• محمد رفیق خاں پسرور

    نبی کریم  دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ نے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے  بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج  بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی  ہے۔اور اس امر کی  بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ  مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک بدعت نبی کریم ﷺ کا نام مبارک آنے پر انگوٹھوں کو چومنا ہے جس  کا اسلام ،شریعت ،نبی کریم ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ نبی کریم کی وفات کے بعد گھڑی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب " تذکیر الثقلین برد تقبیل الابہامین"محترم مولانا محمد رفیق خاں صاحب خطیب جامع مسجد اہلحدیث پسرور صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وحدیث اور ایک سو علماء کرام کی تحریرات اور تصدیقات کی روشنی میں ہر جگہ نبی کریم ﷺ کو پکارنے، انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانے،کفن پر لکھنے اور قبر پر بوسہ دینے سمیت معاشرے میں پھیلی متعددبدعات کا مستند اور مدلل رد کیا ہےاور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ بدعات کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کی  سنت کی اتباع کریں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب" اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل "انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں پچیس(25) محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

  • ابو عبد الرحمٰن شبیر بن نور

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی راہ ‘‘ مولانا ابو عبد الرحمن شبیربن نور کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کوانہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ باب اول میں جنت کیسی ہوگی اوراہل جنت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا عنائتیں اور نوازشیں ہوں گی کا بیان ہے ۔ اور باب دوم میں جنت میں داخلے کی لازمی شرطوں کابیان ہے ۔ تیسرے باب میں ان ’’سو (100) اعمال کا تذکرہ ہے جو کسی مومن کو جنت میں لے جانے کاسبب بن سکتے ہیں ۔اور شروع میں ایک مفصل تمہید ہے جس میں مبادی واصول بیان کیے گئے ہیں ۔ نیز ڈاکٹر محمد نذیر مسلم کا جامع اورعلمی طویل مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔ فاضل مصنف نے تمام مسائل کو کتاب اللہ اور ثابت شدہ احادیث کے حوالے سے بیان کیاہے اور اقوال، قصے ،کہانیاں، ذاتی آراء، خواب اوراس طرح کے غیر مستند ذرائع معلومات سےمکمل اجتناب کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو جنت میں داخلہ نصیب فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • محمد جعفر تھانیسری

    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے  اپنی  قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحیدِ خالص  کی اساس قائم کی   یہ شاہ  ولی اللہ  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  شہید  تھے ۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی جن کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے۔ سید محمد اسماعیل شہید اور  ان کےبےمثل پیرو ومرشد سید احمد شہید اور ان کےجانباز رفقاء کی شہادت کےبعد  ،بقیۃ السیف مجاہدین نے دعوت واصلاح وجہاد کاعلم سرنگوں نے نہ ہونے دیا بلکہ اس بے سروسامانی  کی کیفیت میں اسے بلند سےبلند تر رکھنے کی کوشش کی ۔سید اسماعیل شہید اور ان کےجانباز رفقاء اوران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تحریک کو زندہ رکھنے والے مجاہدین کی یہ داستان ہماری ملی غیرت اور اسلامی حمیت کی سب سے پر تاثیر داستان ہے۔ ان اللہ والوں  نےاللہ کی خاطر آلام ومصائب کوبرداشت کیا ،آتش باریوں اور شمشیرزنیوں کی ہنگامہ آرائیوں میں جانیں دے دیں،خاندان ،گھر بار اور  جائیدادوں کی قربانیاں دیں ۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں اور جزائر انڈیمان یعنی کالاپانی کی بھیانک اور خوفناک وحشت ناکیوں میں دن بسر کیے ۔لیکن جبیں عزیمیت پر کبھی شکن نہ آنے دی اور پائے استقامت میں کبھی لرزش پیدا نہ ہونے دی۔ زندگی  کےہرآرام اور ہر عیش کو نوکِ حقارت سے ٹھکراتے ہوئے  آگے بڑھتے رہے ۔ انہی ’’ حاصل کائنات ‘‘ قسم کےلوگوں میں سے  ایک مولانا  محمد جعفرتھانیسری  ﷫بھی تھے ۔آپ تھانیسر ضلع انبالہ کےباشندے تھے ۔1832ء میں پیداہوئے بچپن میں  والد کاسایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا ۔1856ء تک آپ تحریک مجاہدین میں باقاعدہ شامل ہوچکے تھے ۔ آپ  تحریک کے سینیئر ممبر اور بہت بڑے رازدار تھے  1864ء میں مجاہدین کی مالی وجانی مدد کرنےپر آپ  پر مقدمہ  چلایا گیا اور آپ کی تمام منقولہ وغیر منقولہجائیداد ضبط اور پھانسی کی سزا سنائی  گئی۔پھانسی کی سزاسن کر آپ پر مسرت کی کچھ ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ انگریزیہ دیکھ کر ششدرہ رہ گئے ۔تو آپ کی پھانسی کی سزا کوقید میں تبدیل کردیا گیا آپ  انبالہ ، لاہور ،ملتان،سکھر،کوٹری سے  ہوتے ہوئے کراچی پہنچے ۔ایک ہفتہ کراچی جیل میں رہنے کےبعد بادبانی جہاز کےذریعہ بمبئی روانہ ہوگئے ۔ وہاں ایک ماہ تھانہ جیل میں مقیم رہے اور پھر 11جنوری 1866ءکو آپ  جزیرہ انڈیمان پہنچ گئے ۔ سترہ سال دس ماہ بسر کرنے کے بعد انڈیمان سےایک بیوی ،آٹھ بچے اور آٹھ ہزار روپے  نقد لے  کر  9 نومبر 1883ء کوہندوستان روانہ ہوئے  اور  20 نومبر 1883ء کو9 بجے  شب انبالہ چھاؤنی کے اسٹیشن پر پہنچ۔ اس طرح تقریبا18 برس کے بعد اس مرد مجاہد کو وطن کی مقدس سرزمین دیکھنا نصیب ہوئی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کالاپانی ‘‘ اسی مرد مجاہد محمد جعفر تھانیسری کی خودنوشت سرگذشت ہے  جس میں آپ  نےجزائر انڈمان سے واپسی پراحباب  کےاصرار پر اپنی گرفتاری ،مقدمے ،قید سفرِ انڈیمان،انڈیمان کی زندگی کے حالات و واقعات  دلنشیں انداز میں  تحریر فرمائے ہیں۔  مولاناجعفرتھانیسری اس  کتاب  میں  تحریرفرماتے ہیں:”ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں، پیروں میں بیڑیاں، جسم پرجیل کا لباس اور کمرپرلوہے کی سلاخیں تھیں۔انگریز  نےہمارے  لیے خاص لوہے کے قفس تیار کروائے اور ہمیں ان میں ڈال دیا۔اس پنجرے میں لوہے کی چونچ دارسلاخیں بھی لگوائیں، جس کی وجہ سے ہم نہ سہارالے سکتے تھے، نہ بیٹھ سکتے تھے۔ہماری آنکھوں سے آنسوں اورپیروں سے خون بہہ رہے تھے۔غدر کے ملزمان انگریزوں کی نگاہ میں اتنے بڑے مجرم سمجھے گئے کہ غدر1857ء میں پکڑے گئے لوگوں کو یاتوسرعام پھانسی دیدی گئی یابہت سے لوگوں کواسی جزیرے انڈمان میں موت سے بدترزندگی گذارنے کے لیے بھیجاگیا‘‘۔یہ کتاب کئی مرتبہ زیورِ طباعت سےآراستہ ہوئی۔ پہلا ایڈیشن خود مولانا تھانیسری نے  تواریخ عجیب کے نام سے شائع کیا تھا ۔زیر تبصرہ ایڈیشن  طارق اکیڈمی  ،فیصل آباد سے شائع شدہ  ہے جس میں  مولانا  محمد خالدسیف کا طویل مقدمہ انتہائی  اہم اور لائق مطالعہ ہے۔(م۔ا)

  • عبد العزیز ابراہیم الغدیر

    دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر رکھنے کی صلاحیت ایک ایسی صلاحیت ہے جو اعلیٰ انسانی خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔ وہ لوگ جو سماج میں اعلیٰ رتبوں پر فائز ہوتے ہیں ان میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے اچھے تعلقات بنا کر رکھتے ہیں اور وہ ایسا صرف اپنے عہدوں کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ ان کی کامیابی اور سماجی مرتبے کی وجہ ہی بنیادی طور پر یہی ہوتی ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں سے بآسانی میل جول بڑھا سکتے ہیں۔ گھریلو اور دفتری تعلقات کے علاوہ انسان کو بہت سے دیگر تعلقات بھی نبھانا پڑتے ہیں۔ دوستوں اور شناساؤں کے علاوہ کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے روز آپ کا واسطہ پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر لفٹ مین، مالی، گھریلو ملازم اور گارڈ وغیرہ۔ بازار جائیں تو وہاں دکانداروں، سیلزمینوں اور ان کے مددگاروں سے بات کرنا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ گوالا جو آپ کو دودھ دینے آتا ہے، وہ ڈاکیا جو آپ کے خط گھر چھوڑنے آتا ہے اور وہ دھوبی جو آپ کے کپڑے دھو کر گھر دے جاتا ہے اس سے بھی ملنا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ تعلقات گہرے نہیں ہوتے اور انہیں متعین بھی نہیں کیا جا سکتا مگر بہر حال یہ سب تعلق ہماری زندگی کا حصہ ہیں جو اگر زندگی سے نکل جائیں تو کئی قسم کی مشکلات سے ہمارا پالا پڑ جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت " پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر محترم المقام عبدالعزیز ابراہیم الغدیر صاحب کی عربی تصنیف "الحوار والتواصل" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم سعید الرحمن صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب کو انہوں نے پاکستانی معاشرے کے نام منسوب کیا ہے اور اس میں سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت کو واضح اور اجاگر کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • سید ابو الاعلی مودودی

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن   اور حاملین قرآن کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا:«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے :«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر 

    تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

    زیرتبصرہ   کتاب ’’فضائل قرآن ‘‘ حدیث کی معروف کتاب   مشکاۃ المصابیح کے کتاب فضائل قرآن سے منتخب احادیث کے عام فہم مطالب ومفاہیم اور تشریح پر مشتمل ہے ۔ جو کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ہفتہ وار دورس حدیث کے سلسلے بیان کیے تھےاس کو مرتب نے ٹیپ ریکارڈر سے سن کر مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا۔اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو قرآن پر عمل کرنےاور اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عنائیت فرمائے (آمین) م۔ا)

  • رضا عبد اللہ پاشا

    یہ دنیا تکالیف اور مصائب کی آماج گاہ ہے جس میں ہر انسان کسی نہ کسی تکلیف اور پریشانی کاسامنا کرتاہے ۔جادو اور جنات سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں اور جادو کا شرعی طریقے سے علاج کریں تاکہ لوگ اس کے توڑ اور علاج کے لیے نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیر نظر کتاب ’’500 سوال وجواب برائے جادووجنات‘‘ڈاکٹر رضا عبد اللہ پاشا ﷾ کی عربی کتاب’’ 500 سوال وجواب فی الجن‘‘کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کے فرائض شیخ سعید الرحمن ہزاروی﷾ (مدرس جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ) نے انجام دئیے ہیں ۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں صحیح منہج اور طریقے کے مطابق جادو اور جنات وغیرہ کے بارے میں بنیادی معلومات اوران کا سد ّباب کرنے کے طرق و وسائل تحریر کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم،ناشرین کی تمام کاوشوں کو   قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) م۔ا)

  • ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین
    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • اشتیاق احمد
    انسانیت کو ہدایت کی روشنی دینےکےلیے اس دنیامیں بےشمار انبیاء آئےپہلے نبی ہونےکاشرف سیدنا آدم علیہ السلام  کوحاصل ہے او رآخری نبی ہونےکااعزازمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آیا۔انبیاء کی سیرت کامطالعہ کریں تو  یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ اللہ تعالی نےنبوت کی ذمہ داری کےلیے ایسے افراد کو چناجن کی زندگیاں ہر طرح کے عیب سے پاک تھیں۔سچائی ،پرہیزگاری  اور نیکی ان کا وصف تھا۔نبئی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلین ہیں ۔آپ کےبعد کوئی نبی نہیں آئے گا یہ اللہ کافیصلہ ہے۔لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کےلیے ،اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے نبوت کے بند کیے ہوئے محل میں نقب لگانےسے باز نہ آئے ۔ان میں سےایک جھوٹا نبی انگریزوں کےہاتھ سے تراشا ہوا مرزا غلام احمد قادیانی ہے ۔اس جھوٹے نبی کی پرورش کس نے کی؟، اس خاردار پودے کی آبیاری کسے نےکی؟،اس کی جھوٹی شخصیت کو نبوت کا لباس کس نے پہنایا ؟،اس گھٹیا تحریرات اور  خیالات کو الہام کیسے بنایا گیا ؟،یہ سب باتیں آپ کے سامنے’’تھالی کا بینگن ‘‘کی شکل میں پیش ہیں اس کتاب میں  جعلی نبوت کے حقائق کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا کی اپنی ہی تحریروں کی مدد سے  اس کی نبوت کے فتنے کو عیاں کیاگیاہے۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39760458

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں