• #3365
    شعبہ تحقیق و مراجع وزارت مذہبی امور پاکستان

    1 مقالات سیرت (مرد حضرات )

    تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم بدرس حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" امت مسلمہ کے موجودہ مسائل ،درپیش چیلنجز اور ان کا تدارک"وزارت مذہبی امور ،زکوۃ وعشر حکومت پاکستان کے شعبہ تحقیق ومراجع کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس 2007ء میں پیش کئے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کانفرنس میں متعدد قومی وبین الاقوامی دانشوروں اور سکالرز نے شرکت اور امت مسلمہ کے موجودہ اور سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں ان کے تدارک پر اپنے اپنے مقالے پیش کئے۔جنہیں  ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔اس کتاب کو لکھنے کا ان کا مقصد غفلت کی نیند سوئی ہوئی  امت مسلمہ کو جگانا اور بیدار کرنا ہے ،اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔اللہ تعالی مولف کے اس جذبے کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3237
    محمد صادق سیالکوٹی

    2 ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم

    حوض کوثر جنت میں شفاف پانی کا ایک چشمہ ہے جو نہایت وسیع ہے ۔ جنتی افراد قیامت اور محشر کے مراحل کو طے کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے ۔ وہ بلافاصلہ حوض کوثر پر پہنچ کر اپنی پیاس بجھا ئیں گے اور بے حد لطف اندوز ہوں گے۔اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، گلاب اور مشک سے زیادہ خوشبودار، سورج سے زیادہ روشن اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کے پینے کے برتن ستاروں کی مانند چمکدار اور بکثرت ہیں، آنحضورﷺاپنے دستِ مبارک سے جام بھر بھر کر پلائیں گے جو ایک بار پی لے گا پھر میدانِ حشر میں پیاسا نہ ہو گا مرتد و کافر و مشرک حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک گمراہ فرقے بھی اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ جب نبی ﷺ کے   پیارے بیٹے عبد اللہ فوت ہوئے تو مشرکین مکہ نے کہا اب محمد  ﷺ ابتر ہوگیا ہے ۔تواللہ تعالیٰ نے اپنے  پیارے  مغموم پاکر تسلی  کےلیے سورۃ کوثر نازل  کر کے  بیٹے کی جدائی کے زخم  کو کوثر کے آب حیات سے مندمل کیا  ۔علامہ ابن  کثیر﷫  فرماتے ہیں کہ  کوثر کثرت سے ہے  یعنی  اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی خیر اور بہتری بکثرت  حضورﷺ کو عطا کی  ہے ۔ اور نہرکوثر  بھی  اسی خیر کثیر میں داخل ہے۔ اللہ  تعالی  ٰ نے  رسول اکرم ﷺ  کو اس قدر  خیر کثیر عطا کی ہے کہ کو ئی اس شمار نہیں کرسکتا ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’ساقی کوثر‘‘  معروف عالم  دین مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی کاوش ہے جس  میں انہوں  نبی اکرم ﷺ کے  مرتبہ ومقام کو بیان کرتے ہوئے  دلائل سے اس بات کو واضح کیا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  سید البشر   حضرت محمد ﷺ کو حوضِ کوثر کی دولت  عطا کرنے کے  علاوہ  ہر قسم کی  خیر وخوبی ، نیکی اور بھلائی کی وہ کثرت اوربرکت بھی بخشی    ہے جو دوسرے انبیاء کو  عطاء نہیں کی گئی۔ اللہ  تعالیٰ   روزِ محشرتمام موحدین  اہل ایمان کو   حوضِ کوثر   کا  جام نصیب فرمائے  فرمائے (آمین) ( راسخ )

  • #3259
    قاضی محمد ثناء اللہ پانی پتی

    3 تفسیر مظہری جلد چہارم

    قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

  • #3174
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    4 لاؤڈ سپیکر اور نماز

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3173
    سید محب الدین الخطیب

    5 اسلامی پیغام کے اولین علمبردار

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریمﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں  نے صحابہ کرام کے باہمی اجتہادی اختلافات کو سامنے رکھ کر ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینا شروع کر دی ہے۔مشاجرات صحابہ کے بارے میں امت نے ہمیشہ محتاط موقف اختیار کیا ہے اور ان کے باہمی اختلافات کو حسن ظن پر محمول کر کے  صحابہ دشمنی سے امکانی حد تک اجتناب کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی پیغام کے اولین علمبردار "ہندوستان کے معروف عالم دین علامہ سید محب الدین الخطیب﷫کی عربی تصنیف "حملۃ رسالۃ الاسلام الاولون"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت محترم محمد اسلم سیف فیروز پوری نے حاصل کی ہے۔مولف  ﷫نے اس کتاب میں مشاجرات صحابہ  پر بڑی اہم گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3164
    محمد اسحاق بھٹی

    6 فقہائے ہند جلد پنجم حصہ اول

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3151
    فقیر اللہ

    7 عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم

    صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام   کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام  کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ اور صحابہ کرام کی  مقدس جماعت  ہی وہ پاکیزہ جماعت  ہے جس کی  تعدیل قرآن نے بیان کی ہے ۔ متعدد آیات میں ان کے  فضائل ومناقب پر زور دیا ہے  اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔  اوران  کی راہ  سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر  کیا ہے ۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م  کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے  پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن  وحدیث کےساتھ  تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔اور محدثین نے ’’الصحابۃ کلہم عدول‘‘  کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز  تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے  تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی  کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت ،کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے  سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے  صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا  ضروری سمجھا۔ ان  کے کردار کوبد نما کرنے  کےلیے  ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی تو  محدثین اور علمائے امت نے   مستشرقین کے  اعتراضات کے  جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں   گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ عدالت  صحابہ ‘‘ ادارہ علوم اثریہ ، فیصل آباد کے متخصص  جناب  فقیر اللہ  صاحب کی کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے  عدالت صحابہ  سے متعلق چند مباحث  سپرد قلم کیے  ہیں  جن سے عدالت صحابہ  سے متعلق اکثر شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ  موصوف  کی اس کا وش  کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی   عظمت ومحبت پیدا فرمائے (آمین)  (م۔ا)

  • #3082
    امام ابن تیمیہ

    8 تفسیر آیت کریمہ

    زیر تبصرہ کتاب "تفسیر آیت کریمہ "شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫  کی تصنیف ہے جو انہوں نے ان آٹھ سوالوں کے جواب میں لکھی جو ایک سائل نے آیت کریمہ(لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین)  کے ضمن میں پیدا ہونے والے سوال امام ممدوح کی خدمت میں پیش کئے تھے۔یہ تمام سوالات کتاب کی تمہید میں بالترتیب ذکر کر دئیے گئے ہیں۔امام ابن تیمیہ ﷫ کی یہ کتاب عربی میں ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحیم﷫ ناظم دار العلوم پشاور نے کیا ہے،تاکہ عوام الناس پوری طرح اس سے استفادہ کر سکیں۔نئی طباعت کے وقت اسے از سر نو ترتیب دیا گیا ہے اور مکتبہ ابن تیمیہ کی جانب سے اسے عصرحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق شائع کیا گیا ہے۔کتاب کے سات ابواب بنائے گئے ہیں اور کہیں کہیں اسے مزید آسان بنانے کی غرض سے حاشیہ آرائی بھی کی گئی ہے،تاکہ ہر عام وخاص اس سے استفادہ کر سکے۔کتاب کے شروع میں امام ابن تیمیہ ﷫ کے حالات بھی قلم بند کر دئیے گئے ہیں،تاکہ کتاب پڑھنے سے پہلے مطالعہ کرنے والے کے ذہن پر مصنف کی ہمہ گیر شخصیت کا اثر پڑ سکے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3081
    حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی

    9 تبلیغ و تربیت دین کے پانچ اصول

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم   سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔ دعوت وتبلیع  کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے  خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر  کی غیر مسلم  حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے  اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبلیغ وتربیت دین  کے پانچ اصول ‘‘ولی  کامل  حافظ یحییٰ عزیز میرمحمدی ﷫ کی  کاوش  ہے  جسے انہوں نے اپنے ادارے  مرکز اصلاح  کے  قیام  پر مرتب کیا تھا  اس کتاب  میں انہوں نے تبلیغی ضرروت پیش نظر   حدیث  جبریل کی روشنی میں   دعوت وتبلیغ وتربیت دین  کے پانچ اصولوں (کلمہ طیبہ کی شہادت  اقامت نماز ،زکاۃ،  صیام رمصان ،  حج )کو ترتیب سے بڑے آسان فہم انداز میں  تحریر کیا ہے ۔حدیث جبریل میں امت  مسلمہ کی تعلیم کے لیے  دین کے  ایسے پانچ اصول  بیان کیے گئے ہیں  جن  میں   پورے  دین کی روح موجود ہے  انہیں اچھی طرح سمجھ لینے سے بقدرِ ضرورت دین کی واقفیت حاصل ہوجاتی ہے  اور ان پر عمل  کرنے سے صالح اور سچا مسلمان بننے کی توفیق مل جاتی  ہے  ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ صاحب کی دعوتی واصلاحی کاوشوں کو قبول فرمائے  اور انہیں  جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع  مقام عطا فرمائے اور اس کتاب  کو  عوام الناس  کےلیے نفع  بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • #2983
    ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

    10 قرآن کریم اور اس کے چند مباحث ( ڈاکٹر ادریس زبیر )

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخِ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔ دنیابھر کی بے شمار جامعات،مدارس ومساجد میں  قرآن حکیم کی تعلیم وتبلیغ اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری ہے۔جس کثرت سے  اللہ تعالیٰ کی اس پاک ومقدس کتاب کی تلاوت ہوتی ہے دنیا کی کسی کتاب کی نہیں ہوتی ۔ مگر تعجب  وحیرت کی بات ہے کہ  ہم  میں پھر بھی ایمان وعمل کی وہ روح پیدا  نہیں ہوتی  جو قرآن  نےعرب کے وحشیوں میں پیدا کر دی تھی۔ یہ قرآن ہی کا اعجاز تھا کہ اس نے مسِ خام کو کندن بنادیا او ر ایسی  بلند کردار قوم  پیدا کی  جس نے دنیا میں حق وصداقت کا بول بالا کیا اور بڑی بڑی سرکش اور جابر سلطنتوں کی بساط اُلٹ دی ۔ مگڑ افسوس ہے کہ تاریخ کے یہ حقائق افسانۂ ماضی بن کر رہ گئے ۔ ہم نے دنیا والوں  کواپنے عروج واقبال کی داستانیں تو مزے لے لے کر  سنائیں لیکن خود قرآن سے کچھ حاصل نہ کیا ۔جاہل تو جاہل پڑھے لوگ بھی قرآن سےبے بہرہ ہیں۔قرآن کریم   کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول  اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم سےہی سمجھا جائے۔ یہ علوم قرآن کریم سے علیحدہ  نہیں ۔ انہی کی پابندی  کتاب اللہ  کوتورات وانجیل کی  طرح کھیل نہیں بننے دے گی۔اور نہ ہی تحریف کی من مانی روش  کوشہ ملے   گی۔الزام ترشیوں سے بچنے  اور اپنے میلانات کی اصلاح کے لیے  قرآن کی صحیح خدمت تبھی ہوسکے گی۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرآن کریم اور چند مباحث‘‘ میں  انہی ضابطوں اوراصولوں  کودلائل سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے  تاکہ قرآن کریم کے صحیح فہم ممکن ہو اور ایک علمی واعتقادی رشتہ قرآن کریم سے  مزید استوار ہو۔یہ کتاب  قرآن مجید کے تعارف،اور جملہ  علوم قرآنی  کی معرفت  کے لیے سلسلے  میں ایک آسان فہم  انداز میں مرتب شدہ  عمدہ کتاب ہے  اور طالبانِ قرآن کےلیے نادر تحفہ  ہے ۔  صاحب کتاب ڈاکٹر محمد ادریس زبیرفہم  قرآن  اور خواتین  کی دینی  تعلیم تربیت کے لیے کوشاں معروف ادارے  ’’ دار الہدیٰ‘‘ کی سربراہ  ڈاکٹر فرہت ہاشمی  صاحبہ کے  شوہر ہیں ۔ موصوف کا ملتان کے ایک علمی خانوادے  سے تعلق ہے  درس ِنظامی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم عربی کی   ڈگری حاصل کی۔ 1983ءانٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد  کے کلیۃ الدین سے منسلک ہوگئے  ۔1989ء میں  گلاسگو یونیورسٹی سے علم حدیث میں   ڈاکٹریٹ  کیا  عربی،  اردو، انگریزی زبان میں بہت سے آرٹیکلز لکھنے کے علاوہ چند کتب کے مصنف بھی  ہیں اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں برکت فرمائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825350

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں