبان میں تراجم ہوئے اور متعدد ایڈیشن نکلے۔ اردو میں اس کتاب کا یہ گیارہواں ایڈیشن ہے۔ (عین۔ م)
     

  • زیر مطالعہ کتاب میں مولانا سید ابوالحسن ندوی نے اپنے مخصوص انداز میں شیعہ کے فرقہ اثنا عشریہ اور اہل سنت کے عقائد کا جائزہ پیش کیا ہے اور ان میں سے صحیح اور غلط کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کتاب میں اولین مسلمانوں اور تاریخ اسلام کے مثالی عہد میں اسلامی تعلیمات کے اثرات اور رسول اللہﷺ کی دعوتی مساعی کے نتائج کا نقشہ پیش کیا ہے۔ مصنف نے ظہور اسلام سے قیام قیامت تک نبی کی وحدت اور اس کے تنہا شارع ہونے کے بار ے میں امت کے عقیدہ پر روشنی ڈالی ہے۔ پھر اس سلسلہ میں فرقہ اثنا عشریہ جو نقطہ نظر رکھتا ہے اس کو بالتفصیل بیان کیا  ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں انہی کے نمائندوں، پیشواؤں اور تصنیفات کے حوالہ جات پیش کیے ہیں۔  (ع۔ م)
     

  • 18 جب ایمان کی باد بہار چلی (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:1544

    تاریخِ اسلام میں  جب بھی ایمان کی ہوائیں چلیں تو عقائد ،اعمال، اور اخلاق تینوں شعبوں میں  حیرت انگیز واقعات کا ظہور ہوا ایمان کے یہ دلنواز جھونکے  تاریخ کے مختلف وفقوں میں چلے کبھی کم مدت کے لیے کبھی زیادہ عرصہ کےلیے تاہم کوئی دور  خزاں ان سے خالی نہ رہا تاریخ اسلام میں   ان سب کاریکارڈ اچھی طرح محفوظ ہے ۔ہندوستان میں ایمان کی  یہ باد بہار تیرہویں صدی ہجری کے آغاز میں اس وقت چلی جب  سید احمد  شہید اوران کےعالی ہمت رفقاء نے  ہندوستان میں توحید  او رجہاد فی سبیل اللہ کا علم  بلندکر کے اسلام کی ابتدائی صدیوں کی یاد تازہ کردی سید احمد شہید اور ان کے رفقاء  نے  دینِ خالص  کی دعوت   اپنی بنیاد رکھی  اور  مسلمانوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونکی  او ر ہندوستا ن کی شمال مغربی سرحد کو اپنی دعوت وجہاد کا مرکز بنایا ان مجاہدین نےسکھوں کوکئی معرکوں میں شکست فاش دے کر پشاور کے اطراف میں اسلامی حکومت قائم کرکے  حدود شرعیہ کااجراء کیا لیکن وہاں کے قبائل نے  اپنی ذاتی اغراض اور قبائلی عادات وروایات کی خاطر اس نظام کابالآخر  خاتمہ کردیا بالاکوٹ کےمیدان میں ان سربکف مجاہدین کی سکھوں سےآخری جنگ ہوئی اوراس معرکہ میں سید احمد شہید اور  اسماعیل شہید کے بہت سے جلیل القدر  رفقاء اور مجاہدین نےجام شہادت نوش  کیا۔زیر نظرکتاب  میں  سید ابو الحسن ندوی نے  مجاہد کبیر سید احمد شہید اور ان کےعالی ہمت رفقا کے  ایمان افروز واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیا...

  • 19 سیرت سید احمد شہید حصہ دوم (جمعرات 26 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:4970

    اس وقت برصغیر پاک و ہند میں جس قدر بھی جہاد ہو رہا ہے اس کے بارے میں اگر یہ رائے رکھی جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس کی اساس سید احمد شہید رحمہ اللہ نے رکھی تھی ۔ آپ رحمہ اللہ نے اس وقت علم جہاد بلند کیا جب برصغیر میں کیا بلکہ پورے عالم اسلام میں زوال کے آثار نمایاں تھے ۔ امت کا انتشار و افتراق اور دین سے جہالت بہت بڑھ چکی تھی ۔ انگریز اور سکھ اپنے خونی پنجے گاڑھ چکے تھے ۔ حالات میں مایوسی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی تھی ۔ اس صورت حال میں سید صاحب نے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دلائی ۔ اور ایک جماعت کی اساس رکھی ۔ آپ نے خیبر پختونخوا میں ایک ریاست اسلامیہ کی تاسیس بھی رکھی ۔ حتی کہ خطبوں میں بھی آپ کا نام لیا جانے لگا ۔ تاہم اپنے کی غداری کا شکار ہوئے ۔ آپ کے بعد بھی جماعت مجاہدین نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ۔ مسلمانان برصغیر میں جذبہء جہادی و آزادی کی روح آپ کی ہی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے شرکیہ عقائد اور بدعی اعمال کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میدان میں آپ کو کامیابیوں سے نوازا ۔ زیرنظرکتاب مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ کی تصنیف سید احمد شہید رحمہ اللہ کی خدمات و حیات کے کئی ایک پہلؤوں پر توجہ دلاتی ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک محولہ اور جامع کتاب ہے ۔ اللہ مصنف محترم کو اجر سے نوازے۔(ع۔ح)
     

  • 20 کاروان ایمان و عزیمت (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:3038

    مولانا سید ابو الحسن ندو ی  کی  شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں  آپ  نے  مختلف موضوعات پر بیسیوں کتب  تصنیف  کی ہیں  سیدین شہیدین کی تحریک جماعت  مجاہدین پر  آپ نے  بہت کچھ  لکھا ہے  زیر نظر کتاب   ’’کاروانِ ایمان وعزیمت‘‘ میں  آپ نے  حضرت سید احمد شہید کے مشہور خلفاء اور اکابرین جماعت کا تذکرہ  الف  بائی ترتیب  سے پیش کرتے  ہوئے  سید صاحب کے بعد کی کوششوں اور سلسلہ تنظیم وجہاد کی روداد کو بھی  پیش کیا  ہے  ۔ اللہ  مولانا کی  خدمات کو قبول فرمائے  اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 21 قادیانیت مطالعہ و جائزہ (جمعہ 30 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1790

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم ﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالی نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔اسلامی تعلیمات کی رو سے سلسلہ نبوت او روحی ختم ہوچکاہے جوکوئی دعویٰ کرے گا کہ اس پر وحی کانزول ہوتاہے وہ دجال ،کذاب ،مفتری ہوگا۔ امت محمدیہ اسےہر گز مسلمان نہیں سمجھے گی یہ امت محمدیہ کا اپنا خود ساختہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی زبان صادقہ کا فیصلہ ہے ۔ قادیانیت کے رد میں اہل اسلام کے تقریبا ہر مکتب فکر علماء نے مختلف انداز میں خدمات سرانجام دی ہیں ۔زیرتبصرہ کتاب''مطالعہ قادیانیت مطالعہ وجائزہ '' مفکر ِاسلام مصنف کتب کثیرہ سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی رد قایانیت کے موضوع پر عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ترجمہ بھی سید صاحب نے خود ہی کیا۔ جس میں انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کے عقیدہ او ردعوت کا تدریجی ارتقا،مرزا صاحب کی سیرت اور تحریک قادیانیت کاتنقیدی جائزہ جیسے عناوین کے تحت دلائل کے ساتھ قادیانیت کا رد کیا ہے اللہ تعالیٰ سید ابو الحسن ندوی  کی دینِ اسلام کی ترویج واشاعت کے سلسلے میں تمام جہودکو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

    ...
  • 22 اسلامی تہذیب و ثقافت (ہفتہ 23 اگست 2014ء)

    مشاہدات:6620

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "اسلامی تہذیب وثقافت"ہندوستان کے معروف مؤرخ ،محقق اور عالم دین مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 23 پاجا سراغ زندگی (جمعہ 25 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1749

    کسی بھی چیزکی فضیلت وشرافت کبھی اس کی عام نفع رسانی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے اور کبھی ا سکی شدید ضرورت کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ انسان کی  پیدائش کے فورا بعد اس کے لئے  سب سے پہلے علم کی ہی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔اور علم ہی کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:"تم میں سے جو لو گ ایمان لائے اور جنہیں علم عطاکیا گیا اللہ ان کے درجات کوبلند کر ے گا"۔پھر اللہ کے نزدیک علم ہی تقویٰ کامعیار بھی ہے ۔نبی کریم نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔قرآن وحدیث میں جس علم کی فضیلت واہمیت بیان کی گئی ہے وہ دینی علم یا دین کا معاون علم ہے۔زیر تبصرہ کتاب"پاجا سراغ زندگی"مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کے ان خطبات پر مشتمل ہے جو انہوں نے دار العلوم  ندوۃ العلماء کے طلباء کے سامنے  مختلف مواقع اور اکثر تعلیمی سال کے آغاز پر پیش کئے۔ان خطبات کا مرکزی خیال ایک ہی تھا کہ ایک طالب علم کی نگاہ کن بلند مقاصد پر رہنی چاہئے اور اپنے محدود ومخصوص ماحول میں رہ کر بھی وہ کیا کچھ بن سکتا ہے اور کیا کچھ کر سکتا ہے۔ان خطبات میں انہوں نے خاص طور پر طلبائے علوم نبوت کے مقام ومنصب، امت کی ان سے توقعات، اور عصر حاضر میں ان کی ذمہ داریوں کو بیان کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 24 تصوف کیا ہے (اتوار 01 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2498

    آج امت مسلمہ کی زبوں حالی اس انتہاکو پہنچ چکی ہے کہ جھوٹ سچ سے اور کھوٹا کھرے سے بالکل پیوست نظر آتا ہے۔جس طرح علم ظاہر کے حامل علمائے حق کی صفوں میں علمائے سوءداخل ہو چکے ہیں ، اسی طرح علم باطن کے حامل مشائخ حق پرست کے بھیس میں نفس پرست لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کی روحانی اور باطنی تنزلی کی انتہا یہاں تک ہو چکی کہ ایک طبقے نے بیعت طریقت کو لازم قرار دے کر فرائض کے ترک کرنے اور شریعت اور طریقت کو الگ الگ ثابت کرنے کا بہانہ بنا لیا ۔ ضلو ا فا ضلوا (خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔ دوسرے طبقے نے بیعت طریقت کو گمراہی سمجھ کر اس کی مخالف کا بیڑا اٹھا لیا۔ان حالات میں اہل حق کیلئے افراط و تفریط کے شکار ان دونوں طبقوں سے چومکھی لڑائی لڑنے کے سوا چارہ نہیں۔ تاکہ احکام شریعت کو نکھار کر پیش کیا جائے اور حق و باطل کی حد فاصل کو واضح کیا جائے۔ زیر  تبصرہ کتاب’’تصوف کیا ہے‘‘جو کہ  مولانا  محمد منظور نعمانی،مولانا محمد اویس ندوی،اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے مقالات سے تحریر کی گی ہے  جس میں مذکورہ مصنفین      نے افراط و تفریط سے دامن بچائے ہوئے اہل سنت والجماعت کے حقیقی نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔علم تصوف، تصوف کیا ہے، لفظ صوفی کی تحقیق،بیعت طریقت کا شرعی ثبوت، ضرورت مرشد، آداب مرشد، خانقاہوں کا قیام، اعتقادات، اسباق تصوف، معمولات شب و روز، معارف و حقائق، اخلاق حمیدہ ، تصوف کے متعلق کیے جانے والے عمومی سوالات وغیرہ جیسے اہم ترین عنوانات پر تسکین بحث کی ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ک...

  • 25 تصوف کیا ہے (اتوار 01 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2498

    آج امت مسلمہ کی زبوں حالی اس انتہاکو پہنچ چکی ہے کہ جھوٹ سچ سے اور کھوٹا کھرے سے بالکل پیوست نظر آتا ہے۔جس طرح علم ظاہر کے حامل علمائے حق کی صفوں میں علمائے سوءداخل ہو چکے ہیں ، اسی طرح علم باطن کے حامل مشائخ حق پرست کے بھیس میں نفس پرست لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کی روحانی اور باطنی تنزلی کی انتہا یہاں تک ہو چکی کہ ایک طبقے نے بیعت طریقت کو لازم قرار دے کر فرائض کے ترک کرنے اور شریعت اور طریقت کو الگ الگ ثابت کرنے کا بہانہ بنا لیا ۔ ضلو ا فا ضلوا (خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔ دوسرے طبقے نے بیعت طریقت کو گمراہی سمجھ کر اس کی مخالف کا بیڑا اٹھا لیا۔ان حالات میں اہل حق کیلئے افراط و تفریط کے شکار ان دونوں طبقوں سے چومکھی لڑائی لڑنے کے سوا چارہ نہیں۔ تاکہ احکام شریعت کو نکھار کر پیش کیا جائے اور حق و باطل کی حد فاصل کو واضح کیا جائے۔ زیر  تبصرہ کتاب’’تصوف کیا ہے‘‘جو کہ  مولانا  محمد منظور نعمانی،مولانا محمد اویس ندوی،اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے مقالات سے تحریر کی گی ہے  جس میں مذکورہ مصنفین      نے افراط و تفریط سے دامن بچائے ہوئے اہل سنت والجماعت کے حقیقی نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔علم تصوف، تصوف کیا ہے، لفظ صوفی کی تحقیق،بیعت طریقت کا شرعی ثبوت، ضرورت مرشد، آداب مرشد، خانقاہوں کا قیام، اعتقادات، اسباق تصوف، معمولات شب و روز، معارف و حقائق، اخلاق حمیدہ ، تصوف کے متعلق کیے جانے والے عمومی سوالات وغیرہ جیسے اہم ترین عنوانات پر تسکین بحث کی ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ک...

  • 26 تصوف کیا ہے (اتوار 01 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2498

    آج امت مسلمہ کی زبوں حالی اس انتہاکو پہنچ چکی ہے کہ جھوٹ سچ سے اور کھوٹا کھرے سے بالکل پیوست نظر آتا ہے۔جس طرح علم ظاہر کے حامل علمائے حق کی صفوں میں علمائے سوءداخل ہو چکے ہیں ، اسی طرح علم باطن کے حامل مشائخ حق پرست کے بھیس میں نفس پرست لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کی روحانی اور باطنی تنزلی کی انتہا یہاں تک ہو چکی کہ ایک طبقے نے بیعت طریقت کو لازم قرار دے کر فرائض کے ترک کرنے اور شریعت اور طریقت کو الگ الگ ثابت کرنے کا بہانہ بنا لیا ۔ ضلو ا فا ضلوا (خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا)۔ دوسرے طبقے نے بیعت طریقت کو گمراہی سمجھ کر اس کی مخالف کا بیڑا اٹھا لیا۔ان حالات میں اہل حق کیلئے افراط و تفریط کے شکار ان دونوں طبقوں سے چومکھی لڑائی لڑنے کے سوا چارہ نہیں۔ تاکہ احکام شریعت کو نکھار کر پیش کیا جائے اور حق و باطل کی حد فاصل کو واضح کیا جائے۔ زیر  تبصرہ کتاب’’تصوف کیا ہے‘‘جو کہ  مولانا  محمد منظور نعمانی،مولانا محمد اویس ندوی،اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے مقالات سے تحریر کی گی ہے  جس میں مذکورہ مصنفین      نے افراط و تفریط سے دامن بچائے ہوئے اہل سنت والجماعت کے حقیقی نقطہ نظر کو واضح کیا ہے۔علم تصوف، تصوف کیا ہے، لفظ صوفی کی تحقیق،بیعت طریقت کا شرعی ثبوت، ضرورت مرشد، آداب مرشد، خانقاہوں کا قیام، اعتقادات، اسباق تصوف، معمولات شب و روز، معارف و حقائق، اخلاق حمیدہ ، تصوف کے متعلق کیے جانے والے عمومی سوالات وغیرہ جیسے اہم ترین عنوانات پر تسکین بحث کی ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ک...

  • 27 مطالعہ قرآن کے اصول و مبادی (ہفتہ 16 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1963

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں ۔تاکہ خدمت قرآن کے  عظیم الشان شرف سے مشر ف ہوں۔لیکن قرآن مجید کے مطالعہ سے پہلے اس کے اصول ومبادی کو دیکھنا ضروری ہے تاکہ انسان صحیح معنوں میں استفادہ کر سکے۔ زیرتبصرہ کتاب  '' مطالعہ قرآن کے اصول ومبادی '' ہندوستان کے معروف عالم دین محتر م مولانا سید ابو الحسن علی  ندوی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مطالعہ قرآن کے اصول ومبادی کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 28 مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش (جمعرات 13 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1250

    دین حق کے خلاف آغازاسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے حضرات او ررجال کار بھی ہردور میں موجود رہے ہیں ۔ ہردور میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل نظریات کا نہ صرف بھرپور توڑ کیا بلکہ غیر اسلامی افکار نظریات پر بھر پور تنقید کی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص بودے ،کھوکھلے اورانسانیت کے زہر قاتل ہیں۔نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت کودلائل وبراہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا زیرتبصرہ کتاب’’مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش‘‘ہندوستان کے نامور اسلامی اسکالر اورادیب مولانا سید ابوالحسن ندوی﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے وقت کےسب سے بڑے ‎چیلنج ’’ مغربی تہذیب کی کامل پیروی،زندگی کی شرط اورترقی وطاقت کی واحد راہ ہے ‘‘ کو دنیائے اسلام نے کس طرح قبول کیا اور مختلف اسلامی ممالک نے اس کے متعلق کیا کیا موقف اختیار کیے اورعالم اسلام کے لیے اس بارے میں صحیح راہ کیا ہے کو واضح کیا ہے اور عالم اسلام کی جدید تاریخ کا نیا اوراہم باب ’’اسلامیت اورمغربیت کی کش مکش کی عبرت انگیز داستان اور احیاء اسلام کی جدید تحریکوں پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔(م۔ا)

  • 29 مولانا جلال الدین رومی  (بدھ 05 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1150

    مولانا جلال الدین رومی 1207ء کو افغانستان کے صوبہ تاجکستان میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاولدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کےہوئی۔دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دسترس حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے ۔وہ تقریباًَ 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔ آب مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معرف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، تقریباًَ 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ کو قونیہ (ترکی ) انتقال کرگئے۔ آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔اور آج بھی ان کے عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا جلال الدین رومی ‘‘ہندوستان کی معروف شخصیت ادیب ومؤرخ سید ابوالحسن ندوی ﷫ کی معروف کتاب تاریخ دعوت وعزیمت کی پ...

  • 30 نبیوں کے قصے (جمعہ 26 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1359

    ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام عام انسانوں سے بلند ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ نبیوں کےقصے ‘‘عالمی شہرت یافتہ اسلامی سکالر اور عالم دین ، مؤرخ وادیب سید ابوالحسن علی الندوی ﷫کی بچوں کی تعلیم وتربیت اور ذہی نشوونما کےمتعلق تصنیف شدہ عربی تصنیف ’’ قصص النبین‘‘ کا اردوترجمہ ہے ۔اصل عربی کتاب پانچ حصوں میں ہے ۔اس میں نہایت عمدہ اور دلچسپ انداز میں نبیوں قصے بیان کیے گیے ہیں ۔یہ کتاب اگرچہ عربی زبان میں بچوں کےلیےلکھی گئی تھی لیکن لاکھوں کی تعداد میں بڑوں نےبھی اس سے بھر پور استفادہ کیا۔کیونکہ یہ کتاب اپنی افادیت وجامعیت کی وجہ سے کئی مدارس ویونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہے۔اس کتاب کے پہلے چار حصوں میں سیدنا...

  • 31 امام غزالی  (اتوار 02 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2446

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام غزالی بھی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں امام غزالی کے حالات زندگی‘ ان کی خدمات اور تصانیف کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور ان کی مشہور ابحاث کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔اس میں حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور اہم باتیں جو کہ رہ گئی ہوں انہیں فٹ

  • 32 مذہب و تمدن (منگل 21 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:998

    زیرِ تبصرہ کتاب’’مذہب وتمدن‘‘میں ایک اہم عنوان’’ تہذیب وتمدّن‘‘جو کہ ایک اچھوتا مضمون ہے اور یہ حالاتِ حاضرہ کی ایک اہم ضرورت بھی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور جدیدیت کے ساتھ ساتھ ہر جگہ کی تہذیب پروان چڑھتی رہتی ہے ۔اسی لیے اس مضمون پر لکھنے والے حضرات کی تعداد کثیر ہے جن میں سے ایک ’’ابو الحسن علی ندوی‘‘ بھی ہیں۔ اور اس مضمون پر مصنف نے پہلے ایک مختصر مضمون لکھا تھا جو کہ ’’مذہب وتمدن‘‘کے نام سے شائع ہوا اور 1942ء میں ایک علمی مجلس میں پڑھا گیا اور پسند کیا گیا اس لیے اس مضمون کو مکمل تفصیل کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے کتاب تصنیف کی گئی ہے اور نئے علمی طبقہ میں یہ مضمون دلچسپی اور سنجیدگی کےساتھ پڑھا جائے گا جو مذہب اور زندگی کے متعلق سعی وجستجو رکھتا ہے‘اور سنجیدگی کے ساتھ یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ مذہب زندگی کی کیا رہنمائی کرتا ہے‘ اور تمدن ومعاشرے کو کیا بنیادیں اور کیا رہنما اصول فراہم کرتا ہے‘اور کس اندازومزاج کی زندگی اور سوسائٹی وجود میں لاتا ہے اور اس کے بغیر زندگی اور تمدن کو کیا خطرات در پیش ہیں؟اور اس کتاب میں اہل نظر کو ایسے حقائق اور اشارے ملیں گے جو مذہب وتمدن کی بہت سی ضخیم کتابوں میں آسانی سے نہیں ملتے اور اس لئے اس موضوع پر غور فکر کرنے والوں‘لکھنے اور گفتگو کرنے والوں کو صالح ذہنی غذا اور صحیح رہنمائی حاصل ہوگی۔مزید اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کائنات‘خالقِ کائنات اور مقصدِ حیات کے بارے...

  • 33 سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ 02 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1993

    سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت رسول اکرم ﷺ ‘‘ مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ہے۔ اس کتاب میں نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور آپ کی حیات اقدس کی تعبیر و تصویر ہیں۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 34 قصص الانبیاء (ہفتہ 14 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1408

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ ساری امت اس بات پر متفق ہے کہ کائنات کی افضل اور بزرگ ترین ہستیاں انبیاء ﷩ ہیں ۔جن کا مقام انسانوں میں سے بلند ہے ۔اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اپنے دین کی تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کےلیے انہیں مختلف علاقوں اورقوموں کی طرف مبعوث فرمایا۔اور انہوں نے بھی تبلیغ دین اوراشاعتِ توحید کےلیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ اشاعت ِ حق کے لیے شب رروز انتھک محنت و کوشش کی اور عظیم قربانیاں پیش   کر کے پرچمِ اسلام بلند کیا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان پاکیزہ نفوس کا واقعاتی انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ جس کا مقصد محمد ﷺ کو سابقہ انبیاء واقوام کے حالات سے باخبر کرنا، آپ کو تسلی دینا اور لوگوں کو عبرت ونصیحت پکڑنے کی دعوت دینا ہے بہت سی احادیث میں بھی انبیاء ﷺ کےقصص وواقعات بیان کیے گئے ہیں۔انبیاء کے واقعات وقصص پر مشتمل مستقل کتب بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قصص الانبیاء‘‘ از  حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ﷫ انبیاء کے ایمان افروز حالات وواقعات پر مشتمل کتاب ہے ۔امام موصوف کی مایہ ناظ کتابوں میں سےایک ہے اور اپنے موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جسے اردو قالب می...

  • 35 کاروان زندگی (منگل 31 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:965

    سیدابو الحسن علی حسنی ندوی 24 مشہور بہ علی میاں ؍نومبر 1914ء کو رائے بریلی،بھارت میں ایک علمی خاندان میں پیدہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی ۔ علی میاں نے عربی اور اردو میں پچاس سے زائد متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین مقالات اورتقاریر بھی موجود ہیں۔علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف’’ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ‘‘ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ’’ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔آپ کی تصانیف میں ایک ضخیم تصنیف ’’ تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ موصوف بھر پورعلمی زندگی گزار کر 31؍1999ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات پر پاک وہند کے کئی رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات کےمتعلق مضامین شائع ہوئے اور متعدد مجلات نےان کی حیات وخدمات پر مشتمل ضخیم خاص نمبر بھی شائع کیے اور کئی اصحاب قلم نے ان کی سیرت وسوانح ، خدمات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کاروانِ زندگی ‘‘مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کی خودنوشت سرگزشت ِ حیا ت ہے۔ اس میں سیدابو الحسن ندوی کی ذاتی زندگی کےمش...

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔



ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 669
  • اس ہفتے کے قارئین: 6107
  • اس ماہ کے قارئین: 31011
  • کل مشاہدات: 42907724

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں