اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3116

    مصنف : ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

    مشاہدات : 4544

    دینی مدارس نصاب و نظام تعلیم اور عصری تقاضے

    (منگل 28 اپریل 2015ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے اکثر مدارس میں مروج نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس کو بارہویں صدی کے مشہور عالم اور مقدس بزرگ مولانا نظام الدین سہالویؒ نے اپنی فکراور دور اندیشی کے ذریعہ مرتب کیا تھا۔ مولانا کا مرتب کردہ نصاب تعلیم اتنا کامل ومکمل تھا کہ اس کی تکمیل کرنے والے فضلاء جس طرح علوم دینیہ کے ماہر ہوتے تھے اسی طرح دفتری ضروریات اور ملکی خدمات کے انجام دینے میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فارسی زبان ملکی اور سرکاری زبان تھی اور منطق وفلسفہ کو یہ اہمیت حاصل تھی کہ یہ فنون معیار فضیلت تھے اسی طرح علم ریاضی (علم حساب) کی بھی بڑی اہمیت تھی ،چنانچہ مولانا نے اپنی ترتیب میں حالات کے تقاضے کے مطابق قرآن حدیث فقہ اور ان کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے عصری علوم کو شامل کیا اور حالات سے ہم آہنگ اور میل کھانے والا نصاب مرتب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نصاب اس وقت بہت ہی مقبول ہوا اور اس وقت کے تقریباً تمام مدارس میں رائج ہوگیا۔ اب حالات ماضی سے بالکل بدل چکے ہیں۔ منطق وفلسفہ کے اکثر نظریات کی دنیا میں مانگ باقی نہیں رہی ہے اور جدید سائنس نے ان کی جگہ لے لی ہے ، فارسی زبان کی وسعت اتنی محدود ہوگئی ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص علاقہ کی زبان کی حیثیت سے متعارف ہے اور اس کی جگہ عربی اور انگریزی نے لے لی ہے ۔آج مدارس اسلامیہ کے فضلاء اور اس میں زیر تعلیم طلبہ کی حالت وصلاحیت ارباب حل وعقد کو یہ آواز دے رہی ہے کہ مدارس کے نصاب پر مولانا نظام الدینؒ کے اصول کی روشنی میں غور کیا جائے اور منطق وفلسفہ کے ’’سکہ غیر رائج الوقت ‘‘کے بجائے عصری تقاضوں کے مطابق کتابوں کو داخل درس کیا جائے اور اس میں پیدا شدہ تعطل وجمود کوختم کر کے ماضی کی طرح آج کے فضلاء کو بھی ہر میدان کا شہسوار بننے کا موقع دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" دینی مدارس،نصاب ونظام تعلیم اور عصری تقاضے "مولانا ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری صاحب کی مرتب  کردہ ہے،جو 1968ء میں دہلی میں اور 1990ء میں رانچی اور دہلی میں دینی مدارس کے نصاب ونظام  تعلیم پر ہونے والے سیمینارزکی روداد،مقالات اور اس میں ہونے والے علمی  مذاکروں کے علاوہ مشاہیر علمائے کرام ،یونیورسٹیز کے اساتذہ کرام اور ممتاز ماہرین تعلیم کی نگارشات پر مشتمل ہے۔جس میں عصر حاضر کے انہی تقاضوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ کتاب دینی مدارس کے ذمہ داران کے ایک شاندار اور مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

  • 2 #3872

    مصنف : ابو انشاء قاری خلیل الرحمن جاوید

    مشاہدات : 2430

    جانب حلال

    (ہفتہ 26 دسمبر 2015ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    گزشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں   ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف پاکستان میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں اسلامی بینکاری کے نام پرکام ہور ہا ہے ۔ان میں بعض بینک تو مکمل طور پر اسلامی بینک کہلاتے ہیں ۔اور بعض بنیادی طور پر سودی ہیں  ایسی صورتِ حال میں رائج الوقت اسلامی بینکاری کا بے لاگ تجزیہ کرنےکی ضرورت ہےتاکہ معلوم ہوسکےک کہ یہ شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟ زیر تبصرہ کتاب ’’جانبِ حلال‘‘ ابو انشا ء قاری خلیل الرحمن جاوید ﷾کی تصنیف ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع کا ہمہ جہت اِحاطہ ، قرآنی آیات اوراحادیث سے مزین عبارتیں، عربی عبارات کا اعراب سےآراستہ ہونا ، برمحل حوالہ جات کا انداراج ،عام فہم تشریح وتوضیح،منقولات کے ساتھ ساتھ معقولات وامثلہ کابرجستہ استعمال اور اسلامی بینکاری پر مختلف اطراف سے کی جانے والی بلا جواز تنقید کا مثبت وشافی جواب اس کتاب کی قابل قدر اورامتیازی خصوصیات ہیں ۔کتاب ہذا اردو زبان میں اسلامی بینکاری کے حوالہ سے تصانیف میں ایک اہم اور عمدہ اضافہ ہے ۔ کتاب کےمطالعہ سے انداز ہوتا ہے کہ فاضل مصنف کو اپنے موضوع پر خاصی گرفت حاصل ہے اور انہو ں نے اپنے ژرف نگاہی سے کیے   ہوئے مطالعہ اورغوروخوض کا نچوڑ بڑے احسن انداز میں قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر ﷫ کا’’ سودی نظام اوراسلامی بینک کاری کا علمی جائزہ ‘‘ کےعنوان علمی وتحقیقی مقدمہ انتہائی اہم ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف   کتاب کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • 3 #5358

    مصنف : ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

    مشاہدات : 2250

    تاریخ نفاذ حدود

    (منگل 21 فروری 2017ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    حدوداللہ سے مراد وہ امور ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت بیان کردی ہے اور اس بیان کے بعد اللہ کے احکام اور ممانعتوں سے تجاوز درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حددو سے تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے عذاب مہین کی وعید سنائی ہے۔ اسلام کایہ نظام جرم وسزا عہد رسالت اورعہد خلافت راشدہ میں بڑی کامیابی سے قائم رہا جس کے بڑے فوائد وبرکات تھے۔ عصر حاضر کے بعض سیکولرذہنیت کےحاملین نے اسلامی حدود کو وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں کہا ہے۔ (نعوذ باللہ   من ذالک) اور بعض اسلام دشمنوں نےیہ کہا کہ اسلام کانظام جرم وسزا عہد رسالت وخلافت راشدہ کے بعد کبھی کسی ملک میں کامیبابی سے نہیں چل سکا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’تاریخ نفاذ حدود‘‘ ڈاکٹر نور احمد شاہتاز کی تحقیقی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں تاریخی حولوں سے ثابت کیا ہے۔ کہ یہ نظام گزشتہ چودہ صدیوں میں ہر ملک وہر خطہ اسلامی میں نہایت کامیابی سے نافذ رہا اور اس کی برکات سے طویل عرصہ تک نسل انسانی نے استفادہ کیا۔ نیز فاضل مصنف نے شرائع سابقہ میں مقرر سزاؤں کا اسلامی سزاؤ ں سے تقابلی جائزہ کر کے معترضین ومعاندین کے منہ بند کردیئے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ تمام شرائع سماویہ وادیان ارضیہ و عارضیہ میں اسلامی سزاؤں کے مماثل یا ان سے بھی سخت بہت معمولی جرائم پر دینے کا رواج رہا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں تحقیقی وتاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • 4 #5408

    مصنف : پروفیسر امیر الدین مہر

    مشاہدات : 3183

    گفتگو کا سلیقہ

    (بدھ 15 مارچ 2017ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    گفتگو ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے یا لوگوں کے دل سے اتر جاتاہے۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم دو حصے ہیں۔ زبان دل کی ترجمان ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو ہی اس کاعیب و ہنر ظاہرکرتی ہے۔ گفتگو کرتے وقت زبان سے وہی گفتگو کریں جس کا مقصد خیر ہو، کسی کی غلطی کی اصلاح کرتے وقت حکمت کومد نظر رکھیں، اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ ناحق اور بے جا بحث کرنے سے، حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑے، درمیان میں بات کاٹنے سے، غیبت و چغلخوری اور لگائی بجھائی، جھوٹ او ر خلاف حقیقت کوئی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیز آداب گفتگو میں سے یہ بھی ہےکہ   مخاطب کی بات کو غور سے سنیں اسے بولنے کاموقعہ دیں، درمیان میں اس کی بات نہ کاٹیں اور ادھر ادھر توجہ کرنے کی بجائے اس کی طرف پوری توجہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے گفتگو کے آداب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تین لوگ ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آپس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے کی دل شکنی ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’گفتگو کا سلیقہ‘‘ پروفیسر امیرالدین مہر کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے گفتگو کو شیریں، دلپسند اور دلنواز بنانے کے لیے قرآن و حدیث، حکماء علماء کے کلام سے منتخب کردہ شہ پاروں، جامع کلمات کی عبارتوں، حکمتوں، لطیفوں، جملوں فقروں کی روشنی میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہرطبقے کے افراد کے باہم گفتگو کرنے، دوسرے کو اپنی بات پر قائل کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کےلیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اور اداروں کے سربراہوں، دینی وتبلیغی جماعتوں و تنظیموں کے ذمہ داروں، این جی اوز کے منتظمین، مساجد کے ائمہ، خطباء اور واعظین حضرات، مجالس میں گفتگو کرنے والے اصحاب کے لیے بہترین کتاب اور خیر جلیس ہے۔

  • 5 #5962

    مصنف : بیگم اسحاق امتہ

    مشاہدات : 2548

    تجلیات قرآن کے چند عجائبات

    (جمعرات 07 دسمبر 2017ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    قرآن مجید، فرقان حمید اللہ رب العزت کی با برکت کتاب ہے۔ یہ رمضان المبارک کے مہینے میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل فرمائی گئی۔ پھر اسے تئیس سالوں کے عرصہ میں نبیﷺ پر اتارا گیا۔ قرآن مجید ہماری زندگی کا سرمایہ اور ضابطہ ہے۔ یہ جس راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرے ہمیں اُسی راہ پر چلتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ قرآن مجید ہماری دونوں زندگیوں کی بہترین عکاس کتاب ہے۔ لہٰذا یہ قرآن ہمیں رہنمائی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ پر عمل پیرا ہونے سے تم فلاح پاؤ گے، عزت و منزلت اور وقار حاصل کرو گےاور مجھ سے دوری کا نتیجہ اخروی نعمتوں سے محرومی، ابدی نکامی اور بد بختی کے سوا کچھ نہیں۔قرآن و حدیث کا اسلوب ہر اعتبار سے خاص، ممتاز اور منفرد ہے۔ کسی ادیب، مؤرخ یا سیرت نگار نے کوئی واقعہ بیان کرنا ہو تو وہ مربوط انداز میں وقت، جگہ اور شخصیات کا تذکرہ کرے گا۔ لیکن قرآن مجید کا اسلوب بیان بالکل نرالا ہے اور اس کا مقصد نہایت اعلیٰ و ارفع ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جس قدر داستانیں بیان کی گئی ہیں، ان میں اخلاقی اور روحانی پہلو خاص طور پر پیش نظر ہوتا ہے۔ بلکہ ہر پہلو داستان کی جان ہوتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’تجلیاتِ قرآن کے چند عجائبات‘‘ اَمتہ الکریم بیگم اسحاق اَمتہ کی تصنیف ہے۔ جس میں قرآن حکیم بعض نہایت اہم حصوّں اور عجیب و غریب اشاروں کو واضح کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ان اشاروں کو تشبیہ و تمثیل فرمایا گیا ہے جن آیات میں یہ اشارات یا تشبیہات ہیں، ان آیات کو اللہ تعالیٰ نے ’’متشابہات‘‘ فرمایا ہے۔ نیز احکام والی آیات کو بھی اجاگر کیا گیاہے۔کاش سب اصحاب اس کِتابچے کو پڑھ کر دیکھیں کہ عجائبات کے کتنے بے شمار خزانے ان آیات میں پوشیدہ ہیں۔ اس کتاب کے پیشِ نظر ایک بات یہ کہ قرآنی آیات کا عربی متن نہی لگایا ہے بلکہ حوالہ دیتے ہوئے کسی آیت کا مفہوم لکھا گیا ہے اور کسی کا خلاصہ۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • 6 #6151

    مصنف : ناعمہ صہیب

    مشاہدات : 1801

    تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات

    (اتوار 07 جنوری 2018ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء  اور نامور شخصیات نے اس فریضے کی ترویج کی۔  زیرِ تبصرہ کتاب چند عظیم شخصیات کے تعارف  وحالات زندگی پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں بیس نامور شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان شخصیات کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کے عہد کی تاریخ کو بھی کسی حد تک بیان کیا گیا ہے اور ان کے کارناموں کابھی ذکر ہے۔ اس کتاب میں بعض اہم واقعات اور نقشہ جات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب اور زبان سلیس تو ہے مگر اس میں تاریخی کتب کے حوالے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا  جسے ہم اس کتاب کا نقص کہہ سکتے ہیں۔ یہ کتاب’’ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات ‘‘ ناعمہ صہیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 7 #6447

    مصنف : رؤف پاریکھ

    مشاہدات : 2514

    علم لغت‘اصول لغت اور لغات

    (جمعہ 19 اکتوبر 2018ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    لُغت (dictionary ڈکشنری ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی زبان کے الفاظ کو وضاحتوں، صرفیات، تلفّظات اور دوسری معلومات کے ساتھ بترتیبِ حروفِ تہجّی درج کیا گیا ہو یا ایک ایسی کتاب جس میں کسی زبان کے الفاظ اور کسی اور زبان میں اُن کے مترادفات کے ساتھ حروفِ تہجّی کی ترتیب سے لکھا گیا ہو۔ لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔  لُغات عموماً کتاب کی شکل میں ہوتے ہیں، تاہم، آج کل کچھ جدید لُغات مصنع لطیفی شکل میں بھی موجود ہیں جو کمپیوٹر اور ذاتی رقمی معاون پر چلتی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’علمِ لغت، اصولِ لغت اور لغات‘‘ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے لغت نویسی اور لغات کے موضوع پر لکھے گئے مقالات پر مبنی کتاب ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا شمار پاکستان کے نامور اور ماہرِ لغت نویس اور ماہرِ لسانیات میں ہوتا ہے۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو میں، اردو زبان و ادب کے پروفیسر ہیں۔یہ کتاب ’’علم لغت، اصولِ لغت اور لغات‘‘ نو تحقیقی مقالات پر مبنی کتاب ہے۔ان نو مقالات  کا مختصراً تعارف حسب ذیل ہے ۔  اس کتاب کے پہلے مقالے کا عنوان ’’علمِ لغت ، لغوی معنیات اور اردو لغت نویسی‘‘ ہے۔ اس مقالے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ لغت نویسی کا تعلق علم لسانیات سے بھی ہے۔دوسرے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’تاریخی لغت نویسی اور تاریخی اصول پس منظر اور بنیاد (اوکسفرڈ کی لغت کلاں اور اردو لغت بورڈ کی لغت کے تناظر میں )‘‘ اس مقالے میں لغت کی مختلف تعریفوں کے ساتھ تاریخی لغت کی تعریف دی گئی ہے۔تیسرے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’خصوصی لغت نویسی اور اردو کی چند نادر اور کم یاب خصوصی لغات‘‘ اس مقالے میں خصوصی لغت کی تعریف کرتے ہوئے ی وضاحت کی گئی ہے کہ خصوصی لغت کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔چوتھے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’جان ٹی پلیٹس، مصنف نے اس مقالے میں پلیٹس کے حالات زندگی بیان کرنے کے بعد، پلیٹس کی لغت کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کی ہے۔پانچویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’قاموس الہند‘‘قاموس الہند  پچپن (۵۵) جلدوں پر محیط اردو کی نادر ایک بسیط اور کثیر جلدی اردو بہ اردو لغت ہے۔چھٹے مقالے کا عنوان ہے؛ ’’حالی کی شعری لفظیات اور اردو لغت بورڈ کی لغت‘‘ اس مقالے میں مصنف نے ان نادر قلیل الاستعمال الفاظ، تراکیب اور محاورات کی نشان دہی کی ہے جو متدادل لغات میں کم ہی ملتے ہیں۔ ساتویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’ اردو فارسی اور عربی کہاوتوں کی شعری اسناد‘‘ (جو اردو لغت بورڈ کی لغت میں درج نہیں ) اس مقا لے میں مصنف نے کہاوت اور محاورے کا فرق واضح کرتے ہوئے اردو، عربی فارسی کی ان کہاوتوں کو درج کیا ہے جن کا اندراج اردو لغت بورڈ کی لغت میں نہیں ہے۔ ان کہاوتوں کے معنی اور اشعار کی سند بھی پیش کی گئی ہے۔اس کتاب کے آٹھویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’فرہنگِ آصفیہ کی تدوین و اشاعت: چند غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ اس مقالے میں مصنف نے ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کے حوالے سے جو غلط فہمیاں عام ہیں ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ س کتاب کے نویں مقالے کا عنوان ہے؛ ’’اٹھارہ سو ستاون سے قبل کی اردو شاعری میں یورپی زبانوں کے دخیل الفاظ‘‘اس مقالے میں مصنف نے ان یورپی الفاظ کی سند پیش کی ہے جو ۱۸۵۷ کے انقلاب سے قبل مختلف شعرا کے یہاں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ کتاب تحقیقی مقالہ جات کا مجموعہ ہے۔ لغت اور اس سے متعلق بیش تر موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ اردو زبان وادب کے طلبہ، لغت سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک خوش آئند اضافہ ہے۔(م۔ا) 

  • 8 #6482

    مصنف : رؤف پاریکھ

    مشاہدات : 2900

    لغت نویسی اور لفات روایت اور تجزیہ

    (پیر 03 ستمبر 2018ء) ناشر : فضلی سنز کراچی

    لغت میں کسی زبان کے الفاظ کو کسی خاص ترتیب کے لحاظ سے املا، تلفظ، ماخذ اور مادہ بیان کرتے ہوئے حقیقی، مجازی، یا اصطلاحی معنوں کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق الفاظ کی شکلوں میں تبدیلی اور صحیح محل استعمال کی وضاحت کی جاتی ہے۔لغت نویسی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دو مختلف زبانوں کے بولنے والے افراد، گروہ یا جماعتیں، جب ایک دوسرے سے زندگی کے مختلف شعبوں میں ربط پیدا کرتی اور اسے برقرار رکھتی ہیں تو انھیں ایک دوسرے کی زبان کے الفاظ سیکھنے پڑتے ہیں۔ تعلقات کے استحکام، وسعت اور ہمہ گیری سے ذخیرہ الفاظ میں اضافے ہوتے جاتے ہیں۔ قربت بڑھتی ہے تو ایک قوم کی زبان کے الفاظ دوسری قوم کی زبان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک قوم کا ادب جب ارتقائی دمارج طے کرتا ہے تو اس سفر میں الفاظ کی شکلیں بدلتی ہیں۔ معانی میں تبدیلی آتی ہے۔ ادب کے نقاد ان تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور استعمال کے مطابع الفاظ کو معنی دیے جاتے ہیں۔ ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص  لغت نویسی پر ترتیب دی گئی ہے کیونکہ یہ ایسا موضوع ہے جو ایم اے اور ایم فل سطح پر مضمون کی طور پر بھی پڑھایا جاتا ہے لیکن اس پر اس کتاب سے پھلے کوئی ایسا مواد ترتیب نہیں دیا گیا۔  اس کتاب میں مصنف  نے مختلف اہل علم کے علمی مضامین کو جمع وترتیب دیا ہے اور کئی ایک اضافہ جات کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ لغت نو یسی اور لغات روا یت اور تجزیہ ‘‘ رؤف پاریکھ  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1815
  • اس ہفتے کے قارئین 5692
  • اس ماہ کے قارئین 57725
  • کل قارئین49497124

موضوعاتی فہرست