کل کتب 5

دکھائیں
کتب
  • 1 #1099

    مصنف : محمود احمد غضنفر

    مشاہدات : 16660

    حکمران صحابہ رضی اللہ عنہم

    (بدھ 01 فروری 2012ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    نبی اکرمؐ کے وصال پر ملال کے بعد آپ ﷺ کے رفقائے عالی مقام کا دور آتا ہے جنہیں صحابہ کرام کے پر عظمت لقب سے پکارا جاتا ہے۔ تاریخ انتہائی فخر اور احترام کے ساتھ اس گروہ کا ذکر کرتی ہے اور فیصلہ دیتی ہے کہ انبیاء و رسلؑ کے بعد اس سطح ارض پر اور آسمان کی نیلی چھت کے نیچے آج تک کوئی ایسی جماعت پیدا نہیں ہوئی جو صحابہ کرامؓ کی ہم سری کا دعویٰ کر سکے اور نہ آئندہ قیامت تک پیدا ہو گی۔ صحابہ کرامؓ کی مقدس و مبارک جماعت بے شمار خصوصیات کی حامل تھی اور ان میں سے بعض حضرات میں بعض خصوصیات خاص طور پر بے حد نمایاں تھیں جن میں ایک خصوصیت ’’طرزِ حکمرانی‘‘ تھی۔ جن حضرات بلند مرتبت میں یہ خصوصیت پائی جاتی تھی انہیں خود نبی کریم ﷺ نے بھی بعض مقامات پر والی اور حاکم مقرر فرمایا اور آپ کے بعد خلفاء راشدین کے عہد بابرکت میں بھی ان کی اس خصوصیت و صلاحیت سے فائدہ اُٹھایا گیا۔ زیر نظر کتاب میں مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے صحابہ کرام کی اسی خصوصیت کو دادِ تحسین سے نوازا ہے۔ اسلامی ریاست و حکومت کے موضوع پر یہ نہایت اہم کتاب ہے کہ جس میں ان صحابہ کرام کو جمع کر دیا گیا ہے جنہوں نے مختلف مقامات میں داد حکمرانی دی۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قسم کی حکمرانی کی تلقین کرتا ہے اور مسلمان حکمران کے اصل فرائض کیا ہیں؟ اس کتاب میں ایسے صحابہ کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے اسلامی مملکت کے مختلف علاقوں میں حکومت کے فرائض سر انجام دیئے۔ عالم اسلام کے موجودہ حکمران اس کتاب کو مشعل راہ بنا کر دنیاو آخرت کی سعادتوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔ صحابہ کرام کی حیات طیبہ کو منصۂ شہود پر لانا، ان کے کارناموں کو نکھار کر پیش کرنا اور لوگوں کے علم و مطالعہ میں لانا واقعی ہی بہت بڑی سعادت اور عظیم  خدمت ہے۔ (آ۔ ہ)
     

  • 2 #1311

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 16937

    شان حسن وحسین رضی اللہ عنہما

    (جمعرات 24 مئی 2012ء) ناشر : راسخ اکیڈمی لاہور وفیصل آباد

    حسنین کریمین اور اہل بیت سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے بہت سی جگہوں پر افراط اور تفریط نظر آتی ہے جو کسی بھی طور قابل تائید نہیں ہے۔ عام طور پر اہل حدیث حضرات پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اہل بیت اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے معاذ اللہ عداوت رکھتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے اس الزام کو بے سروپا الزام ثابت کیا ہے۔ انھوں نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی شان سردار انبیاء ﷺ کی زبان سے بیان کی ہے۔ حتی الوسع صیح روایات کا اہتمام کیا گیا ہے اور کوئی بھی روایت حسن درجے سے کم نہیں ہے۔ بعض مقامات پر صحابہ کرام کی دونوں صاجزادوں سے محبت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 3 #8053

    مصنف : عبد اللہ دانش

    مشاہدات : 447

    متن اربعین حسین رضی اللہ عنہ

    (ہفتہ 21 دسمبر 2019ء) ناشر : مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد

    سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے اور سیدنا علی  ﷜ لخت جگر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے  سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا گیا او ر سر کے بال مونڈے گئے ۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین  دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے   اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔  سیدنا حسین نے پچیس حج پیدل کیے۔جہاد میں بھی حصہ لیتے رہے۔پہلا لشکر جس نے قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔اس میں بھی تشریف لے گئے۔ وہاں میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی وفات ہوئی تو امام کے پیچھے ان کے جنازے میں بھی شریک ہوئے۔آخری مرتبہ جب مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہلے ہزاروں کوفیوں نے ان کی بیعت کی پھر بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین مقام ثعلبہ پہنچے تو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کے بیٹوں سے مشورہ کے بعد یزید سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم بن عقیل کے بیٹے ہمراہ تھے ۔کوفہ سے دور مقامِ ثعلبہ سے کوفہ کی بجائے شام کا راستہ اختیار فرما لیا۔مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔ ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لہذا انہوں نے راستہ روکا ۔خطوط تو نہ ہتھیا سکے مگر ابن زیاد سے براہ راست  بیعت یزید کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سیدنا حسین  ﷜نے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔وہ میرا ابن عم ہی تو ہے۔مگر ظالمو نے ایک شرط بھی نہ مانی اورنواسۂ رسول کو  شہید کر دیا۔ زیر نظر کتاب’’متن اربعین سیدنا حسین﷜‘‘امریکہ میں  طویل عرصہ سےمقیم معروف مذہبی سکالر فضیلۃ الشخ عبداللہ دانش﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے  موصوف نے بڑی   عرق ریزی سے مستنداور معتبر روایات کا سہارا لیتے ہوئے ذخیرۂ احادیث سے نبی کریم ﷺ کی اپنے  نواسے سیدنا حسین ﷜ کے متعلق چالیس صحیح احادیث مبارکہ کا مجموعہ ’’ اربعین  سیدنا  حسین﷜‘‘ کے نام مرتب کر کے بڑے  اجھےاسلوب میں سیدنا حسین ﷜ کی حیثیت، شخصیت اورکردار کو بڑے ہی باوقار انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ صاحب  تصنیف کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی وتبلیغی   خدمات کو قبول فرمائے  اور ان کےعلم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے۔ (آمین)  (م۔ا)

  • 4 #651

    مصنف : عتیق الرحمن سنبھلی

    مشاہدات : 98570

    واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر

    (اتوار 24 فروری 2013ء) ناشر : الفرقان بکڈپو نیا گاؤں مغربی نظیرآباد لکھنؤ

    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل  پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، خانہ جنگی، صلح حسین  رضی اللہ عنہ پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔(ع۔م)
     

  • 5 #1276

    مصنف : تفضیل احمد ضیغم ایم اے

    مشاہدات : 18317

    ہمیں حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کیوں ہے؟

    (منگل 01 مئی 2012ء) ناشر : دار الخلد، لاہور

    حضور نبی کریمﷺ کےاہل بیت اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے محبت مسلمانوں کا جزو ایمان ہے۔ لیکن اس حوالے سے افراط و تفریط کسی طور ناقابل قبول نہیں ہے۔ پیش نظر کتاب کا عنوان ’ہمیں حسین سے محبت کیوں  ہے؟‘ ایک سوال ہے جس کا جواب کتاب کے صفحات پر موجود ہے۔ عنوان سے اگرچہ یہ مترشح ہو رہا ہے کہ اس کتاب کے مندرجات حضرت حسین رضی اللہ عنہ  سے متعلق ہوں گے لیکن اس میں دیگر اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب کا بھی موجود ہے۔ اس میں مدحت حسنین اور دیگر اہل بیت سے متعلق حضور نبی کریمﷺ کے ارشادات کو جمع کر کے ایک گلدستہ تیار کیا گیا ہے۔ تمام روایات کو باحوالہ نقل کیا گیا ہے اور علامہ البانی کی تحقیق پر اعتماد کیا گیا ہے۔  (ع۔ م)

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1456
  • اس ہفتے کے قارئین 5320
  • اس ماہ کے قارئین 43714
  • کل قارئین49303481

موضوعاتی فہرست