کل کتب 72

دکھائیں
کتب
  • 1 #4300

    مصنف : ڈاکٹر انور سدید

    مشاہدات : 8523

    اردو ادب کی تحریکیں

    (ہفتہ 12 مارچ 2016ء) ناشر : انجمن ترقی اردو کراچی

    اردو زبان و ادب کے ارتقاء، وسعت، تنوع اور تبدیلیوں میں تحریکوں اور رجحانات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ انہی تحریکوں اور رجحانات کے زیر سایہ اردو زبان و ادب کی پرورش و پرداخت ہوئی اور انہی کے زیر نگرانی اس کے حسن میں نکھار آیا جس نے پوری دنیا کو مسحور کردیا اور لوگ اس کے دامِ سحر میں گرفتار ہونے لگے۔جن دو تحریکوں نے اردو زبان ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک ہے۔ علی گڑھ تحریک ہی نے اردو نثر کو مسجع و مقفیٰ کی بیڑیوں سے آزاد کرایا اور اس میں سب سے اہم رول بانیِ علی گڑھ تحریک سر سید احمد خاں کا ہے۔عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر بیرون ملک میں اردو ، پنجابی اور پاکستان کی دوسری زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے کئی تنظیمیں اور تحریکیں بڑی بے چارگی سے ہاتھ پاوں مارتی نظر آتی ہیں۔ اسی سلسلے میں بے شمار پروگراموں اور ادبی محفلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔ ان ادبی اور ثقافتی محفلوں میں ادب ، شاعری اور زبان کی نوعیت اور ہیت کو پڑھائی ، لکھائی اور اسکے ہنر تک محدود رکھتے ہوئے اسکی تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے لیکچر دئیے نہیں بلکہ پلائے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو ادب کی تحریکیں" محترم ڈاکٹر انور سدید صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انہیں جامعہ پنجاب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔اس میں انہوں نے اردو ادب کی انہی تحریکوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے۔ادیب حضرات کے لئے یہ کتاب بڑی شاندار اور گوہر نایاب ہے۔(راسخ)

  • 2 #6682

    مصنف : احمد پراچہ

    مشاہدات : 3686

    اردو ادب کی ترقی پسند تحریک تحقیقی و تنقیدی جائزہ

    (جمعہ 13 جولائی 2018ء) ناشر : فکشن ہاؤس لاہور

    ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک اہم تحریک تھی۔ کوئی بھی تحریک اچانک وارد نہیں ہوجاتی ہے بلکہ اس کے وجود میں آنے میں سماجی، معاشی اور اقتصادی حالات کا دخل ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک عالمی سطح کی تحریک تھی جس کی بہت سی فلسفیانہ اساس ہیں۔ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز 1936 سے ہوتا ہے۔پیرس میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جس کانفرنس میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند وغیرہ موجود تھے۔ سجاد ظہیر، ملک راج آنند، پرمود سین گپتا، محمد دین تاثیر وغیرہ نے لندن میں ترقی پسند تحریک کا ایک خاکہ تیار کیا، اس طرح لندن میں ترقی پسند تحریک کی بنیاد پڑگئی اور ہندوستان آنے کے بعد ان ادیبوں نے ہم خیال ادیبوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور 1936 میں ترقی پسند تحریک کی پہلی کل ہند کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی جس کی صدارت معروف ہندی اور اردو کے فکشن نگار منشی پریم چند نے کی۔ اس پہلی کل ہند ترقی پسند کانفرنس میں ہندوستان کے اہم ادبا اور دانشور شریک تھے۔ پریم چند کا یادگاری خطبہ بہت اہم تھا جس میں ترقی پسند تحریک کے رموز و نکات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘احمد پراچہ کی مرتب شدہ ہے ۔موصوف نے اردو ادب کے معتبر اور مستند نقادوں کی تحریروں کا گہرا مطالعہ کر کے جہاں جہاں سے ترقی پسند نظریہ ادب یا ترقی پسند اد بی تحریک کےبارے میں اشارے اقتباسات یا مفصل مضامین اورمقالات ملے ان کو متوازن نقطۂ نظر کےتحت اس کتاب میں شامل کر کے یکجا کردیا ہے تاکہ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک کے حوالے سے طلباء کے علاوہ اس موضوع پر دلچسپی رکھنے اور مواد ڈھونڈ نے والوں کو زیادہ کتابوں کی گرد جھاڑنے کی بجائے کتاب ہذا ’’ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک‘‘ میں یکجا مواد دستیباب ہو ۔(م۔ا)

  • 3 #7011

    مصنف : سید احتشام حسین

    مشاہدات : 1329

    اردو ادب کی تنقیدی تاریخ

    (پیر 15 جولائی 2019ء) ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی

    اردو کی بنیاددکن کے قدیم صوفی شعراء اور مذہبی مبلغین نے رکھی ۔ اردو   ابتدائی لڑیچر تمام تر مذہبی  ہے اور 1350ء سے لے کر 1590ء تک ڈھائی سوسال کے دوران دکن  میں اردو کےبے شمار مذہبی رسالے لکھے گئے ۔دکن میں اردو ادب  کا پہلا دور 1590ء میں شروع ہوا ۔ 1590ء  سے 1730ء تک دکن میں کئی اچھے شاعر اور نثر نگار پیدا ہوئے  سچ پوچھیئے تو باقاعدہ اردو ادب کی بنیاد اسی زمانہ میں  رکھی گئی۔اس دور کی  سب سےا  ہم اور مشہور شخصیت شمس الدین ولی اللہ تھے اسے  بابائے ریختہ اور اردو شاعری کاباوا آدم کہا جاتا ہے۔اردو ادب  کی تاریخ او رارتقاء کےمتعلق متعدد کتب موجود ہیں زیر تبصرہ کتا ب’’اردو ادب  کی تنقیدی تاریخ ‘‘  سید احتشام حسین  کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے اس  کتاب کو 14؍ابواب میں تقسیم  کیاہے ان ابواب کےعناوین یہ ہیں۔اردو زبان اور ادب کی ابتداء، اردودکن میں ،دلی اٹھارویں صدی میں ، اردونثر کی ابتداء اور تشکیل،اودھ کی  دنیائے شاعری،نظیر اکبر آبادی اور ایک خاص روایت کا ارتقاء،قدیم دلی کی آخری بہار،اردو نثر فورٹ ولیم اور اس کےبعد،نئے دور سے پہلے نظم اور نثر،نیا شعور اورنیانثری ادب،نشاۃ ثانیہ کی اردو شاعری ،نظم میں نئی سمتیں،نثر کے نئے روپ،موجود ادبی صورت حال۔(م۔ا)

     

  • 4 #4702

    مصنف : رشید حسن خاں

    مشاہدات : 5294

    اردو املا

    (بدھ 29 جون 2016ء) ناشر : مجلس ترقی ادب لاہور

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے ضخیم بنادیاگیا ہے۔ جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔ روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے لسانی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اسی لیے اخبارات ورسائل میں جو مضامین شائع ہوتے ہیں ان میں بہت زیادہ غلطیاں پائی جاتی ہیں۔زبان کے اصول وقواعد کا مطالعہ اور تحقیق زندہ اور باوقار قوموں کی حیات کے لیے اتنا ہی ضروری ہےجتنا زندگی گزارنے کےلیے نظم وضبط اور ضابطۂ حیات لازم ہےاردو کی بقا وترقی کے لیے اس کےاصول وضوابط اور معیارات پر تحقیق کر کےاس کے نتائج سےحامیان واہالیان اردو کو مستفید کرنانہ صرف وقت کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اردو املا‘‘جناب رشید حسن خاں کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے تحقیق اور تلاش کےبعد اردو زبان میں الفاظ کی املا کے اصول اور قواعد واضح کیے ہیں موصوف نےتیرہ برس کی تحقیق بعد یہ کتاب مرتب کی ہے۔ اردو زبان میں الفاظ کے املا کی معیار بندی اور تحقیق حوالے یہ بہترین اور اولین کتاب ہے۔ (م۔ا)

  • 5 #5350

    مصنف : ڈاکٹر شوکت سبز واری

    مشاہدات : 6899

    اردو قواعد

    (پیر 13 فروری 2017ء) ناشر : نا معلوم

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور انشاء پردازی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔ (راسخ)

  • 6 #5103

    مصنف : ماہ لقا رفیق

    مشاہدات : 6745

    اردو قواعد و انشا پردازی حصہ دوم

    (ہفتہ 28 جنوری 2017ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اردو قواعد وانشاء پردازی "محترمہ ماہ لقا رفیق صاحبہ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور انشاء پردازی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔(راسخ)

  • 7 #3892

    مصنف : نور احمد شاد

    مشاہدات : 3529

    اردو مختصر نویسی

    (بدھ 06 جنوری 2016ء) ناشر : مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد

    پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگوں کی زبان اردو ہے، جو اردو میں ہی گفتگو کرتے ہیں اور اردو میں ہی اپنی تحریریں لکھتے ہیں۔آئینی طور پر حکومت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ 1988ء تک اردو کو بطور دفتری زبان کے رائج کرے۔لیکن افسر شاہی نے بیوروکریٹس نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا اور ارود کے نفاذ میں روڑے اٹکاتے آئے۔دفاتر میں اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی بیان کی جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مقتدرہ قومی زبان اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اردو مختصر نویسی اور ٹائپ کاری کے متعدد تربیتی مراکز قائم کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو مختصر نویسی"محترم نور احمد شاد صاحب کی تصنیف ہے، جوان مراکز میں تربیت پانے والے طلباء کی سہولت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ اردو مختصر نویسی سیکھنے کے شائق دوسرے طلباء بھی اس کتاب کو کارآمد اور مفید پائیں گے۔اللہ کرے کہ ہماری حکومت اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کے لئے مخلص ہو جائے اور افسر شاہی کے ہتھکنڈوں اور جالوں کا شکار نہ ہو۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ ہمیں غیروں کی زبان کی بجائے اپنے ملک میں اپنی قومی زبان نافذ کرنے کی ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 8 #6681

    مصنف : مہر اختر وہاب

    مشاہدات : 2232

    اردو میں اسلامی ادب کی تحریک

    (بدھ 25 جولائی 2018ء) ناشر : پورب اکادمی

    اسلامی ادب کی تحریک اردو ادب کی اہم ادبی تحریک ہے ۔ اسلامی ادب کا نظریہ ہر عہد ، ہر ملک اور ہر زبان کے ادب میں ایک توانا فکر رہا ہے۔اسلامی ادب کی تحریک کی فکری اساس میں توحید ، رسالت اور آخرت میں جواب دہی کے تصورات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس نظریہ کی ہمہ گیری یہ ہے کہ حیات کائنات اور انسان کے بارے میں کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا واضح اور تسلی بخش جواب اس کے پاس نہ ہو۔ادب اسلامی کی اصطلاح کو ماضی میں اعتراضات اور غلط فہمیوں کی متعدد یلغاروں کا سامنا کرنا پڑا ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک ادب اسلامی کے ابتدائی ایّام میں اس کی صف میں کہنہ مشق مقام و مرتبہ رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے شامل ہونے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔ تحریک ادب اسلامی نے اردو ادب کو بلاشبہ ایک سمت و رفتار عطا کی ہے عصر حاضر میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان ایک تیسرا واضح اور نمایاں رجحان تعمیری ادب یا اسلامی ادب کا سامنے آیا ہے اس حلقہ سے وابستہ فنکاروں نے ہر صنف ادب میں کچھ نمایاں کوششیں ضرور کی ہیں ۔پروفیسر فروغ احمد اسلامی ادیبوں میں ممتاز مقام کے حامل ہیں ، ڈھاکہ میں رہتے ہوئے وہ اردو ادب میں اسلامی رجحانات کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ 1968ء میں ان کی ایک کتاب ’’ اسلامی ادب کا جائزہ‘‘ لاہور سے شائع ہوئی تھی جس میں اسلامی ادب کی نظریاتی اساس،اس کا تاریخی پس منظر اور اردو ادب پر اسلامی تحریکات کے اثرات پر مضامین شامل ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اسرار حمد سہاوری نے ’’ادب اور اسلامی قدریں ‘‘ کے عنوان سے باہمی تعلق، ادب اور مقصدیت ،ادب کے اجزائے ترکیبی جذبہ و حسن ادا ، اسلامی ادب کی خصوصیات ،اسلامی ادب کے موضوع وغیرہ پر بہت تفصیل سے لکھا گیا ہے۔ اسلامی تحقیق و تنقید کے میدان میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی شخصیت ناقابل فراموش ہے۔ آپ نے ’’اسلامی ادب‘‘ کے عنوان سے ایک مجموعہ مضامین شائع کیا جس سے پہلی بار اسلامی ادب کے خدوخال نمایاں ہوئے۔ زیر نظر کتاب ’’اردو میں اسلامی ادب کی تحریک‘‘ مہر اختر وہاب کی تصنیف ہے اس کتاب میں ان سیاسی ،تہذیبی ، دینی اور ادبی روایات کا جائزہ لیاگیا ہے جس کی روشنی میں اسلامی ادب کی تحریک نے اپنا سفر شروع کیا ۔ اسلامی ادب کی تحریک کا آغاز ، نشور وارتقاء اس کے مختلف ادوار اور اسلامی ادب کی خصوصیات وغیرہ کو اس کتاب میں زیر بحث لایا گیا ہے ۔اس تحریک کے فروغ میں محمد حسن عسکری کے کردار کو بالخصوص اجاگر کیا گیا ہے ۔نیز اس کتاب میں اسلامی ادب کی تحریک کے ردِّ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے برصغیر کے اہم ادبیوں اور نقادوں کے اسلامی ادب پر کیے گئے اہم اعتراضات کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔یہ اپنی نوعیت کی اولین کتاب ہے جس میں اسلامی ادب کی تحریک پر مفصل بحث گئی ہے ۔(م۔ا)

  • 9 #6489

    مصنف : نوید احمد

    مشاہدات : 3683

    اردو میں ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے طریقے

    (ہفتہ 28 اپریل 2018ء) ناشر : آر۔ ایس پیلشرز لاہور

    ہم اپنی نسل نو کے لیے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مگر ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ان کو وسائل مہیا نہیں کرتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی مصور کو رنگ دیے بغیرہ یہ کہیں کہ ہمیں ایک خوبصورت سی تصویر بنا دو۔ بھلا رنگوں کے بغیر تصویر کس طرح بن  سکتی ہے؟ بالکل اسی طرح الفاظ کے بغیر تحریر یا تقریر کیسے بن سکتی ہے؟۔ الفاظ کا ذخیرہ ہو تو تحریر یا تقریر بنتی ہے اور ان الفاظ کے استعمال میں کمال حاصل ہو تو الفاظ سے تصویر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ہم اپنے طلباء سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں وسائل نہ دیں تو وہ ہماری امیدیں پر پورا نہیں اتر سکیں گے مثلا ہم طلباء میں تحریر وتقریر کی قابلیت اور دسترس چاہتے ہیں تو انہیں وسائل دینا بھی ان کا حق ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں مصنف نے طلباء کے لیے الفاظ کا ذخیرہ مہیا کیا ہے کیونکہ الفاظ کے بغیر تحریروتقریر ناممکن سی بات ہے اور طلباء بولتے بولتے خاموش ہو جاتے ہیں تو وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ الفاظ ڈھونڈ رہے تو اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کی کمی محسوس نہیں ہوگی کہ الفاظ ڈھونڈنے پڑیں گے۔ طلباء کے پاس الفاظ ہوں گے تو وہ ان کا استعمال بھی کریں گے بالکل اسی  طرح جیسے روپیہ پیسہ ہو تو اسے استعمال کرنے کے راستے اور ذرائع ملتے رہتے ہیں۔ اسی طرح الفاظ ہوں گے تو ان کے استعمال کے راستے اور ذرائع بھی ملتے جائیں گےاور بچوں میں اس کی قابلیت پیدا کرنے کے لیے اساتذہ کے لیے بھی مفید مشورے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اردو میں ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے طریقے ‘‘ نوید احمد کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 10 #5351

    مصنف : بشریٰ ثمینہ

    مشاہدات : 3836

    اردو میں شخصیت نگاری تحقیقی و تنقیدی جائزہ دور سر سید سے 1985ء تک

    (منگل 14 فروری 2017ء) ناشر : بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان

    خاکہ نگاری یا شخصیت نگار ی کسی انسان کے بارے ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں ایک شخصیت کے گفتار و کردار کا اس انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتی پھرتی روتی ہنستی اور اچھے برے کام کرتا نظرآئے۔ جتنے جاندار اور بھر پور انداز سے شخصیت ابھر ے گی اتنا ہی خاکہ کامیاب نظرآئے گا۔خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔اردو ادب میں خاکہ نگاری عہد جدید کی پیداوار ہے اور یہ بھی دیگر اصناف ادب کی طرح انگریزی ادب کے ذریعے ہی سے اردو ادب میں رائج ہوئی اور بہت جلد افسانے اور ناول کی طرح اردو ادب کا تخلیقی حصہ بن گئی۔اردوخاکہ نگاری کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں لیکن ہئیت اور مواد دونوں سطح پر دیگر اصناف کے اثرات قبول کرنے کے باوجود باقاعدہ خاکہ نگاری کا اردو ادب میں آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو میں شخصیت نگاری تحقیقی ونتقیدی جائزہ دورِ سرسید سے 1985 ءتک‘‘ محترمہ بشریٰ ثمینہ صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر روبینہ ترین (چیئرمین شعبہ ارود بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان) کی نگرانی میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان کے شعبہ اردو میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس مقالہ کوانہوں نے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ باب اول شخصیت نگاری کافن، باب دوم اردو میں شخصیت نگاری کی روایت ، باب ثالث شخصیت نگاری آزاد سے عہد جدید تک، باب چہارم شخصیت نگاری میں اسلوب اور تکنیک کانتوع اور چھٹا باب اردو میں شخصیت نگاری کےرجحانات کے تحقیقی وتنقیدی جائزہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 425
  • اس ہفتے کے قارئین 4302
  • اس ماہ کے قارئین 56335
  • کل قارئین49480604

موضوعاتی فہرست