• حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، أما بعد فالصراع العلمي والنضال المذهبي بين أهل الحديث والحنفية في القارة الباكندية (باكستان والهند ) أمر معروف و مشهور، و من المسائل المهمة التى كثر حولها الكلام والجدال مسئلة قراءة فاتحة الكتاب في الصلاة خلف الإمام " فوضعوا فيه التأليفات الكبار و سعوا فيما ادعوا من الإثبات والإنكار، ولكن المقلدين قد أكثروا الاستدلال بالرأي والقياس، وظنوا أنه يروج عند كثير من الناس، ثم إذا علموا كساده في سوق الدرايات والروايات، أرادوا أن يلبسوه لباس السنن والآيات، فتكلفوا بل حرفوا. و لم يعرفوا أن هذين العلمين، التكلف فيهما عين الشين وأيضا ليس فرسان هذا الميدان إلا من رزق الفهم في كتاب الله و نال الثريا للإيمان، و هم أهل الحديث الذين ساروا سيرا حثيثا، وأما أولئك فاشتغالهم بعلم الحديث قليل قديما و حديثا فلذا تراهم في كل مسئلة يناظرون فيها أهل الحديث قاصرين، وأهل الحديث عليهم ظاهرين، وكيف يدرك الظالع شأو الضليع، وهل يستوى الخالع والخليع، ومن حمل وزرا فوق طاقته، يهلك أو يسقط من ساعته" و على هذا المنوال ألف شيخ الحنفية العلامة أنور شاه الكشميري كتابه "فصل الخطاب" ودافع عن مذهبه و رد على مخالفه و اشتهر أو شُهِّر عند  بعض الناس بأن كتاب الشيخ المذكور ليس هناك من يستطيع الجواب عليه من أهل الحديث، بل" تحدى به متعصبةُ الحنفية أهلَ الحديث، بل أعلن مؤلفه أن لا يمكن للسلفيين أن يفهموا الكتاب!" حتى وصل الخبر إلى الشيخ الحافظ عبدالله الروبري، فتصدى للرد عليه وألف كتابا ماتعا و سماه "الكتاب المستطاب في جواب فصل الخطاب" فأجاد فيه و أفاد "وقدّم فصلاً في أخطاء الكشميري في العربية نحو الستين غلطاً بعد إسقاط ما يمكن أن يكون من الطابع، وجعل كتاب الكشميري كله على الهامش، لئلا يُقال ترك منه شيئا، فلم يترك جزئية إلا وردّ عليها رداً محكما، وذلك في حياته، وتحدى الحنفية أن يردوا عليه ردًّا علميا، وأعطاهم مهلة أربعين سنة لذلك كما ذكر في الكتاب! وتوفي العلامة الكشميري ولم يرد، وبعد مدة جيء به إلى تلميذه العلامة البنوري ليرد عليه وينتصر لشيخه، ونُقل عنه أنه أبقى الكتاب أياماً عنده، ثم قال: إن الرد عليه يحتاج إلى استيعاب تفهمه أولاً، وقد تعذر عليّ ذلك. فالكتاب دَيْنٌ عليهم إلى الآن. رحم الله الجميع، طُبع الكتاب الطبعة الأولى سنة 1348، والثانية سنة 1396. " ثم لم يتيسر طبعه إلى الآن، ولما كثر السؤال عن هذا الكتاب القيم من الإخوة من العرب والعجم على الشبكات العنكوتية وغيرها ولم يكن هناك مجال لطباعة الكتاب، و كانت نسخ من الكتاب محفوظة في بعض المكتبات العامة والخاصة منها مكتبة "مجلة المحدث" وهي مجلة علمية دعوية ثقافية تصدر شهريا برئاسة الشيخ عبدالرحمن المدني، ابن أخي الشيخ الروبري، تشرف المجلس المعلمي لموقع الكتاب والسنة - وهم أبناء الشيخ المدني و أحفادالشيخ الروبرى – بأمر من فضيلة الشيخ المدني بتصوير هذا الكتاب و رفعه على الشبكة لكي يعم النفع و يستفيد منه القاصي والداني. و تم تصوير الكتاب بمهارة تامة بأرقى أنواع المصورات ، ولكن يعصب قراءة بعض المواضع لكون الكتاب طباعة حجرية كما هو الحال في الكتب القديمة قبل ظهور الطباعة الحديثة. و هذا مما يؤكد على ضرورة إعادة طبع الكتاب مع الخدمة التى تليق بمكانة الكتاب و مصنفه. و إذ نقدم لأهل العلم هذا السفر الجليل نرجو من الله التوفيق والسداد والقبول والإخلاص، وهو المستعان و عليه التكلان. (خ۔ح)

  • ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور دنیا میں اسلامی نظام حکومت کا نفاذ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • محمد ارشد آزاد

    آج جب ہم اعدائے دین کی طرف دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفوں میں ہزارہا اختلافات کے باوجود مکمل ہم آہنگی ،وحدت اور یکجہتی پائی جاتی ہے۔اور جب ہم اپنی طرف دیکھتے ہیں تو ایک خدا ،ایک نبی،ایک قرآن اور ایک کعبہ کے ماننے والے انتشار وخلفشار میں مبتلاء،تفرقہ بازی،دھڑے بندی اور افتراق وتشتت کے ہاتھوں قعر مذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں سسکتے نطر آتے ہیں۔وہ دین جو سراپا اتحاد واتفاق ہے ،اہل ہوس نے اسے فرقہ بندی کے زہر آلود خنجر سے لخت لخت کر دیا ہے اور عالمگیر انسانی اخوت کے داعی گروہ بندی کے زخموں سے چور چور نڈھال پڑے کراہ رہے ہیں اور تہذیب وانسانیت کے دشمن ہر جگہ ان کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔آج امت مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم 58 اسلامی ممالک ہیں۔ 2 ارب مسلمان ہیں۔ ہم بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے آہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔فرقہ بندی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔اس حقیقت کو لوگوں میں آشکار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دین کا درد رکھنے والے لوگ فرقہ پرستی کے خونخوار عفریت کا شکار نہ ہو جانے پائیں۔ زیر تبصرہ کتاب "لا تفرقوا"محترم محمد ارشد آزاد کی تصنیف ہے ،جو اتحاد امت کے لئے ایک کاوش اور کوشش ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی ان کوششوں کو قبول فرمائے اور امت کو تفرقہ بازی سے بچا کر اتحاد واتفاق کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

    ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے اکثر مدارس میں مروج نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس کو بارہویں صدی کے مشہور عالم اور مقدس بزرگ مولانا نظام الدین سہالویؒ نے اپنی فکراور دور اندیشی کے ذریعہ مرتب کیا تھا۔ مولانا کا مرتب کردہ نصاب تعلیم اتنا کامل ومکمل تھا کہ اس کی تکمیل کرنے والے فضلاء جس طرح علوم دینیہ کے ماہر ہوتے تھے اسی طرح دفتری ضروریات اور ملکی خدمات کے انجام دینے میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فارسی زبان ملکی اور سرکاری زبان تھی اور منطق وفلسفہ کو یہ اہمیت حاصل تھی کہ یہ فنون معیار فضیلت تھے اسی طرح علم ریاضی (علم حساب) کی بھی بڑی اہمیت تھی ،چنانچہ مولانا نے اپنی ترتیب میں حالات کے تقاضے کے مطابق قرآن حدیث فقہ اور ان کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے عصری علوم کو شامل کیا اور حالات سے ہم آہنگ اور میل کھانے والا نصاب مرتب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نصاب اس وقت بہت ہی مقبول ہوا اور اس وقت کے تقریباً تمام مدارس میں رائج ہوگیا۔ اب حالات ماضی سے بالکل بدل چکے ہیں۔ منطق وفلسفہ کے اکثر نظریات کی دنیا میں مانگ باقی نہیں رہی ہے اور جدید سائنس نے ان کی جگہ لے لی ہے ، فارسی زبان کی وسعت اتنی محدود ہوگئی ہے کہ وہ صرف ایک مخصوص علاقہ کی زبان کی حیثیت سے متعارف ہے اور اس کی جگہ عربی اور انگریزی نے لے لی ہے ۔آج مدارس اسلامیہ کے فضلاء اور اس میں زیر تعلیم طلبہ کی حالت وصلاحیت ارباب حل وعقد کو یہ آواز دے رہی ہے کہ مدارس کے نصاب پر مولانا نظام الدینؒ کے اصول کی روشنی میں غور کیا جائے اور منطق وفلسفہ کے ’’سکہ غیر رائج الوقت ‘‘کے بجائے عصری تقاضوں کے مطابق کتابوں کو داخل درس کیا جائے اور اس میں پیدا شدہ تعطل وجمود کوختم کر کے ماضی کی طرح آج کے فضلاء کو بھی ہر میدان کا شہسوار بننے کا موقع دیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" دینی مدارس،نصاب ونظام تعلیم اور عصری تقاضے "مولانا ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری صاحب کی مرتب  کردہ ہے،جو 1968ء میں دہلی میں اور 1990ء میں رانچی اور دہلی میں دینی مدارس کے نصاب ونظام  تعلیم پر ہونے والے سیمینارزکی روداد،مقالات اور اس میں ہونے والے علمی  مذاکروں کے علاوہ مشاہیر علمائے کرام ،یونیورسٹیز کے اساتذہ کرام اور ممتاز ماہرین تعلیم کی نگارشات پر مشتمل ہے۔جس میں عصر حاضر کے انہی تقاضوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔یہ کتاب دینی مدارس کے ذمہ داران کے ایک شاندار اور مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

  • مرکز البحوث والدراسات

    یہ دعوی بے بنیاد اور تاریخ کی تحریف ہےکہ  اصحاب رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ ایک  دوسرے کی دشمنی  دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بلکہ وہ تو  کافروں پر بڑے سخت اور آپس  میں ایک دوسرے پر حم کرتے   تھے ۔اور ان کے  درمیان محبت ومودت تھی، ایک  دوسرے کااحترام واکرام تھا اور وہ  ایک دوسرے کی ثناخوانی میں رطب اللسان تھے ان  کے درمیان رشتے داری اور سسرالی رشتہ تھا وہ دین کی سربلندی کرنے ،رسول اللہﷺ کی مدد کرنے  اورکافروں کے خلاف جہاد کرنے میں شریک تھے۔اور یہ  بات ہر ایک کومعلوم ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ اورآل رسول  سب اہل فضل اورافضل لوگ ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ آل رسول واصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواں ‘‘  ایک عربی کتاب ’’ الثناء  المتبال  بین  الآل  والاصحاب ‘‘ کا  اردو ترجمہ  ہے جس میں آل رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف اور صحابہ  کرام کی طرف سے  آل  رسول  کی تعریف وتوصیف کے سلسلے میں نصوص پیش کیے گئے ہیں۔جس کے مطالعہ سے یہ بات  واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے  کہ آل رسول  اور اصحاب رسول  اپنے دلوں میں  ایک دوسرے  سے محبت ومودت اور عزت رکھتے تھے۔ اللہ  تعالیٰ مترجم وناشرین کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کو  امت مسلمہ کے لیے   آل رسولﷺ واصحاب رسول ﷺسے  محبت اور ان کی عزت واحترام  کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ام عبد منیب

    صدقہ ایک مستحب اور نفلی عبادت ہے  جس کے تعلق تزکیہ نفس سے بھی ہے اور تزکیہ مال سےبھی۔ اللہ کی راہ  میں خرچ کیا گیا مال تبھی صدقہ کہلا سکتا  ہے اوراس پر اجر مل سکتا ہے جب کہ وہ مشروع آداب وشرائط کے ساتھ دیا  جائے ۔ ایک مسلمان ایمان لانے کےبعد ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس کی  خوشنودی ،اس کی تعظیم، اس کی عبادت اوراس کی رحمت حاصل کرنے کےلیے  کرنے کا پابند ہے ۔ صدقہ چونکہ مالی عبادت اور ایک نیک عمل ہے لہٰذا یہ اللہ کے علاوہ اور کسی کےلیے کرنا حرام ہے ۔جوشخص حلال کمائی میں سے  ایک کھجور کےبرابر صدقہ کرے  تو اللہ اس کواپنے ہاتھ میں لیتا  ہے پھر صدقہ دینے  والے  کےلیے  اسے  پالتا ہے  جیسے تم میں سے کوئی اپنابچھڑا پالتا  یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کےبرابر ہوجاتا ہے۔ اور حرام کمائی سے دیا ہوا صدقہ اللہ تعالیٰ قبول  نہیں کرتا ۔ زیرنظرکتابچہ ’’ صدقہ کیوں اور کسے  دیں‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے  جس میں انہوں نے صدقہ کا معنی  مفہوم اور صدقہ دینے کے آداب وفوائد اور صدقہ کے مستحقین کو  بیان کرنے کےعلاوہ  صدقہ  کے جملہ احکام ومسائل کو   بڑے آسان  فہم انداز میں  دلائل کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام دعوتی ، تدریسی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

  • محمد انور بن اختر

    مسلمان ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے اس نعمت کے مقابلہ میں دنیا جہاں کی تمام نعمتیں ہیچ او ر بے حیثیت ہیں۔ اسلام کتنی عظیم نعمت ہے اسکا احساس یہودیت اور عیسائیت سے توبہ تائب ہوکر اسلام لانے والو ں کے حالات پڑ ھ کر ہوتا ہے۔اسلام کی نعمت عطا فرماکر اللہ تعالی ٰ نے یقیناً اپنے بندوں پر بڑا انعام فرمایا ہے۔ لیکن اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے یہ ہرگز معمولی بات نہیں کہ ایک شخص اپنے ماحول خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور تلاشِ حق میں اس راستے پر گامزن ہوتاہے جوہزاروں گھاٹیوں اور دشواریوں سے بھرا ہوتا ہے مگر وہ ہر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے اور ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے یہ کام یقیناً انھی لوگوں کا جن کے حوصلے بلند اور ہمتیں غیر   متزلزل ہوتی ہیں اہل عزیمت کایہ قافلہ قابل صد مبارک باد اور قابل تحسین ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ ہم نےکیو ں اسلام قبول کیا ؟‘‘ محمد انور بن اختر کی مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے یہودیت اور عیسائیت سے اسلام لانے والے مردوں کےایمان فروز حالات کو   عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔تاکہ لوگوں میں ان حالات کوپڑ ھ کر اللہ کے شکر   کاداعیہ پیدا ہو اور لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے دین ِاسلام میں کفار کس تیزی سے داخل ہورہے ہیں ۔اس وقت اسلام دنیا میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے جس کے سائے میں دنیا بھر کے مسلم جوق درجوق داخل ہور ہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اشاعت اسلام کا ذریعہ بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین

    کسی بھی مسلمان کے لئے یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کو تدریس ،تقریر یا تحریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے،آپ ﷺ نے ایسے سعادت مند افراد کے لئے تروتازگی کی دعا فرمائی ہے۔چنانچہ محدثین کرام ﷭نے اسی سعادت اور کامیابی کے حصول کے لئے کوششیں کیں احادیث نبویہ کو اپنی اپنی کتب میں جمع فرمایا۔اسلام کے انہی درخشندہ ستاروں میں سے ایک علامہ علاء الدین علی متقی بن حسام الدین ہندی برھان پوری ﷫ہیں ،جنہوں نے زیر تبصرہ کتاب " کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال "تصنیف فرمائی ہے۔اور اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا مفتی احسان اللہ شائق نے حاصل کی ہے۔یہ کتاب دراصل امام سیوطی﷫ کی ہے ۔انہوں نے پہلے "الجامع الکبیر"نامی ایک کتاب لکھی ،جس میں تمام احادیث کو جمع فرمایا،اور یہ کتاب آج بھی نام سے موجود ہے۔اس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کو حروف تہجی کی ترتیب پر مرتب فرمایا،اور قسم الاقوال اور قسم الافعال دونوں کو الگ الگ جمع فرمایا۔پھر اسی جامع الکبیر کی قسم الاقوال میں سے مختصر احادیث کو منتخب کیا اور "الجامع الصغیر "نامی کتاب لکھ ڈالی۔پھر کچھ عرصہ بعد "جامع صغیر " کا استدراک کرتے ہوئے "زوائد الجامع "نامی کتا ب لکھ دی۔علامہ علاء الدین علی متقی ﷫کا کام یہ ہے کہ انہوں نے امام سیوطی﷫ کی ان کتب کو فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے "کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال"نامی یہ کتاب تالیف فرمادی،جو نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ پر مشتمل ایک عظیم الشان ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ کی احادیث مباکہ پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • عبد الغفور اثری

    رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی  ہے ۔  کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے  کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے  رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ رمضان ‘‘مولانا عبد الغفور اثری ﷫ کے سیالکوٹ کی  ایک مسجد میں رمضان المبارک میں  دیئے  گئے  دروس کا مجموعہ ہے  جس میں  انہو ں  ماہ رمضان کے فضائل وبرکات ،صوم رمضان کی فرضیت، قیام رمضان ، شب قدرآخری عشرہ  میں  عبادت اور نفلی روزوں  کی فضیلت کو  بڑے احسن انداز میں  دلائل کےساتھ  بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی  مساعی جمیلہ کوقبول فرمائےاور تمام اہل اسلام کو  رمضان المبارک کی  تعظیم اور قدر کی  توفیق عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ابو الحسن مبشر احمد ربانی

    اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالمِ دین اور احکام ِشریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے۔ فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے ۔ برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ کتاب صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔زیر نظر کتاب ''کتاب وسنت کی روشنی میں آپ کے مسائل اور ان کاحل''جماعت اہل حدیث کے مایہ ناز عالم دین،محقق،مناظر مولانا ابو الحسن مبشرربانی ﷾ کے علمی وتحقیقی فتاویٰ جات پرمشتمل ہے۔جسے مؤقر جریدہ''مجلۃ الدعوۃ''سے جمع کیا گیا ہے ۔اس کتاب میں متعدد اختلافی وغیر اختلافی،قدیم وجدید مسائل پر انتہائی عمدہ،مختصر وجامع اورسیر حاصل تحقیق موجود ہے ۔یہ کتاب عام مسلمانوں بلکہ علماء کرام لیے از حد مفیداوربیش قیمت علمی تحفہ ہے ۔اللہ تعالی مؤلف ِکتاب مولانا مبشراحمد ربانی ﷾ کو جزائے خیرسے نوازے او رکتابِ مذکور کوان کاتوشہ آخرت بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760454

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں