دکھائیں کتب
  • 21 برید فرنگ (جمعہ 18 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:16142

    علامہ سید سلمان ندوی رحمہ اللہ عظیم مذہبی اسکالر،عمدہ مفکر اور بہترین ادیب وخطیب تھے۔یہ بہترین مصنف اور درد دل رکھنے والے  مسلم دانشور ہیں۔ان کی تحریریں اور تصانیف اردو ادب کا بہترین مرقع اور اسلامی فکر اور مذہبی طرز کی بہترین غماز ہیں۔زیر نظر کتاب برید فرنگ (یورپ کی ڈاک) بھی علامہ موصوف کے ان خطوط کا مجموعہ ہے۔جو انہوں نے ؁ 1920ء میں دورہ یورپ کے دوران برصغیر میں علما ،مفکرین اور ذاتی دوستوں کو تحریر کیے۔ان خطوط میں یورپی سیاستدانوں اور حکمرانوں سے ملاقاتوں کے احوال،یورپی طرز سیاست اور یورپ میں مکین اہل اسلام کی اسلام سے وابستگی اور قلبی لگاؤ کا بیان ہے۔یہ خطوط دراصل ایک سفرنامہ ہے جس میں یورپی فکر کو سمجھنے کا کافی سامان ہے۔او ریہ اردو ادب کا ایک بہترین جامع مجموعہ ہے ۔جو قارئین کی معلومات کے لیے اہم اور ادب وسیاست سے تعلق رکھنے والوں کے لیے بیش قیمت خزانہ بھی ہے۔اس کتاب کا مطالعہ نہایت معلومات افزا ثابت ہوگا۔انشاء اللہ (فاروق رفیع)
     

  • 22 تاریخ صحافت (بدھ 08 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1009

    صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے  پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنیٰ کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔اردو اخبار نویسی کی تاریح انتہائی پرانی بھی نہیں ۔ دراصل اس کی شروعات چھاپہ خانے کے رواج کے بعد سے ہوئی سب سے پہلا اردو کا اخبار ”اخبار دہلی “تھا جسے مولوی باقر نے دہلی سے جاری کیا تھا ۔ بہت سے معلومات افزا مضامین علمی ، ادبی ،تاریخی اورتعلیمی موضوعات پر اس میں شائع ہوتے تھے ۔ 1857کی جنگ آزادی میں اس اخبار کا بڑااہم کردار رہا ہے ۔چونکہ اس کی پالیسی آزاد خیالی تھی ، اس لئے اس زمانہ میں سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا گیا ۔ ہندوستانی قوم پرستی یعنی حبِ وطنی کی حمایت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ غدر فرو ہونے پر مولوی باقرکو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا اور اس طرح حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اورمحب وطن کی قربانی ہوئی ۔اردوکے دوسرے اخبار کے طورپر ”سید الاخبار“کا نا م سامنے آتا ہے ۔ اس کی ابتدا ءدہلی میں ہی سرسید کے بھائی محمد کے ہاتھوں ہو ئی تھی ۔ یہی وہ اخبار ہے جس کے ذریعہ سرسید کے خیالات سے عوام متعارف ہوئے ۔ اس کے بعد سے اردو اخبار کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتاہے ، جوانمرد ، محب وطن ، بےباک و نڈر بہت سے قلم کے شہ سوار صحافتی افق پر نمودار ہوتے ہیں ، آسمان ِ صحافت کے اولین ستاروں میں مولانا ظفر علی خان ، مولانا ابو لکلام آزاد...

  • 23 جامع الامثال (پیر 11 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2093

    اللہ رب العزت کے بے شمار احسانات میں سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہم میں سے ایک نبی کو منتخب فرمایا اور انہیں کامل واکمل اور جامع شریعت دے کر مبعوث فرمایا۔ نبیﷺ نے نہایت جامعیت کے ساتھ دینی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے کا حق ادا کر دیا۔ ان جامع تعلیمات کو دیکھتے ہوئے اور انہیں مد نظر رکھتے ہوئے بعض حضرات نے کہاوتیں اور ضرب الامثال جو کہ  بظاہر مختصر مگر پر اثر الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں اور زبان وبیان میں نتائج اور اثرات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں کو متعارف کروایا۔ زیر تبصرہ کتاب بھی خاص ضرب الامثال اور کہاوتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں 2800 اُردو کہاوتیں وضرب الامثال(مع انگریزی متبادل) یکجا کر کے الف بائی ترتیب سے پیش کیے گئے ہیں۔ جا بجا چند فارسی کہاوتیں اور ضرب الامثال وبعض اردو روز مرے ومحاورات بھی اس کتاب کا حصہ بن گئی ہیں۔ کہاوتوں اور ضرب الامثال کے بعد علمی استفادہ کی خاطر کہاوت‘ ضرب المثل اور محاوہ کے مفہوم‘ باہمی ربط وفرق اور اہمیت وافادیت پر مختلف ماہرین فن کے چند منتخب مفید علمی وادبی مضامین ومقالات اور معلوماتی شذرات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب ’’ جامع الامثال ‘‘ ڈاکٹر سعید الرحمان بن نور حبیب کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 24 جدید صحافتی انگریزی اردو لغت (ہفتہ 17 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1344

    ذرائع ابلاغ کی موجودہ برق رفتار ترقی نے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں ہونے والی اس زبر دست ترقی کے باعث نت نئے تصورات پر مبنی جدید اصطلاحات وضع ہو رہی ہیں۔ ان اصطلاحات کی بڑی تعداد مغرب میں تشکیل پاتی ہیں اور پھر ایسی جدید اصطلاحات کا ترجمہ نہ ہونے کے باعث جلد ہی دنیا بھر میں مروج ہو جاتی ہیں۔انگریزی سے ترجمہ کی اہمیت جتنی آج ہے پہلے محسوس نہیں کی گئی تھی۔ انگریزی ہماری معلومات‘ ہمارے خیالات اور ہمارے اظہار جذبات کا منبع ہے۔ رسالوں‘ اخباروں‘ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر انگریزی متن کو اردو کا جامہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں بہت کم لوگوں کو ان اصطلاحات کے سیاق وسباق سے آشنائی حاصل ہو پاتی ہے۔ ایک عرصہ سے ایک لغت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جس میں ایسی اصطلاحات کو یکجا گیا گیا ہو۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے انگریزی اصطلاحات کو بہت سادہ اور عام فہم زبان میں اردو زبان کے قالب میں ڈھالا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات اردو زبان ہی کی ہیں۔ اس میں صرف انگریزی اصطلاحات کے اردو مترادفات ہی نہیں دیے بلکہ ان اصطلاحات کی بڑی سلیس انداز میں تشریح بھی کر دی گئی ہے۔ اس میں برصغیر کے سماجی دھاروں‘ تاریخی حوالوں اور اردو کی بعض دلچسپ ضرب الامثال کے جھلک بھی ہیں۔ اردو ترجمہ میں مروجہ اردو کا خیال رکھا گیا ہے اور عربی اور فارسی تراکیب سے حتی الامکان گریز کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نئے الفاظ گھڑنے کی بجائے باوثوق لغت کی کتب سے الف...

  • 25 جدید علم العروض (بدھ 29 مئی 2019ء)

    مشاہدات:770

    عروض عربی زبان کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے دس سے زائد معنی ہیں۔ علمِ عروض ایک ایسے علم کا نام ہے جس کے ذریعے کسی شعر کے وزن کی صحت دریافت کی جاتی ہے یعنی یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا کلام موزوں ہے یا ناموزوں یعنی وزن میں ہے یا نہیں۔ یہ علم ایک طرح سے منظوم کلام کی کسوٹی ہے اور اس علم کے، دیگر تمام علوم کی طرح، کچھ قواعد و ضوابط ہیں جن کی پاسداری کرنا کلامِ موزوں کہنے کے لیے لازم ہے۔ اس علم کے ذریعے کسی بھی کلام کی بحر بھی متعین کی جاتی ہے۔ اس علم کے بانی یا سب سے پہلے جنہوں نے اشعار پر اس علم کے قوانین کا اطلاق کیا وہ ابو عبد الرحمٰن خلیل بن احمد بصری ہیں۔ زنظرکتاب ’’ جدید علم العروض‘‘  پٹنہ یونیورسٹی کے  پروفیسر عبد المجید کی تصنیف ہے موصوف نے  اس کتاب میں فن عروض کو ایک اصول کےماتحت مختصر اور سہل بنا کر پیش کیا ہے  اور ساتھ ہی اس کا بھی لحاظ رکھا ہے کہ فن عروض کے اجزا ،بحور، وزحافات وغیرہ سب باقی رہیں ۔صاحب  کتاب  نہیں اس  بات کو بھی واضح کیا ہے کہ اصلی بحریں صرف آٹھ ہیں  ہی ہونی چاہیں نہ کہ انیس، مفرد بحریں درحقیقت سات ہی ہیں بقیہ بارہ بحریں انہی  سات بحروں سے مرکب ہوتی ہیں۔(م۔ا)

    ادب 
  • 26 جوئے رواں (جمعرات 03 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2165

    اقبال پر جتنا علمی ،تحقیقی او رتخلیقی کام  ہوا ۔ اتنا  شاید ہی کسی اور شاعر او رادیب پر ہوا ہو۔ لیکن ا  ن کے فکرو شعرکا کوئی جامع اشاریہ  موجود نہیں تھا اقبال  اکامی  نے  بڑی عمدگی  کے ساتھ کلیات اقبال کاجامع اشاریہ شائع کیا ہے ۔زیرنظر کتاب ’’جوئے رواں‘ جسے  طاہر حمید تنولی نے  مرتب کیا ہے۔یہ  شاعر مشرق علامہ اقبال کی اردو شاعری کا ایک ایسا اشاریہ  ہے  جس نے قارئین اقبال کے لیے  مطلوبہ شعر تک پہنچنا آسان  بنادیا ۔اس اشاریے  کو مرتب کرتے وقت قاری کی سہولت کے پیش نظر کلیات کے ان نسخوں کواشاریے  کی بنیاد بنایا گیا ہے  جو عام طور قارئین  کے زیر استعمال ہوتے ہیں اور ان کا متن بھی  قابل اعتماد ہے ۔اس اشاریے میں  میں کلیات اقبال  کے  شیخ غلام علی اینڈ سنز او راقبال اکادمی ،پاکستان  کے شائع شدہ  قدیم نسخوں کےصفحات نمبر درج کردیے گئے ہیں۔ان کے  نسخوں کے لیے بالترتیب ،غ ع اوراکادمی کے ل  مخففات استعمال کیے گیے ہیں۔ یہ کتاب  اقبالیات کاذوق رکھنے  والوں کے لیے  بیش قیمت  تحفہ ہے (م۔ا)

     

  • 27 حسن انتخاب (جمعرات 18 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:693

    مقررہ وزن اور بحر میں لکھی ہوئی تحریر شعر کہلاتی ہے ۔ شعر کی سطر مصرع کہلاتی ہے، ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو مصرع اولیٰ اور دوسرے کو مصرع ثانی کہتے ہیں۔ اشعار کے  مجموعے  کانام شاعری ہے ۔شاعری کسی بھی انسان کے لیے اپنے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی کا نام ہے  کچھ لوگ مختلف فنون جیسے مجسمہ سازی، سنگ تراشی، نقش نگاری اور فنِ مصوری کے ذریعے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ شاعری ہوتا ہے۔ شاعری بہت سی زبانوں میں کی جاتی ہے ہر زبان کے اپنے اصول ہیں لیکن لفظ شاعری صرف اُردو زبان کے لیے مخصوص ہےہر دور کے شعرا کی تحریروں سے ان کے زمانے کے حالات و واقعات کی عکاسی ملتی ہے۔اردو شاعری کے سب سے بڑے شاعر تاریخ میں برصغیر ہندوستان میں ملتے ہیں تقسیمِ ہندوستان کے بعد بہت سے مشہور شعرا کا تذکرہ ملتا ہے جن میں برصغیر پاک و ہندکے شعرا ء شامل ہیں ان شعرا میں سب سے مشہور شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال ہیں ۔ عموماً مقررین اپنی تقریروں مناسب مواقع پر اشعار پیش کرکے سامعین سے داد وصول کرتے ہیں اشعار  کا انتخاب وتلاش  ایک مشکل کام ہے اس سلسلےمیں  کچھ اہل ذوق افراد نے   منتخب اشعار کے مجموعے مرتب کیے  ہیں جن سے  اہم مواقع پر  اشعار کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔محترم جناب سعید الرحمن صاحب (اسسٹنٹ پروفیسر عبدالولی خان یونیورسٹی،مردان) زیر نظر کتاب ‎’’ حسن انتخاب‘‘ مختلف شعراء وصلحاء ک منتخب اصلاحی، اخلاقی، تعمیری ومعنی خیز اشعا...

    شعر 
  • 28 حواشی ابوالکلام آزاد (بدھ 14 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1247

    دہلی ہندوستان کا دل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شہر اپنی تہذیبی روح‘ ثقافتی رنگارنگی اور تاریخی کردار کے اعتبار سے ایک چھوٹا سا ہندوستان ہے۔ دہلی کلچر کے فروغ میں اردو نے ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے‘ اور آج بھی یہ زبان اس کی ادبی وتہذیبی شناخت کا اہم وسیلہ ہے۔ اردو کی کلچرل اہمیت اور دہلی کی ثقافتی زندگی سے اس کے گہرے رشتے پیشِ نظر آنجہانی محترمہ اندرا گاندھی سابق وزیر اعظم مرکزی حکومت ہند کے ایماء پر 1981ء میں اردو اکادمی کا قیام عمل میں آیا اور یہ ادارہ ادبی روشنی کو عام کرنے اور علمی خوشبوؤں کو پھیلانے میں پیش پیش ہے۔ ادبی شخصیات میں مولانا ابو الکالام آزاد بیسویں صدی کی مسلم دنیا کی عظیم ہستیوں میں سے ہیں۔ وہ عالم‘ مذہبی رہنما‘ مفسر قرآن‘ ادیب‘ نقاد‘ مکتوب نگار اور صحافی تھے۔ سب سے بڑھ کر وہ جس میدان میں بھی رہے صف اول کے لوگوں میں رہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص ابوالکلام کے حواشی پر مشتمل ہے۔ ان کے حواشی کو مصنف نے جمع کیا ہے اور جو ترتیب دی ہے قابل تعریف ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے مختلف کتب جیسا کہ عربی‘ فارسی‘ انگریزی اور اردو کی کتب پر موجود حواشی کو اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ اور ہر ایک زبان کی کتب کو الگ الگ پیرائے اور کیٹگری میں بیان کیا گیا ہے۔اور جس کتاب کے بارے میں ان کے حواشی کو بیان کیا گیا ہے پہلے اس کتاب کا تفصیلی تعارف بھی درج کیا گیا ہے۔ اور مقدمہ میں ان کی لکھی گئی کتب کو علوم کے حساب سے تقسیم کر کے ہر ایک کے تحت کس زبان میں کتنی کتب ہیں تفصیل بیان کی گئی ہے۔حوالہ جات...

    ادب 
  • 29 درست اردو لکھنا سیکھیں (جمعرات 26 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:2678

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے ضخیم بنادیاگیا ہے۔ جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔ روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے لسانی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اسی لیے اخبارات ورسائل...

  • 30 دیوان المتنبی (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:4294

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "دیوان المتنبی"عالم عرب کے  ایک معروف شاعرابو الطیب المتنبی کا قصیدہ ہے۔جس کا اردو ترجمہ محترم محمد امین کھوکھر اور محترم محمد یسین قصوری صاحب نے کیا ہے۔عربی زبان وادب سیکھنے کے حوالے سے یہ ایک مقبول ترین کتاب ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں کے ایم اے عربی اور فاضل عربی کے نصاب میں داخل ہے۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کتاب کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2055
  • اس ہفتے کے قارئین: 12927
  • اس ماہ کے قارئین: 46948
  • کل قارئین : 47943491

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں