• #3387
    وحید الدین خاں

    1 مذہب اور جدید چیلنج

    تاریخ انسانی میں جس طرح موت کا مسئلہ ہمیشہ یقینی اور حتمی رہا ہے، اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ غیر متنازع رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق کوئی نہ کوئی ہے، اور آنکھ بند کرکے یہ بھی سب کہتے ہیں کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔ہمیشہ سے ہمیشہ تک اس کا وجود قائم رہے گا۔خالق کائنات کے وجود پر یقین کے بعد عقل انسانی کا اس میں اختلاف ہو گیا، کہ وہ خالق ہے کون؟ اور پھر وہ ایک ہے دوہے یا چند؟ ان مباحث سے قطع نظر ہم تھوڑی دیر اس متفق علیہ مسئلہ پر غور کرلیں کہ خدا موجود ہے اور خدا کا وجود یقینی اور حتمی ہے تو اس کے وجود کے ساتھ ہمارے فرائض کیا ہیں اور خالق کو مانتے ہوئے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟خدا کے وجود کو ماننے کو بعد جو سب سے پہلا احساس ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اپنے مخلوق ہونے کا احساس ہے۔ یہ احساس سب سے پہلے ہمارے کبر ونخوت کے بت کو توڑتا ہے، اکڑنے کے بجائے جھکنے کا درس دیتا ہے۔ یہ احساس ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اس جہاں میں خود سے نہیں آئے کسی نے بھیجا، کسی نے چاہا تب ہم آئے۔ جب ہم عقل کے سہارے یہاں تک پہنچتے ہیں تو ہماری روح ہم سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اپنے خالق کو مانیں، پھر جانیں اور پھر پہچانیں۔ اگر انسان فکر کی اس منزل تک پہنچ جاتا ہے تو فوراً اس کا وجدان بول اٹھے گا کہ اس کی زندگی، طرز زندگی اور شعور زندگی کے حوالے سے اس کے خالق کی مرضی کیا ہے اسے جانے، اس کے بعد اس کی زندگی کا صحیح ڈھنگ وہ ہوگا جو اس کے خالق کی مرضی ہوگی، انسان تخلیقی طور پر ہر قدم پر دو اختیار رکھتا ہے کہ قدم کو آگے بڑھائے یا پیچھے ہٹائے، اس کی عقل بڑی حد تک اس کی رہنمائی کرتی ہے کہ کب آ گے بڑھانے میں اس کے لئے خیر ہے اور کب پیچھے ہٹانے میں، لیکن باوجود اس کے اسے بارہا دھوکہ ہو جاتا ہے، اس لئے اگر اسے اپنے خالق کی مرضی کا علم ہوجائے تو اس کے علم میں بہت بڑا اضافہ ہوگا اور وہ خطرات کی زد سے یکسر محفوظ ہوجائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب"مذہب اور جدید چیلنج " ہندوستان کے معروف دانشور مولانا وحید الدین خاں کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے مذہب کو درپیش جدید چیلنجز اور ان کے حل کو پیش کیا ہے۔انہوں نے اس کتاب کے آٹھ ابواب ترتیب دئیے ہیں۔جن میں سے باب اول میں مخالفین مذہب کا مقدمہ پیش کیا ہے اور اس کے بعد باب دوم میں ان کی حقیقت بیان کی ہے۔ اس کے بعد آٹھ ابواب ایجابی انداز میں مذہب کے بنیادی تصورات یعنی خدا، رسالت اور آخرت کا اثبات پر بات کرتے ہیں ۔خاص طور پر باب سوم تبصرہ مخالفین مذہب کے دلائل پر باب سوم "استدلال کا طریقہ" اور باب ہفتم "دلیل اخرت" کا انداز بیان اور علمی و عقلی دلائل اتنے سادہ اور اپیل کرنے والے ہیں کہ انسان کو بے ساختہ بار بار اللہ اکبر کہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ (راسخ)

  • #3384
    نگہت ہاشمی

    2 طب نبوی

    انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالی ٰ کی دی ہوئی حکمت سے مختلف طرح کی بیماریوں کو فطری اشیاء اور فطری طریقوں سے دور کرنے کی کوششیں کرتے تھے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں کتاب الطب کے نام سے ابواب بھی قائم کیے اور بعض ائمہ نے طب پر مستقل کتب بھی تصنف کی ہیں   امام ابن قیم ﷫ کی الطب النبوی   قابل ذکر ہے ۔اور اسی طرح بعض ماہرین طب نے طب نبوی ،جدید سائنس اور عصر ی تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے کتب تصنیف کی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بڑی اہم ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’طب نبوی‘‘ معروف معلمہ ومدرسہ محترمہ نگہت ہاشمی کی کاوش ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حدیث کی صحیح کتب سے ایسی’’ 198‘‘احادیث کو حوالوں کے ساتھ ایک خاص ترتیب سے پیش کیا ہے جن میں علاج معالجہ او رطب نبوی ﷺ کا ذکر ہے ۔تاکہ عام لوگ بھی اس سے استفادکر کے اپنی روحانی وجسمانی بیماریوں کا علاج کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کوقبول فرماکر ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39777031

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں