عبد المنان راسخ

21 کل کتب
دکھائیں

  • 1 خوشبوئے خطابت (منگل 29 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:22552

    خطابت دعوت دین کا اہم ذریعہ اور عوام الناس  کو دین کا پابند بنانے کا بہترین محرک ہے۔لہذا داعی کےلیے لازم ہے کہ وہ اوصاف خطابت سے کما حقہ بہرہ ور ہو اور لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کا خاص ملکہ رکھتا ہو۔ماضی وحال میں جتنے بھی اچھے خطیب ہوئے ہیں ان کا اچھا خاصہ حلقہ اثر بھی ہے اور باعمل وباکردار خطبا کے عوام پر اچھے اثرات بھی قائم ہیں۔سو منبر ومحراب کی ذمہ داری کو ماحذ عوام پر خطابت کی دھاک بٹھانے ،فنے خطابت سے لوگوں کو اپنا درویدہ بنانے اور معاش کا ذریعہ بنانا ہی مقصود نہ ہو۔بلکہ زور خطابت سے دین کی اشاعت جاہل عوام تک اسلام کا پیغام پہنچانا ،مستشرقین کے باطل نظریات کا توڑ کرنا اور کتاب وسنت سے مدلل دلائل کے ذریعے اسلام کی حقانیت ثابت کرنا مقصود ہو۔جمعہ اور درس کی تیاری کے لیے خود ساختہ واقعات کے انتخاب اور لوگوں کی خوشنودی اور واہ واہ حاصل کرنے کے بجائے آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے مواد لیا جائے۔اور خوب تیاری کر کے منتخب موضوع کا حق ادا کیا جائے۔ان چیزوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے ممدوح فضیلت الشیخ عبدالمنان راسخ حفظہ اللہ کا یہ مجموعہ ترتیب دیا گیا ہے ۔جو فن خطابت کا حسین شاہکار اور خطبا کے لیے روشن مثال ہے ۔(ف۔ر)
     

  • 2 نرمی (اتوار 16 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:22886

    آپ ﷺ کا ارشاد ہے’’ جس چیز میں نرمی آ جاتی ہے  اسے خوبصورت بنا دیتی ہے او رجس چیز  سے چلی جاتی ہے  اس کی قدر و قیمت کم کر دیتی ہے۔‘‘نرمی ایک بڑا اخلاقی وصف ہے جو شخصیت پر مثبت اثرات چھوڑتا ہے ۔ اسی وجہ سےانبیاء  خود بھی  نرم خو  او ررحمت و رافت کا مجسمہ ہوتے ہیں اور اپنے پیروں کاروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ  کتاب میں مولانا  عبدالمنان راسخ نے  بڑی خوبصورتی سے اس موضوع کا احاطہ کیا ہے ۔انہوں نے نرمی کے ضمن میں زندگی کے تمام گوشو ں  کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے مثلا ماں باپ کے ساتھ نرمی، بیوی بچوں کے ساتھ نرمی،ہمسایوں کے ساتھ نرمی، مہمانوں کے ساتھ نرمی،سائلین اور مزدورں کے ساتھ نرمی، دشمنوں اور غیرمسلموں کے ساتھ نرمی۔اور اسی طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کے ساتھ نرمی پر بھی بحث کی ہے۔موصوف  زندگی کے ان تمام گوشوں کو 54 احادیث  کے تحت زیر بحث لائے ہیں ۔اور احادیث میں رطب ویابس کے بجائے  صحت کا التزام کیا ہے ۔ موصوف   نے قلم اٹھاتے ہوئے اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیا ہے  جو کتاب کے منہج سے واضح ہے ۔ کتاب کا منہج ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:اپنے موقف ،عقیدے ،اور نظریئے میں جو صحیح کتاب وسنت سے ثابت ہے اس میں کوئی لچک ،سمجھوتہ یا ڈھیل نہیں ہونی چاہیے البتہ اپنے افکار و نظریات اور ما فی الضمیر کو بیان کرتے  وقت شستگی ،شائستگی اور شگفتی کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔(ناصف)
     

  • 3 شان حسن وحسین رضی اللہ عنہما (جمعرات 24 مئی 2012ء)

    مشاہدات:16061

    حسنین کریمین اور اہل بیت سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے لیکن ہمیں اس حوالے سے بہت سی جگہوں پر افراط اور تفریط نظر آتی ہے جو کسی بھی طور قابل تائید نہیں ہے۔ عام طور پر اہل حدیث حضرات پر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اہل بیت اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے معاذ اللہ عداوت رکھتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے اس الزام کو بے سروپا الزام ثابت کیا ہے۔ انھوں نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی شان سردار انبیاء ﷺ کی زبان سے بیان کی ہے۔ حتی الوسع صیح روایات کا اہتمام کیا گیا ہے اور کوئی بھی روایت حسن درجے سے کم نہیں ہے۔ بعض مقامات پر صحابہ کرام کی دونوں صاجزادوں سے محبت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 4 رحمت کے فرشتے آپ کے پاس (ہفتہ 11 اگست 2012ء)

    مشاہدات:18018

    اللہ تعالیٰ نے بعض اعمال ایسے مقرر فرمائے ہیں جن کی انجام دہی پر حوصلہ افزائی کے طور پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ رحمتوں کا نزول فرما کر، کبھی فرشتوں کو مبعوث فرما کر، کبھی مقرب ملائکہ کے ذریعہ بشارتیں سنا کر اور کبھی رحمت کے فرشتوں کو ان کانگران بنا کر ان کی عزت اور عظمت میں اضافہ فرماتے ہیں۔ معدودے چند خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کے فرشتے تشریف لاتے ہیں۔ اور یقیناً یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ اس مختصر سے رسالہ میں محترم عبدالمنان راسخ نے 25 ایسے اعمال صحیح احادیث کی روشنی میں تحریر کیے ہیں۔ جن کی ادائیگی پر رحمت کے فرشتوں کا v.i.pپروٹوکول حاصل ہوتا ہے۔  (ع۔م)
     

  • 5 گالی ایک سنگین جرم ایک خطرناک گناہ (جمعرات 18 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:6027

    آج کے اس پرفتن دور میں اصلاح معاشرہ کے موضوع پر جو کچھ بھی لکھا جائے وہ جہاد سے کم نہیں۔ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر اس قدر دیوالیہ ہو چکا ہے کہ مسجد و محراب سے بھی اخلاق سے عاری گفتگو سننے کو مل رہی ہے ۔ مسلک و فرقہ کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کو گالیاں دینا معمول بن چکا ہے ۔ عوام الناس کا یہ حال ہے کہ ان کی گفتگو میں ماں بہن کا نام لے کر ایسی ایسی گالیاں دی جاتی ہیں جن کو سن کر سلیم الطبع آدمی شدید کرب میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ مگر گالیاں دینے والے اور  سننے والے اس سے ذرا بھی بدمزہ نہیں ہوتے ۔ قرآن و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی اکثریت صرف اپنی زبان کی وجہ سے جہنم میں اوندھے منہ پڑے گی ۔ پھر اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ علم و تحقیق کے موضوع پر بڑے بڑے پچیدہ موضوعات پر کتابیں اور مقالات شائع ہو رہے ہیں ۔ مگر اصلاح معاشرہ کے موضوع پہ نہ تو خطبات سننے کو ملتے ہیں نہ پڑھنے کو کتابیں ۔ زیرنظر کتابچہ اسی سلسلے کی ایک کاوش  ہے جس میں احادیث اور قرآن کی روشنی میں اس  گناہ  کی  قباحت  و شناعت واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ دعا ہے اللہ تعالی ہمیں اس لعنت سے بچنے کی توفیق عطافرمائے ۔ اور اس کتابچے کے مصنف مولاناعبدالمنان کو اجر جزیل سے نوازے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 6 منہاج الخطیب (پیر 26 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:5083

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیا...

  • 7 ترجمان الخطیب (ہفتہ 14 فروری 2015ء)

    مشاہدات:5551

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا...

  • 8 حصن الخطیب (منگل 21 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:4934

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں ک...

  • 9 مصباح الخطیب (بدھ 22 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3998

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو...

  • 10 کیا ہم اللہ کا ادب کرتے ہیں (ہفتہ 07 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2515

    ادب ہر کام کے حسن کا نام ہے اور سایۂ ادب میں جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ ادب ایک روشنی ہے جس سے زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک الۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی ہے ۔ ادب ایک دوا ہے جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے ااقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے آداب کےلیے ہزاروں جتن ہوتے ہیں مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی وبربادی کےسیلاب سے بچنا مشکل ہی نہیں بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس قدر ضروری ہے۔ انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے۔ یعنی جو بادب ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل میں بدترین حیوان ہے ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک کی خوشنودی ورضا جوئی کے لیے دین کے مطابق ایسا اعلیٰ سلیقہ، عمدہ طریقہ اور اچھا انداز اپنانا جو قابل تحسین اور باعث تعریف ہو ۔ جس سے واضح معلوم ہو کہ بندہ اپنے الٰہ کو صرف مانتا ہی نہیں بلکہ اس کےدربا...


2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 من اطیب فی علم المصطلح ( جدید ایڈیشن ) (ہفتہ 31 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:2332

    جس طرح عربی زبان کو جاننے کے لیے گرائمر کا سمجھنا ازحد ضروری ہے  اسی طرح حدیث شریف میں مہارت حاصل کرنے کےلیے اصول حدیث  میں دسترس رکھانا لازمی ہے ۔اصول حدیث سے مراد ایسے  معلوم قاعدوں اور ضابطوں  کا  علم ہے  جن کے  ذریعے سے کسی  بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے    کہ آیا  راوی یا اس کی حدیث  قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم  اصولِ حدیث ایک ایسا  ضروری علم  ہے جس کے بغیر حدیث  کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات  استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے  تاکہ  وہ اس  علم   میں کما حقہ درک حاصل   کر سکے ، ورنہ  اس کے فہم  وتفہیم  میں  بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر   ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔انہی کتب اصول حدیث میں سب سے زیادہ مختصر ، جامع اور آسان ترین زیر تبصرہ  کتاب ’’ من اطیب المنح فی علم المصطلح‘‘ ہے ۔یہ  کتاب  مدینہ یونیورسٹی  کے پروفیسرشیخ عبد المحسن  العباد اور عبد الکریم  المرام کی مرتب شدہ  ہے اصول حدیث میں اس سے مختصر، جامع اور آسان  کوئی کتاب نہیں ہےیہی وجہ کہ یہ بڑے بڑے جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے ۔اس کتاب کو پڑھ کر  اصول حدیث کی  وافر معلومات   سے آگاہی ہوجاتی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر &nbs...

  • 2 سیرت رسولﷺ (جمعہ 19 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1067

    اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کااہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی  اور تربیت کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم   سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر  کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ  وتربیت کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔  اپنے  اہل خانہ او رزیر کفالت افراد کی دینی اور اخلاقی تربیت ایک اہم دینی فریضہ او رذمہ داری ہے جس کے متعلق قیامت کےدن ہر شخص جواب دہ ہوگا ۔دعوت وتبلیع   اور اصلاح امت کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔
    زیر تبصرہ کتاب’’ سیرت رسولﷺ ‘‘ الشیخ دکتور محمد صویانی نے انتہائی عمدہ اسلوب میں تالیف کی ہے مگر اس کا ترجمہ عبد المنان راسخ اور مولانا عباس انجم نے کیا ہے۔ اس کتاب میں نبی ﷺ کی احادیث مبارکہ قرآن مجید کی تفسیر اور آپ کی حیات اقدس کی تعبیر و تصویر ہیں۔ یہ رشد و ہدیت کا منبع ہیں۔ ان کا بار بار مطالعہ کرنا اہنیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)
     


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1784
  • اس ہفتے کے قارئین: 12429
  • اس ماہ کے قارئین: 40123
  • کل قارئین : 46003936

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں