ادب 

جدید علم العروض(6972#)

عبد المجید ( ایم اے )
لالہ رام نرائن لال بکسیلز الہ آباد
121
3025 (PKR)
2.3 MB

عروض عربی زبان کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے دس سے زائد معنی ہیں۔ علمِ عروض ایک ایسے علم کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شعر کے وزن کی صحت دریافت کی جاتی ہے یعنی یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کلام موزوں ہے یا ناموزوں یعنی وزن میں ہے یا نہیں۔ یہ علم ایک طرح سے منظوم کلام کی کسوٹی ہے اور اس علم کے، دیگر تمام علوم کی طرح، کچھ قواعد و ضوابط ہیں جن کی پاسداری کرنا کلامِ موزوں کہنے کے لیے لازم ہے۔ اس علم کے ذریعے کسی بھی کلام کی بحر بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس علم کے بانی یا سب سے پہلے جنہوں نے اشعار پر اس علم کے قوانین کا اطلاق کیا وہ ابو عبد الرحمٰن خلیل بن احمد بصری ہیں۔ زنظرکتاب ’’ جدید علم العروض‘‘  پٹنہ یونیورسٹی کے  پروفیسر عبد المجید کی تصنیف ہے موصوف نے  اس کتاب میں فن عروض کو ایک اصول کےماتحت مختصر اور سہل بنا کر پیش کیا ہے  اور ساتھ ہی اس کا بھی لحاظ رکھا ہے کہ فن عروض کے اجزا ،بحور، وزحافات وغیرہ سب باقی رہیں ۔صاحب  کتاب  نہیں اس  بات کو بھی واضح کیا ہے کہ اصلی بحریں صرف آٹھ ہیں  ہی ہونی چاہیں نہ کہ انیس، مفرد بحریں درحقیقت سات ہی ہیں بقیہ بارہ بحریں انہی  سات بحروں سے مرکب ہوتی ہیں۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

مفرد سالم بحریں

 

(الف)کثیر الاستعمال بحریں

 

1)ہزج مثمن

15

2)رجز مثمن

17

3) کامل مثمن

18

4)متقارب

19

ب)قلیل الاستعمال بحریں

 

بحر متدارک

20

بحر وافر

21

بحر رمل

22

مرکب سالم بحریں

 

یہ سب بحریں نادر الاستعمال ہیں

 

رجز مرکب

23

ہزج رمل۔ یا رمل ہزج

23

رمل رجزیا رجز رمل

24

رجز متدارک

24

متقارب ہزج

24

رمل متدارک

25

مفرد مزاحف بحریں

 

نمبر1۔بحرہزج مزاحف

 

(الف) کثیر الاستعمال بحریں

 

ہزج مسدس مخدوف

31

ہزج مثمن اخرم مکفوف مخدوف

32

ہزج مثمن اخرم، مکفوف

33

ہزج مسدس اخرم مکفوف مقبوض مخدوف

33

ہزج مدس مقطوع

34

ب)قلیل الاستعمال بحریں

 

ہزج مدس اخرم، مقبوض مخدوف

34

ہزج مسدس اخرم مقبوض مقطوع

35

ہزج مثمن مکفوف اخرم

35

ہزج مثمن مقبوض اخرم

36

ہزج مثمن مقبوض

36

ہزج مثمن مخدوف مقبوض

36

ہزج مثمن یکفوف مخدوف

37

نمبر2۔رجز مزاحف

 

کثیر الاستعمال بحریں

 

رجز مثمن مطوی مخبون

37

رجز مثمن مخبون مقطوع

38

رجز مثمن مسبغ

39

ب)نادر الاستعمال بحریں

 

رجز مطوی

39

نمبر3۔بحر کامل مزاحف

 

ب)نادر الاستعمال بحریں

 

کامل مثمن مسکن

40

کامل مضمر مسکن مسبغ

40

کامل مقطوع مخبون

41

نمبر6۔بحر رمل مزاحف

 

کثر الاستعمال بحریں

 

رمل مثمن مققطوع

48

رمل مثمن مخدوف

49

رمل مثمن مخبون مخدوف مقطوع

50

رمل مثمن مخبون مخدوف

50

رمل مثمن مخبون ، مشعث مقطوع

51

رمل مثمن ،مخبون مقطوع

51

ب)قلیل الاستعمال بحریں

 

رمل مثمن مخبون

52

نمبر7۔مرکب مزاحف بحریں

 

رجز مرکب

 

کثیر الاستعمال بحریں

 

رجز مرکب مسدس مطوی مسکن

53

رجز مرکب مطوی) مکفوف

54

رجز مرکب مثمن مقطوع

54

رجز مرکب مدس مطوی مقطوع مجدوع

55

ب) قلیل الاستعمال بحریں

 

رجز مرکب مثمن مطوی مسکن

55

رجز مرکب مثمن مطوی مکفوف

55

رجز مرکب مثمن مطوی  منحور

56

رمل ہزج یا مزج رمل مزاحف

 

کثیر الاستعمال بحریں

 

رمل ہزج یا ہزج رمل مثمن مکفوف احرم

57

رمل ہزج یا ہزج رمل مثمن  اخرم، مسبغ

58

رمل ہزج یا ہزج رمل مثمن اخرم مکفوف مخدوف

58

ب)قلیل الاستعمال بحریں

 

رمل ہزج یا ہزج رمل مثمن مکفوف مقطوع

59

رمل ہزج یا ہزج رمل مثمن مسدس مکفوف

59

رمل رجز یار جز رمل مزاحف

 

الف) کثیر الاستعمال بحریں

 

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مخدوف

59

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مقطوع

61

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مقطع مقبوض

62

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مقطوع مخدوف

63

ب)قلیل الاستعمال بحریں

 

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مقبوض

63

رمل رجز یا رجز رمل مثمن ومسدس مخبون۔ مشعث

64

رجز متدارک مزاحف

 

قلیل الاستعمال بحریں

 

رجز متدارک مثمن مخبون

6

متقارب ہزج مزاحف نادر الاستعمال بحر

 

متقارب ہزج۔ مثمن مقبوض

66

رمل متدارک مزاحف نادر الاستعمال بحر

 

رمل متدارک مثمن مخبون

66

مشق

70

ادب 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1121
  • اس ہفتے کے قارئین: 3213
  • اس ماہ کے قارئین: 32471
  • کل قارئین : 48495055

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں