لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

12 کل کتب
دکھائیں

  • 1 ششماہی رشد ، جلد نمبر 10 ، شمارہ نمبر 1 ، جنوری 2014ء (جمعرات 04 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2058

    مجلہ ’رشد‘ کا اجراء 1990ء میں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے طلباء کے ترجمان کے طور پر ہوا۔ درمیان میں کچھ عرصہ یہ مجلہ نامساعد حالات کی بنا پرجاری نہ ہو سکا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس مجلے کو علمی حلقوں آج بھی ایک اعلیٰ تحقیقی مجلے کا مقام حاصل ہے اور ماضی قریب میں یہ بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ معیار کے حامل تحقیقی مجلہ کے طور پر شائع ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں ’حرمت رسولﷺ نمبر‘ کے بعد ’علم قراءات ‘ کے خصوصی موضوع پر جو تین جلدیں شائع ہوئی ہیں وہ تقریباً 3000 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اب اس خصوصی نمبر کی کتابی شکل میں اشاعت ان شاء اللہ آٹھ جلدوں میں ہو گی۔ اور پورے وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس اہم موضوع پر ہندوستان کی گذشتہ تین صد سالہ تاریخ میں اتنا جامع اور معیاری تحقیقی کام ایسی صورت میں موجود نہیں ہے۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سرپرست اعلی کی یہ خواہش ہے کہ مجلہ ’رشد‘ کا اجراء جامعہ لاہور العالمیہ کے شعبہ ’لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز‘کے ایک ایسے ترجمان کے طور پر کیا جائے کہ جس کا معیار ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (HEC) کے اعلیٰ کیٹگری کے تحقیقی مجلات کے مطابق ہو۔ جنوری 2014ء سے اس مجلے کا اجراء ایک ایسے ششماہی تحقیقی مجلے کے طور پر کیا جا رہا ہے جو ایچ۔ ای۔سی (HEC) کے تحقیقی معیار کو پورا کرنے کے ساتھ مسلم معاشروں کے تقاضوں اور مسائل کے مطابق بحث وتحقیق پیش کرتے ہوئے امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ اس سلسلہ میں علماء، محققین اور اسکالرز حضرات سے ششماہی رشد میں اشاعت کے لیے ا...

    رشد 
  • HEC کے معیار تحقیق کو ملحوظ رکھتے ہوئے رشد کا دوسرا شمارہ تیار کیا گیا ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں فقہ اسلامی کی قانون سازی کے بارے معاصر علماء اور فقہاء کی آراء کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ اسلامائزیشن آف لاز قومی اور ریاستی سطح پر ایک بہت ہی بنیادی مسئلہ شمار ہوتا ہے کہ جس کے حق اور خلاف میں عالم عرب میں خاص طور بہت کچھ لکھا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ امام بخاری ﷫ کے لفظ ’دلالت‘ کے بارے افکار پر ایک تفصیلی مضمون موجود ہے کہ جس میں الجامع الصحیح کی روشنی میں امام بخاری﷫ کے اصول استدلال اور طرق استنباط کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ امام بخاری﷫ کا تفقہ تو بہت معروف ہے لیکن ان کے اصول استدلال پر بہت کم بحث دیکھنے کو ملتی ہے لہٰذا یہ مقالہ اس ضرورت کو کسی حد تک پورا کرتا ہے۔

    علاوہ ازیں قرآن مجید میں خواتین کے مسائل کے بارے تحریک حقوق نسواں کے نمائند گان کیا کہتے ہیں اور ایسی آیات کی تفسیر کا ان کے ہاں کیا تاویلی طریقہ کار مقرر ہے، اس پر بھی ایک علمی و تحقیقی مضمون شائع کیا جا رہا ہے کہ جس میں اس طبقے کی تفسیر قرآن کے جدید اسالیب کا عقل ومنطق کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔

    معروف مستشرق جان اسپوزیٹو کی مسلم فیملی لاء کے بارے ایک کتاب کا تنقیدی تجزیہ بھی انگریزی سیکشن میں شامل اشاعت ہے جبکہ اولاد کے معاشی اور معاشرتی حقوق کے بارے بھی ایک مضمون شامل کیا گیا ہے کہ جس میں اس بارے ہماری بعض سماجی اور خاندانی الجھنوں کے...

    رشد 
  • 3 ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 3 ، جنوری 2015ء (جمعرات 10 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1469

    محترم قارئین کرام! اس وقت رشد کا تیسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’غیر سودی بینکاری: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے مرتب کیا ہے۔ اسلامک بینکنگ یا غیر سودی بینکاری عصر حاضرکے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ اس وقت پاکستان میں غیر سودی بینکاری کے حوالے سے تین حلقے پائے جاتے ہیں۔ ایک حلقہ تو ان اہل علم کا ہے جو غیر سودی بینکاری کو جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرا حلقہ ان علماء کا ہےجو غیر سودی بینکاری کو حرام کہتے ہیں۔ اب جو غیر سودی بینکاری کو حرام بتلاتے ہیں، ان میں بھی دو گروہ ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری اپنے طریقہ کار میں غلط ہے، اگر اس کا طریقہ کار درست کر لیا جائے تو یہ جائز ہو جائے گی جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری کسی صورت ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ بینک کا ادارہ تجارت اور بزنس کے مقصد سے بنایا ہی نہیں گیا بلکہ بینک کا اصل کام تمویل اور فنانسنگ ہے۔ پس اسلامی تجارت کے باب میں بینک سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنا عبث اور بے کار ہے۔ اس مقالہ میں تینوں قسم کے گروہوں کے موقف کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔  شمارے میں دوسرے مقالے کا موضوع ’’استدراکات صحابہ کی نوعیت اور تحقیقی مطالعہ‘‘ ہے۔ احادیث رسول ﷺ کی فنی تحقیق میں روایت کے علاوہ ایک اور اصطلاح درایت بھی استعمال ہوتی ہے۔ محدثین کے نزدیک درایت کا معنی حدیث کی صحت کو اس کی سند اور راویوں کی عدالت کے علاوہ اس کے متن میں موجود علل اور شذوذ کے اعتبار سے بھی پرکھنا ہے۔ یہ درایت کا ر...

    رشد 
  • محترم قارئین کرام!اس وقت رُشد کا چوتھا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عصر حاضر میں علمی حلقوں میں اجتماعی اجتہاد کا کافی چرچا ہے اور راقم نے اس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پنجاب یونیورسٹی سے 2012ء میں مکمل کیا تھا۔ عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے مناہج اور اسالیب کیا ہوں گے؟ اس بارے اہل علم میں کافی ابحاث موجود ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اجتماعی اجتہاد، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ اجتماعی اجتہاد کا بہترین طریق کار شورائی اجتہاد ہے کہ جس میں علماء کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں ایک علمی رائے کا اظہار کیا جائے۔ اس مقالے میں اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نقطہ نظر کس حد تک کارآمد اور مفید ہے۔
    دوسرا مقالہ ’’علم حدیث اور علم فقہ کا باہمی تعلق اور تقابل‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ علم حدیث اور علم فقہ دو مستقل علوم شمار ہوتے ہیں اور دونوں کی اپنی کتابیں، مصادر، موضوعات، مصطلحات، اصول، مقاصد، ماہرین فن، طبقات اور رجال کار ہیں۔ اس مقالہ میں بتلایا گیا ہے کہ علم حدیث کا مقصد روایت کی تحقیق ہے اور یہ محدثین کا میدان ہے اور علم فقہ کا مقصد روایت کا فہم ہے اور یہ فقہاء کا میدان ہے۔ روایت کی تحقیق میں اہل فن یعنی محدثین پر اعتماد کرنا چاہیے اور روایت کے فہم میں ا...

    رشد 
  • 5 ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء (اتوار 15 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:843

    اس وقت رشد کا پانچواں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات‘‘ ہے۔سترہویں صدی ہجری کے صنعتی انقلاب اور بیسویں صدی ہجری کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سارے عالم کو متاثر کیا، وہاں مذہب کی دنیا میں بھی ان گنت سوال پیدا کر دیے ہیں۔ مثلاً صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار کی ہزاروں ایسی نئی شکلیں متعارف ہوئیں ہے کہ جن کی شرعی حیثیت معلوم کرنا وقت کا ایک اہم تقاضا تھا۔ سیاسی انقلاب نے جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ، آئین اور قانون جیسے نئے تصورات سے دنیا کو آگاہی بخشی۔ معاشرتی تبدیلیوں سے مرد وزن کے باہمی اختلاط اور باہمی تعلق کی حدود ودائرہ کار جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایجادات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا کہ جس سے کئی ایک ایجادات کے بارے شرعی حکم جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اجتہاد کی تحریکیں برپا ہوئیں۔ تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل میں علماء نے رہنمائی کی، فتاویٰ کی ہزاروں جلدیں مرتب ہوئیں۔ اور اجتہاد کے عمل کو منظم انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وجود میں آنے لگے۔ اس مقالے میں بیسویں صدی عیسوی کی اجتماعی اجتہاد کی اس تحریک کے پس پردہ محرکات اور اسباب کا ایک جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’ جدید تصور درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول ‘&lsqu...

    رشد 
  • اس وقت رشد کا چھٹا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد کا مفہوم: ایک ارتقائی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے ترتیب دیا ہے۔ اجتماعی اجتہاد ایک جدید اصطلاح ہے جبکہ اس کا تصور قدیم ہے۔ اجتماعی اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ علماء کی ایک جماعت مل کر قرآن وسنت کی گہرائیوں اور وسعتوں سے کسی مسئلے کا شرعی حکم نکالنے کے لیے مقدور بھر کوشش کرے۔ آج کل مسلم دنیا کے بہت سے ممالک میں علماء کی سرکاری اور غیر سرکاری قسم کی مجالس اور کمیٹیاں جدید مسائل میں اجتماعی فتویٰ جاری کرتی ہیں جو کہ اجتماعی اجتہاد ہی کی صورتیں ہیں۔ عصر حاضر میں کچھ علماء نے اجتماعی اجتہاد کے اس عمل کو جامع مانع تعریف کی صورت میں مدون کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس کے نتیجے میں اجتماعی اجتہاد کی کوئی دس کے قریب اصطلاحی تعریفات وضع ہو چکی ہیں۔ اس مقالے میں ان جمیع تعریفات کا تقابلی اور تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس عمل کے لیے مناسب تعریف اور اس کے لیے متعلقہ الفاظ کے انتخاب کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ دوسرے مقالے کا موضوع ’’اصول تفسیر کی تاریخ وتدوین‘‘ ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر جن اصولوں کی روشنی میں کی جاتی ہے، وہ اصول تفسیر کہلاتے ہیں۔ اس مقالہ میں اصول تفسیر کی تاریخ اور تدوین ہر سیر حاصل بحث کی گئی ہے کہ وہ کون کون سے مصادر یا فنون ہیں کہ جن میں اصول تفسیر سے متعلق ابحاث مدون ہوئی ہیں۔ یہ واضح رہے کہ اصول تفسیر کے نام سے اصول تفسیر پر بہت کم کتب لکھی گئی ہیں جبکہ اصول تفسیر کا بیان اکثر طور امہات تفاسیر کے مقدمات، علوم قرآ...

    رشد 
  • 7 ششماہی رشد ، جلد نمبر 13 ، شمارہ نمبر7 ،جنوری 2017ء (جمعرات 04 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:778

    محترم قارئین کرام!
    اس وقت ششماہی رشد کا ساتواں شمارہ (جنوری تا جون 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "علوم عربیہ سے استفادہ میں افراط وتفریط اور اعتدال کی راہیں" کے عنوان سے ہے کہ جس کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی ﷫کے اصول تفسیر ہیں۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ مولانا فراہی ﷫نے تفسیر قرآن مجید میں لغت عرب کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ان کے نزدیک قرآن مجید کی تفسیر کا اولین اصول، ادب جاہلی ہے۔ مقالہ نگار نے مولانا فراہی ﷫کے اس اصول کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ ادب جاہلی مصادر تفاسیر میں سے ایک مصدر ہے لیکن اولین مصدر نہیں ہے لہذا اگر قرآن مجید کی لغوی تفسیر اور اس تفسیر بالماثور میں اختلاف ہو جائے تو پھر حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر کو اس تفسیر پر ترجیح حاصل ہو گی جو عربی معلی کی روشنی میں کی گئی ہے۔ اور مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کا موقف اس کے برعکس ہے کہ وہ حدیث میں موجود تفسیر اور صحابہ کی تفسیر پر لغت سے تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں اور اس بارے تفسیر بالماثور سے اعتناء نہیں فرماتے ہیں۔ شمارے کے دوسرے مقالے کا عنوان "امام ابن قیم ﷫ کا منہج بحث وتالیف" ہے۔ امام ابن قیم﷫قرون وسطی کے معروف فقیہ، مصنف اور محقق ہیں اور اس مقالے میں ان کے منہج بحث وتحقیق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام ابن قیم﷫ ان فقہاء میں سے ہیں جو فقہی اور کلامی اختلاف کی صورت میں مسالک وفرق کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت پر زور دیتے ہیں۔ اور...

    رشد 
  • محترم قارئین کرام!
    اس وقت ششماہی رشد کا آٹھواں شمارہ (جولائی تا دسمبر 2017ء ) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "روایت تصوف میں تزکیہ نفس کے ذرائع: ایک تجزیاتی مطالعہ" کے عنوان سے ہے۔ راقم نے اس مقالے میں واضح کیا ہے کہ تصوف کے بارے امت میں دو نقطہ ہائے نظر معروف ہیں، ایک یہ کہ یہ عین دین اسلام ہے اور دوسرا یہ کہ یہ دین اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔ اس مضمون میں تصوف کی روایت میں تزکیہ نفس کے لیے استعمال کیے جانے والے ذرائع پر گفتگو کی گئی ہے کہ مراقبہ، سماع اور وجد، فناء اور بقاء، علائق دنیویہ سے انقطاع، مبشرات، کرامات اور متصوفانہ ادب وغیرہ کا اصلاح نفس میں کتنا کردار ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ کتاب وسنت اور سلف صالحین کی نظر میں اصلاح نفس کے ان ذرائع کا کیا مقام اور مرتبہ ہے۔ دوسرا مقالہ "شریعت اور مقاصد شریعت: معانی اور مفاہیم" کے موضوع پر ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ امام شاطبی ﷫کی الموافقات کے بعد علماء کے حلقوں میں مقاصد شریعت کا مطالعہ ایک باقاعدہ فن کے طور ہونے لگا لہذا بہت سے علماء نے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ جس سے اس کی متنوع جہات تک رہنمائی حاصل ہوئی۔ اس مقالہ میں مقاصد شریعت کے متنوع معانی اور مفاہیم کو جمع کر کے اس کے اصل جوہر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تیسرے مقالے میں "علم حدیث میں درایتی نقد کی حیثیت" کے موضوع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ مقالہ نگاران کے مطابق عصر حاضر میں بعض متجددین نے محدثین کے ہاں متفق علیہ طور پر ثابت شدہ صحیح روایات کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا...

    رشد 
  • محترم قارئین کرام!
    اس وقت رشد کا نواں شمارہ(جنوری تا مارچ 2018ء) آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے کا پہلا مقالہ "تحقیق حدیث میں از روئے متن شذوذ اور علت کی مباحث: ایک تحقیقی مطالعہ" کے عنوان سے ہے۔ شذوذ اور علت کی ابحاث روایت حدیث کی تحقیق کی اہم اور گہری ترین مباحث میں سے ہیں۔ اس مقالے میں متن حدیث میں شذوذ اور علت کی پہچان کے اصول وضوابط کا تعارف کروایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بتلایا گیا ہے کہ حدیث کی تحقیق میں سند کی تحقیق اور متن کی تحقیق یہ دو معیارات الگ الگ نہیں ہیں بلکہ حدیث کی تحقیق کے تمام اسالیب میں اصل مدار سند ہی ہے۔ حدیث کے متن کی تحقیق سے متعلق جتنی مباحث ہمیں اصول حدیث کی کتب میں ملتی ہیں، ان کا آخری نتیجہ بھی یہی ہے کہ سند کی دوبارہ یا سہ بارہ تحقیق ہو جائے۔ پس حدیث کے متن کی تحقیق کے لیے نقد روایت کے نام نہاد درایتی معیار کو مستقل معیارِتحقیق قرار دینا درست طرز عمل نہیں ہے۔ شمارے کا دوسرا مقالہ " تبدیلی احکام پر اولیات عمر سےاستدلال اوراس کاتجزیہ " کے موضوع پر ہے۔ "اولیات عمر " سے مراد وہ احکامات ہیں جو حضرت عمر نے پہلے پہل اپنی خلافت میں جاری فرمائے۔ مقالہ نگار کے مطابق متجددین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ "اولیات عمر " اس بات کی دلیل ہیں کہ احوال وظروف کے تبدیل ہو جانے سے شرعی احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مقالہ نگار نے یہ ثابت کیا ہے کہ "اولیات عمر " کا تعلق شرعی احکام کی منسوخی سے نہیں ہے بلکہ یہ حضرت عمر کا شریعت کی عمومی تعلیمات کا فہم ہے جو کہ انہوں نے بطور قانون نافذ...

    رشد 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 822
  • اس ہفتے کے قارئین: 3891
  • اس ماہ کے قارئین: 10175
  • کل مشاہدات: 44674463

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں