کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #7011

    مصنف : سید احتشام حسین

    مشاہدات : 1329

    اردو ادب کی تنقیدی تاریخ

    (پیر 15 جولائی 2019ء) ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی

    اردو کی بنیاددکن کے قدیم صوفی شعراء اور مذہبی مبلغین نے رکھی ۔ اردو   ابتدائی لڑیچر تمام تر مذہبی  ہے اور 1350ء سے لے کر 1590ء تک ڈھائی سوسال کے دوران دکن  میں اردو کےبے شمار مذہبی رسالے لکھے گئے ۔دکن میں اردو ادب  کا پہلا دور 1590ء میں شروع ہوا ۔ 1590ء  سے 1730ء تک دکن میں کئی اچھے شاعر اور نثر نگار پیدا ہوئے  سچ پوچھیئے تو باقاعدہ اردو ادب کی بنیاد اسی زمانہ میں  رکھی گئی۔اس دور کی  سب سےا  ہم اور مشہور شخصیت شمس الدین ولی اللہ تھے اسے  بابائے ریختہ اور اردو شاعری کاباوا آدم کہا جاتا ہے۔اردو ادب  کی تاریخ او رارتقاء کےمتعلق متعدد کتب موجود ہیں زیر تبصرہ کتا ب’’اردو ادب  کی تنقیدی تاریخ ‘‘  سید احتشام حسین  کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے اس  کتاب کو 14؍ابواب میں تقسیم  کیاہے ان ابواب کےعناوین یہ ہیں۔اردو زبان اور ادب کی ابتداء، اردودکن میں ،دلی اٹھارویں صدی میں ، اردونثر کی ابتداء اور تشکیل،اودھ کی  دنیائے شاعری،نظیر اکبر آبادی اور ایک خاص روایت کا ارتقاء،قدیم دلی کی آخری بہار،اردو نثر فورٹ ولیم اور اس کےبعد،نئے دور سے پہلے نظم اور نثر،نیا شعور اورنیانثری ادب،نشاۃ ثانیہ کی اردو شاعری ،نظم میں نئی سمتیں،نثر کے نئے روپ،موجود ادبی صورت حال۔(م۔ا)

     

  • 2 #1093

    مصنف : محمد نور حسین قاسمی

    مشاہدات : 20683

    الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق

    (جمعرات 02 فروری 2012ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    علوم اسلامیہ اور عربیہ میں علمِ لغت ایک ایسا جامع علم ہے جس سے جملہ علوم کا سلسلہ جڑتا ہے۔ علمِ لغت کو ام العلوم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ علم نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بدیع اور علم بیان وغیرہ کا استخراج اسی علم سے ہوا ہے۔ عربی لغت میں الفاظ کے درمیان باہم مناسبت اور ترادف بھی ہوا کرتا ہے جس کی نشاندہی اکثر لغت کی کتب میں چیدہ چیدہ مقامات پر اہل فن نے کی ہے۔ بعد میں اس پہلو کو مزید روشن بنانے کے لئے مستقل عرق ریزی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ارباب علم و فن نے اس پہلو کو خوف روشن کر کے دکھایا۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ’’البروق فی انواع الفروق‘‘ یعنی الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق، مولانا نور حسین قاسمی کی تصنیف لطیف ہے۔ اس کتاب میں الف سے لیکر یاء تک، دلچسپ الفاظ مترادفات مثلاً اللہ، الہ، رب، خدا جیسے کلمات کا والد، ولد، ابن جیسے کلمات کا، جنگ، جہاد، غزوہ جیسے کلمات کا اور اسی طرح دین، شریعت، ملت، مذہب جیسے کلمات کا آپس میں فرق آسان کتاب میں جا بجا مقامات پر فروق پر مبنی عربی کتب سے براہِ راست اقتباسات باحوالہ نقل کئے گئے ہیں اور آخر میں مصادر و مراجع پر مبنی کتب کی فہرست دے دی گئی ہے جو مستفیدین کو تفصیلی معلومات کی طریق رہنمائی کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو زبان میں الفاظ مترادفہ کے مابین فروق کے حوالے سے، یہ کتاب قابلِ التفات اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ۔)
     

  • 3 #6972

    مصنف : عبد المجید ( ایم اے )

    مشاہدات : 1029

    جدید علم العروض

    (بدھ 29 مئی 2019ء) ناشر : لالہ رام نرائن لال بکسیلز الہ آباد

    عروض عربی زبان کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے دس سے زائد معنی ہیں۔ علمِ عروض ایک ایسے علم کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شعر کے وزن کی صحت دریافت کی جاتی ہے یعنی یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کلام موزوں ہے یا ناموزوں یعنی وزن میں ہے یا نہیں۔ یہ علم ایک طرح سے منظوم کلام کی کسوٹی ہے اور اس علم کے، دیگر تمام علوم کی طرح، کچھ قواعد و ضوابط ہیں جن کی پاسداری کرنا کلامِ موزوں کہنے کے لیے لازم ہے۔ اس علم کے ذریعے کسی بھی کلام کی بحر بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس علم کے بانی یا سب سے پہلے جنہوں نے اشعار پر اس علم کے قوانین کا اطلاق کیا وہ ابو عبد الرحمٰن خلیل بن احمد بصری ہیں۔ زنظرکتاب ’’ جدید علم العروض‘‘  پٹنہ یونیورسٹی کے  پروفیسر عبد المجید کی تصنیف ہے موصوف نے  اس کتاب میں فن عروض کو ایک اصول کےماتحت مختصر اور سہل بنا کر پیش کیا ہے  اور ساتھ ہی اس کا بھی لحاظ رکھا ہے کہ فن عروض کے اجزا ،بحور، وزحافات وغیرہ سب باقی رہیں ۔صاحب  کتاب  نہیں اس  بات کو بھی واضح کیا ہے کہ اصلی بحریں صرف آٹھ ہیں  ہی ہونی چاہیں نہ کہ انیس، مفرد بحریں درحقیقت سات ہی ہیں بقیہ بارہ بحریں انہی  سات بحروں سے مرکب ہوتی ہیں۔(م۔ا)

  • 4 #6326

    مصنف : سید مسیح الحسن

    مشاہدات : 1437

    حواشی ابوالکلام آزاد

    (بدھ 14 فروری 2018ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    دہلی ہندوستان کا دل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شہر اپنی تہذیبی روح‘ ثقافتی رنگارنگی اور تاریخی کردار کے اعتبار سے ایک چھوٹا سا ہندوستان ہے۔ دہلی کلچر کے فروغ میں اردو نے ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے‘ اور آج بھی یہ زبان اس کی ادبی وتہذیبی شناخت کا اہم وسیلہ ہے۔ اردو کی کلچرل اہمیت اور دہلی کی ثقافتی زندگی سے اس کے گہرے رشتے پیشِ نظر آنجہانی محترمہ اندرا گاندھی سابق وزیر اعظم مرکزی حکومت ہند کے ایماء پر 1981ء میں اردو اکادمی کا قیام عمل میں آیا اور یہ ادارہ ادبی روشنی کو عام کرنے اور علمی خوشبوؤں کو پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ ادبی شخصیات میں مولانا ابو الکالام آزاد بیسویں صدی کی مسلم دنیا کی عظیم ہستیوں میں سے ہیں۔ وہ عالم‘ مذہبی رہنما‘ مفسر قرآن‘ ادیب‘ نقاد‘ مکتوب نگار اور صحافی تھے۔ سب سے بڑھ کر وہ جس میدان میں بھی رہے صف اول کے لوگوں میں رہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص ابوالکلام کے حواشی پر مشتمل ہے۔ ان کے حواشی کو مصنف نے جمع کیا ہے اور جو ترتیب دی ہے قابل تعریف ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے مختلف کتب جیسا کہ عربی‘ فارسی‘ انگریزی اور اردو کی کتب پر موجود حواشی کو اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ اور ہر ایک زبان کی کتب کو الگ الگ پیرائے اور کیٹگری میں بیان کیا گیا ہے۔اور جس کتاب کے بارے میں ان کے حواشی کو بیان کیا گیا ہے پہلے اس کتاب کا تفصیلی تعارف بھی درج کیا گیا ہے۔ اور مقدمہ میں ان کی لکھی گئی کتب کو علوم کے حساب سے تقسیم کر کے ہر ایک کے تحت کس زبان میں کتنی کتب ہیں تفصیل بیان کی گئی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ حواشی ابو الکلام آزاد ‘‘ سید مسیح الحسن کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 5 #6973

    مصنف : ڈاکٹر صاحب علی

    مشاہدات : 835

    مبادیات عروض

    (جمعرات 30 مئی 2019ء) ناشر : سیفی بک ایجنسی ممبئی انڈیا

    عروض عربی زبان کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے دس سے زائد معنی ہیں۔ علمِ عروض ایک ایسے علم کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شعر کے وزن کی صحت دریافت کی جاتی ہے یعنی یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کلام موزوں ہے یا ناموزوں یعنی وزن میں ہے یا نہیں۔ یہ علم ایک طرح سے منظوم کلام کی کسوٹی ہے اور اس علم کے، دیگر تمام علوم کی طرح، کچھ قواعد و ضوابط ہیں جن کی پاسداری کرنا کلامِ موزوں کہنے کے لیے لازم ہے۔ اس علم کے ذریعے کسی بھی کلام کی بحر بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس علم کے بانی یا سب سے پہلے جنہوں نے اشعار پر اس علم کے قوانین کا اطلاق کیا وہ ابو عبد الرحمٰن خلیل بن احمد بصری ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ مبادیات عروض‘‘  جناب صاحب علی  تصنیف  ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں  علم عروض کو آسان اور عام فہم طریقے سےذہن نشین کرانے کی کوشش کی ہے ۔اس کتاب کا پہلا حصہ علم عروض کی مبادیات پر مشتمل ہے جس   میں عروض کے اصطلاحی الفاظ کی تشریح کے ساتھ ساتھ بحروں کےنام اور ان کی تعداد  نیز مفرد اور مرکب زحافات، علل اور احکام کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔دوسرے  حصے میں  ہندی پنگل کی مبادیات ماترا، ورن، چھند، چرن ،ماترائی گن ، ورنگ گن اور ماترائیں شمار کرنے کےاصول بیان کیے گیے ہیں ۔تیسرا حصہ  قواعد تقطیع پر مشتمل ہے اور چوتھے حصے میں  اردو شاعری میں استعمال ہونے والی مفرد اور مرکب بحروں کے سالم ا ور مزاحف   مثالوں کے ذریعے پیش کیاگیا ہے ۔ (م۔ا)

  • 6 #6569

    مصنف : ڈاکٹر اے وحید

    مشاہدات : 1202

    کاروان ادب

    (ہفتہ 18 اگست 2018ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    اردو کی بنیاددکن کے قدیم صوفی شعراء اور مذہبی مبلغین نے رکھی ۔ اردو   ابتدائی لڑیچر تمام تر مذہبی  ہے اور 1350ء سے لے کر 1590ء تک ڈھائی سوسال کے دوران دکن  میں اردو کےبے شمار مذہبی رسالے لکھے گئے ۔دکن میں اردو ادب  کا پہلا دور 1590ء میں شروع ہوا ۔ 1590ء  سے 1730ء تک دکن میں کئی اچھے شاعر اور نثر نگار پیدا ہوئے  سچ پوچھیئے تو باقاعدہ اردو ادب کی بنیاد اسی زمانہ میں  رکھی گئی۔اس دور کی  سب سےا  ہم اور مشہور شخصیت شمس الدین ولی اللہ تھے اسے  بابائے ریختہ اور اردو شاعری کاباوا آدم کہا جاتا ہے۔اردو ادب  کی تاریخ او رارتقاء کےمتعلق متعدد کتب موجود ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’کاروان ادب ‘‘ ڈاکٹر اے وحیدکی  تصنیف ہے ۔ اس کتاب کی ترتیب میں نہایت جانفشانی سلیقے اور خوش ذوقی سے کام لیا گیا  ہے  فورٹ ولیم کے نثر نگاروں سے لے کر  کتاب کے تصنیف   تک کے  تمام ادیبوں کا تذکرہ اس کتاب میں موجود ہے باب  اول  ادب او ر اس کے اصناف  کے متعلق ہے  جس میں جملہ ادبی مسائل پر تفصیل سےعالمانہ بحث کی گئی ہے۔اس کے بعد  اصل کتاب شروع ہوتی ہے۔کتاب کے حصہ اول میں انیسویں صدی کے انشاء پر داز سر سید اور ان کےرفقا شبلی ، حالی، آزاد اور مہدی  کےکارناموں کا مختصر  تذکرہ  واقتباسات شامل ہیں ۔ دوسرا   حصہ اردو افسانہ ؍ناول اور ڈرامے پر مشتمل ہے ۔یہ  کتاب اردو  میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ۔جس میں اردو ادب کےارتقاء کی تاریخی داستان  موجو د  ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1943ء میں شائع ہوا اور دوسرا ایڈیشن ترمیم نو کےساتھ 1969ء میں  شائع ہوا ۔(م۔ا) 

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 859
  • اس ہفتے کے قارئین 4736
  • اس ماہ کے قارئین 56769
  • کل قارئین49481358

موضوعاتی فہرست