اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

عبد المنان راسخ

  • نام : عبد المنان راسخ

کل کتب 21

دکھائیں
کتب
  • 1 #1018

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 24173

    خوشبوئے خطابت

    (خوشبوئے خطابت) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    خطابت دعوت دین کا اہم ذریعہ اور عوام الناس  کو دین کا پابند بنانے کا بہترین محرک ہے۔لہذا داعی کےلیے لازم ہے کہ وہ اوصاف خطابت سے کما حقہ بہرہ ور ہو اور لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کا خاص ملکہ رکھتا ہو۔ماضی وحال میں جتنے بھی اچھے خطیب ہوئے ہیں ان کا اچھا خاصہ حلقہ اثر بھی ہے اور باعمل وباکردار خطبا کے عوام پر اچھے اثرات بھی قائم ہیں۔سو منبر ومحراب کی ذمہ داری کو ماحذ عوام پر خطابت کی دھاک بٹھانے ،فنے خطابت سے لوگوں کو اپنا درویدہ بنانے اور معاش کا ذریعہ بنانا ہی مقصود نہ ہو۔بلکہ زور خطابت سے دین کی اشاعت جاہل عوام تک اسلام کا پیغام پہنچانا ،مستشرقین کے باطل نظریات کا توڑ کرنا اور کتاب وسنت سے مدلل دلائل کے ذریعے اسلام کی حقانیت ثابت کرنا مقصود ہو۔جمعہ اور درس کی تیاری کے لیے خود ساختہ واقعات کے انتخاب اور لوگوں کی خوشنودی اور واہ واہ حاصل کرنے کے بجائے آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے مواد لیا جائے۔اور خوب تیاری کر کے منتخب موضوع کا حق ادا کیا جائے۔ان چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے ممدوح فضیلت الشیخ عبدالمنان راسخ حفظہ اللہ کا یہ مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے ۔جو فن خطابت کا حسین شاہکار اور خطبا کے لیے روشن مثال ہے ۔(ف۔ر)
     

  • 2 #1200

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 23495

    نرمی

    (نرمی) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    آپ ﷺ کا ارشاد ہے’’ جس چیز میں نرمی آ جاتی ہے  اسے خوبصورت بنا دیتی ہے او رجس چیز  سے چلی جاتی ہے  اس کی قدر و قیمت کم کر دیتی ہے۔‘‘نرمی ایک بڑا اخلاقی وصف ہے جو شخصیت پر مثبت اثرات چھوڑتا ہے ۔ اسی وجہ سےانبیاء  خود بھی  نرم خو  او ررحمت و رافت کا مجسمہ ہوتے ہیں اور اپنے پیروں کاروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب میں مولانا  عبدالمنان راسخ نے  بڑی خوبصورتی سے اس موضوع کا احاطہ کیا ہے ۔انہوں نے نرمی کے ضمن میں زندگی کے تمام گوشو ں  کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے مثلا ماں باپ کے ساتھ نرمی، بیوی بچوں کے ساتھ نرمی،ہمسایوں کے ساتھ نرمی، مہمانوں کے ساتھ نرمی،سائلین اور مزدورں کے ساتھ نرمی، دشمنوں اور غیرمسلموں کے ساتھ نرمی۔اور اسی طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کے ساتھ نرمی پر بھی بحث کی ہے۔موصوف  زندگی کے ان تمام گوشوں کو 54 احادیث  کے تحت زیر بحث لائے ہیں ۔اور احادیث میں رطب ویابس کے بجائے  صحت کا التزام کیا ہے ۔ موصوف   نے قلم اٹھاتے ہوئے اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا ہے  جو کتاب کے منہج سے واضح ہے ۔ کتاب کا منہج ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:اپنے موقف ،عقیدے ،اور نظریئے میں جو صحیح کتاب وسنت سے ثابت ہے اس میں کوئی لچک ،سمجھوتہ یا ڈھیل نہیں ہونی چاہیے البتہ اپنے افکار و نظریات اور ما فی الضمیر کو بیان کرتے  وقت شستگی ،شائستگی اور شگفتی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔(ناصف)
     

  • 3 #1311

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 16977

    شان حسن وحسین رضی اللہ عنہما

    (شان حسن وحسین رضی اللہ عنہما) ناشر : راسخ اکیڈمی لاہور وفیصل آباد

    حسنین کریمین اور اہل بیت سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے بہت سی جگہوں پر افراط اور تفریط نظر آتی ہے جو کسی بھی طور قابل تائید نہیں ہے۔ عام طور پر اہل حدیث حضرات پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اہل بیت اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے معاذ اللہ عداوت رکھتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے اس الزام کو بے سروپا الزام ثابت کیا ہے۔ انھوں نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی شان سردار انبیاء ﷺ کی زبان سے بیان کی ہے۔ حتی الوسع صیح روایات کا اہتمام کیا گیا ہے اور کوئی بھی روایت حسن درجے سے کم نہیں ہے۔ بعض مقامات پر صحابہ کرام کی دونوں صاجزادوں سے محبت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 4 #1556

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 18464

    رحمت کے فرشتے آپ کے پاس

    (رحمت کے فرشتے آپ کے پاس) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    اللہ تعالیٰ نے بعض اعمال ایسے مقرر فرمائے ہیں جن کی انجام دہی پر حوصلہ افزائی کے طور پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ رحمتوں کا نزول فرما کر، کبھی فرشتوں کو مبعوث فرما کر، کبھی مقرب ملائکہ کے ذریعہ بشارتیں سنا کر اور کبھی رحمت کے فرشتوں کو ان کانگران بنا کر ان کی عزت اور عظمت میں اضافہ فرماتے ہیں۔ معدودے چند خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کے فرشتے تشریف لاتے ہیں۔ اور یقیناً یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ اس مختصر سے رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے 25 ایسے اعمال صحیح احادیث کی روشنی میں تحریر کیے ہیں۔ جن کی ادائیگی پر رحمت کے فرشتوں کا v.i.pپروٹوکول حاصل ہوتا ہے۔  (ع۔م)
     

  • 5 #1757

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6491

    گالی ایک سنگین جرم ایک خطرناک گناہ

    (گالی ایک سنگین جرم ایک خطرناک گناہ) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    آج کے اس پرفتن دور میں اصلاح معاشرہ کے موضوع پر جو کچھ بھی لکھا جائے وہ جہاد سے کم نہیں۔ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر اس قدر دیوالیہ ہو چکا ہے کہ مسجد و محراب سے بھی اخلاق سے عاری گفتگو سننے کو مل رہی ہے ۔ مسلک و فرقہ کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو گالیاں دینا معمول بن چکا ہے ۔ عوام الناس کا یہ حال ہے کہ ان کی گفتگو میں ماں بہن کا نام لے کر ایسی ایسی گالیاں دی جاتی ہیں جن کو سن کر سلیم الطبع آدمی شدید کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ مگر گالیاں دینے والے اور  سننے والے اس سے ذرا بھی بدمزہ نہیں ہوتے ۔ قرآن و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی اکثریت صرف اپنی زبان کی وجہ سے جہنم میں اوندھے منہ پڑے گی ۔ پھر اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ علم و تحقیق کے موضوع پر بڑے بڑے پچیدہ موضوعات پر کتابیں اور مقالات شائع ہو رہے ہیں ۔ مگر اصلاح معاشرہ کے موضوع پہ نہ تو خطبات سننے کو ملتے ہیں نہ پڑھنے کو کتابیں ۔ زیرنظر کتابچہ اسی سلسلے کی ایک کاوش  ہے جس میں احادیث اور قرآن کی روشنی میں اس  گناہ  کی  قباحت  و شناعت واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالی ہمیں اس لعنت سے بچنے کی توفیق عطافرمائے ۔ اور اس کتابچے کے مصنف مولاناعبدالمنان کو اجر جزیل سے نوازے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 6 #2840

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6184

    منہاج الخطیب

    (منہاج الخطیب) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب)  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’منہاج الخطیب‘‘ محترم مولانا  ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے  جوکہ  علماء  خطبا اورواعظین کےلیے  19 علمی وتحقیقی  خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب  کے آغاز میں  خطباء     اور واعظین  حضرات  کے لیے مصنف کا  تحریرکردہ’’  کامیاب  خطیب کےلیے  قابل غور  باتیں اور موجود ہ حالات میں  صحیح خطابت کا منہج ‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ  بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔  موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد  کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں  میں  شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے  علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف  جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں  حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی  بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف  ایک اچھے مصنف  ہونے کے ساتھ  ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد  میں خطابت کافریضہ انجام  دینے کےساتھ ساتھ  تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن  کتب کےمصنف ہے۔ جن  میں سے   چار کتابیں(خشبو ئے  خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا منہاج الخطیب کو  موصوف نے   بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے  اور  اس کتاب میں  کوئی روایت علی الاطلاق ضعیف نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو  شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں  اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 7 #2953

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6455

    ترجمان الخطیب

    (ترجمان الخطیب) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی   ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ترجمان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے چودہ علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے۔ خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے۔ مولانا راسخ صاحب تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ اور عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور قلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)۔م۔ا) خطبات و مقالات

  • 8 #3354

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 5637

    حصن الخطیب

    (حصن الخطیب) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب وغیرہ ) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’حصن الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 16 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چوتھا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا حصن الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا) 

  • 9 #3355

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 4598

    مصباح الخطیب

    (مصباح الخطیب) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ  کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن  الخطیب )  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔( م۔ا)

  • 10 #3424

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 2884

    کیا ہم اللہ کا ادب کرتے ہیں

    (کیا ہم اللہ کا ادب کرتے ہیں) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    ادب ہر کام کے حسن کا نام ہے اور سایۂ ادب میں جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ ادب ایک روشنی ہے جس سے زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک الۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی ہے ۔ ادب ایک دوا ہے جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے ااقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے آداب کےلیے ہزاروں جتن ہوتے ہیں مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی وبربادی کےسیلاب سے بچنا مشکل ہی نہیں بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس قدر ضروری ہے۔ انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے۔ یعنی جو بادب ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل میں بدترین حیوان ہے ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک کی خوشنودی ورضا جوئی کے لیے دین کے مطابق ایسا اعلیٰ سلیقہ، عمدہ طریقہ اور اچھا انداز اپنانا جو قابل تحسین اور باعث تعریف ہو ۔ جس سے واضح معلوم ہو کہ بندہ اپنے الٰہ کو صرف مانتا ہی نہیں بلکہ اس کےدربار کےآداب سےبھی بخوبی آگاہے ۔سادہ لفظوں میں ادب الٰہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی وبڑائی کومان کر اس کے سامنے بے بسی ، بے حیثیتی ، عاجزی وانکساری کاہر ایک تقاضا اس انداز سےپورا کرنا کہ جس میں عمدگی، نفاست اوراعلیٰ تہذیب نظر آئے اور کوئی ایسی عادت وحرکت سرزد نہ ہو جو شہنشاہ کائنات کی عزت ،عظمت، بزرگی اور شان کے خلاف ہو ۔ غرض کہ اپنے الٰہ کی شایان شان معاملہ کرنا ادب ہے۔نبی کریم ﷺ نے ساری زندگی ادبِ الٰہی کےتقاضوں کوپورا کرتےہوئےبسر کی۔ آپ نےقدم قدم پہ ادبِ الٰہ کی ایسی عظیم مثالیں پیش فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نےآپﷺ کی اس صفت کوقرآن مجید میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے محبوب ﷺ آپ   آداب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔آپ ﷺ کوادب الٰہ میں درجہ کمال اس لیے بھی حاصل تھا کہ آپ ﷺ کوتمام آداب اللہ تعالیٰ نے خود سکھلائے جس طرح کہ آپ ﷺ کافرمان ہے: أدبني ربي فأحسن تأديبي میرے رب نےمجھے ادب سکھلایا اور بہترین ادب سکھلایا۔آپ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کی تعظیم ،احترام اور ادب میں کس قدر عالی مقام پایا اس کی مکمل جھلک مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ نے زیرتبصرہ کتاب ’’کیا ہم اللہ کاادب کرتے ہیں؟ ‘‘میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے آسان فہم اندازمیں پیش کی ہے۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں ادب ِالٰہی کے10 تقاضے بہت اختصار اور جامعیت سے بیان کیے ہیں جن کو پورا کرنے سے بندہ اپنےخالق ومالک کا بادب بن جاتا ہےاوران سے انحراف کرنے والاادب کی دولت سے محروم اور ناکام رہتا ہے۔ ادب الٰہ کے 10 تقاضوں کوجامعیت کےساتھ بیان کرنے کےبعد موصوف نے جعلی ادب کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب غیر ثابت شدہ روایات وواقعات سے مکمل پاک ہے ۔اگرچہ اس میں خطیبانہ انداز غالب ہے ۔کیونکہ یہ مصنف کے مرکزی مسجد مومن آباد، فیصل آباد میں پڑہائے گئے خطبات کا مجموعہ ہے۔کتاب ہذا کے مصنف مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے مدرس ، خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں۔ تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے   چھ کتابیں(خشبو ئے خطابت، ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب، حصن الخطیب، بستان الخطیب ، مصباح الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

< 1 2 3 >

کل کتب 2

دکھائیں
کتب
  • 1 #5020

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    من اطیب فی علم المصطلح ( جدید ایڈیشن )

    (ہفتہ 31 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، لاہور

    جس طرح عربی زبان کو جاننے کے لیے گرائمر کا سمجھنا ازحد ضروری ہے  اسی طرح حدیث شریف میں مہارت حاصل کرنے کےلیے اصول حدیث  میں دسترس رکھانا لازمی ہے ۔اصول حدیث سے مراد ایسے  معلوم قاعدوں اور ضابطوں  کا  علم ہے  جن کے  ذریعے سے کسی  بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے    کہ آیا  راوی یا اس کی حدیث  قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم  اصولِ حدیث ایک ایسا  ضروری علم  ہے جس کے بغیر حدیث  کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم   میں کما حقہ درک حاصل   کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر   ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔انہی کتب اصول حدیث میں سب سے زیادہ مختصر ، جامع اور آسان ترین زیر تبصرہ  کتاب ’’ من اطیب المنح فی علم المصطلح‘‘ ہے ۔یہ  کتاب  مدینہ یونیورسٹی  کے پروفیسرشیخ عبد المحسن  العباد اور عبد الکریم  المرام کی مرتب شدہ  ہے اصول حدیث میں اس سے مختصر، جامع اور آسان  کوئی کتاب نہیں ہےیہی وجہ کہ یہ بڑے بڑے جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے ۔اس کتاب کو پڑھ کر  اصول حدیث کی  وافر معلومات   سے آگاہی ہوجاتی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر  جناب مولانا عبد المنان راسخ﷾ اور مولانا محفوظ اعوان  ﷾ نے نہایت  محنت سے  اس کا بہترین آسان  وسلیس  اردوترجمہ کیا ہے ۔ (م۔ا)

  • 2 #6198

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    سیرت رسولﷺ

    (جمعہ 19 جنوری 2018ء) ناشر : فہم دین انسٹیٹیوٹ لاہور

    اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کااہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی  اور تربیت کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم   سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر  کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ  وتربیت کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔  اپنے  اہل خانہ او رزیر کفالت افراد کی دینی اور اخلاقی تربیت ایک اہم دینی فریضہ او رذمہ داری ہے جس کے متعلق قیامت کےدن ہر شخص جواب دہ ہوگا ۔دعوت وتبلیع   اور اصلاح امت کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔
    زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت رسولﷺ ‘‘ الشیخ دکتور محمد صویانی نے انتہائی عمدہ اسلوب میں تالیف کی ہے مگر اس کا ترجمہ عبد المنان راسخ اور مولانا عباس انجم نے کیا ہے۔ اس کتاب میں نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور آپ کی حیات اقدس کی تعبیر و تصویر ہیں۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)
     

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1936
  • اس ہفتے کے قارئین 7776
  • اس ماہ کے قارئین 59809
  • کل قارئین49532851

موضوعاتی فہرست