کل کتب 56

دکھائیں
کتب
  • 1 #1267

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 16430

    الاعتصام اشاعت خاص (بیاد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی)

    (جمعرات 26 اپریل 2012ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور

    مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ  کی ذات متنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی، ملی، سیاسی اور مسلکی خدمات خود ان کا تعارف ہیں۔ ہفت روزہ الاعتصام نے مولانا کی انھی خدمات کے باوصف ایک خاص ضخیم نمبر بیاد ’مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی‘ نکالا ہے۔ جس کے صفحات 1200 سے زائد ہیں۔ رسالے کو مختلف عناوین میں تقسیم کیا گیا ہے سب سے پہلے آپ کی سوانح کے ذیل میں متعدد مضامین یکجا کی گئے ہیں جس میں علیم ناصری اور مولانا اسحاق بھٹی جیسے مصنفین کے مضامین شامل ہیں۔ پھر ’شخصیت‘ کے نام سےعنوان قائم کیا گیا ہے جس میں حافظ ثناء اللہ مدنی، حافظ صلاح الدین یوسف اور حافظ محمد اسحاق صاحب جیسے متعدد علمائے کرام نے آپ کی شخصیت سے متعلق بہت سے گوشوں کا احوال بیان کیا ہے۔ اس کےبعد آپ کی علمی و تحقیقی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عزیر شمس، عبدالغفار حسن، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری، حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر نے اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا کو تدریس کا خاص شغف تھا آپ نے اپنی زندگی میں تیس، پینتیس برس تدریس کا فریضہ انجام دیااسی کے پیش نظر تدریسی کے عنوان سے آپ کی تدریسی خدمات کا تذکرہ موجود ہے۔ آپ کی ملی، سیاسی، مسلکی اور صحافتی خدمات تذکرہ کرتے ہوئےآخر میں آپ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 2 #496

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 14891

    الاعتصام ۔حجیت حدیث نمبر

    (اتوار 03 اپریل 2011ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور

    ہر زمانہ میں اہل علم نے کتاب وسنت کی ترویج اور نشر واشاعت کے ساتھ ساتھ ان کے دفاع کا بھی کام کیا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنن مبارکہ کی حجیت کا قائل نہیں ہے یا اگر قائل ہے تو اس کے استخفاف کے فتنہ میں مبتلا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب کی ادارت میں ہفت روزہ ’الاعتصام‘کا حجیت حدیث پر ایک خاص نمبر شائع ہوا جس میں برصغیر پاک وہند کے منکرین حدیث کے اعتراضات کا مدلل علمی انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ہفت روزہ ’الاعتصام‘ جماعت اہل حدیث کا ایک قدیم اور مستند علمی ترجمان شمار ہوتا ہے۔ اس رسالہ کا اجرا ۱۹۴۹ء میں مولاناعطاء اللہ حنیف کی سرپرستی میں ہوا۔ اس رسالہ نے ’حجیت حدیث‘ کے علاوہ ’تحریک آزادی‘ اور ’اسلامی آئین‘ اور ’حافظ محمد گوندلوی‘ اور ’مولانا محمد حنیف‘ اور ’مولانا عطاء اللہ حنیف‘ وغیرہ پر بھی خاص نمبرز شائع کیے ہیں۔’الاعتصام‘ کے حجیت حدیث نمبر میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کے مقالہ جات شائع کیے گئے ہیں۔ اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے ۲۰۱۰ء میں دوبارہ شائع کیا گیاہے۔ اس رسالہ میں مولانا داؤد غزنوی، مولانا اسحاق بھٹی، مولانا محی الدین قصوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانامحمد حنیف ندوی، علامہ محمد اسد، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا ہدایت اللہ ندوی، قاضی عبد الرحیم، پروفیسر عبد القیوم، مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا ہدایت اللہ سوہدروی وغیرہ کی تحریریں شامل ہیں۔ ان جلیل القدر علماء کے ناموں ہی سے اس رسالہ کی اہمیت اور علمی مقام کا ایک ہلکا سا اندازہ ہو سکتا ہے۔ افادہ عام کے لیے اس رسالہ کو پی۔ ڈی۔ ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا جا رہا ہے تا کہ منکرین حدیث کے جواب میں ایک مصدر کا کام دے۔
     

  • 3 #1873

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 7123

    الشیخ بدیع الدین راشدی

    (جمعہ 15 نومبر 2013ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    برصغیر پاک و ہند میں بلاشبہ یہ فخر صرف سندھ کو حاصل ہے کہ اسلام کا روشن سورج جب ملک عرب کے خطہ غیرذی ذرع اور ریتلی سرزمین سے طلوع ہوا تو ان کی روشن و شفاف کرنیں سب سے پہلے دیبل (سندھ) کی سرزمین پر جاپڑیں۔ اور اسلام کی روشنی اسی راستہ سے اس ملک میں پھیلی، یہی وہ مقدس سرزمین ہے ۔ جس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  تابعین عظام اور تبع تابعین کے قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اور ان کے اجسام اطہر اس سرزمین میں مدفون ہیں۔یہاں لشکر اسلام کے مبارک قدموں کے انمٹ نقوش اب تک قدیم کھنڈرات کی صورت میں دعوت فکر دے رہے ہیں۔ مجاہد اسلام محمد بن قاسم ثقفی رحمہ اللہ  کا پہلا جہادی معرکہ سندھ کی سرزمین میں وقوع پذیر ہوا۔جس کی مناسبت سے سندھ کو باب الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اسلام کی دعوت و تبلیغ میں سندھی علماء کرام و مشائخ عظام اور محدثین  کی بڑی خدمات ہیں۔شخصی یا خاندانی لحاظ سے سندھ کے علماء و محدثین کی ایک  طویل فہرست موجود ہے ۔ اسی فہرست میں ‘‘راشدی خاندن’’ کو بہت بڑا مقام  و اہمیت حاصل ہے۔اسی خاندان کے معروف چشم و چراغ مولانابدیع الدین راشدی ہیں۔ دنیائے اسلام میں آپ  کو شیخ العرب و العجم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔زیرنظرکتاب درحقیقت  میرپور خاص سے نکلنے والے ایک جریدہ بحرالعلوم کی اشاعت خاص ہے۔ جس میں مولانا کی سوانح عمری کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 4 #1326

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 14920

    المسلمات

    (جمعہ 01 جون 2012ء) ناشر : مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور

    اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت اس وقت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس کے مردانہ ونگ میں مجلس تحقیق الاسلامی، جامعہ لاہور الاسلامیہ، جامعہ بیت العتیق اور کتاب و سنت ویب سائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ اس کے خواتین ونگ میں بھی بہت سے علمی، رفاہی اور تبلیغی منصوبے جاری ہیں۔ جس میں ایک سالہ تعلیم دین کورس، ہفت روزہ ورکشاپس، مختلف اسلامی علوم کے شارٹ کورسزاور بہت سے تبلیغی منصوبہ جات شامل ہیں۔ خواتین ونگ کی تمام دوڑ دھوپ مسز رضیہ مدنی نے سنبھالی ہوئی ہے جو حافظ عبدالرحمٰن مدنی کی اہلیہ اور کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر حافظ انس نضر مدنی صاحب کی والدہ محترمہ ہیں۔ زیر نظر رسالہ ’المسلمات‘ محترمہ کے زیر سرپرستی چلنے والے ادارے کی طالبات اور ٹیچرز نے نہایت محنت سے ترتیب دیاہے۔ رسالے کو متعدد حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آب حیات کے عنوان کے تحت طالبات اور ٹیچرز کے مضامین و کالم جمع کیے گئے ہیں۔ بزم آرائیاں کے تحت حافظ عبدالرحمٰن مدنی، حافظ سعید وغیرہم کی بیگمات کے انٹرویوز شائع کیے گئے ہیں۔ رسالے کا ایک حصہ افسانوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری منصوبوں کا تعارف بھی شامل اشاعت ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 #6612

    مصنف : ذو الفقار علی ملک

    مشاہدات : 1307

    اورینٹل کالج میگزین

    (جمعہ 07 ستمبر 2018ء) ناشر : یونیورسٹی اورینٹل کالج

    پروفیسر عبد القیوم﷫ علمی دنیا خصوصاً حاملین علو مِ اسلامیہ و عربیہ کے حلقہ میں محتاج تعارف نہیں ۔ موصوف 1909ء کو لاہور کے ایک معزز کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد میاں فضل دین علماء وفضلا کے خدمت گذار اور بڑے قدر دان تھے ۔پروفیسر صاحب کے ایک بھائی پروفیسر عبد الحی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ ،لاہور کے پرنسپل اور تین بھائی پاکستان کی فضائیہ میں ذمہ دار عہدوں پر فائزہ رہے ۔ سب سے بڑے بھائی عبد اللہ بٹ مشہور صحافی جو لاہور کی علمی ،ادبی اور سیاسی محفلوں کی جان تھے۔پروفیسر مرحوم کےخاندان کی علمی اور دینی یادگاروں میں مسجد مبارک کی تاسیس اور اس کی تعمیر وترقی میں نمایاں حصہ لینابھی شامل ہے ۔ جس میں پروفیسر صاحب کے والد محترم او رنانا مولوی سلطان دونوں کابڑا حصہ ہے ۔آپ کےخاندان کی نیک شہرت کا اندازہ اس ا مر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کےہاں متعدد اہل علم ، مثلاً مولانا محمد حسین بٹالوی،مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی،مولانا قاضی سلیمان سلمان منصورپوری، مولانا سید سلیمان ندوی ، شیخ الاسلام مولانانثاء اللہ امرتسری﷭ جب بھی لاہور آتے تو ان کے ہاں قیام کرتے ۔اس طرح پروفیسر صاحب نے دینی اور علمی ماحول میں پرورش پائی۔پروفیسر صاحب نے ابتدائی عمر میں قرآن مجیدناظرہ پڑھنے کےبعد اپنی تعلیم کا آغاز منشی فاضل کےامتحان سےکیا۔1934ء میں اورنٹیل کالج سے ایم عربی کا امتحان پاس کیا۔اور پھرآپ نے1939ء سے لے کر1968ء تک تقریباتیس سال کا عرصہ مختلف کالجز میں عربی زبان وادب کی تدریس اور تحقیق میں صرف کیا ۔ لاہور میں نصف صدی سے زیادہ انہوں نےتعلیم وتعلّم کی زندگی گزاری۔ موصوف 1947ء کے بعد تقریباً اکیس برس تک یونیورسٹی اورنٹیل کالج کے شبعہ میں عربی میں بلامعاوضہ تدریس کے فرائض انجام دیتے ر ہے اور اس کےبعداکیس برس تک شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کےادارۂ تحریر کے ممتاز رکن رہے ۔ان کی تدریس سے سیکڑوں نہیں ہزاروں طلبہ واور طالبات نے فیض پایاان کے سیکڑوں شاگرد تعلیم تدریس اورتحقیق کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔علمی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ محبت اور خدمت کا مرکز کالج کی سرگرمیاں ، مقالات نویسی اور مسجد مبارک تھی جس کی وہ بے لوث خدمت کرتے رہے ۔اور مختلف ادوار میں انہوں نے علمی وتحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ۔پروفیسر صاحب تقریباً دس سال تک جامعہ پنجاب کی عربک اینڈ پرشین سوسائٹی کےسیکرٹری رہے اور انہوں نے متعد کانفرنسوں میں اعلیٰ تخلیقی وتحقیقی مقالات پیش کیے ۔اور لسان العرب کا ایسا اشاریہ تیار کیا جسے اندروں وبیرون ملک کے ماہرین نےبے حد سراہا۔ ’’مقالات پروفیسر عبدالقیوم ‘‘ پروفیسر عبدالقیوم ﷫ کے تحریر کردہ علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔ان مضامین کو موصوف نے خودہی مرتب کرنے کا آغاز کیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہ کی آپ چار ماہ بستر پر گزار کر 8ستمبر1989ء کواسی برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔بعد ازاں ان کےبیٹے میجر زبیرقیوم بٹ کے شوق وتعاون سے پرو فیسر موصوف کے شاگرد ڈاکٹر محمودالحسن عارف نے پروفیسر مرحوم کے بکھرے ہوئے مضامین اور بعض غیر مطبوعہ مقالات کو دو جلدو ں میں مرتب کیا۔ایک جلد علمی وتحقیقی مقالات اور دو سری جلد عام مضامین وخطبات پر مشتمل ہےیہ دونوں جلدیں کتاب وسنت سائٹ پر موجود ہیں۔۔اب ماشاء اللہ تقریباً دس سال سے پروفیسر عبد القیوم مرحوم کے بیٹے میجر زبیرقیوم بٹ اپنے وسیع کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنے والد گرامی کی باقیات صالحات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں مسجد مبارک کےانتظام وانصرام کے علاوہ وہاں ایک تحقیقی ادارہ ’’ دار لمعارف ‘‘ کے نام سے قائم کیے ہوئے ہیں جہاں تحقیق وتصنیف کا کام جاری ہے۔اس ادارے میں ریسرچ سکالرز کے لیے عربی مراجع مصادر کی عظیم الشان وسیع لائبریری بھی موجود ہے ۔
    زیر تبصرہ ’’اورنٹیل کالج میگزین‘‘ (جلد 64 شمارہ :1،2؍ 1990ء )کا خاص نمبر ہے جو پروفیسر عبد القیوم  کے علمی وتحقیقی کارناموں اوران کی خدمات جلیلہ پر مشتمل ہے۔ یہ خاص شمارہ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی ملک(پرنسپل یونیورسٹی اورنٹیل کالج ،لاہور) کی ادارت میں 1990ء میں شائع ہوا۔اس شمارے کے حصہ اول میں شیخ نذیر حسین ،مولانا فضل الرحمٰن بن محمد الازہری،ڈاکٹر محمود الحسن عارف، میجر زبیر قیوم بٹ ،مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی  وغیرہ کے قیمتی مضامین شامل ہیں ۔اور دوسرے حصے میں ایسے موضوعات پرشیخ نذیر حسین ،ڈاکٹر محمود الحسن عارف کے تحقیقی مقالات شامل ہیں جن سے پروفیسر مرحوم کو زندگی بھر دلچسپی رہی۔اور آخری مقالہ انگریزی زبان میں خود مرحوم پروفیسر عبد القیوم صاحب کی غیر مطبوعہ تحریر ہے ۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر مرحوم کی مرقدپر رحمتوں کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے اور ان کے بیٹے زبیر قیوم بٹ کے قائم کردہ ادارہ ’’ دار المعارف ‘‘ کو ان کےلیے صدقہ جاریہ بنائے اورزبیر بٹ صاحب کی دینی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 6 #4166

    مصنف : ضیاء اللہ کھوکھر

    مشاہدات : 1794

    تعلیم گاہوں کے رسائل و جرائد

    (منگل 01 مارچ 2016ء) ناشر : یادگار لائبریری گوجرانوالہ

    انسان ازل سے حالات سے باخبر رہنے کا خواہش مند رہا ہے اس کی یہ خواہش مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے پوری ہوتی رہی ہے۔ شروع میں تحریریں پتھروں اور ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، پھر معاملہ درختوں کی چھال اور چمڑے کی طرف بڑھا۔ زمانہ نے ترقی کی تو کاغذ او رپریس وجود میں آیا۔ جس کے بعد صحافت نے بے مثال ترقی کی، صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں، جرائم کی نشان دہی اور بیخ کنی ہوتی ہے، دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں، معاشرتی واقعات وحوادثات تاریخ کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ بالخصوص نظریاتی اور اسلامی صحافت معاشرہ کی مثبت تشکیل ، فکری استحکام، ملکی ترقی کے فروغ ، ثقافتی ہم آہنگی ، تعلیم وتربیت اصلاح وتبلیغ ، رائے عامہ کی تشکیل ، خیر وشر کی تمیز اور حقائق کے انکشاف میں بہت مدد دیتی ہے۔صحافت ایک امانت ہے، اس کے لیے خدا ترسی ، تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط اول ہے۔ فی زمانہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے جن میں دینی اور اخلاقی اہلیت نہیں، اصول اور کردار کے لحاظ سے وہ قطعاً غیر ذمہ دار اور مغربی یلغار کی حمایت اور لادینی افکار کو نمایاں کرنے میں سر گرم ہیں۔۔حالاں کہ صحافت ایک مقدس اور عظیم الشان پیشہ ہے، جس کے ذریعے ملک وملت کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے ۔ اسلامی صحافت قوم کے ذہنوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی فکری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لاتی ہے، برے کاموں سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔جماعت اہل حدیث نے صحافت کی اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں اس میں حصہ ڈالا ہے اور بے شمار رسائل وجرائد اور اخبارات کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان بیڑا اٹھایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "تعلیم گاہوں کے رسائل وجرائد" محترم ضیاء اللہ کھوکھر  صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نےعبد المجید کھوکھر یاد گار لائبریری گوجرانوالہ کے ذخیرہ رسائل میں 1894ء سے 2005ء تک کے موجود تعلیمی  اداروں کے رسائل وجرائد  کا اشاریہ جمع فرما دیا ہے، تاکہ اس لائبریری سے استفادہ کرنے والوں کو آسانی رہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 7 #2816

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2146

    تفہیم الاسلام اشاعت خاص (قاری عبد الوکیل صدیقی )

    (پیر 19 جنوری 2015ء) ناشر : ادارہ تفہیم الاسلام بہاولپور

    قاری عبد الوکیل خانپوری ﷫ (1955۔2013ء)رفیع المرتبت عالم دین اور جماعت اہل حدیث کا عظیم سرمایہ تھے۔ اصلاً وہ ہری پوری ضلع ہزارہ کے رہنے والے تھے۔ تحصیل علم کے بعد تقریبا 1975ءمیں  خانپور تشریف لائے اور پھر خانپوری کا لا حقہ ہی ان کے نام کا حصہ بن گیا ایک چھوٹی سی مسجد اہل حدیث سے اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تفسیر، حدیث اور فقہی مسائل سے ان کو آگاہی تھی، توحید ، سنت ، اتباع رسولؐ  فضائل صحابہ ؓ  اور جماعت اہل حدیث کے امتیازی مسائل پر انہیں عبور حاصل تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کو علم و حکمت سے بھی خواب نوازا تھا، دل میں اشاعتِ دین کا جذبہ تھا، اخلاص و للھٰیت کی دولت سے مالا مال تھے، گفتگو کا سلیقہ اور اپنی بات کو لوگوں کو سمجھانے کا فن جانتے تھے۔ جس دور میں انہوں نے خانپور کو اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا محور بنایا تو اس علاقے میں احناف کے معروف عالمِ دین مولانا عبد اﷲ درخواستی کا بڑا اثر و رسوخ تھا لیکن پھر مولانا قاری عبد الوکیل ﷫کے توحید و سنت پر مبنی و عظ و تقاریر سے متاثر ہو کر لوگ جو ق در جوق مسلک اہل حدیث پر عمل پیرا ہو تے گئے۔ قاری صاحب نے مسلک اہل حدیث کے فروغ میں خانپور اور اس کے گردونواح میں بڑا کام کیا اور انہوں نے اس مشن میں اپنی عمر کھپادی اور آج خانپور کے علاقے میں ان کی اس تبلیغی مساعی کے نشان واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ خانپور میں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد قاری صاحب کا بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں ملک اور بیرون ملک سے علمائے کرام کو دعوت دی جاتی اور عوام ان علمائے کرام کے مواعظ عالیہ سے متاثر ہو کر توحید و سنت کی دولت سے اپنے دامن بھرتے۔ اس کانفرنس کے اس علاقے میں بڑے اچھے اثرات مرتب ہو ئے۔ 1989 میں قاری صاحب نے جامعہ محمدیہ کے نام سے خانپور میں ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا۔ جس کا سنگ اساسی فضیلۃ الشیخ عبد اﷲ بن السبیل رحمۃ اﷲ علیہ نے رکھا تھا۔ اب تک اس سے کئی نامی علماء اور خطیب پیدا ہو چکے ہیں جو دعوت و تبلیغ کے میدان میں سر گرم عمل ہیں۔ ۔ مارچ2011 ء میں انہوں نے خانپور سے سہ ماہی نداء الا یمان جاری کیا۔ بلاشبہ قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔  جماعت کے اس عظیم عالم دین نے یکم مارچ2013 کی صبح لاہور کے ایک ہسپتال میں اٹھاون سال کی عمر میں وفات پائی اور رات کو ہری پوری ہزارہ میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کی اقتداء میں ان کی نما زجنازہ ادا کی گئی۔ اﷲ تعالیٰ قاری صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین)  زیر تبصرہ  ’’مجلہ  تفہیم الاسلام‘‘ کی اشاعت خاص قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی  سوانح حیات ،تذکرہ ، افکار  وآثار  پر مشتمل  مختلف اہل علم  کے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔(م۔ا)

  • 8 #3379

    مصنف : محمد مستقیم سلفی

    مشاہدات : 2051

    جماعت اہل حدیث کی صحافتی خدمات

    (اتوار 28 جون 2015ء) ناشر : العزۃ یونیورسل، بنارس (یو پی)

    انسان ازل سے حالات سے باخبر رہنے کا خواہش مند رہا ہے اس کی یہ خواہش مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے پوری ہوتی رہی ہے۔ شروع میں تحریریں پتھروں اور ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں، پھر معاملہ درختوں کی چھال اور چمڑے کی طرف بڑھا۔ زمانہ نے ترقی کی تو کاغذ او رپریس وجود میں آیا۔ جس کے بعد صحافت نے بے مثال ترقی کی، صحافت سے بگڑی ہوئی زبانیں سدھرتی ہیں، جرائم کی نشان دہی اور بیخ کنی ہوتی ہے، دوریاں قربتوں میں ڈھلتی ہیں، معاشرتی واقعات وحوادثات تاریخ کی شکل میں مرتب ہوتی ہیں۔ بالخصوص نظریاتی اور اسلامی صحافت معاشرہ کی مثبت تشکیل ، فکری استحکام، ملکی ترقی کے فروغ ، ثقافتی ہم آہنگی ، تعلیم وتربیت اصلاح وتبلیغ، رائے عامہ کی تشکیل ، خیر وشر کی تمیز اور حقائق کے انکشاف میں بہت مدد دیتی ہے۔صحافت ایک امانت ہے، اس کے لیے خدا ترسی ، تربیت واہلیت اور فنی قابلیت شرط اول ہے۔ فی زمانہ بدقسمتی سے بہت سے ایسے لوگوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا ہے جن میں دینی اور اخلاقی اہلیت نہیں، اصول اور کردار کے لحاظ سے وہ قطعاً غیر ذمہ دار اور مغربی یلغار کی حمایت اور لادینی افکار کو نمایاں کرنے میں سر گرم ہیں۔۔حالاں کہ صحافت ایک مقدس اور عظیم الشان پیشہ ہے، جس کے ذریعے ملک وملت کی بہترین خدمت کی جاسکتی ہے۔ اسلامی صحافت قوم کے ذہنوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ ان کی فکری راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لاتی ہے، برے کاموں سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دیتی ہے۔جماعت اہل حدیث نے صحافت کی اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں اس میں حصہ ڈالا ہے اور بے شمار رسائل وجرائد اور اخبارات کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا عظیم الشان بیڑا اٹھایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "جماعت اہلحدیث کی صحافتی خدمات" محترم مولانا محمد مستقیم سلفی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے ہندوستان میں اہل حدیث کی صحافتی خدمات کو جمع فرما دیاہے۔ اللہ تعالی ان کی ان مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 9 #2779

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2814

    دعوت اہل حدیث ( ختم نبوت نمبر )

    (بدھ 07 جنوری 2015ء) ناشر : جمعیت اہل حدیث،سندھ

    اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اوراسلام کو   بحیثیت دین بھی مکمل کردیا اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے  پسندیدہ قرار دیا ہے  یہی وہ عقید ہ  جس پر قرون اولیٰ سے آج تک  تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ کہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول  ہیں قرآن مجید سے یہ عقیدہ واضح طور سے  ثابت  ہے کہ کسی طرح کا کوئی نبی یا رسول اب قیامت تک نہیں آسکتا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ماکان محمد  ابا احد من رجالکم وولکن رسول الله وخاتم النبین (الاحزاب:40) ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ اللہ  کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘‘ حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا  متفق علیہ عقیدہ رہا ہے  اور اس  میں  مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت  محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے  کا دعویٰ کرے او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نہیں ۔برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے  بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے  مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا مرزا قادیانی  نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری  میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے  خود لکھا کہ میں نے  انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ  اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں  اس نے   جنوری 1891ء میں  اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ  کردیا جس پر وہ  اپنی وفات تک قائم رہا۔قادیانی  فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے  علمائے اہل حدیث  نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں اور اس وقت بھی دے  رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں  مرزا قادیانی نے  جیسے  ہی پر پرزے  نکالنے  شروع کیے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے  بندے کھڑے   کردیئے جنہوں نے  اسے  ناکوں  چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے   اس کا جھنڈ ا معروف سلفی عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی  ﷫ نے اٹھایا  پھر  مولانا ثناء اللہ امرتسری  ،قاضی سلیمان منصورپور ی،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،حافظ عبد القادر روپڑی ، حافظ  محمد گوندلوی ،علامہ احسان الٰہی ظہیر﷭  وغیرہ کے  علاوہ بے شمار علماء  ختم نبوت کی چوکیداری کےلیے  اپنے اپنے  وقت پر میدان عمل میں اترتے رہے ۔موجودین  میں  تحریک ختم  نبوت   کے سلسلے میں  ڈاکٹر  بہاء الدین ﷾ کی خدمات  سب سے نمایاں  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے  اور انہیں صحت وتندرستی سے نوازے ۔(آمین)اور اسی طرح  اہل  حدیث صحافت  کی  بھی نمایاں خدمات ہیں ۔دعوت اہل حدیث،سندھ، اور  ضیائے  حدیث،لاہور کی اشاعت خاص قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ ’’دعوت اہل حدیث ختم نبوت نمبر‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے  جوکہ رد قادیانیت کے  سلسلے میں   جید علمائے اہل حدیث کے 30 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات پر  مشتمل ہے۔جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں  قادیانیت کی حقیقت کو خوب   واضح کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ  ماہنامہ  دعوت اہل حدیث  کےایڈیٹر  حافظ عبد الحمید گوندل ﷾ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے  بڑی محنت سے    معروف علماءکرام سے مضامین حاصل کرکے   ان کو  گیارہ مختلف موضوعات میں  تقسیم  کیا اور حسن طباعت سے  آراستہ کیا ۔(م۔ا)
     

  • 10 #5042

    مصنف : محمد رضی الاسلام ندوی

    مشاہدات : 2188

    زندگی کا خزانہ

    (پیر 19 دسمبر 2016ء) ناشر : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

    اس وقت برصغیر ہند و پاک سے لاتعداد رسائل و جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جرائد ادبی، نیم ادبی، سیاسی، مذہبی،سماجی اور دیگر موضوعات پرمشتمل ہیں۔ رسائل و جرائد کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ اہمیت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی رسائل و جرائد تاریخ نویسی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض رسائل و جرائد کی اہمیت تو کتابوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور ان کا انتظار قارئین کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ ان رسائل میں جرائد میں بکھرے ہوئے قیمتی نادر مواد کے استفادے کے لیے رسائل کے اشاریہ جات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اشاریہ سے مراد کتاب کے آخر میں یا رسالہ کی مکمل جلد کے آخر میں شامل وہ فہرست ہے جو کتاب رسالہ یا دیگر علمی شے میں موجود معلوماتی اجزا ء، الفاظ، نام، کی نشاندہی اور ان تک رسائی کے لیے حوالہ مقام شناخت یا مقام ذکر پر مشتمل ہوتی ہے۔ اشاریہ سازی کی ابتداء مذہبی کتابوں کے لیے مرتب اشاریوں سے ہوئی۔ یہ اشاریے جو سولہویں، سترہویں صدیوں میں مرتب ہوئے الفاظ، نام یا عبارت کے ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے تھے، اشاریہ متلاشی معلومات کے لیے درکار معلومات کی نشاندہی کا وسیلہ ہے کتابوں کے برعکس رسائل کی اشاریہ سازی نسبتا زیادہ قدیم نہیں ۔ یوں تو سائنسی علو م میں تحقیق کی روز افزوں رفتار کی بدولت رسائل کی اشاعت کی تعدا د اٹھارہویں صدی سے ہی بڑھنے لگی تھی لیکن انیسویں‎ صدی کے آخری دور تک ان میں شائع مضامین کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ باحثین کو اشاریہ کی مدد کے بغیر واقفیت حاصل کرنا مشکل ہو گیا جس کے نتیجہ میں رسائل کی اشاریہ سازی کی داغ بیل پڑی۔ آج اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے کتابوں کے اشاریے سے کہیں زیادہ رسائل کے اشاریوں کا مقام ہے۔ رسائل کے اشاریہ سازی میں معاون قاعدے اور ضابطے مرتب ہوئے ہیں، جواشاریہ سازی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وضع کیے گئے۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی اردو زبان میں اشاریہ سازی کے کام میں بڑی ترقی ہوئی ہے پچھلے چند برسوں میں معارف برہان فکر و نظر، ماہنامہ محدث ،لاہور ،الحق، ترجمان القرآن اور اور کئی دیگر علمی وتحقیقی رسائل کے اشاریہ جات تیار ہوئے ہیں حتی ٰ کے بعض یونیورسٹیوں میں حصول ڈگری کے لیے رسائل کے اشاریہ سازی پر مقالات بھی لکھے گئے ہیں۔ انفرادی طور پر کئی احباب نے مختلف رسائل کے اشاریہ جات کتابی صورت میں مرتب کرکے شائع کیے ہیں لیکن ان میں ہمارے قریبی دوست محترم شاہد حنیف صاحب کا کام سب سے نمایاں اور معیاری ہے موصوف تقریبا پچاس سے زائد علمی وتحقیقی رسائل کے موضوعاتی اشاریہ جات تیار کر چکے ہیں ان میں سے کئی کتابی صورت میں صورت میں طبع بھی ہوچکے ہیں موصوف ان دنوں   اپنی ملازمت کی مصروفیت کے ساتھ ساتھ ادارہ محدث، لاہور کے تعاون سے یونیورسٹیوں اور دینی اداروں سے شائع ہونے والے پچاس اہم علمی و تحقیقی رسائل کا ایک مشترکہ اشاریہ انسائیکلوپیڈپا کی صورت میں مرتب کرنے میں مصروف ہیں اشاریہ سازی کی دنیا میں یہ ایک منفرد کام ہے اشاریہ جات کا یہ انسائیکلوپیڈیا مکمل ہوکر کئی مجلدات پر مشتمل ہوگا (ان شاء اللہ) اللہ تعالیٰ محترم شاہد حنیف صاحب کی ان کاوشو ں کو قبول فرمائے اور انہیں یہ کام جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق دے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زندگی کا خزانہ ‘‘ تقسیم ہند کے بعدنصف صدی سے زائد عرصہ سے جماعت اسلامی، ہند کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’ زندگی نو ‘‘ نئی دہلی کا موضوعاتی اشاریہ ہے یہ اشاریہ 1948ء سے 2015ء تک کے شماروں میں شائع شدہ مضامین کااحاطہ کرتا ہے۔ اس اشاریہ کو ارض ہند کی معروف شخصیت محترم جناب محمد رضی الاسلام ندوی﷾ نے بڑی محنت سے موضوعات ، مضمون نگاران، مترجمین، تبصرہ شدہ کتب ورسائل کے اشاریہ جات کے لحاظ مرتب کیا ہے اور ماہنامہ زندگی کے 67 سال کے شائع شدہ شماروں کی جلد، شمارہ، ماہ وسال (ہجری وعیسوی) کے لحاظ فہرست بھی تیار کر کے شروع میں لگادی ہے۔ تحقیقی وعلمی کام کرنے والے سکالرز اور باذوق قارئین اس اشاریہ کی مددسے ماہنامہ زندگی کے 67 سالوں میں شائع ہونے والے مضامین سے مطلوبہ مواد آسانی سے تلاش کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1747
  • اس ہفتے کے قارئین 7587
  • اس ماہ کے قارئین 59620
  • کل قارئین49523240

موضوعاتی فہرست