دکھائیں کتب
  • 1 اللہ کے دشمن (جمعہ 10 مئی 2013ء)

    مشاہدات:3842

    زیر نظر کتاب ’اللہ کے دشمن‘ بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ بچوں کے لیے عام طور پر معاشرے میں غیر اخلاقی کہانیاں اور لطیفے وغیرہ مروج ہیں جو بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے نثر اور نظم میں کہانیاں مرتب کیں۔ ادارہ دار الابلاغ نے ان سچی کہانیوں کو ’اللہ کے دشمن‘ کے عنوان سے یکجا کر کے شائع کیا ہے۔ ان کہانیوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سچے واقعات پر مشتمل ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسی کتب پڑھنے کے لیے دیں۔(ع۔م)
     

  • 2 اندلس کی شہزادی (منگل 30 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:5646

    ادب کی ایک مایہ ناز قسم قصص اورکہانیاں  ہیں۔ان کےذریعے انسانی ذہن کو بڑی حسن وخوبی  اور احسن انداز کےساتھ تبدیل کیا جاسکتاہے۔یہ ادب کی ایک بہت پرانی قسم ہے۔بلکہ اگر کہاجائے تو بےجانہ ہوگا کہ آغاز انسانیت سے ہی اس پر توجہ دی گئی ہے۔ پھر اس سے بھی بھڑ کریہ ہےکہ اس صنف ادب کو بیان کرناہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ایک کہانی کو سمجھنااو ر اس کےتمام واقعات کی کڑیوں کو باہم مربوط کرکےبیان کرنااوروہ بھی ایک ادبی چاشنی کےساتھ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان معروضا ت سے بھڑ کر مزیدیہ ہےکہ ایک سچے تاریخی واقعےکو کہانی کا رنگ دےکر اس میں  چاشنی بھی بھرنااور اس کی سچائی بھی متاثرنہ ہونےدینا یہ اس سے بھی مشکل فن ہے۔جناب طاہر نقاش صاحب کو اللہ تعالی نے اس میں بہت زیادہ مہارت عطافرمائی ہے۔انہوں نے اس کتاب میں  اندلس کی ایک ایسی شہزادی    کی داستان بیان کی ہےجو ایک گورنرکی بیٹی تھی اوربادشاہ وقت کی زیادتی کاشکارہوئی تھی ۔اس کے باپ نے یہ بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں کو اس سلطنت پرحملہ کرنےکی دعوت دی تھی جس کی وجہ سے اندلس کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔مزید برآں اس کا اصل مقصد یہ  ہےکہ مسلمان بچوں کو اپنی اسلامی تاریخ سے آگاہی ہو۔اور ان کےاندراسلامی تاریخ سے دلی وابستگی پیداہو۔اور وہ اس دورمیں غلط،جوٹھی اوربے بنیاد کہانیوں سے بھرےہوئے لٹریچرسےگریزاں رہیں۔(ع۔ح)
     

  • 3 بادشاہ کا ہاتھ کاٹ دو (پیر 13 مئی 2013ء)

    مشاہدات:4747

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’جب فرشتہ بھیس بدل آ گیا‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ایک فرشتہ اندھے کا روپ دھار کر زمین پر آ جاتا ہے اور پھر وہ اور بھی روپ بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد واقعات شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ یہ مفید تربیتی کہانیاں ننھے مجاہد اور بعض دوسرے رسائل و جرائد سے اخذ کی گئی ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 4 بہتے لہو کی کہانی (جمعرات 01 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1147

    افغانستان کی سرزمین اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے صدیوں سے تاریخی اہمیت کی حامل چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی اکثر طاقتوں نے ہمیشہ اس ملک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہےاور ایشیا کے اس خطے کے ممالک پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے افغانستان کو اپنی منزل کی جانب پہلے زینے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ان ممالک میں سرفہرست روس ہے جس کو خلیج کے گرم پانیوں تک پہنچنے کی وصیت ورثے میں ملی ہے۔جس کے حصول کے لئے اس نے پہلے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں کو ہوس ملک گیری کا نشانہ بنایا۔پھر اگلے مرحلے میں افغانستان کو اپنا ہدف ٹھہرایا۔افغانستان میں روس کی حکمت عملی نہایت کامیاب رہی۔ایک طرف اس نے افغانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا تو دوسری طرف اقتصادی معاہدوں کی آڑ میں اپنے سیاسی اور فوجی مشیر بھیجنے شروع کر دئیے جو اپنے ملک کے خفیہ مگر دور رس منصوبے نہایت اطمینان سے مکمل کرنے لگے۔چنانچہ ایک وقت کے بعد روس نے براہ راست افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا اور لاکھوں افغان اس سرخ عفریت کا شکار ہو گئے۔ زیر تبصرہ کتاب " بہتے لہو کی کہانی " ببرک لودھی کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے افغانستان کی اسی المناک اور خون ریز تاریخ کو بیان کیا ہے۔ببرک لودھی افغانستان کے ایک مایہ ناز صحافی ہیں،جنہوں نے افغانوں کی فلاح وبہبود کے لئے اپنے قلم کو استعمال کیا اور زیر نظر کاوش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔(راسخ)

  • 5 تاشقند کا جوہری (پیر 29 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3955

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’تاشقند کا جوہری‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں تاشقند کے ایک تاجر کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے متعدد کہانیاں شامل کتاب کی گئی ہیں۔ جن میں قبر کی یاد، سخی حاتم، دو عجیب و غریب بہنیں، دیانت داری کا بدلہ، جھوٹے نبی کی دعا قبول ہو گئی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 6 جناتی کنواں (جمعرات 18 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3897

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں تاریخ کے سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’جناتی کنواں‘ کے نام سے مرتب کی گئی ہے جس میں بچوں کے لیے بہت سی دلچسپ اور مزیدار کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 7 خداؤں کا قتل (جمعہ 19 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3753

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’خداؤں کا قتل‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کے اس واقعہ کو اپنے انداز میں بیان کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کفار کے باطل خداؤں کے سر تن سے جدا کر کے ان کو پاش پاش کر دیا تھا۔ بچوں کے لیے جہاں یہ کہانی بہت دلچسپ ہے وہیں اس میں عقیدے کی مضبوطی اور عقائد سے متعلق بنیادی باتوں کی تفہیم بھی کرائی گئی ہے۔(ع۔م)
     

  • 8 روشنی مل گئی (بدھ 24 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:4197

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی کی زیر نظر کتاب ’روشنی مل گئی‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو خاص طور پر بچیوں اور عمومی طور پر بچوں کی تربیت و اصلاح کے لیے بہت مفید ہے۔ اس میں کایا پلٹ، میری ساس، نذیرن بوا، ضمیر اور بجلی کا بھوت جیسی کہانیاں شامل ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 9 شہزادہ توحید لاالہ الا اللہ (جمعہ 26 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3880

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ اس کتاب میں توحیدکے شہزادے کی کہانی بیان کی گئی ہے اس کے علاوہ اس میں اس بے عمل ریا کار راہب کی بھی کہانی ہے جس نے اللہ کی رضا و خوشنودی کی جگہ جب لوگوں کی خوشی و چاہت کو اہمیت دی تو اس کا کیا عبرتناک انجام ہوا۔ اسی طرح کئی اور دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

  • 10 شیر میدان جنگ میں (ہفتہ 27 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:3517

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ادارہ دار الابلاغ نے بچوں کو اہل اسلام کی شاندار فتوحات سے آگاہی دلانے کے لیے کتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ’شیر میدانِ جنگ میں‘ اس سلسلہ کی پہلی کتاب ہے جس کے مصنف معروف ادیب اے حمید ہیں۔ یہ کہانی اس شیر جوان مجاہد کی ہے جس کو دنیا ٹیپو سلطان کے نام سے جانتی ہے۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 884
  • اس ہفتے کے قارئین: 5332
  • اس ماہ کے قارئین: 22235
  • کل مشاہدات: 44881256

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں